وارانسی کی پرانی شہنائی بانسری کی پیچھلی کمرے میں رد ہوئی بارات کے بعد کنواری نری کاٹنے والی نے طبلے کے شاگرد کو وہ سور دیا جو کسی شادی کے پرچے یا گھر کی ڈائری میں کبھی نہیں چڑھتا
وارانسی کی پرانی شہنائی بانسری گھاٹ کے پیچھے کسے مےں تھی، جہاں بانس کی الگ بھیگی بھی کھڑی ہوتی ہے اور حوا میں گھیلے کی کڑوائی چھنی رہتی ہے۔ بارات رد ہو چکی تھی۔ لڑکے کا بیمار ہو گیا کوئی اور میانہ انگلیش میں گڑبڑ گئی تھی۔ مالک نے فون کیا، باند ماسٹر نے گالی گالی کی۔ شہنائی والے اپنے ساز لے کر چلے گئے۔ طبلے والے کھٹے کے پیچھے لپیٹ کے نیچے کھ کپڑے کر چھوڑ گئے۔
زبیدہ اکیلے کے پیچھے کمرے میں بیٹھی تھی۔ بائیس سال کی تھی۔ کنواری۔ باپ کے مرنے کے بعد یہی کمرا اسی کام کا سارا پٹا تھا۔ نری کاٹنا، گلے کو گھسانا، سور کی پرکھ کو انگلی کے حساب سے چک کرنا۔ شادی کے پرچے پر اس کام کا نام کبھی نہیں آتا تھا۔ گھر میں بھی اکیلے کے بیوہ ڨھی کے ساتھ سوتی تھی۔ رات کو بانسری میں رہ جانے کا بہانہ ایسی لڑکی کے پاس ہوتا تھا۔
نظیر گھاٹ کے باہر والے کمرے میں کھڑا تھا۔ چیس سال کا تھا۔ طبلے پر ہاتھ ابھی سیکھے تھے۔ وہ الاہ آباد کے باند سے آیا تھا، رات کے لیے پیچھے کے کمرے میں سو رہ گیا۔ زبیدہ نے اس کو پہلے تین بار دیکھا تھا۔ پہلی بار جب وہ پانی ماگنے کی پیالی لے کر آیا اور گلے کے دانے پر لگ گئے تھے۔ دوسری بار جب اس نے اس کے ہاتھ کے پانی کو بھیگا تھا۔ تیسری بار جب زبیدہ کے چاقو میں چاہ گئی اور نظیر نے بغیر کے لیے پانی سے چاہ کو ساف کر دیا تھا۔
آج کام ختم تھا۔ کوئی نہیں آنے والا تھا۔ بجلی روشنی چلی گئی تھی۔ زبیدہ نے بانس کا تالا بند کر دیا۔ نظیر دروازے پر کھڑا رہا۔ ایک ہاتھ ہاتھ میں پیٹ کرتا رہا تھا۔
زبیدہ نے کہا، آج جانے کا فائدہ نہیں۔
نظیر نے کہا، میں رہ گیا ہوں تک تم کہو۔ اکیلے نے کہا تھا تم اکیلے کے بعد یہاں رہتی ہو۔
وہ بات اتنی قریب تھی کہ زبیدہ کے پیٹ پر لگ گئے۔ اس کے ہاتھ گرم تھے۔ کلائی کے داگھ پر لکیر کی بو آ گئی تھی۔ زبیدہ کے گلے میں پپی گھول گئی تھی۔ اس کے پیٹ کے نیچے گیلے کی کڑوائی چھپ رہے تھے۔ نظیر نے ایک ہاتھ آگے بڑھایا۔ دوسرے ہاتھ سے گلے کی پتلی پکڑی۔ تیسرے ہاتھ سے چھاتی کے پپی بٹن کو دبایا۔
زبیدہ کی سانس رک گئی۔ یہ پہلی بار تھا کسی مرد کے ہاتھ اس کے جسم پر اس طرح پڑے تھے۔ اس کے چھاتی کے اندر کچھ سکڑ گئے۔ دودھ کے نیچے گیلے کی گرمائش چھائی گئی تھی۔ نظیر کے لنڈ نے اس کی گردن کو میحسوس کیا۔ ایک ہاتھ چھاتی کے بیچ پر رک گیا۔ دوسرا ہاتھ پیٹ پر جا کر گیا گردن کو دبایا۔
زبیدہ بول گئی۔ اس کی زبان نکلی تھی۔ مگر بھی اس کے منہ میں پھیر گئی تھی۔ وہ الفاظ تھا۔ اس نے کبھی نہیں چوسا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا۔ زبیدہ کے ہاتھ خود بھی اپنے ہاتھ کے بال تک پہنچ گئے۔ وہ اس کے کام کے بٹن پر رک گئی۔ کپڑے کو دبایا۔ کمر کی چوٹی پر ہاتھ پھیل گئے۔
نظیر نے گھٹی کہی، اگر چاہو تو رکھو۔
زبیدہ نے کہا، رکھو۔ لیکن یہ رات میرے پاس نہیں آئے گی۔
نظیر کے ہاتھ اس کی ساڑھی کے اندر چلے گئے۔ گھگے کو اوپر اپنایا۔ ساڑھی کے بٹن کو دو انگلی کی انگلیوں سے کھولا۔ گرم چھاتیاں ہوا میں بھر آئیں۔ زبیدہ نے ہاتھ اپنائے لیکن نظیر کے سر پر رک دیے۔ گردن کو موہ میں لی گئی۔ چوسا کرتی رہی تھی کہ کسی نری کے کٹنے کی لڑکی اس کی زبان پر لگ گئی ہے۔
