First Timeاردو (Urdu)⭐ Original Edition

کنوج کے اتر گودام میں مون سون کی رات جب بلنڈنگ بند ہوا اور بیوہ کاتب والہ نے پہلی بار اپنے ہاتھ اور اپنی سانس کو بوتل میں چھوڑ دیا جو شیشے میں کبھی نہیں آتی

M
11 min read1 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

کنوج کی پورانی گلیوں میں اتر کا گودام بارش سے پہلے ہی سر کو بند کرتا تھا۔ چھت کی بو کہ بارش پٹی ہی نہیں گرتی تھی۔ وہ پانی کے پہیلے بوتلوں کی قطار پر گندگی تھیں۔ گلاب کی خوشبو کے اندر سے بخار اپنا راستہ تھا جیسے بارش اب بھی سگتی تھی۔

سہل کاتب والہ چوبیس سال کی تھی۔ اس گودام میں وہ بوتلوں پر لیبل لکھتی تھی۔ نام، قیمت، تاریخ۔ اس کام میں اس کے ہاتھ کے سوا کے سوا پہنچاتے تھے۔ وہ ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ گھر بار ایس گھر اپنے جسم کو کسی کے ہاتھ میں بھی نہیں دیا تھا۔ رات کو وہ اکیلے سوتی پر سوتی تھی۔ کپڑے میں ہوا بدل جاتا تھا۔ ہاتھ کی ہتھیلی پر اپنی کھنگھی کی گندگی سمھالتی تھی جس کو وہ دن کے دوران چھپاتی تھی۔

آج کے بلنڈر کا نام یقوب تھا۔ وہ کنوج کے پرانے محلے سے آیا تھا اور تین دن کے لیے رہنا تھا۔ وہ بوتلوں کو یوں ہاتھ سے پکڑتا تھا جیسے وہ ان کی نبض کو پہچان رہا ہو۔ سہل نے اس سے پہلے کبھی نہیں کہا تھا کہ کوئی آدمی کے ہاتھ کے انگھوٹھ میں یہ جذبہ تھا کہ کسی چیز کو اتنا ہلکا رکھ ہو۔

مالک نے کہا تھا کہ آج کی رات گودام بند رہے گا۔ بلنڈ کے دوران ہوا اندر آنا چاہیے۔ سہل نے گھر کیا تھا۔ وہ اپنا بئگ لے کر آئی۔ اس کے باب باہر انگھوٹھ تھے کہ وہ باہر نکل جا سکے گر گودام کی چھت پر بارش پڑ رہی ہو۔ یقوب نے دروازہ اندر سے بند کیا۔ چٹکی کی آواز آئی جیسے کوئی چیز گر جائے تو اس کو کھٹ نہیں سکے گا۔

سہل کے ہاتھ کامپکنے لگے تھے۔ وہ لکھتی کے قلم کو دہراتے دہراتے ہاتھ میں رکھ کر وہ پہلے خود کو دہرا رہی تھی۔ یقوب اس کے پیچھے آیا اور اس کی گردن کی گندگی دیکھا کرتا رہا۔ اس نے کہا تھا کہ رات لمبی لمبی ہو جائے گی۔ سہل نے سر ہلایا۔ گردن گرم ہو گئی تھی۔ وہ اس کو سہل کے گلے پر بھی دیکھ رہا تھا۔

وہ بول میں اتر کا پانی ڑالتا تھا۔ سہل کے گلے پر گرم ہوا گر گرم ہو گئی تھی تو سہل کو پتہ چلا جاتا۔ یقوب نے ہاتھ پیچھے کی۔ اس کے گال پر انگھوٹھ گرم ہوا جو کبھی بھی ہاتھ میں نہیں آتا۔ سہل کی سانس رک گئی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ گرمی سیرف پر رک جائے گی جیسے کوئی چیز جسم کو کھٹ رہا ہو۔

یقوب نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ سہل نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔ یہ پہلی بار تھا کہ کسی مرد نے اس کے ہاتھ کو اتنا پکڑا ہو۔ اس کی کھنگھیاں پہلے کام کرتی تھیں پھر اب وہ کام کرنا بھول گئی تھیں۔ یقوب کے ہاتھ گرم تھے جیسے گودام کی ہوا گرم تھی۔ سہل کے منہ میں کچھ پھٹ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ پہٹ اب واپس نہیں رہ سکتی۔

