First Timeاردو (Urdu)⭐ Original Edition

نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کے گودام میں موسم کے آخری ڈھیر کے بعد کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو کسی بیچ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی

R
13 min read1 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کی گلی میں جب اکتوبر کی رات اترتی ہے تو ہوا میں خشک پتوں کی وہ بو رہ جاتی ہے جو صرف وہ لوگ پہچانتے ہیں جو پورے موسم بھر چھانٹنے کی میز پر بیٹھے رہتے ہیں۔ منالہ بی بی اکیس برس کی تھی۔ اس کے بال کالے اور لمبے تھے، چہرے پر ابھی شادی کی مہندی نہیں لگی تھی، اور اس کے ہاتھوں پر تمباکو کے خشک پتوں کی ہلکی سی زردی رہ گئی تھی جو صابن سے بھی مکمل نہیں اترتی تھی۔ وہ کنواری تھی۔ گھر والے کہتے تھے کہ موسم کے بعد اس کی بات چلے گی، مگر منالہ خود نہیں جانتی تھی کہ بات چلنے سے پہلے اس کے جسم میں جو بے چینی اٹھتی ہے اس کا کیا نام ہے۔

گودام تین نسلوں سے اس کے ماموں کے خاندان کے پاس تھا۔ بڑی چادریں، لوہے کی ترازو، اور لکڑی کے تختے جن پر پتے خشک کیے جاتے تھے۔ رات کے بارہ بجے کے بعد صرف ایک نائٹ گارڈ رہ جاتا تھا۔ اس کا نام ارشد تھا۔ اٹھائیس برس، کندھے چوڑے، آواز میں وہ کھردرا پن جو سردی کی راتوں میں چائے پینے والوں میں ہوتا ہے۔ وہ شادی شدہ نہیں تھا۔ گاؤں میں ماں بیمار تھی، اس لیے شہر کے اس پرانے گودام میں نوکری پکڑی ہوئی تھی۔

اس رات آخری ڈھیر چھنٹ چکا تھا۔ منالہ نے سوچا تھا کہ جلدی نکل جائے گی مگر ماموں نے کہا کہ کل صبح گاڑی آئے گی، اس لیے وزن کی فہرست دوبارہ جانچ کر لے۔ چراغ کم تھے۔ بجلی آتی جاتی رہتی تھی۔ وہ اکیلے تختے کے پاس بیٹھی رجسٹر کھولے ہوئے تھی جب ارشد دروازے کے پاس کھڑا ہو گیا۔

اس نے پوچھا، پانی پیو گی؟ منالہ نے سر ہلایا۔ اس کی گردن میں پسینے کی ایک لکیر تھی جو کالر کے نیچے چلی گئی تھی۔ ارشد نے لوٹے سے پانی دیا۔ انگلیاں چھو گئیں۔ دونوں نے کچھ نہیں کہا۔ باہر سے ریل کی سیٹی دور سے گزری، جیسے کوئی چیز یاد دلا رہی ہو کہ شہر اب بھی جاگ رہا ہے۔

منالہ نے رجسٹر بند کیا۔ اس کی سانس تیز ہو رہی تھی بغیر کسی وجہ کے۔ ارشد نے پوچھا، ڈر تو نہیں لگی؟ اس نے کہا، ڈر نہیں، کچھ اور ہے۔ اس نے خود کو نہیں سمجھا۔ ارشد قریب آ گیا۔ اس کی قمیض میں تمباکو اور مٹی کی بو تھی۔ منالہ نے پہلی بار کسی مرد کو اتنی قریب سے سونگھا۔ دل کے نیچے کچھ ڈھڑکا جو پہلے کبھی نہیں ڈھڑکا تھا۔

