Office Romanceاردو (Urdu)⭐ Original Edition

بہاولپور کے پرانے بجلی دفتر کے ریکارڈ روم میں جب جنریٹر بند ہوا تو شادی شدہ لیڈجر کلرک نے نئے بیل چیکر کو وہ رقم دکھایا جو کسی کنزومر فائل پر کبھی نہیں لکھا

F
10 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

بہاولپور کے پرانے شہر کے دفتر میں گرمی کی ہوا کا سم نہیں آتا۔ وہاں کاغذ کی طرح کی پرانی اِٹ بلاک فائلیں تھیں جو سالہا گرم سے پھلے نہیں ہوئے کے پاس آتے ہیں جیسے پھلے خود بھی کہتے ہیں۔ ریکارڈ روم کی کھڑکی کی چھت پر لکھا لیڈجر کی سیاہی سیاہی تھیں جن پر ہر گھر کے یونٹ کا نمبر کالی سیاہی مے لکھا ہوا تھا۔

سارہ بانو ان فائلوں کی مالک تھیں۔ چھتیس سال کی، شادی شدہ، دو بچوں کی ماں۔ پتی فیصل آباد کی ایک پیٹرول پمپ پر رات کو شہر کے دوسرے سرے پر گھومتا تھا۔ وہ کبھی سوچتے نہیں پوچھتا تھا کہ سارہ کی رات کب ختم ہوتی ہے۔ اس دفتر میں وہ سب سے پہلے آتی تھی جب کمپیوٹر چل گئے تھے اور لیڈجر کی سیاہی میں رقم لکھنے کی آواز نہیں رہی تھی۔

آج کی رات جنریٹر بند ہو گیا تھا۔ بجلی کے دفتر میں پنکھے کی روشنی گل بجھ گئی تھی۔ چہل کے پھن میں مکھی کی سہنی اور کاغذ کی گندی کی بو آ رہی تھی۔ نوید عباس ان گندگی میں خڑا ہوا تھا۔ بیس سال کا، نئا بیل چیکر، پہلی بار ریکارڈ روم میں آیا تھا تاکہ پورانے ماہ کے فائل ملانے کے۔

سارہ نے دروازہ بند کیا اور کہا کہ آج تم یہاں رہو۔ نوید کی سانس کہ رہی تھی جیسے وہ پہلے شہر آیا تھا اور سارہ نے اسے کہا تھا کہ تم فائل پھیل کرو۔ اس کی آواز نہیں آئی تھی جب تک فائل کہولتی تھی۔ اس کی آواز آئی جب وہ دروازہ بند کرتے ہوئے کے بعد بھی خڑی خڑی اپنے ہاتھ لگاتی رہی تھی۔

سارہ نے کیا کہ میرے پاس وہ دروازہ لگاؤ۔ نوید کی سانس اب کہٹھی ہو گئی تھی۔ سارہ کا جسم گرمی میں بھی بھاری سے بھیگا تھا۔ چہاتی کے بٹن میں پسینے کا پپوٹا پھول گیا تھا اور گلاب میں پسینہ کی چھائیاں کا پھول بھی وضح تھا۔ نوید کی نظر وہیں چپک گئی۔ وہ شرماتا ہوا لیکن نظر نہ ہٹا سکا۔

سارہ نے کہا تم نئے ہو لیکن کاغذ کی فائل پھیل نہیں کر سکے۔ تم جانتے ہو کہ میرے پاس کیا ہے اور کیا نہیں کر سکتے۔ نوید کے ہاتھ کانپتے لگے۔ سارہ نے ان ہاتھوں کو لیڈجر کی بند کتاب پر رکھ دیا اور کہا کہ پہلے میرے رقم دیکھو۔ نوید کی سانس کہ گرم ہو گئی تھی۔ سارہ کے ہاتھ بھی جلدے تھے لیکن ان کے ہاتھوں پر ایک لمحہ تھا جو اب تک رک سکتے تھے۔