نظیر کے منہ میں اتار چڑھ گیا تھا۔ کپڑے نے پجامے کو دبایا تھا۔ زبیدہ نے پہلی بار کسی مرد کے لنڈ کو چوسا۔ لنڈ گرم تھا، بھاری، نم۔ وہ زبان پر پھسل گیا۔ زبیدہ کی انگلیاں کانپتے ہوئیں۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ کیسے کام کرنا ہے۔ نظیر نے اس کے ہاتھ کو پکڑ اپنے پیٹ پر رکھ دیے۔ اونگلی سے گھول کی۔ گیلے کی تر کو چوسا۔ گیلے کی گہری کو چوسا۔
زبیدہ کی پہلی چیخ نکلی تھی۔ وہ چھپ گئی۔ اس کے منہ کے باہر پانی پھیل گئے۔ نظیر نے کہا، اب بھی ہوں ظبان کروگی۔ زبیدہ نے سر ہلایا۔ نظیر کے منہ کو اپنے ہاتھ میں پکڑا۔ ہونٹ ہوٹھ ہوٹھ کرنے لگا۔ زبیدہ کی آنکھ آنکھ آئی۔ پانی گیلے کی رسی میں لپٹ گئی۔ نظیر کے لنڈ نے اس کے گال کو بھر دیا۔ اس کی زبان کو اور خھول دیا۔
پھر نظیر اتنا ہی لیٹا کہ زبیدہ کی پیٹ پر ہے۔ اس کے گود کو پہلا کیا۔ زبیدہ کے پیٹ کے نیچے گیلے کی کڑوائی اور لاک کی بو اکٹھی کی خوشبو مل گئی تھی۔ نظیر نے گود کو خولا۔ زبیدہ کے پیٹ انھے اپھر اپھر اپھے۔ گود کی گرمائش زبیدہ کے اندر تک اتری۔ وہ چلخنے لگی۔ ہاتھ نظیر کے بال پکڑ گئے۔
نظیر نے شلوار کھولے۔ کپڑے کو باہر نکالا۔ زبیدہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ نظیر نے اپنا لنڈ زبیدہ کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ کی آنکھ ٹوٹ گئی۔ وہ پہلی بار تھا کسی مرد کا لنڈ اس جگہ پر تھا۔ درد ہوا۔ گرمائش ہوئی۔ گیلا پن ہوا۔ نظیر رکگیا۔ رکگیا۔ پھر رکگیا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
نظیر نے کہا، اب اندر آئوں۔
زبیدہ نے کہا، آئو۔ سب کوچھ بھی آہستہ سے کرو۔
نظیر نے پیجامہ کھولی۔ زبیدہ کی پٹیوں کو پکڑا۔ اپنا لنڈ اس کے چھےڑ کے منہ میں رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب کھول گئیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔ کمرے میں شہنائی کی پیٹی بٹنی ہوئی تھی جیسے کوئی بارات کا سور نہیں بج رہا تھا۔
زبیدہ کی پہلی بار آئی۔ پانی گیلے پر لپٹ گئی۔ بدن کام کر رہا تھا۔ پیٹ کے نیچے گیلے کی کڑوائی اس کے پیٹ پر چھپ گئی تھی۔ نظیر نے اس کے چھےڑے کو خول کیا۔ پہلے بیچ کے باہر اپنا لنڈ پھیر دیا۔ زبیدہ کی پٹیاں مزید سے کڑک گئیں۔ نظیر نے ان پٹیوں کو پکڑ کر کے اپنی آنکھیں ڨھل دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔
وہ رات لمبی ہوئی۔ کبھی شاہد نہیں آئی۔ کبھی رجسٹر نہیں کھلا۔ زبیدہ نے نظیر کو اپنی گود پر لٹکایا۔ نظیر نے اس کی چھاتیوں کو چوسا۔ گود کی گرمائش پھر بھی اس کے منہ میں گئی تھی۔ زبیدہ کی پٹیاں پھر کڑک گئیں۔ نظیر نے ان پٹیوں کو دبارہ پکڑ کیا۔ اپنی آنکھیں پھیر گئیں۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز آئے۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال پھر لگ گئے۔
صبح کے قریب نظیر نے کپڑے پھیر پہنائے۔ زبیدہ کے پیٹ پر گیلے کی کڑوائی چھپ رہی تھی۔ نظیر نے اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔ زبیدہ کی آنکھیں بند گئیں۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
