لکھنؤ کی پرانی چکن فنشنگ ورکشاپ میں عید کی آخری ڈلیوری کے بعد کنواری انچارج نے حیدرآباد کے انسپکٹر کو وہ حساب دیا جو کسی رجسٹر یا بل پر کبھی نہیں چڑھا
لکھنؤ کی پرانی چکن کی فنشنگ ورکشاپ چاندنی چوک کی تنگ گلی میں اس عمارت کے تیسرے تہ خانے میں تھی جہاں کبھی نوابی دور کے قلیوں کے صندوق رکھے جاتے تھے۔ دیواروں پر اب بھی پیلے روغن کے دھبے تھے، کھڑکیوں پر لوہے کی جالی زنگ آلود تھی، اور ہوا میں کپاس، نشاستہ، اور رات کی چائے کی بو گھلی رہتی تھی۔ عید کی آخری بڑی ڈلیوری نکل جانے کے بعد ہال خالی پڑا تھا۔ میزوں پر سفید کپڑے کے تھان باندھے پڑے تھے، سوئیوں کے ڈبے بند تھے، اور صرف ایک بلب جلتا تھا جو فنشنگ ٹیبل کے اوپر لٹکا تھا۔
فائزہ بتول تینتیس سال کی تھی، کنواری، اور اس ورکشاپ کی فنشنگ انچارج۔ اس کے ہاتھوں میں سوئی اس طرح چلتی تھی جیسے سانس۔ وہ نو سال سے یہیں تھی۔ گھر پر ماں ہر جمعے کو رشتہ لے کر آتی، باپ خاموش رہتے، اور فائزہ رجسٹر کے صفحے پلٹتی رہتی۔ اس کی زندگی میں کوئی شور نہیں تھا، صرف دھاگے کی کھنچ اور قینچی کی کٹ۔
اس رات کا خریدار انسپکٹر حیدرآباد سے آیا تھا۔ نام تھا رضوان قریشی۔ بتیس سال، لمبا، مونچھیں ہلکی، آواز میں دکنی لہر۔ وہ تین دن سے آرڈرز چیک کر رہا تھا۔ کل رات وہ پوچھ چکا تھا کہ آخری بنڈل کب بند ہوگا۔ فائزہ نے کہا تھا، جمعے کی رات، جب سب چلے جائیں گے۔
اب سب چلے گئے تھے۔ چوکیدار نیچے گیٹ پر سو رہا تھا۔ بارش ہلکی ہلکی چھت پر پڑ رہی تھی۔ فائزہ نے سفید دوپٹہ کندھے پر سمیٹا، رجسٹر کھولا، اور آخری تین پیسوں کے نمبر پڑھے۔ رضوان اس کے سامنے کھڑا تھا، کوٹ کی آستین چڑھی ہوئی، کلائی پر سیاہ گھڑی۔
فائزہ نے کہا، یہ تین پیس باقی ہیں۔ اگر آپ کے ہاتھ میں وقت ہے تو میں ابھی فنش کر دوں۔ اگر نہیں تو کل صبح۔
رضوان نے رجسٹر کی طرف نہیں دیکھا۔ اس نے فائزہ کے ہاتھ کی طرف دیکھا۔ سوئی اب بھی انگلیوں کے بیچ تھی۔ اس نے آہستہ کہا، وقت ہے۔ مگر رجسٹر بند کر دیں۔ آج جو رہ جائے گا وہ کل کے صفحے پر نہیں چڑھے گا۔
فائزہ کی سانسیں ایک لمحے کو رک گئیں۔ اس نے سوئی رکھی، رجسٹر بند کیا، اور تالا گھمایا۔ تالے کی آواز ہال میں پھیل گئی جیسے کوئی دروازہ اندر سے بند ہوا ہو۔
رضوان نے کوٹ اتارا اور کرسی کے پشتی پر ڈال دیا۔ اس کی قمیض کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ فائزہ نے دیکھا کہ اس کے سینے کے بال نرم سیاہ ہیں، اور جلد پر پسینے کی ہلکی چمک ہے۔ وہ خود بھی پسینے میں تھی۔ جون کی نمی لکھنؤ میں کپڑے کو جسم سے چپکا دیتی ہے۔
