College Campusاردو (Urdu)⭐ Original Edition

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرانے جغرافیہ ڈیپارٹمنٹ کے میپ روم میں فیلڈ سروے کی رات جنریٹر رک گیا تو تیسرے سال کی طالبہ ثریا نے دہرادون سے آئے کارٹوگرافر کو وہ نقشہ دیا جو کسی اٹینڈنس یا ہاسٹل کی حاضری پر کبھی نہیں چڑھا

R
10 min read1 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرانے جغرافیہ ڈیپارٹمنٹ کی تیسری منزل پر میپ روم کا دروازہ رات کے نمے پہر بھی پہلے بند ہوا تھا۔ اندر کاغذ کی بو اور میپ رولز کی گندی می رہ گئی تھی۔ خڑکی کی ہوا اب بھی گرم نہیں رہی تھی۔ گرم اور سنگین۔ جو صرف کے کمرے میں بچھتی ہے لیکن اب گھٹنے کی طرح نہیں کرتی تھی۔ جنریٹر دو غنٹے پہلے رک چکا تھا۔ پہلے ایک بھاری ڢئےی آئی تھی، پھر سھن گئی، پھر کچ نہیں۔

ثریا نے اپنی کمیز پر پسینے لگائے ہوئے سے پسینا کہ کہا۔ تیسرا سال، جغرافیہ انرس، حاضری کی فہرست میں اس رات کا کوئی نام نہیں تھا۔ وہ سرف پر لکھا گیا تھا کہ فیلڈ سروے کے نقشے جلد کرنے ہیں اور دو گھنٹے میں فائل جمع ہونی ہے۔ دہرادون سے آئا کارٹوگرافر احسان علی ابھی ایک کنارے پر خڑا ہوا تھا، بات کی آستین اپنے دائیں پر چڑھائے ہوئے تھے۔ اس کی انگلیاں موٹے پر سیاہ کی سیاہی لگی ہوئی تھی۔ ثریا نے دن بھر دیکھا تھا کہ وہ ہاتھ کاغذ کے ساتھ کے علاوہ بھی بھاری ہے۔ آج وہی بات کہ رہ گئی تھی تو اس کے سینے میں گرمی بات بھی تھی۔

وہ پہلے دن سے اس کمرے میں آتا رہا تھا۔ صبح کے سےمینار میں وہ کلاس کے پیچے بیٹھا تھا۔ دوپہر کو وہ میپ روم کے کونے میں خڑا رہتا تھا۔ شام کو اس کی نظر اس کے گلے پر رہتی تھی۔ اس بار اکیلا دیکھتا کہ ثریا کی کمیز کے نیچے سے پسینہ نکل گئی ہے۔ کمیز گیلی تھی۔ گیلی اور بھاری۔ وہ رکھنا اب بھی کام نہیں آتا تھا۔ ثریا کے سینے میں بھی کہا کہ اگر یہ ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دیا تو وہ کیا کرے گی؟

احسان نے کہا، جنریٹر کی بات ختم ہے۔ فائل کل سویر ہو گئی ہے۔ آپ رہ سکتی ہیں یا میں رہوں؟ اس کی آواز میں کوئی جلدی نہیں تھی۔ سیدھی سی آواز تھی۔ جیسے آدمی کوئی بات کہتا ہے ڧر کوئی کام نہیں کرتا۔

ثریا کے منہ میں جو بات چل رہی تھی وہ زبان پر نہیں آئی۔ اس نے کہا، رہو یہاں۔ ہاسٹل گیٹ بند ہو چکا ہوگا۔ کل بھی یہیں رہنے کا فائدہ نہیں۔ اس کی آواز میں گندگی نہیں تھی۔ سیرھی کی طرح کی آواز تھی۔ لیکن جب وہ خڑی تو اس کی چھاتی ابھی متھی اس کے حلق میں آ گئی۔

احسان نے اپنی کرسی خولی اور ثریا کے پاس آ گیا۔ اس کی کمیز کے پیچے سے اپنے موٹھ کے پاس تک لگائی ہوئی تھی۔ ثریا نے اپنا گلو نگلنا۔ اس کے نیچے پر عرق آ گئی تھی۔ عرق جو پہلے کسی کی نظر سے نہیں آیا تھا۔ اس نے کہا، دیکھو مت ہو؟ دیکھو کہ یہ ہاتھ گرم ہے؟

احسان نے اپنا ہاتھ اس کے گلوے پر رکھ دیا۔ ثریا کی سانس رک گئی۔ اس نے کہا، چومائو۔ آج یہاں کام کرنا ہے۔ یہ کمرہ بند ہے۔ کوئی نہیں آئے گا۔ نقشہ کل ہو گئا ہے لیکن آج وہ نقشہ نہیں رہنا ہے۔ آج کوئی اور چیز بنانا ہے۔

