لاہور کی پرانی گلی میں اس نے دروازہ بند کیا، رسی کی کلائی میرے گلے میں پہنائی اور کہا کہ آج سے تم میرے حکم میں ہو

S
10 min read3 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

میں نے کبھی سوچا تھا کہ قلم اپنانے والے آدمی کی کلاس سرف نقش کی کلاس نہیں رہےگی۔ پتی دبئی میں تھا؂ اور ہر مہینے شب گھر کہتا کہ شام کے بعد میں پرانی لاہور کی ان گلی میں جاتی هوں جہاں آدمی اس کمرے میں بیٹھا ہوتا تھا جہاں کاغذ کی خوشبو آواز آتی تھیں۔ اس نے کہا تھا کہ ہاتھ سیدھی رکھنے کے لیے کلم چاہیے چاہیے ہونے چاہیے۔ میں نے سوچ میں کہا کہ ہاں پہلے سے یہ کام کرتی رہی ہوں۔

گلی انی تنگ تھی کہ موٹر سائیکل بھی کام چلتا تھا۔ دیواروں پر پہوپ پڑے تھے، چھت پر سرخ میں لپٹے تھے، اور دوکان پر پہلے کمرے کی کھٹھ سے پیلے کی کھٹھ تک آتی ہوئی تھی۔ آدمی کا کمرہ تیسرے پیچ پر تھا۔ اندر لکڑی لکڑی میزےں، سیاہ سیاہی کاغذ، اور ایک بڑی میز جس پر ہمیشہ سیاہ رنگ رکھ ہوا کرتا تھا۔ وہ میز میرے لیے ہمیشہ بھی نہیں رکھ گیا تھا۔ وہ میز میرے لیے کچھ اور بھاری رکھ گیا تھا۔

پہلے دو ہفتوں وہ صرف استاد رہا۔ میرے ہاتھ کو دیکھتا، کلم کے وزن کو سہیجتا، کاغذ کی بوتل کو بدلتا۔ میں بھی بیٹھی وہی کرتی جیسے کوئی نیک لڑکی کپڑے پر بیٹھا ہوتی تھی۔ وہ کبھی پیچے آتا، کبھی خڑا کرتا اور کہتا، گردن سیدھی کو یوں پکڑو۔ اس کی آواز ہمیشہ نہیں تھی۔ وہ کبھی بھی بولتا تھا اور کبھی کم بولتا تھا۔ لیکن جب وہ قریب آتا تو کمرے کی فضا بدل جاتی تھی۔

اس شام وہ پہلے سے ہی دروازے پر کھڑھ تھا۔ کالی کپڑے میں سیاہ کمیز تھی۔ میں نے دستک بجائی۔ اس نے دروازہ کھٹا اور کہا، آج آپ اندر آئی۔ کلاس اب نہیں رہےگی۔ آج تم میرے حکم میں ہو۔

میں ہنسوگائی۔ میرے گلے میں ہنسی آئی کہ شاید کہ یہ مزاق کرنے لگا تھا۔ میں نے معاف کی۔ میں اندر گئی۔ دروازہ بند ہوا۔ کنڈی کی آواز بھی آئی جیسے کوئی باہر سے آگ نہ سکے۔ آدمی نے پیچے میرے پیچے چلائے۔ اس کی انگلیوں میں کوئی لمبی نہیں تھی۔ صرف یہ بات کہ میں اب اس کمرے سے باہر نہیں نکلوں گیا جب تک وہ خود کہے۔

اس نے کہا، دُپٹے اوٹاؤ۔ ہاتھ پیچے کے پیچے رکھؤ۔ کلم پکڑو۔ میں کامپین کے معاملے پیچے رکھ گئی۔ وہ پیچے پیچے میرے گلے پیچے رکھ گیا۔ اس کے ہاتھوں میں سیاہی داغ لگا تھا۔ میرا گلا گرم ہو رہا تھا اور میرے جسم میں کوئی چیز پیسھ آئی جیسے میں سالوں سے نہیں اپنائی تھی۔ میں نے کلم پکڑا۔ میرے ہاتھ کانپتے تھے۔ میری سانس میں بدبو آ گئی تھی۔