گودام کے پچھلے حصے میں ایک چھوٹا کمرہ تھا جہاں خراب پتے الگ کیے جاتے تھے۔ وہاں روشنی اور بھی کم تھی۔ منالہ رجسٹر لے کر اندر گئی اس بہانے کہ فہرست وہیں رکھ دے گی۔ ارشد پیچھے آ گیا۔ دروازہ بند نہیں ہوا، صرف ادھ کھلا رہ گیا۔ ہوا اندر آتی رہی۔

اس نے پوچھا، تم روز اتنی دیر تک رہتی ہو؟ منالہ نے کہا، موسم میں رہنا پڑتا ہے۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ ارشد نے ہاتھ بڑھا کر اس کی کلائی پکڑی۔ کلائی میں نبض تیز تھی۔ اس نے آہستہ کہا، اگر کہو تو چھوڑ دوں۔ منالہ نے کچھ نہیں کہا۔ یہ نہ کہنا ہی اجازت تھی۔

پہلا بوسہ ناواقف تھا، دانتوں سے ٹکرایا، پھر نرم پڑ گیا۔ منالہ کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ اس نے سوچا تھا کہ شادی کی رات ایسا ہوگا، مگر یہ رات کسی رشتے کی نہیں تھی۔ یہ صرف دو جسموں کی پیاس تھی جو مہینوں سے ایک ہی چھت تلے گزری تھی۔ ارشد کے ہاتھ اس کی کمر پر آئے۔ دوپٹہ سرک گیا۔ اس نے شرم سے ہاتھ روکے مگر ہاتھ خود اس کے کندھے پر چلے گئے۔

قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھلے۔ منالہ نے پہلی بار اپنے سینے کو کسی اور کی نظر میں محسوس کیا۔ ٹنڈی ہوا لگی تو اس نے کانپ کر ارشد کو اور قریب کھینچ لیا۔ اس کے ہونٹ اس کے گلے پر تھے، پھر ہنسلی کی ہڈی پر، پھر اس جگہ پر جہاں دل کی ڈھڑکن سب سے زیادہ سنائی دیتی ہے۔ منالہ کی آواز نکل پڑی، ہلکی سی، جیسے خود کو حیران کر رہی ہو۔

ازار کا ناڑا کھلا۔ کپڑے نیچے سرکے۔ لکڑی کے تختے کی ٹھنڈک پیٹھ کو لگی۔ خشک پتوں کی مہک اور عورت کی تازہ پسینے کی مہک مل گئیں۔ ارشد نے اپنے کپڑے اتارے۔ منالہ نے پہلی بار مرد کو ننگا دیکھا۔ ڈر تھا، تجسس تھا، اور وہ گرمی جو پیٹ کے نیچے جمع ہو رہی تھی۔

اس نے آہستہ کہا، درد ہوگا۔ منالہ نے سر ہلایا۔ میں جانتی ہوں۔ اس نے نہیں جانا تھا، صرف سنا تھا۔ جب ارشد اندر آیا تو درد تیز تھا، ایک لمحے کے لیے سانس رک گئی۔ اس نے ناخن اس کی پیٹھ میں گاڑ دیے۔ پھر درد ہلتا ہلتا کسی اور چیز میں بدل گیا۔ حرکت سست تھی۔ گودام کے باہر کتا بھونکا۔ اندر صرف سانسوں کی آواز تھی۔

منالہ کی آنکھوں میں پانی آ گیا مگر وہ روئی نہیں۔ وہ دیکھ رہی تھی چھت کی کالی لکیر کو، اور محسوس کر رہی تھی کہ اس کا جسم اب وہ جسم نہیں رہا جو صبح گھر سے نکلا تھا۔ ارشد نے اس کا منہ اپنے کندھے سے لگایا۔ اس نے نام لیا، منالہ۔ نام سن کر اس کے اندر کچھ اور کھل گیا۔ رفتار بڑھی۔ تختہ چیخا۔ پتے کھڑکھڑائے۔