وہ لمحہ رک گیا۔ نوید کے موہ سے ایک ہلکی نکلی جیسے کوئی آواز نہ نکلے۔ سارہ نے اپنے موہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا کہ اب میرے پاس کی بات ہے۔ تم جو کہو چاہتے ہو وہ کرو۔ نوید کے ہونٹ میں کانپ آ گئے لیکن وہ کچھ بول نہ سکا۔ سارہ نے اس کی آواز نہیں آئی جب اس جسم کو پتی کے ہاتھوں نے چھوا تھا۔ پتی کا ہاتھ ہمیشہ سے پھل کر دیوار پر رکھ دیتا تھا جیسے کوئی چیز چھو رہی ہو۔

سارہ نے اپنی کمیز اتار کی گندگی کھول دی اور کہا کہ آج میرے پاس وہ رقم دکھو جو کنزومر فائل پر کبھی نہیں لکھتا۔ نوید کے ہونٹ میں کانپ اور بڑھ آ گئے لیکن وہ بول نہ سکا کہ اب کیا ہو رہا ہے۔ سارہ نے اس کی آواز نہیں آئی کہ کب سے اس جسم کو اس حد تک کسی نے چھوا ہو۔ پتی کے ہاتھ کی نرمی اور نوید کے ہاتھ کی گرمی ایک دوسرے دفتر کے رقم تھے جو وہ اب لکھنا چاہتی تھی۔

نوید نے اپنے ہاتھ سارہ کے گلاب پر پھیر دیے۔ کپڑے کے بٹن کے گندے بٹن کے نیچے کھل گئے۔ سارہ نے کہا کہ نرم نہیں۔ آج رقم سخت لکھنا ہے۔ وہ کہ کر کہ نہ کر۔ نوید کے ہاتھ بھی زور سے کپڑے کے بٹن پر جا پھنچے اور کپڑا پھٹ گیا۔ سارہ کی سانس کھل گئی لیکن وہ بول نہ سکی کہ روک دے۔ وہ چہاتی کے پھن پر بیٹھ ہو گئی جسے بجلی کے دفتر میں کوئی بیٹھتا نہیں ہوتا۔

نوید کے ہونٹ میں گرمی بڑھ رہی تھی۔ سارہ نے اس گرمی کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ نوید کے پاء کھل گئے۔ وہ کہ کر سکا کہ اب بھی بھاری ہو گئی ہے لیکن اس کی بھاری کو وہ سہنا چاہتا تھا جیسے پتی کے پاس کبھی نہیں چاہتا تھا۔ سارہ نے اپنے ہاتھ نوید کے سر پر پھیر دیئے اور کہا کہ اب میرے رقم کو پۚڈھ سے پۚڈھ تک پڑھ لیجی۔ نوید نے پۚڈھ دبائے۔ سارہ کی پیٹ بھی بھاری سے بھیگی تھی۔ وہ کہ کر سکی کہ اب کو اندر لے ڢو۔

نوید نے اپنی انگلی کی انگلی سے کہیڑی کھول کر دی اور سارہ کے پیٹ کو گرم کی ہتھیلی پر لیٹا دیا۔ سارہ کی پیٹ بھی گیلی تھی۔ نوید کے ہونٹ میں گرمی اور بڑھ آ گئے تھے لیکن وہ بول نہ سکا کہ اب کیا ہو گیا ہے۔ سارہ نے اس کی آواز نہیں آئی کہ کب سے اس پیٹ کو کسی نے اس حد تک گرم نہیں کیا تھا۔ پتی کا ہاتھ ہمیشہ سے پھل کر دیوار پر رکھ دیتا تھا جیسے کوئی چیز چھو رہی ہو۔

سارہ نے نوید کو لیڈجر کی سیاہی پر لٹا دیا۔ کاغذ کی سیاہی بھی سخت تھیں لیکن نوید کے ہاتھ کے نیچے وہ سیاہی نرم ہو گئی تھی۔ سارہ نے اپنے کپڑے کہول کیئے اور نوید کے اوپر بیٹھ گئی۔ نوید کی زبان بھی گیلی تھی۔ وہ کہ کر سکا کہ اب میرے زبان کو اندر لے آؤ۔ سارہ نے اس کی آواز نہیں آئی کہ پہلے اس زبان کو اندر لے آؤ۔ پتی کا زبان ہمیشہ سے پھل کر دیوار پر رکھ دیتا تھا جیسے کوئی چیز چھو رہی ہو۔