اس نے میرے بال پکڑے اور میرا سر پیچے اٹھایا۔ چوما کرا تھا۔ میرے ہونٹوں میں گرمائش چھ گئی۔ اس نے کہا، آج سے تم جو کہوگے وہ کہے گا۔ تم بولوگی۔ تم مانگتی ہو۔ تم میرے سامنے ہو۔ سمجھو۔ میں نے سمجھا۔ میری آواز خود میرے کان میں نہیں رہی تھی۔ یہ آواز کسی گئی جیسے کوئی درخواست تھی جو برسوں میں چھپ چھپ کرتی رہی ہو۔

اس نے میری کلائی پکڑی۔ میز کے دراز سے ایک رسی نکالی۔ وہ رسی کالی کی کلائی میں پہنا دی۔ گانٹھ نہیں تھا کہ خون کٹے لیکن اتنا پکی تھا کہ میں حرکت نہ کر سکوں۔ میرے ہاتھ پیچے بنھ ہوئے تھے اور میرے دل میں کوئی اجیب سی چیز تھی جس کو میں سالوں سے چھپا رہی تھی۔ میں نے کہا، آدمی خان۔ یہ کیا ہے؟ اس نے کہا، یہ وہی ہے جو تم چاہتی رہی ہو اور کبھی کہ نہیں کہ سکتی۔

وہ میرے پیچے کھٹھ کے بائیں خڑک گیا۔ میرے گردن کے گریبان کو انگلیوں سے پکڑا۔ پہلے بٹن، پھر کمیز، پھر دمانے کا گھٹا۔ ہر بٹن کے گھٹنے پر اس کی انگلیوں تھم گئیں۔ میرے سانس سی کاپ کمپ گئی۔ میں نے سانس کو دبایا لیکن سانس نے مجھ گھورا دیا تھا۔ آدمی کے ہاتھ میرے گردن پر تھے اور اس کی انگلیوں میرے جسم کو جان تھیں۔ میں کانپ رہی تھی۔ میرے پیر میں سیلاب بھر رہا تھا۔

اس نے میرے دُپٹے کے پیچے کپڑے کے نیچے تک کھٹھ کر دیئے۔ پیچے میرے ران کے اندر چلے گئے۔ میں کانپ اپھی۔ اس کی انگلی میرے گیلے پر تھی۔ اس نے کہا، گیلی کھٹ کرو۔ میں کاٹ کے ساتھ گیلی کاٹ گئی۔ میری ساڑی کے نیچے ہٹ کے ہٹ گیلے پر چڑھ گئے تھے۔ میں شرم سے ہل گئی تھی لیکن اس شرم کے ساتھ میرے جسم میں آگ لگی ہوئی تھی۔ میں نے ٹانگ کاٹا۔ اس نے ٹانگ کو اپنی انگلی میں لیا۔

میں نے پھر سمجھا۔ اس نے میرے گال پکڑ لیے۔ میرے مونھ میں اس کی انگلی چلی گئی۔ میں بھیگی۔ میرے پیر میں گیلا بھر رہا تھا۔ اس نے کہا، گیلی چاٹو۔ میں چاٹی۔ وہ اندر آیا۔ میرے پیر پھٹ گئے۔ میں چِلائی۔ میرے گھٹنوں میں کانپنے لگی۔ میرے دُپٹے کے اندر گیلا بھر رہا تھا۔ میرے پاؤں کمزور ہو رہے تھے۔ میں اپنی زبان کو کاٹ نہ سکی تھی۔

اس نے میرے بال پکڑ کر مجھے گھٹنوں پر موڑا۔ رسی کس گئی تھی۔ میرے گال بھی کھٹ رہے تھے۔ میرے چھاتی دیوار سے لگ رہی تھی۔ ہر چوٹ سے میرا جسم کانپ رہا تھا۔ آدمی پیچے سے دہکے لگا تھا۔ میں اور زور سے چلائی۔ میرے گھٹنوں پر اس کی ہتھیلیاں پڑ گئیں۔ کمرہ چپ چپ تھا۔ گلی کے شور بھی آ رہے تھے۔ کوئی نہیں سن سکتا تھا۔

اس نے میرے کان میں کہا، تم اپنے پتی کو کیا بتاتی ہو جب وہ پوچے کہ تم کلیگرافی سیکھنے آئی ہو؟ میں چپ رہی تھی۔ میں نے کہا، کچ نہیں۔ اس نے زور سے دہکا۔ میں چِلائی۔ میرا سر گرم ہو گیا۔ میرے صدمے پر پسینہ آ گئی تھی۔ میں اپنی زبان پر کابو نہ پا رہی تھی۔ میرے ہاتھ کانپتے تھے اور میرے پیر میں سیلاب بھر رہا تھا۔