پہلی بار جب جسم لرزا تو منالہ نے منہ دبا لیا۔ آواز پھر بھی نکل گئی۔ ارشد نے بھی رک کر ایک لمبی سانس لی، پھر باہر نکلا اور اس کی ران پر گر گیا۔ دونوں خاموش پڑے رہے۔ پسینہ ٹھنڈا ہونے لگا۔ منالہ نے آسمان کی طرف دیکھا جو کھڑکی کی پٹی سے دکھائی دے رہا تھا۔ ستارے تھے، جیسے کچھ گواہ بنے ہوں۔

اس نے پوچھا، اب کیا ہوگا؟ ارشد نے کہا، جو تم کہو گی۔ منالہ نے کپڑے سمیٹے۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے رجسٹر اٹھایا جو زمین پر گرا ہوا تھا۔ صفحہ داغ دار ہو گیا تھا۔ اس نے مسکرا کر کہا، یہ وزن کل صبح غلط نکلے گا۔ ارشد نے بھی مسکرایا۔ دونوں جانتے تھے کہ کل صبح گاڑی آئے گی، ماموں آئے گا، اور یہ کمرہ پھر صرف خراب پتوں کا کمرہ رہ جائے گا۔

وہ باہر آئے۔ گیٹ پر تالا لگ گیا۔ سڑک خالی تھی۔ دور مسجد کی روشنی تھی۔ منالہ نے دوپٹہ ٹھیک کیا۔ ارشد نے اس کے ہاتھ کو ایک لمحے کے لیے دبایا اور چھوڑ دیا۔ کوئی وعدہ نہیں ہوا۔ صرف وہ خوشبو رہ گئی جو بیچ کے رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔ خشک پتوں کی خوشبو میں اب ایک اور خوشبو مل گئی تھی۔

گھر پہنچ کر منالہ نے ہاتھ دھوئے۔ پانی گرم تھا۔ آئینے میں اس کا چہرہ وہی تھا مگر آنکھیں کچھ اور پوچھ رہی تھیں۔ ماں نے پوچھا، آج دیر کیوں ہوئی؟ اس نے کہا، فہرست رہ گئی تھی۔ یہ جھوٹ اتنا چھوٹا تھا کہ گلے میں اٹکا نہیں۔ رات بھر وہ جاگتی رہی۔ جسم میں درد تھا، اور اس درد کے نیچے ایک عجیب اطمینان۔

اگلی صبح گودام میں سب کچھ عام تھا۔ ترازو بج رہی تھی، گاڑی کا ہارن بج رہا تھا، ماموں چیخ رہے تھے۔ ارشد دور کھڑا چائے پی رہا تھا۔ نگاہ ملی تو دونوں نے فوراً پھیر لی۔ منالہ نے وزن لکھا۔ ہاتھ مستحکم تھے۔ صرف ایک صفحے کے کونے پر کل رات کا ڈھبہ تھا جو کسی نے نہیں دیکھا۔

موسم ختم ہونے والا تھا۔ چند دن اور رہ گئے تھے۔ ہر رات منالہ سوچتی کہ وہ پھر اندر جائے گی یا نہیں۔ تیسری رات جب بجلی گئی اور صرف لالٹین رہ گئی تو وہ خود کمرے کی طرف چلی۔ ارشد پہلے سے وہاں تھا۔ اس بار درد کم تھا۔ اس بار اس نے خود ہاتھ پکڑ کر قریب کھینچا۔ اس بار اس نے نام لیا۔ اس بار جب لرزش آئی تو اس نے منہ نہیں دبایا۔

چوتھی رات انہوں نے بات کی۔ چھوٹی چھوٹی باتیں۔ گاؤں، بیمار ماں، شادی کی باتیں جو گھر میں چل رہی تھیں۔ ارشد نے کہا، میں تمہیں روک نہیں سکتا۔ منالہ نے کہا، میں رکنے کو نہیں کہہ رہی۔ دونوں سمجھ گئے کہ یہ موسم کی چیز ہے، جیسے پتے خشک ہوتے ہیں اور پھر بکنے چلے جاتے ہیں۔