فائزہ نے آخری پیس میز پر پھیلایا۔ کپڑا سفید تھا، پھول ہلکے سبز۔ اس نے سوئی پکڑی مگر ہاتھ کانپے۔ رضوان پیچھے آیا۔ اس نے فائزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ہاتھ گرم تھا، بھاری نہیں، مگر واضح۔
فائزہ نے سر نہیں پھیرا۔ اس نے صرف اتنا کہا، انسپکٹر صاحب، یہ جگہ بند ہے۔ چوکیدار نیچے ہے۔
رضوان نے کان کے پاس سر جھکایا۔ اس کی سانس فائزہ کے بالوں میں پڑی۔ اس نے کہا، میں جانتا ہوں۔ اسی لیے کھڑا ہوں۔
فائزہ نے سوئی نیچے رکھی۔ اس نے آہستہ مڑ کر دیکھا۔ رضوان کی آنکھیں قریب تھیں۔ اس میں نہ مذاق تھا نہ جبر۔ صرف ایک سوال تھا جو زبان سے نہیں نکلا تھا۔ فائزہ نے کئی سالوں میں پہلی بار کسی مرد کو اس فاصلے سے دیکھا۔ اس کے جسم میں ایک لہر دوڑی جو رجسٹر کی سیاہی سے کہیں زیادہ گہری تھی۔
اس نے سر ہلایا۔ ہاں کی طرح۔ بہت ہلکا۔
رضوان نے ہاتھ کندھے سے گردن کی طرف بڑھایا۔ انگلیاں دوپٹے کے نیچے گریں۔ فائزہ کی جلد ٹھنڈی تھی، پھر گرم ہو گئی۔ رضوان نے دوپٹہ کھینچ کر میز کے کونے پر ڈال دیا۔ فائزہ کے بال کھلے ہوئے تھے، سیاہ، لمبے، کان کے پیچھے پھنسے ہوئے۔ رضوان نے انہیں آزاد کیا۔
پہلا بوسہ ہونٹوں کے کونے پر پڑا۔ دوسرا پورے منہ پر۔ فائزہ کی زبان ہچکچاتی ہوئی ملی۔ اس نے دانت نہیں کاٹے۔ صرف سانس پکڑی۔ رضوان نے کمر سے پکڑا۔ قمیض کی کپڑے کی تہہ جسم سے چپکی ہوئی تھی۔ اس نے بٹن کھولے۔ ایک، دو، تین۔ فائزہ کے سینے پر سفید بریسلیٹ والا برا تھا۔ نیچے گوشت بھرا ہوا، گرم، اور سانس کے ساتھ اٹھتا گرتا۔
رضوان نے برا کی تسمہ کھینچی۔ کپڑا گرا۔ فائزہ نے ہاتھ سے سینہ چھپانا چاہا مگر رضوان نے کلائی پکڑ لی۔ اس نے سر جھکا کر ایک نپل منہ میں لیا۔ زبان گول گھومی۔ دانت ہلکے سے دبے۔ فائزہ کی کمر لچکی۔ آواز گلے میں اٹکی، پھر نکلی، دبی ہوئی، شرمندہ۔
میز کے کنارے کپڑے کی کونیں لٹک رہی تھیں۔ رضوان نے فائزہ کو الٹا کیا، پیٹ میز پر، چھاتی لکڑی سے لگی۔ اس نے سلوار کی ناڑا کھینچی۔ کپڑا ٹخنوں تک اترا۔ پینٹی گلابی تھی، کنارے گیلی۔ رضوان نے ہاتھ پینٹی کے اندر ڈالا۔ انگلیاں بالوں میں پھنسیں، پھر نیچے، جہاں گوشت نرم اور گرم تھا۔ اس نے ایک انگلی اندر کی۔ فائزہ کی رانوں نے خود بخود فاصلہ بڑھایا۔
رضوان نے سر جھکا کر پیچھے سے چاٹا۔ زبان لمبی نکلی، درمیان کی سلیٹ سے اوپر تک۔ فائزہ نے میز کی لکڑی پکڑی۔ ناخن کھدے۔ اس کی آواز اب چھپ نہیں رہی تھی۔ ہال کی خالی دیواروں نے اسے واپس پھینکا۔