وہ رک گیا۔ پھر رک گیا۔ میرے گھٹنوں پر اس کی ہتھیلیاں گھرتی رہیں۔ کمرہ گونجا تھا۔ میری ساڑی کے گھٹنوں پر اس کی ہتھیلیاں کے نشان تھے۔ میں کانپ رہی تھی۔ میں چِلا رہی تھی۔ میں اپنی زبان پر کابو نہیں پا رہی تھی۔ آدمی نے میرے گال پکڑ کر کہا، اب کہو کہ تم میری ہو۔ میں نے کہا، میں تمھاری ہوں۔ میں تمھاری ہوں۔ اس نے زور سے دہکا۔ میں چِلائی۔ میرا پورا جسم کانپ اٹھا۔ میرے پاؤں کمزور ہو گئے۔

وہ رکتا رہا۔ وہ رکتا رہا۔ میری کلائی کس رہی تھیں۔ میرا گلا دیوار سے لگ رہا تھا۔ میرے حلق سے آواز نکل رہی تھی۔ میں اپنی زبان پر کابو نہیں پا رہی تھی۔ میرے جسم میں برق سی لہرے تھے۔ میں چِلائی۔ میرے ناخن سے پانی نکل رہی تھی۔ آدمی نے میرے کان میں کہا، اندر لو۔ میں اندر آئی۔ میں اپنی پوری جگہ میں گرم ہو گئی۔ میرے پیٹ پر اس کا گرم گرج آگیا۔

وہ رکتا رہا جب تک میرا پورا جسم کانپ اٹھا۔ میں چِلائی۔ میری آواز ٹوٹ گئی۔ میرے پاؤں کمزور ہو گئے۔ میرے ران پر اس کا گرم بھیگ رہا تھا۔ میں کانپتی رہی تھی۔ میں چِلائی۔ میں اپنی زبان پر کابو نہیں پا سکی۔ آدمی نے میرے کان میں کہا، لے لو۔ سب کو کیا ہوا ہے جب اس کا مالک اندر آئے۔ میں نے کہا، لے لو۔ لے لو۔ میں تمھاری ہوں۔ اس نے اندر گھیر کیا۔ میرا پورا جسم کانپ اٹھا۔ میرے پیٹ پر گرم بھیگ رہا تھا۔

بعد میں گرم سے کانپ گئی تھی۔ میرے پاؤں کانپتے تھے۔ میری ساڑی کے گھٹنوں پر گرم بھیگ رہا تھا۔ میں گر گئی تھی۔ آدمی نے میری کلائی کھٹی۔ میرے ہاتھوں کو سہلایا۔ میرے گال پر ہاتھ پھیرا۔ میں اب بھی بول سکتی تھی۔ میرے پیر میں سیلاب اب بھی تھا۔ میرے پاؤں کمزور تھے۔ میں اپنی زبان پر کابو نہیں پا رہی تھی۔

اس نے مجھے میز پر بیٹھایا۔ پانی پلائی۔ پانی کے بادل گیلے تھے۔ اس نے کہا، پیو۔ میں نے پیا۔ اس کا ذائقہ میرے مونھ میں گیا۔ میں نے چوسا۔ میں نے چوسا جب تک اس کا پانی میرے گیلے پر گرج آگیا۔ میں چوستی رہی تھی۔ میں پی رہی تھی۔ میرے گیلے پر اس کا پانی گرم اور نمک دونوں سے لپٹا ہوا تھا۔ میں نے سب کچ پیا۔ میں نے سب کچ پی لیا۔

آدمی نے میرے ڨان پکڑے اور کہا، کل نکالو۔ میں کل نکالنے لگی۔ میں نے اس کا پانی چوسا جب تک وہ پھر سیلاب ہو گیا۔ میرے گیلے پر اس کا پانی پھیل گیا۔ میرے مونھ میں اس کا ذائقہ بھر رہا تھا۔ میں چوستی رہی تھی۔ میں پی رہی تھی۔ میں نے سب کچ پیا۔ میں نے سب کچ پی لیا۔ میرے گیلے پر اس کا پانی گرم اور نمک دونوں سے لپٹا ہوا تھا۔