یقوب نے اس کو پیٹے پر بیٹھ کیا۔ لکڑی پر بوتلیں کی لائن لگی تھی۔ سہل کی پیٹھ پہلے کبھی نہیں کسی کے بوجھ پر گئی تھی۔ اس کے کپڑے کے نیچے پر یقوب کے گھٹنے کے نیچے کے نیچے پر آ گئے۔ سہل نے آنکھ ہاتھ پکڑے اور اپنے ہاتھ اس کے گھٹنے کے نیچے پر رکھ دیے۔ یہ گرمی بھی گرم نہیں تھی۔ یہ گرمی جیسے کوئی چیز جسم کو پہلے ہی سر سے چھو رہا ہو۔

یقوب نے اس کے کپڑے کے نیچے کو اپنے منہ میں دبایا۔ سہل کی پیٹ اٹھ گئی۔ وہ چیخنے لگی۔ یقوب رکا رہا اور اس کے اندر آتا رہا۔ سہل نے پہلی بار کسی کو اپنے اندر لیا۔ درد تھا پر درد کے ساتھ مزہ بھی آ گئا۔ سہل کے ناخن سے آواز آئی جو بوتل کے کاچ پر رک جائے گی تو ٹوٹ جائے۔ یقوب رکا رہا پر رکا رہا۔ ہر دکے کے بعد سہل کے جسم نے اس کو اپنے اندر کھ لیا۔

گودام کی چھت پر بارش اب بھی زور سے پڑ رہی تھی۔ بوتلیں ایک دوسرے ہلکا کر رہی تھیں۔ سہل کے ناخن سے یقوب کا نام نکلا تھا۔ سرف پر وہ سرف پر اس کا نام کہتی رہی تھی۔ یقوب نے اس کے منہ پر منہ رکھ کر کہا کہ وہ اب بھی کتب والہ نہیں رہی۔ سہل نے کہا کہ وہ اب بھی سہل نہیں رہی۔

وہ لیٹ گئے۔ یقوب اب بھی رک سکا۔ سہل نے اپنے پیر پر اس کے ہاتھ رکھ لیے۔ یہ دوسری بار تھا کہ کوئی جسم اس کے پیر پر اتنا بھاری سے آیا ہو۔ یقوب نے اس کے پیر کو چوسا۔ سہل کی پیٹ پہر اپنے ہاتھ میں اٹھ گئی۔ وہ چلانا چاہتی رہی۔ گودام کی ہوا میں اتر کی خوشبو اور جسم کی خوشبو مل گئی تھی۔

صبح سے پہلے یقوب نے اس کو پانی میں دھویا۔ سہل کے پیر پر اتر کی بوند تھی۔ یقوب نے کہا کہ وہ شہر نہیں کرے گا۔ سہل نے کہا کہ وہ بھی شرمندہ نہیں ہے۔ یقوب نے اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔ سہل کے ماتھے پر بھی ہاتھ تھے۔ یہ ہاتھ لکھتی نہیں کرتا تھا۔ یہ ہاتھ کہتا تھا۔

سہل نے اپنے کپڑے کے نیچے کو پھیلا۔ یقوب اندر آیا اور بے آواز کے ساتھ سہل کے منہ میں گرم ہو گیا۔ سہل کی پیٹ اٹھ گئی۔ وہ اپنے ہی ہاتھ سے یقوب کے کندھے پکڑ گئی۔ یقوب نے اس کے بالوں کو پکڑا۔ سہل کا سر دیوار پر لگا۔ یہ دفعہ بھی تھا جو کسی کی پہلی دفعہ نہیں ہوتی۔ یہ دفعہ تھی جو جسم کو پورے طرح سے باہر لی آئے۔

سہل کے منہ میں یقوب کا گرم پانی کے پانی جگہ جم گیا۔ سہل نے اپنے ہاتھ اس کے کمر پر رکھ دیے۔ یقوب نے اس کے کمر کو پکڑا۔ سہل کے منہ میں گرم اور گیلے دونوں کے بیچ جم ہو گئے۔ سہل کی آواز نیچی نہیں رہی تھی۔ یہ آواز تھی جو بوتل کے کاچ سے نکلتی ہے۔ یقوب نے اس کے منہ میں اپنا گرم چھوڑ دیا۔ سہل کے جسم نے اس کو اپنے اندر پۂرے طرح سے بھر لیا۔