رضوان نے پینٹی اتار کر جیب میں ڈال لی۔ فائزہ ننگی کمر تک میز پر جھکی ہوئی تھی۔ اس کے کولہے گول تھے، رانوں کے اندر کی جلد سفید۔ رضوان نے اپنی پینٹ کا بٹن کھولا، زپ اتاری۔ عضو بھاری تھا، رگدار، سرے پر چمک۔ اس نے فائزہ کی کمر پکڑی اور سرے کو درمیان میں رگڑا۔ گیلاہٹ سے آواز نکلی، ہلکی، گندی۔
فائزہ نے سر پھیرا۔ آواز کانپتی ہوئی تھی۔ آہستہ۔ پہلی بار ہے۔
رضوان رک گیا۔ اس نے پیشانی فائزہ کی پیٹ پر رکھی۔ سانس دونوں کی ملی ہوئی تھی۔ اس نے کہا، بتاؤ رکو تو رک جاؤۙ۔
فائزہ نے آنکھیں بند کیں۔ کئی سالوں کی تنہائی اس کی رانوں کے بیچ کھڑی تھی۔ اس نے سر ہلایا۔ نہیں۔ اندر۔ مگر آہستہ۔
رضوان نے سر داخل کیا۔ گوشت ہٹایا، پھیلایا، دباؤ بڑھایا۔ فائزہ کی آواز درد اور حیرت کی ملی۔ اس نے دانت ہونٹ میں دبائے۔ رضوان ایک سانس رک کر مزید اندر گیا۔ آدھا۔ پھر پورا۔ ژڑ تک۔ فائزہ کی پیٹ پر پسینے کی لکیر دوڑی۔
پہلی حرکت چھوٹی تھی۔ باہر تھوڑا، اندر تھوڑا۔ لکڑی کی میز ہر دھکے پر چیخ نہیں رہی تھی مگر ہل رہی تھی۔ فائزہ کی چھاتیاں میز سے رگڑ رہی تھیں۔ نپل لکڑی پر دبے۔ رضوان نے ایک ہاتھ آگے بڑھایا، چھاتی دبائی، نپل مروڑا۔ دوسرے ہاتھ سے کولہا پکڑا۔ رفتار بڑھی۔
ہال میں صرف جسموں کی آواز تھی، بارش کی، اور کبھی کبھی فائزہ کی دبی ہوئی پکار۔ رضوان نے بال پکڑے، سر پیچھے کھینچا۔ فائزہ کا منہ کھلا تھا۔ اس نے گالی نہیں دی۔ صرف نام لیا۔ رضوان۔ پھر دوبارہ۔ زیادہ زور سے۔
رضوان نے نکالا، فائزہ کو الٹا کیا، پیٹ میز پر۔ ٹانگیں اس کے کندھوں پر چڑھ گئیں۔ اس نے پھر داخل کیا، اس بار گہرا، سیدھا۔ فائزہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے رضوان کی قمیض پکڑی اور اپنی طرف کھینچی۔ بوسہ گیلا تھا، لمبا، زبان پر زبان۔
تیسری پوزیشن کرسی پر ہوئی۔ رضوان بیٹھا، فائزہ اس کی گود میں، سامنے سے۔ فائزہ خود اتری، خود اٹھی۔ اس کی چھاتیاں رضوان کے منہ کے سامنے تھیں۔ اس نے دونوں نپل باری باری چوسے۔ فائزہ کی رفتار بڑھی۔ اس کے اندر سے آواز آ رہی تھی، گیلی، تیز۔ وہ پہلی بار کسی کے جسم پر اس طرح بیٹھی تھی۔ شرم اب درد کے پیچھے رہ گئی تھی۔
رضوان نے کولہے پکڑ کر اوپر سے نیچے مارا۔ فائزہ کی آواز پھٹ گئی۔ اس نے منہ رضوان کے کندھے پر دبایا تاکہ دیوار کے پار نہ جائے۔ مگر دیوار کے پار صرف بارش تھی۔