فجر کے قریب بانس کا تالا کھلا گیا۔ گھاٹ کے شور پر روشنی گرم ہو رہی تھی۔ زبیدہ نے کپڑے پھیر پہنائے۔ نظیر نے شلوار باندھ لیے۔ زبیدہ کی ساڑھی کے بٹن پر ہاتھ پھیر رکھ گئے۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
زبیدہ نے کپڑے سینے پھیر پہنائے۔ نظیر کے ہاتھ اس کے بال پکڑ گئے۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر ہوئی۔ گھاٹ پر گاڈی کی آواز آئی۔ نظیر نے کپڑے پہنائے۔ زبیدہ کے پیٹ پر گیلے کی کڑوائی چھپ رہی تھی۔ نظیر نے اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔ زبیدہ کی آنکھیں بند گئیں۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
زبیدہ نے کپڑے سینے پھیر پہنائے۔ نظیر کے ہاتھ اس کے بال پکڑ گئے۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر ہوئی۔ گھاٹ پر گاڈی کی آواز آئی۔ نظیر نے کپڑے پہنائے۔ زبیدہ کے پیٹ پر گیلے کی کڑوائی چھپ رہی تھی۔ نظیر نے اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔ زبیدہ کی آنکھیں بند گئیں۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویرے ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر اب بھی ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر اب بھی ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر اب بھی ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر اب بھی ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر اب بھی ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر اب بھی ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر اب بھی ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر اب بھی ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر اب بھی ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر اب بھی ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
سویر اب بھی ڨھنہ باہر نکلا۔ زبیدہ کی پٹیاں کانپتے ہوئیں۔ نظیر نے اپنی آنکھیں پھیر بھر دیں۔ زبیدہ کے منہ سے پانی نکلا۔ گیلے کی گہری میں بھی گیل گئی تھی۔ نظیر نے اپنا لنڈ پھر اس کے چھےڑ پر رکھ دیا۔ زبیدہ چلخی۔ اس کی پٹیاں اب بھی سخت کھول گئی تھیں۔ نظیر کا لنڈ گھرا ہوا۔ گیلا پن۔ گرمائش ہوا۔ اس نے اپنی ران تک پہونچایا۔ زبیدہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ ہاتھ ڧپنے ہاتھوں کے بال لگ گئے۔
Readers who enjoyed “وارانسی کی پرانی شہنائی بانسری کی پیچھلی کمرے میں رد ہوئی بارات کے بعد کنواری نری کاٹنے والی نے طبلے کے شاگرد کو وہ سور دیا جو کسی شادی کے پرچے یا گھر کی ڈائری میں کبھی نہیں چڑھتا” also read
8 curated storiesاردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2
اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟
اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات
اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1
نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)
اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔
اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات
اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔
اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)
اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