آخری رات بارش ہوئی۔ گودام کی چھت ٹپکی۔ وہ دونوں پرانی چادر کے نیچے لیٹے۔ جسم گرم تھے، باہر ٹھنڈ تھی۔ منالہ نے سر اس کے سینے پر رکھا اور سنی اس کی ڈھڑکن۔ اس نے پوچھا، تم یاد رکھو گے؟ ارشد نے کہا، رجسٹر میں نہیں، اور جگہ۔ اس نے ہنس کر کہا، کون سی جگہ؟ اس نے جواب نہیں دیا۔ صرف اسے اور مضبوطی سے پکڑ لیا۔

صبح جب آخری بوریاں گاڑی پر چڑھیں تو منالہ نے گیٹ کے باہر کھڑے ہو کر دیکھا۔ ارشد نے ہاتھ اٹھا کر سلام کیا، جیسے کوئی عام نائٹ گارڈ سلام کرتا ہے۔ اس نے جواب میں سر ہلایا۔ گاڑی نکل گئی۔ گلی میں پھر خشک پتوں کی بو رہ گئی، اور اس بو میں وہ چیز جو کسی حساب کتاب میں نہیں لکھی جاتی۔

ماہ بعد اس کی شادی کی بات پکی۔ دولہا دوسرا شہر کا تھا۔ منالہ نے مہندی لگوائی، آئینے میں دیکھا، اور سوچا کہ پہلی رات اب کوئی اور رات کہلائے گی۔ مگر جسم کو جھوٹ نہیں آتا۔ جب نئی چارپائی پر پہلی بار لیٹی تو اس کے ذہن میں لکڑی کا تختہ آیا، خشک پتے، اور وہ کھردری آواز جس نے اس کا نام لیا تھا۔ اس نے آنکھ بند کی اور نئے رشتے میں داخل ہوئی اس علم کے ساتھ کہ کچھ چیزیں رجسٹر پر نہیں چڑھتیں، وہ صرف سانس میں رہ جاتی ہیں۔

نوشہرہ کی وہ گلی آج بھی تمباکو کی بو رکھتی ہے۔ نیا گارڈ آ گیا ہے۔ نئی لڑکیاں چھانٹتی ہیں۔ کبھی کبھی پرانی لالٹین کی بتی جلتی ہے تو دیوار پر وہی سائے پڑتے ہیں جو ایک اکتوبر کی رات پڑے تھے۔ منالہ اب شہر میں رہتی ہے۔ اس کے بچے ہیں، گھر ہے، حساب ہے۔ مگر جب ہوا میں خشک پتوں کی مہک آتی ہے تو اس کی کلائی خود بخود یاد کرتی ہے کہ کسی نے اسے کس نرمی اور کس سختی سے پکڑا تھا۔

یہ کہانی کسی وعدے کی نہیں ہے۔ یہ اس رات کی ہے جب کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو بیچ کے کسی رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔ گودام اب بھی کھڑا ہے۔ ترازو اب بھی بولتی ہے۔ اور کچھ وزن اب بھی غلط نکلتے ہیں، صرف ان کے لیے جو جانتے ہیں کہ فہرست کے نیچے اور بھی ایک فہرست ہوتی ہے۔

رات جب قطار ختم ہو جاتی ہے اور چراغ گل ہونے لگتے ہیں، تب بھی کوئی نہ کوئی دروازے کے پاس کھڑا رہ جاتا ہے، پانی کا لوتا ہاتھ میں لیے، پوچھنے کو کہ پانی پیو گی۔ جواب کبھی سر ہلانے میں ہوتا ہے، کبھی خاموشی میں۔ اور خاموشی میں وہی کمرہ کھل جاتا ہے جہاں خشک پتے بولتے ہیں، جہاں پہلی بار کا درد دوسری سانس میں لذت بن جاتا ہے، جہاں عورت اپنے پرانے جسم کو الوداع کہتی ہے بغیر کسی رسم کے۔

