🌐 Language Collection

اردو افسانے - Urdu Stories & Afsanay Online - Page 7

محبت، جذبات اور احساسات से بھرپور خوبصورت اردو کہانیاں और افسانے। واسनालوک पर مفت آن لائن پڑھیں۔

اردو (Urdu) Stories (13)

Published: 21 Sept 2026, 12:47 AM

وارانسی کی پرانی شہنائی بانسری کی پیچھلی کمرے میں رد ہوئی بارات کے بعد کنواری نری کاٹنے والی نے طبلے کے شاگرد کو وہ سور دیا جو کسی شادی کے پرچے یا گھر کی ڈائری میں کبھی نہیں چڑھتا

وارانسی کی پرانی شہنائی بانسری۔ رد ہوئی بارات۔ کنواری زبیدہ اور طبلے کا شاگرد نظیر۔ وہ سور جو شادی کے پرچے پر کبھی نہیں چڑھتا۔

Published: 20 Sept 2026, 04:38 PM

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرانے جغرافیہ ڈیپارٹمنٹ کے میپ روم میں فیلڈ سروے کی رات جنریٹر رک گیا تو تیسرے سال کی طالبہ ثریا نے دہرادون سے آئے کارٹوگرافر کو وہ نقشہ دیا جو کسی اٹینڈنس یا ہاسٹل کی حاضری پر کبھی نہیں چڑھا

علی گڑھ کا پرانا میپ روم۔ فیلڈ سروے کی رات۔ جنریٹر بند۔ ثریا اور دہرادون کا احسان۔ وہ نقشہ جو حاضری پر کبھی نہیں چڑھتا۔

Published: 20 Sept 2026, 02:54 PM

امبالہ چھاؤنی کی پرانی سگنل کیبن نمبر سترہ میں دھند والی رات شادی شدہ سگنل مان فوزیہ نے ساہارنپور کے مال گاڑی گارڈ کو وہ لائن بلاک دیا جو کسی ریگسٹر یا شوہر کی چائے میں کبھی نہیں لکھا جاتا

امبالہ چھاؤنی کی پرانی سگنل کیبن۔ دھند۔ شادی شدہ فوزیہ، شوہر امتیاز اور ساہارنپور کا گارڈ رفیع۔ وہ لائن بلاک جو ریگسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا۔

Published: 19 Sept 2026, 02:40 AM

کنوج کی پرانی عطر کشید خانے میں آخری گلاب کی بھاپ اترنے کے بعد کنواری کوالٹی کلرک نے لکھنؤ کے کیمسٹ کو وہ خوشبو دی جو کسی لاٹ رجسٹر یا فیکٹری کی ڈائری پر کبھی نہیں چڑھی

کنوج کی پرانی عطر کشید گاہ۔ آخری گلاب کی بھاپ۔ کنواری نبیلہ اور لکھنؤ کا فہیم۔ وہ خوشبو جو لاٹ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔

Published: 18 Sept 2026, 08:40 PM

لکھنؤ کی پرانی چکن فنشنگ ورکشاپ میں عید کی آخری ڈلیوری کے بعد کنواری انچارج نے حیدرآباد کے انسپکٹر کو وہ حساب دیا جو کسی رجسٹر یا بل پر کبھی نہیں چڑھا

لکھنؤ کی پرانی چکن ورکشاپ۔ عید کی آخری ڈلیوری۔ کنواری فائزہ اور حیدرآباد کا رضوان۔ وہ حساب جو رجسٹر پر نہیں چڑھا۔

Published: 18 Sept 2026, 02:14 PM

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔

Published: 18 Sept 2026, 06:40 AM

نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کے گودام میں موسم کے آخری ڈھیر کے بعد کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو کسی بیچ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی

نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی۔ آخری ڈھیر۔ کنواری منالہ اور نائٹ گارڈ ارشد۔ وہ خوشبو جو بیچ کے رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔

Published: 17 Sept 2026, 04:37 AM

بہاولپور کے پرانے بجلی دفتر کے ریکارڈ روم میں جب جنریٹر بند ہوا تو شادی شدہ لیڈجر کلرک نے نئے بیل چیکر کو وہ رقم دکھایا جو کسی کنزومر فائل پر کبھی نہیں لکھا

بہاولپور کا پرانا بجلی دفتر۔ جنریٹر بند۔ شادی شدہ سارہ اور چیکر نوید۔ وہ رقم جو کنزومر فائل پر کبھی نہیں چڑھتا۔

Published: 16 Sept 2026, 08:34 PM

لکھنؤ یونیورسٹی کے پرانے رسالہ کدخانے میں جب رات کی بجلی روک گئی اور تیسرے سال کی مجلہ نگار نے کمپوزٹر کے لڈکے کو وہ صفحہ دی جو کسی شمارے پر کبھی نہیں چھپتا

لکھنؤ یونیورسٹی کا پرانا رسالہ کدخانہ۔ رات کی بجلی۔ مہرالنسا اور کمپوزٹر فہاد۔ وہ صفحہ جو شمارے پر نہیں چھپتا۔

Published: 16 Sept 2026, 01:58 PM

جب خیرپور کی کھجور منڈی میں تہوار کی رات آخری ٹرک نکل گیا تو کراچی کی فری لانس فوٹوگرافر نے پیکنگ شیڈ کے تالے کے پیچھے وہ رات رکھی جو کسی اخبار کے کالم میں نہیں چھپتی

خیرپور کی کھجور منڈی۔ تہوار کی رات۔ آخری ٹرک۔ کراچی کی زینب اور پیکنگ سپروائزر اظہر۔ شیڈ کے تالے کے پیچھے وہ رات جو اخبار میں نہیں چھپتی۔

Published: 16 Sept 2026, 08:40 AM

جب مرادآباد کی پیتل کی فیکٹری میں رات کی شفٹ کا پنکھا بند ہوا تو شادی شدہ سپروائزر نے پالش والے لڑکے کو اندرونی گودام میں وہ کام سکھایا جو کسی رجسٹر میں نہیں لکھا جاتا

مرادآباد کی پیتل فیکٹری۔ رات کی شفٹ۔ شادی شدہ نادیہ اور پالش والا کامران۔ گودام کا تالا اس کے ہاتھ میں۔ رجسٹر جھوٹ بولتا ہے۔

Published: 15 Sept 2026, 01:05 PM

کنوج کے اتر گودام میں مون سون کی رات جب بلنڈنگ بند ہوا اور بیوہ کاتب والہ نے پہلی بار اپنے ہاتھ اور اپنی سانس کو بوتل میں چھوڑ دیا جو شیشے میں کبھی نہیں آتی

کنوج کے پرانے اتر گودام میں مون سون کی راتےں۔ بیوہ کاتب والہ نے پہلی بار اپنے ہاتھ اپنی سانس کے سامنے رکھ دیے۔

Published: 14 Sept 2026, 06:36 PM

لاہور کی پرانی گلی میں اس نے دروازہ بند کیا، رسی کی کلائی میرے گلے میں پہنائی اور کہا کہ آج سے تم میرے حکم میں ہو

کلیگرافی کی کلاس تھی تھی؂ دور جانے والے گھر تھیں؂ اک شام کے بعد وہ دروازہ بند ہوا؂ اور جس نے قلم پکڑنا تھا اس نے باقی رات کا فیصلہ خود لکھایا۔