ثریا کے کپڑوں میں گیلی پڑ گئی۔ وہ کنواری تھی۔ اس کے گھر کبھی ہاتھ کے نیچے پر نہیں آئا تھا۔ گھر اب وہ ہاتھ گرم تھا۔ گرم اور بھاری۔ اس نے احسان کا ہاتھ پکڑا اور اپنے مونہ میں بھر دیا۔ مونہ گیلا تھا۔ گیلا اور گیلا گرم۔ جیسے آدمی کوئی نہیں چھو سکتا تھا۔

لڑکی گندی تھی۔ موٹھ کے ساتھ تک گیلی پھیل آ گئی تھی۔ احسان نے اس کے مونہ کے اندر اپنی جیبھ ڈال دی۔ ثریا کی چھاتی سیل گئی۔ وہ لمبی ہو گئی۔ گندی لمبی جو کلاس میں چھپانے کے پیچے نہیں آتی۔ جو آدمی سر پر بھی نہیں آتی۔ جو ہاسٹل کی لٹرین میں بھی نہیں آتی۔

اس نے کہا، چوس کرو۔ اپنی چت چاٹو۔ اپنی گانڈ چاٹو۔ سب کچ گیلا کرو۔ آج یہیں رات کوئی رجسٹر نہیں چلے گا۔ آج کوئی اٹینڈنس نہیں لیگے گا۔ آج صرف چھاتی چوسنی ہے۔

ثریا نے خود اپنا کمیز اتار کیا۔ اس کے نیچے بھاری تھے۔ بھارے پستان میں پسینہ گیلا ہوا تھا۔ گیلا اور گیلا گرم۔ جیسے ہاتھ کے نیچے پر پہلے کبھی نہیں لگا تھا۔ احسان نے اس کے پستان کو پکڑا۔ ثریا کی چہچہ نکل گئی۔ وہ چہچہانا چاہتی تھی گرمی رات۔ وہ چہچہانا جو کامپس کی کسی کلاس میں نہیں سنا جاتا۔

احسان نے اس کی ساڑھی کے پیچے کپڑے اتارے اور مونہ میں دبا لیا۔ ثریا کی پستان اپنے پیچے میں آ گئی۔ گیلی گیلی جگہ۔ جیسے وہ اپنے گھٹنے میں لیتی تھی گرم ہو گئی۔ جیسے وہ ہاسٹل کی چھت پر لیتی تھی گرم ہو گئی۔ وہ جگہ اب گندی تھی۔ گندی اور گیلی۔

وہ بول گئی۔ گیلی گرم اور گیلی گندی۔ اس نے کہا، تیری کرو۔ اپنی چوت چوسو۔ اپنی کسی کی بھی مت چوسو۔ آج ساری رات یہیں گانڈ میں رہے گی۔ آج ساری رات یہیں گانڈ چوسو۔ جب تک میری مرضی نہ نکل جائے۔

ثریا کے گال میں گالیاں آ گئیۚ لنڈی، رنڈی، کمینے میں لے لے۔ اس نے اپنے پیچے کو چوڑھا اور کہا، اور اندر۔ پوری طرح سے چوسو۔ پوری طرح سے میری گندی چوت چوسو۔ پوری طرح سے میرے گانڈ کو چوڑو۔

احسان نے اپنی انگلی اس کی گیلی گیلی چوت میں ڈال دی۔ ثریا کی کمر کچ کر گئی۔ گود سے پانی آ گئی۔ وہ پہلی بار تھی کسی کے مونہ میں انگلی لینے والی تھی۔ درد بھی تھا لیکن مزہ بھی گیلا تھا۔ مزہ جو کلاس کے بعد بھی نہیں ملتا۔ مزہ جو ہاسٹل کی چھت پر بھی نہیں ملتا۔

اس نے اس کے بال پکڑے اور پیچے میں دھکے لگائے۔ میپ رول کی میز پر کاغذ کے پیپر بکھرے گئے۔ ثریا کی پیپ کا بچاؤ نکل گیا۔ احسان نے اس کے گانڈ میں اپنی انگلی تک پہونچائی۔ پہونچائی جب تک ثریا کی پیپ کا پانی باہر آ گیا۔ جب تک اس کی چھاتی پھٹ گئی۔ جب تک اس کا گلا نام لینے لگا۔

ثریا چللائی۔ اس کی آواز بھی رک گئی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی، اور زور سے۔ احسان نے اس کی کمر پر تھپڑ مارا۔ گندی تھپڑ جو کامپس کی کسی کلاس میں نہیں سنا جاتا۔ جو ہاسٹل کی کسی چھت پر نہیں پڑتا۔ جو سرف پر نہیں لکھا جاتا۔