نوید کے ہونٹ میں گرمی بڑھ آ گئے تھے لیکن وہ بول نہ سکا کہ اب کیا ہو گیا ہے۔ سارہ نے اپنے ہونٹ کو ہاتھ میں لیا اور کہا کہ اب میرے رقم کو پۚڈھ سے پۚڈھ تک پڑھ لیجی۔ نوید نے پۚڈھ دبائے۔ سارہ کی پیٹ بھی بھاری سے بھیگی تھی۔ وہ کہ کر سکی کہ اب کو اندر لے ڢو۔ نوید نے اپنی انگلی کی انگلی سے کہیڑی کھول کر دی اور سارہ کے پیٹ کو گرم کی ہتھیلی پر لیٹا دیا۔

سارہ کی پیٹ بھی گیلی تھی۔ نوید کے ہونٹ میں گرمی اور بڑھ آ گئے تھے لیکن وہ بول نہ سکا کہ اب کیا ہو گیا ہے۔ سارہ نے اس کی آواز نہیں آئی کہ کب سے اس پیٹ کو کسی نے اس حد تک گرم نہیں کیا تھا۔ پتی کا ہاتھ ہمیشہ سے پھل کر دیوار پر رکھ دیتا تھا جیسے کوئی چیز چھو رہی ہو۔ نوید نے اپنے ہاتھ سارہ کے گلاب پر پھیر دیے اور کپڑے کے بٹن کو زور سے دبایا۔

سارہ کی سانس کھل گئی لیکن وہ بول نہ سکی کہ روک دے۔ وہ چہاتی کے پھن پر بیٹھ ہو گئی جسے بجلی کے دفتر میں کوئی بیٹھتا نہیں ہوتا۔ نوید کے ہونٹ میں گرمی بڑھ رہی تھی۔ سارہ نے اس گرمی کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ نوید کے پاء کھل گئے۔ وہ کہ کر سکا کہ اب بھی بھاری ہو گئی ہے لیکن اس کی بھاری کو وہ سہنا چاہتا تھا جیسے پتی کے پاس کبھی نہیں چاہتا تھا۔

سارہ نے نوید کو اپنے اوپر بیٹھا دیا اور کہا کہ اب میرے رقم کو پۚڈھ سے پۚڈھ تک پڑھ لیجی۔ نوید نے پۚڈھ دبائے۔ سارہ کی پیٹ بھی بھاری سے بھیگی تھی۔ وہ کہ کر سکی کہ اب کو اندر لے ڢو۔ نوید نے اپنی انگلی کی انگلی سے کہیڑی کھول کر دی اور سارہ کے پیٹ کو گرم کی ہتھیلی پر لیٹا دیا۔ سارہ کی پیٹ بھی گیلی تھی۔ نوید کے ہونٹ میں گرمی اور بڑھ آ گئے تھے لیکن وہ بول نہ سکا کہ اب کیا ہو گیا ہے۔

سارہ نے اس کی آواز نہیں آئی کہ کب سے اس پیٹ کو کسی نے اس حد تک گرم نہیں کیا تھا۔ پتی کا ہاتھ ہمیشہ سے پھل کر دیوار پر رکھ دیتا تھا جیسے کوئی چیز چھو رہی ہو۔ نوید نے اپنے ہاتھ سارہ کے گلاب پر پھیر دیے اور کپڑے کے بٹن کو زور سے دبایا۔ سارہ کی سانس کھل گئی لیکن وہ بول نہ سکی کہ روک دے۔ وہ چہاتی کے پھن پر بیٹھ ہو گئی جسے بجلی کے دفتر میں کوئی بیٹھتا نہیں ہوتا۔

نوید کے ہونٹ میں گرمی بڑھ رہی تھی۔ سارہ نے اس گرمی کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ نوید کے پاء کھل گئے۔ وہ کہ کر سکا کہ اب بھی بھاری ہو گئی ہے لیکن اس کی بھاری کو وہ سہنا چاہتا تھا جیسے پتی کے پاس کبھی نہیں چاہتا تھا۔ سارہ نے اپنے ہاتھ نوید کے سر پر پھیر دیئے اور کہا کہ اب میرے رقم کو پۚڈھ سے پۚڈھ تک پڑھ لیجی۔ نوید نے پۚڈھ دبائے۔ سارہ کی پیٹ بھی بھاری سے بھیگی تھی۔