وہ فرش پر گئے۔ نیچے بوری بچھی ہوئی تھی جس پر کپڑے رکھے جاتے تھے۔ فائزہ چار میخ ہوئی، پیشانی بوری پر۔ رضوان پیچھے سے گھسا، اس بار تیز۔ اس نے ایک تھپپڑ کولہے پر مارا۔ آواز ہال میں پھیلی۔ فائزہ نے کونہ نہیں نکالا۔ اس نے سر پیچھے کی طرف پھیرا اور آنکھ سے کہا، پھر۔
دوسرا تھپپڑ زیادہ زور کا تھا۔ جلد سرخ ہوئی۔ رضوان نے کمر پکڑ کر اندر تک مارا۔ فائزہ کے منہ سے پانی جیسی آواز نکلی۔ اس کے اندر کی دیواریں پکڑ رہی تھیں، چھوڑ رہی تھیں، پھر پکڑ رہی تھیں۔ رضوان نے کہا، ابھی مت۔ تھوڑی دیر۔
فائزہ نے سر ہلایا مگر جسم نہیں مانا۔ وہ کانپنے لگی۔ رانوں کے اندر کی نسیں تڑپیں۔ اس نے چیخ کو کپڑے میں دبایا اور جسم سے پانی بہا۔ گرم، چپچپا، رانوں پر۔ رضوان نے اس کے کانپنے کے دوران اور تیز کیا۔ پھر خود بھی نکلا۔ سفید مادہ فائزہ کی پیٹ پر گرا، کمر کے گڑھے میں، پھر نیچے کولہوں کی درمیانی لکیروں پر۔
وہ ایک لمبے وقت تک نہیں بولے۔ بارش تیز ہو گئی تھی۔ بلب ہلکا کانپ رہا تھا۔ فائزہ کے بال پسینے سے پیشانی پر چپکے ہوئے تھے۔ رضوان نے اپنی قمیض سے اس کی پیٹ صاف کی۔ ہاتھ نرم تھا۔
فائزہ اٹھی۔ اس نے سلوار پہنی، برا باندھا، قمیض کے بٹن لگائے۔ دوپٹہ کندھے پر ڈالا مگر بال نہیں باندھے۔ رضوان نے پینٹ درست کی، کوٹ پہنا۔ پینٹی اب بھی اس کی جیب میں تھی۔ فائزہ نے دیکھا، کچھ نہیں کہا۔
آخری تین پیس میز پر ویسے ہی پڑے تھے۔ فائزہ نے انہیں تہہ کیا، لنک پٹی باندھی، اور ایک پرانے کارتن میں رکھا۔ اس نے رجسٹر نہیں کھولا۔ قلم میز کے کنارے پر پڑا رہا۔
رضوان نے پوچھا، کل صبح چیکنگ ہوگی؟
فائزہ نے سر ہلایا۔ کل جو ہے وہ کپڑے کا حساب ہے۔ آج والا حساب کسی صفحے پر نہیں ہے۔
رضوان دروازے کے پاس گیا، پھر رکا۔ اس نے کہا، میں حیدرآباد واپس جا رہا ہوں پیر کو۔ اس سے پہلے اگر یہ بلب پھر جلا تو بتا دینا۔
فائزہ نے تالا ہاتھ میں لیا۔ اس کی آواز سیدھی تھی، مگر گلے میں ایک کانپ تھی۔ بلب تو میرا ہے۔ میں جب چاہوں جلا سکتی ہوں۔
رضوان مسکرایا۔ گیٹ کی سیڑھیاں اس کے جوتوں تلے چیخیں۔ چوکیدار نے نیند میں کراہا مگر جاگا نہیں۔ فائزہ نے تالا باہر سے نہیں، اندر سے لٹکا دیا۔ اس نے ہال کا بلب بجھایا۔ اندھیرے میں صرف کھڑکی کی جالی سے گلی کی روشنی آ رہی تھی، پیلی، کمزور۔
اس نے میز کے کنارے ہاتھ پھیرا۔ لکڑی اب بھی گرم تھی۔ اس کی رانوں کے بیچ وہ گیلا پن اب بھی چل رہا تھا جو کسی فنشنگ نوٹ پر نہیں لکھا جاتا۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور پہلی بار اس خالی ہال میں اپنی ہی سانس کو سنا، جیسے کوئی نیا دھاگہ کپڑے میں پھنس گیا ہو اور اب اسے نکالنا نہ ہو، صرف چھپانا ہو۔