بعد وہ پیچے آیا۔ میرے مونھ میں نکل گیا۔ میں چِلائی۔ میرے پیر میں سیلاب بھر رہا تھا۔ میں اپنی زبان پر کابو نہیں پا رہی تھی۔ آدمی نے میرے گال پکڑ کر کہا، نگلو۔ میں نگلی۔ میں نگلی۔ میں نگلی۔ میرے گیلے پر اس کا پانی پھیل گیا۔ میرے مونھ میں اس کا ذائقہ بھر رہا تھا۔ میں چوستی رہی تھی۔ میں پی رہی تھی۔ میں نے سب کچ پیا۔ میں نے سب کچ پی لیا۔

رات کا آخری حصہ آیا۔ آدمی نے میری کلائی کھٹی۔ میرے ہاتھوں کو سہلایا۔ میرے گال پر ہاتھ پھیرا۔ میں اب بھی بول سکتی تھی۔ میرے پیر میں سیلاب اب بھی تھا۔ میرے پاؤں کمزور تھے۔ میں اپنی زبان پر کابو نہیں پا رہی تھی۔ آدمی نے کہا، گھر جاؤ۔ کلاس ختم ہوئی ہے۔ اگلے ہفتے پھر آنا۔ اگلے ہفتے پھر یہی رات ہوگی۔ میں نے کہا، میں آؤں گی۔ میں آؤں گی۔ میں آؤں گی۔

میں گھر گئی۔ گلی اب خاموش تھی۔ میرے پیر میں سیلاب اب بھی تھا۔ میرے پاؤں کمزور تھے۔ میں اپنی زبان پر کابو نہیں پا رہی تھی۔ میں گھر گئی۔ گلی اب خاموش تھی۔ میرے پیر میں سیلاب اب بھی تھا۔ میرے پاؤں کمزور تھے۔ میں اپنی زبان پر کابو نہیں پا رہی تھی۔

گھر میں گھر گئی۔ گلی اب خاموش تھی۔ میرے پیر میں سیلاب اب بھی تھا۔ میرے پاؤں کمزور تھے۔ میں اپنی زبان پر کابو نہیں پا رہی تھی۔ میں گھر گئی۔ گلی اب خاموش تھی۔ میرے پیر میں سیلاب اب بھی تھا۔ میرے پاؤں کمزور تھے۔ میں اپنی زبان پر کابو نہیں پا رہی تھی۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

BDSM & Domination

ہوٹل روم میں ریا نے ایک اجنبی لڑکے کو بستر پر لٹا کر صرف اپنی گیلی چوت اس کے منہ پر دبا کر گھنٹوں چوسوائی پھر لنڈ ہاتھ میں لے کر پیٹ پر ویری نکال کر چلی گئی

ریا نے طے کر لیا تھا، آج کی رات صرف اس کی مرضی چلے گی۔ ہوٹل روم میں دھیمے دھیمے، پورے کنٹرول کے ساتھ کھیلا گیا وہ کھیل۔

Read Next Story

Readers who enjoyed “لاہور کی پرانی گلی میں اس نے دروازہ بند کیا، رسی کی کلائی میرے گلے میں پہنائی اور کہا کہ آج سے تم میرے حکم میں ہو” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ

دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔

⏱️ 13 min read•👁️ 5 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔

⏱️ 14 min read•👁️ 4 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی

اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔

⏱️ 9 min read•👁️ 4 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو گرم بیوی کی کہانی: راتوں والی بیوی

اردو گرم بیوی کی کہانی: لکھنؤ کی شبانہ، جس کا شوہر کام میں مصروف ہے، شادی میں دس سال پرانے عاشق دانیال سے ملنے کے بعد جاگ اٹھی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 3 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو بیوہ سیکس کہانی: فرح اور حویلی کی دوپہر

لکھنؤ کی پرانی حویلی میں دو سال سے بیوہ رہنے والی فرح کی اس دوپہر نے اس کی زندگی بدل دی۔ ایک دلچسپ اردو بیوہ سیکس کہانی جو پہلی نظر سے شروع ہوئی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 3 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
First Timeاردو (Urdu)

ساہیوال ریلوے کالونی کے خالی کوارٹر میں رات کی ٹرین لیٹ ہونے کے بعد کنواری ٹیچر ٹرینی ثمینہ نے اسٹیشن ماسٹر کے بیٹے کو وہ پہلی رات دی جو کسی ٹیکٹ یا خالہ کی ڈائری میں کبھی نہیں چڑھی

ساہیوال کی پرانی ریلوے کالونی، خالی کوارٹر، رات کی ٹرین لیٹ۔ کنواری ثمینہ اور اسٹیشن ماسٹر کا بیٹا حارث۔ وہ رات جو ٹیکٹ پر کبھی نہیں چڑھتی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views