سبح کو جنریٹر دوبارہ چل پڑا تو سارہ نے اپنا کمیز اتار پھر لیا اور نوید نے اپنی قمیص پھیر لی۔ ریکارڈ روم میں کاغذ کی بو آ رہی تھی۔ سارہ نے نوید کے کانھ پر ہاتھ رکھ تے ہوئے کے بعد کہا کہ کل اس رقم کو کنزومر فائل پر نہیں لکھنا۔ نوید نے سر ہلایا تھا لیکن کہا کچھ نہیں کیا۔ وہ رقم جو اس رات لکھا گیا وہ کسی فائل پر کبھی نہیں چڑھا جائے گا۔

سارہ نے دروازہ کھولا اور کہا کہ کل جاؤ۔ نوید پیچھے گیا لیکن اس کے پیچھے کی رفتار میں وہ رات کا کوئی نقش نہیں تھا۔ شہر کے باہر میں لوگ آ رہے تھے جب دونوں نے اپنے اپنے گھر پر بیٹھ کر کیا۔ سارہ کے ہونٹ میں اب بھی وه گرمی تھی جو کسی کنزومر کے بیل پر نہیں آتی۔ نوید کے ہونٹ میں وہ رقم تھا جو وہ کبھی نہیں لکھا جائے گا۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Office Romance

اردو آفس کی کہانی: رات بھر کا پچ

اردو آفس کی کہانی: پچ سے پہلی رات سناء اور بلال خالی آفس میں اکیلے رہ جاتے ہیں۔ ڈیک، کافی اور شہر کی روشنیوں کے بیچ ایک گرم کشش بڑھتی ہے۔

Read Next Story

Readers who enjoyed “بہاولپور کے پرانے بجلی دفتر کے ریکارڈ روم میں جب جنریٹر بند ہوا تو شادی شدہ لیڈجر کلرک نے نئے بیل چیکر کو وہ رقم دکھایا جو کسی کنزومر فائل پر کبھی نہیں لکھا” also read

8 curated stories
Office Romanceاردو (Urdu)

اردو باس سیکس کہانی: رخصانہ میڈم کی جمعہ والی رات

دیر رات دفتر میں رکی رخصانہ میڈم نے دانش کو کیبن میں بلایا۔ یہ اردو باس سیکس کہانی اس ایک رات کی ہے جس نے دونوں کی زندگی بدل دی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
Office Romanceاردو (Urdu)

لکھنؤ کی پرانی چکن فنشنگ ورکشاپ میں عید کی آخری ڈلیوری کے بعد کنواری انچارج نے حیدرآباد کے انسپکٹر کو وہ حساب دیا جو کسی رجسٹر یا بل پر کبھی نہیں چڑھا

لکھنؤ کی پرانی چکن ورکشاپ۔ عید کی آخری ڈلیوری۔ کنواری فائزہ اور حیدرآباد کا رضوان۔ وہ حساب جو رجسٹر پر نہیں چڑھا۔

⏱️ 14 min read•👁️ 0 views
Office Romanceاردو (Urdu)

اردو آفس کہانی: زویا کی چوت میں دانیال کا لنڈ، لکھنؤ آفس کی گرم چدائی

اردو آفس کہانی میں لکھنؤ کے ایک آفس میں اوور ٹائم کی ایک شام دو لوگوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔ بارش، خوشبو اور ایک رات کی کہانی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 0 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ

دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔

⏱️ 13 min read•👁️ 5 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔

⏱️ 14 min read•👁️ 4 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات

لاہور کی پرانی حویلی میں نادیہ کی شادی کی پہلی رات۔ سمیر گھبرایا ہوا ہے اور نادیہ کے پاس چھپی ہوئی کتابوں سے سیکھے راز ہیں۔ اردو دلہن کی پہلی رات کی ایک گرم کہانی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 4 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی

اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔

⏱️ 9 min read•👁️ 4 views