باہر بارش لکھنؤ کی پرانی نالیوں میں گرتی رہی۔ چکن کے پھول میز پر سوئے رہے۔ اور فائزہ بتول نے اس رات کے بعد پہلی بار رجسٹر کے بغیر ایک کام مکمل کیا، جو نہ خریدار کے بل پر آیا، نہ ورکشاپ کی حاضری پر، نہ گھر کی کسی دعا میں۔ صرف جسم کی یاد میں رہ گیا، گرم، گہرا، اور خاموش۔
اتوار کی صبح جب کاریگر آئے تو فائزہ پہلے سے میز پر بیٹھی تھی۔ دوپٹہ سیدھا تھا، بال بندھے ہوئے، سوئی ہاتھ میں۔ کسی نے نہیں پوچھا رات کا بلب کب بجھا۔ رضوان دس بجے آیا، تین پیس چیک کیے، دستخط کیے، اور چلا گیا۔ دونوں کی نظر ایک سیکنڈ سے زیادہ نہیں ملی۔ مگر جب وہ دروازے سے نکلا تو فائزہ کی انگلیوں نے سوئی اس طرح پکڑی جیسے کل رات کسی نے کمر پکڑی ہو۔
پیر کی صبح گاڑی حیدرآباد کے لیے نکلی۔ فائزہ نے گیٹ سے نہیں دیکھا۔ اس نے صرف کھڑکی کی جالی کے سوراخ سے گلی دیکھی جہاں پانی اب بھی کھڑا تھا۔ دوپہر کو ایک چپٹی لفافے میں واپس آئی ہوئی گلابی پینٹی ملی، بغیر نام، بغیر خط۔ فائزہ نے اسے سوئیوں کے ڈبے کے نیچے رکھ دیا، وہیں جہاں وہ چیزیں جاتی ہیں جو رجسٹر کی زبان نہیں سمجھتیں۔
رات کو گھر پر ماں نے پھر رشتہ نکالا۔ فائزہ نے چائے کے کپ میں دیکھ کر کہا، ابھی نہیں۔ ماں نے شکایت کی۔ باپ خاموش رہے۔ فائزہ نے اپنے کمرے میں دروازہ بند کیا، روشنی بجھائی، اور اندھیرے میں وہ میز یاد کی، وہ تھپپڑ، وہ پہلا دھکا، وہ پیٹ پر گرا ہوا گرم مادہ۔ اس کے جسم نے دوبارہ کانپ کر جواب دیا، اکیلے، بغیر کسی کے ہاتھ کے، صرف یاد کے وزن سے۔
اس کے بعد کئی جمعے آئے۔ رضوان نہیں آیا۔ فائزہ نے بلب کبھی کبھار دیر تک جلائے رکھا، محض اس لیے کہ خالی ہال کی ہوا پھر سے اس رات جیسی لگے۔ کبھی نہیں لگی۔ مگر جب سوئی کپڑے میں چلتی تو اس کی سانس کبھی کبھی اٹک جاتی، جیسے کوئی اب بھی پیچھے کھڑا ہو اور سرگوشی کرے، رجسٹر بند کر دیں۔
اور فائزہ ہر بار بند کر دیتی، چاہے صفحہ خالی ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ کچھ حساب ایسے ہوتے ہیں جو سیاہی سے نہیں، جلد کی یاد سے رکھے جاتے ہیں، اور لکھنؤ کی اس پرانی ورکشاپ میں وہ حساب اب بھی تیسری منزل کی نمی میں سانس لے رہا ہے۔
سال کے آخر میں ورکشاپ نے نیا آرڈر لیا۔ حیدرآباد کی ایک اور دکان۔ فائزہ نے فائل کھولی تو دستخط پہچان لیے۔ وہی لکیر، وہی جھکاؤ۔ اس نے قلم اٹھایا، منظوری دی، اور نیچے اپنی سوئی سے ایک چھوٹا سا سبز پھول بنا دیا جو کسی ڈیزائن شیٹ پر نہیں تھا۔ صرف اس صفحے کے حاشیے پر، جیسے کوئی خاموش وعدہ ہو جو نہ پورا ہوا، نہ ٹوٹا، صرف کپڑے کی تہہ میں رہ گیا۔