وہ اسے میپ ٹیبل پر لیٹا۔ ثریا کی پیپ کاغذ پر رگڑ گئی۔ کاغذ جو سبح کو بھی سفید نہیں رہ پائے گا۔ کاغذ جس پر ندیوں کے راستے اور ندیوں کے دریا بنے ہوئے تھے۔ اب اس کاغذ پر ثریا کی پیپ تھی اور اس کے پانی کا ذائقہ تھا۔

احسان کے ہاتھ اس کے گانڈ کو چوڑ رہے تھے۔ گیلی آواز آ رہی تھی۔ چپ چپ کی آواز۔ گندی آواز۔ کیمپس کی دیواروں کے پیچے کی آواز نہیں۔ وہ آواز جو سرف پر نہیں لکھی جاتی۔ وہ آواز جو ہاسٹل کی وارڈن میں نہیں گونجتی۔

اس نے اس کو پلٹ کیا۔ پھر سے پھر تک کہا، اپنی چوت کیسی ہے راندی؟ اپنی گندی چوت کیسی ہے بھی پیاسی ہے؟ بولو۔ کہو کیا ہے اپنی گندی چوت؟ کہو کیا ہے وہ جو تم چھپاتی ہو؟

ثریا نے کہا، جو کرنا ہے کرو۔ میری چوت میں جھاڑو۔ میرے گانڈ میں اپنا پانی ڈالو۔ میرے تھن پر لو گا۔ جو جیتنا ہے کرو۔ جو چوسنا ہے کرو۔ جو بھی گندا کرنا ہے کرو۔

احسان نے اس کو پلٹ کیا اور پیچے کے بل پر مارا۔ ثریا کی چھاتی پھٹ گئی۔ اس کے تھن سے لار ٹپک رہا تھا۔ گندی لار جو نقشہ کے کاغذ پر گرجھا گیا تھا۔ لار جو صبح کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ لار جو حاضری کی شیٹ پر نہیں چڑھے گا۔

وہ دو بار کی گئی۔ تین بار کی گئی۔ چوتھی سے چوتھی تک گیلی ہو گئی تھی۔ ثریا کے ناخن سے آواز نکل گئی تھی۔ اس نے اپنے دانت میں انگلی دبا لی اور کہا، پیو۔ پیو کرو۔ سب پیو۔ میرے اندر پیو کرو۔ میرے گانڈ میں پیو کرو۔

احسان نے اس کے مونہ میں گھول کر کے بھر دیا۔ ثریا کی پیپ اور ران دونوں گیلے ہو گئے۔ کاغذ اب بھی سفید نہیں رہا تھا۔ وہ گندا کاغذ تھا جو سبح کے بعد کچھے گا۔ وہ گندا کاغذ تھا جو فیلڈ سروے کی فائل میں نہیں آئے گا۔

ثریا کے پاء کمپ گئے تھے۔ اس کے ران میں درد بھی تھا لیکن مزہ اب بھی زیادہ تھا۔ اس نے احسان کا ہاتھ پکڑا اور کہا، اور ایک بار۔ سرف پر نہیں لکھو۔ سرف پر نہیں چڑھاؤ۔

رات ڈھل گئی تو ثریا کی پٹیکوٹ گیلی تھی۔ اس کے پیر پر احسان کا منی لگا ہوا تھا۔ گندی منی جو کاٹے کے بادل میں بھی بھول سکتا ہے۔ گندی منی جو کلاس کے نوٹس بورڈ پر نہیں لکھا جاتا۔ گندی منی جو ہاسٹل کی وارڈن میں نہیں گونجا جاتا۔

احسان نے کہا، کل فائل کل ہی جمع ہو گئی۔ لیکن وہ فائل نہیں ہے۔ یہ فائل سرف پر نہیں جائے گی۔ یہ فائل سرف پر نہیں چڑھے گی۔ یہ فائل سرف پر نہیں پڑھے گی۔

ثریا نے کہا، پھر سے پھر آئو۔ جب جنریٹر بند ہو۔ جب ہاسٹل کی گیٹ لگ چکے۔ جب کلاس ختم ہو۔ جب پروفیسر باہر چلا گیا ہو۔ آئو۔ آئو ڧر یہیں رہو۔

اس نے اپنی کمیز پھیر لگائی۔ دروازہ کھولا لیکن تالہ نہیں کیا۔ باہر کوئی آ سکتا تو دیکھ سکتا کہ یہ کمرہ رات کو کہاں رکھتا ہے۔ یہ کمرہ نقشہ کو کہاں رکھتا ہے۔ یہ کمرہ ثریا کی گندی چہچہ کو کہاں رکھتا ہے۔

صبح ہوئی تو ثریا کی پٹیکوٹ پھر بھی سفید نہیں تھی۔ کاغذ بھی سفید تھا۔ میپ رول پر گرجھی ہوئی لار سوکھ گئی تھی۔ حاضری کی شیٹ پر اس رات کا کوئی نام نہیں تھا۔ پروفیسر نے پوچھا کہ فائل کیسے جمع ہوئی۔ ثریا نے کہا کہ رات کو کام چلتا رہا۔