منالہ نے کبھی خط نہیں لکھا۔ ارشد نے کبھی نام نہیں پوچھا اگلی نوکری میں۔ دونوں نے وہی کیا جو موسم نے سکھایا۔ پتے توڑو، خشک کرو، تولو، بیچ دو، اور جو رہ جائے اسے خراب پتوں والے کمرے میں رکھ دو۔ کچھ چیزیں فروخت نہیں ہوتیں۔ وہ صرف رات کے بارہ بجے کے بعد زندہ رہتی ہیں، جب بجلی جاتی ہے اور لالٹین کی روشنی جسموں کو ادھورا دکھاتی ہے۔

برسوں بعد جب منالہ نے اپنی بیٹی کو پہلی بار بازار سے گھر آتے دیکھا، ہاتھوں پر دھول، چہرے پر شرم کی لالی، تو اسے اپنی کلائی یاد آئی۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ صرف پانی گرم کیا اور ہاتھ ڈھونے کو کہا۔ ماں جانتے ہیں کہ کچھ داغ صابن سے نہیں اترتے، اور اترنا بھی نہیں چاہیے۔ وہ داغ کہانی بن جاتے ہیں، اور کہانی رجسٹر سے باہر رہتی ہے۔

گودام کے مالک بدل گئے۔ بوریاں نئی آئیں۔ مگر پچھلے کمرے کی لکڑی اب بھی وہی ہے، ہلکی سی چیخ کے ساتھ۔ جو کوئی دیر رات وہاں جائے، اگر کان لگا کر سنے، تو سانسوں کی آواز اب بھی دیواروں میں بند محسوس ہوتی ہے۔ یہ آواز حساب نہیں مانگتی۔ یہ صرف یاد دلاتی ہے کہ انسان کے جسم کا پہلا سبق کبھی کتاب میں نہیں لکھا جاتا۔ وہ تمباکو کی خشک خوشبو میں لکھا جاتا ہے، ایک کنواری لڑکی کے کانپتے ہاتھوں میں، اور اس مرد کی کھردری ہتھیلی میں جو صرف پانی دینے آیا تھا۔

آخر میں منالہ نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس رات کو بھول جائے گی۔ وعدہ ٹوٹ گیا جیسے رجسٹر کا صفحہ ٹوٹ جاتا ہے۔ بھولنا ممکن نہیں تھا کیونکہ جسم نے یاد رکھا۔ ہر موسم کی پہلی ٹھنڈ میں وہ یاد آتی، ہر ریل کی سیٹی پر، ہر لالٹین کی بتی پر۔ اور یہ یاد گناہ نہیں لگتی تھی۔ یہ صرف سچ لگتی تھی، کچے پتے کی طرح، جسے ابھی تولنا باقی ہو۔

یوں نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کی گلی میں ایک کہانی رہ گئی جو کوئی نہیں سناتا اور سب کے جسم جانتے ہیں۔ کنواری چھانٹنے والی اور نائٹ گارڈ۔ آخری ڈھیر۔ بند رجسٹر۔ اور وہ خوشبو جو کسی بیچ کی فہرست پر نہیں چڑھتی۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

First Time

اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات

لاہور کی پرانی حویلی میں نادیہ کی شادی کی پہلی رات۔ سمیر گھبرایا ہوا ہے اور نادیہ کے پاس چھپی ہوئی کتابوں سے سیکھے راز ہیں۔ اردو دلہن کی پہلی رات کی ایک گرم کہانی۔

Read Next Story

Readers who enjoyed “نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کے گودام میں موسم کے آخری ڈھیر کے بعد کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو کسی بیچ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی” also read

8 curated stories
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2

اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات

اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1

نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔

⏱️ 17 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)

اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔

⏱️ 15 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات

اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)

اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views