رات کو بارش پھر آئی۔ فائزہ نے بلب جلایا، رجسٹر بند کیا، اور میز کے کنارے ہاتھ رکھا۔ لکڑی ٹھنڈی تھی۔ پھر بھی اس کے اندر وہی گرمی جاگ اٹھی جو پہلی بار جمعے کی رات جاگی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں، اور اندھیرے میں اپنے ہی نام کے بجائ وہ دوسرا نام لیا، آہستہ، شرمندہ، اور بھوکا۔ باہر گلی سو رہی تھی۔ اندر ایک عورت جاگ رہی تھی، مکمل، اکیلی، اور اب بھی اس رات کے حساب میں ڈوبی ہوئی۔
یہ کہانی وہیں ختم نہیں ہوئی جہاں گاڑی نکلی۔ یہ ہر اس سوئی میں رہی جو فائزہ نے اس کے بعد کپڑے میں پیروی، ہر اس بٹن میں جو اس نے قمیض پر لگایا، اور ہر اس جمعے میں جب ورکشاپ خالی ہوئی اور بلب اکیلا جلا۔ کچھ جسم ایک دوسرے کو ایک بار چھوتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لیے حساب میں رہ جاتے ہیں۔ فائزہ کا جسم اب بھی وہ حساب رکھتا ہے، گرم صفحے کی طرح، جسے کوئی آڈٹ نہیں دیکھ سکتا۔
Readers who enjoyed “لکھنؤ کی پرانی چکن فنشنگ ورکشاپ میں عید کی آخری ڈلیوری کے بعد کنواری انچارج نے حیدرآباد کے انسپکٹر کو وہ حساب دیا جو کسی رجسٹر یا بل پر کبھی نہیں چڑھا” also read
8 curated storiesاردو باس سیکس کہانی: رخصانہ میڈم کی جمعہ والی رات
دیر رات دفتر میں رکی رخصانہ میڈم نے دانش کو کیبن میں بلایا۔ یہ اردو باس سیکس کہانی اس ایک رات کی ہے جس نے دونوں کی زندگی بدل دی۔
اردو آفس کہانی: زویا کی چوت میں دانیال کا لنڈ، لکھنؤ آفس کی گرم چدائی
اردو آفس کہانی میں لکھنؤ کے ایک آفس میں اوور ٹائم کی ایک شام دو لوگوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔ بارش، خوشبو اور ایک رات کی کہانی۔
بہاولپور کے پرانے بجلی دفتر کے ریکارڈ روم میں جب جنریٹر بند ہوا تو شادی شدہ لیڈجر کلرک نے نئے بیل چیکر کو وہ رقم دکھایا جو کسی کنزومر فائل پر کبھی نہیں لکھا
بہاولپور کا پرانا بجلی دفتر۔ جنریٹر بند۔ شادی شدہ سارہ اور چیکر نوید۔ وہ رقم جو کنزومر فائل پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔
اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات
لاہور کی پرانی حویلی میں نادیہ کی شادی کی پہلی رات۔ سمیر گھبرایا ہوا ہے اور نادیہ کے پاس چھپی ہوئی کتابوں سے سیکھے راز ہیں۔ اردو دلہن کی پہلی رات کی ایک گرم کہانی۔
اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