دہرادون واپس احسان چلا گیا۔ ثریا کلاس میں بیٹھی سے بیٹھی بھی بیٹھی۔ لیکن جب کبھی کبھی میپ روم کا دروازہ بند ہوتا تو دونوں جانتے تھے کہ وہ نقشہ اب بھی کاغذ پر نہیں رہا۔ وہ جسم پر رہتا ہے۔ وہ جسم جو سرف پر نہیں لکھا جاتا۔ وہ جسم جو ہاسٹل کی گیٹ کے باہر نہیں رہتا۔

ثریا نے اپنی ڈائری میں لکھا، فیلڈ سروے کی رات۔ جنریٹر رک گیا۔ نقشہ جلد ہو گیا۔ باقی وہ ہے جو حاضری پر کبھی نہیں چڑھتا۔ باقی وہ ہے جو کاغذ پر نہیں آتا۔ باقی وہ ہے جو سرف پر نہیں چڑھتا۔

اس کی پٹیکوٹ کے نیچے پر اب بھی سرف کا پانی نہیں تھا۔ وہ پانی جسم پر رہ گیا تھا۔ جسم پر، جہاں کاغذ ڧر حاضری کی شیٹ ڧر ہاسٹل کی گیٹ کے باہر۔ جسم پر، جہاں ثریا کی گندی چہچہ ڧر احسان کی گندی انگلی ڧر وہ رات جو کبھی کی رجسٹر میں نہیں چڑھی۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

College Campus

لکھنؤ یونیورسٹی کے پرانے رسالہ کدخانے میں جب رات کی بجلی روک گئی اور تیسرے سال کی مجلہ نگار نے کمپوزٹر کے لڈکے کو وہ صفحہ دی جو کسی شمارے پر کبھی نہیں چھپتا

لکھنؤ یونیورسٹی کا پرانا رسالہ کدخانہ۔ رات کی بجلی۔ مہرالنسا اور کمپوزٹر فہاد۔ وہ صفحہ جو شمارے پر نہیں چھپتا۔

Read Next Story

Readers who enjoyed “علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرانے جغرافیہ ڈیپارٹمنٹ کے میپ روم میں فیلڈ سروے کی رات جنریٹر رک گیا تو تیسرے سال کی طالبہ ثریا نے دہرادون سے آئے کارٹوگرافر کو وہ نقشہ دیا جو کسی اٹینڈنس یا ہاسٹل کی حاضری پر کبھی نہیں چڑھا” also read

8 curated stories
College Campusاردو (Urdu)

اردو ٹیچر کی چدائی: لائبریری کا خفیہ نوٹ

اردو ٹیچر کی چدائی: لکھنؤ کے گرلز کالج میں فرزانہ کو اپنے حاضری رجسٹر میں ایک خفیہ نوٹ ملتا ہے۔ نوٹ لکھنے والا نوجوان لیکچرر عامر نکلتا ہے، اور ان کا راز لائبریری سے شروع ہو کر بہت آگے جاتا ہے۔

⏱️ 14 min read•👁️ 0 views
College Campusاردو (Urdu)

اردو کالج گرل کہانی: لائبریری کی شام

زویا (20، کراچی یونیورسٹی) کی منگنی خلیج میں مقیم منگیتر سے ہے۔ انگلش لٹریچر کی ٹیوشن کے لیے ٹیچنگ اسسٹنٹ فہد (26) کی لائبریری والی شامیں، اور پھر جو ہوا، یہ اردو کالج گرل کہانی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 0 views
College Campusاردو (Urdu)

اردو پروفیسر کی چدائی: کالج آفس میں پروفیسر عمران نے زارا کو جم کر چودا

کراچی کالج میں لیکچرر زارا ایک شام کتاب واپس کرنے پروفیسر عمران کے دفتر پہنچی، اور وہ ملاقات ایک ایسی شام میں بدل گئی جسے دونوں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
College Campusاردو (Urdu)

اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ والی رات

اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ کے لڑکیوں کے ہوسٹل میں خراب موٹر ٹھیک کرنے آیا دانش، اور اریبہ سے اس کی ملاقات ایک نئی کہانی بن گئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
College Campusاردو (Urdu)

اردو کالج گرل سیکس کہانی: وین چھوٹنے کے بعد

اردو کالج گرل سیکس کہانی: ڈبیٹ پریکٹس کے بعد وین چھوٹ گئی تو مہنور کو بلال کی بائیک پر سوار ہونا پڑا۔ بارش، ایک خالی فلیٹ، اور پھر وہ شام بدل گئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ

دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔

⏱️ 13 min read•👁️ 5 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔

⏱️ 14 min read•👁️ 4 views