رات بھر گئی۔ سہل کے ہاتھ اب بھی کاتب والے ہاتھ نہیں رہے تھے۔ یہ ہاتھ جانتے تھے کہ کوئی چیز کہاں ہے۔ یقوب نے اس کو اپنے سینے پر لیٹایا۔ سہل کے منہ سے یقوب کا گرم باہر نکلا۔ سہل نے اپنے پیر پر اس کا سر رکھ لیا۔ یہ وزن تھی جو کاتب والہ کے ہاتھ میں نہیں آتی تھی۔ یہ وزن تھی جو جسم کے بوجھ پر آئی تھی۔

سبح ہوئی تو گودام کی چھت پر اب بھی بارش تھی۔ سہل نے اپنے کپڑے کے نیچے پہنے۔ یقوب نے اس کے گال پر ہاتھ پھیرا۔ دونوں نے ایک دوسرے کہچ نہیں کہا۔ یقوب نے کہا کہ وہ کل بھی رہ سکتا ہے۔ سہل نے کہا کہ وہ بھی جانتی کہ وہ رہ سکے۔ یقوب نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ اگر مالک پوچھے تو کیا ہوگا۔ سہل نے کہا کہ تب وہ خود دیکھ لے گی۔

سہل نے بوتل پر لیبل لگائی۔ ہاتھ کامپکتے تھے پر ہاتھ کانپتے تھے۔ یقوب نے اس کے کانپے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ یہ لیبل اب بھی سیرف نہیں رہے گی۔ سہل نے قلم روک دیا۔ یقوب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ تو بھی لکھ سکتی۔ سہل نے کہا کہ اب وہ لکھ سکتی ہے تو بھی لکھ سکتی۔ یقوب نے اس کو چوما۔ سہل کے منہ میں اب بھی گرم باقی تھا۔ سہل نے اپنے پیر پر اس کا سر رکھ کر کہا کہ یہ وزن اب بھی بوتل میں نہیں رہ سکتی۔

باہر نکلنے پر یقوب چلا گیا۔ سہل نے دروازہ کھٹا۔ گلی میں بارش اب بھی گرتی تھی۔ کنوج کی گلیاں میں اتر کی خوشبو پہلے سے بھی گہری تھی۔ سہل کے جسم پر بھی یقوب کی خوشبو تھی۔ وہ گھر کاتب والہ نہیں رہی تھی۔ وہ اب بھی سہل نہیں رہی تھی۔ وہ اب جسم تھی جو شیشے میں نہیں آتا اور جو بوتل میں بھی سما سکتا ہے۔

دوپہر گودام بند ہوا تو سہل نے پھر بھی لیبل لگائی۔ نام کے ساتھ اس نے اپنا نام بھی لکھا۔ قیمت کے ساتھ اس نے وه قیمت لکھی جو کوئی کی آنکھ میں نہیں آتی۔ تاریخ کے ساتھ اس نے سرف پر یقوب کا نام لکھ دیا۔ یہ تاریخ شیشے میں نہیں آئی تھی۔ یہ تاریخ سہل کے جسم میں رہ گئی تھی۔

مالک آیا تو گودام میں وہی خوشبو تھی جو پہلے سے تھی۔ مالک نے پوچھا کہ رات کیا ہوا تھا۔ سہل نے کہا کہ بلنڈ پورا ہوا تھا۔ یقوب نے کچھ نہیں کہا۔ سہل کے گال پر اب بھی مسکران تھا۔ مسکران اب بھی اتر کا نہیں تھا۔ مسکران اب وہی تھا جو رات بھر جسم کے اندر رہتا ہے۔

شام کو سہل نے باہر نکلنے پر جلا دیا۔ یقوب کے پیچھے پر اب بھی اتر تھا۔ سہل کے گلے پر اب بھی یقوب کا گرم تھا۔ کنوج کی گلی میں لوگ اب بھی اتر کے گودام کے بارے میں کھ گئے تھے۔ سہل جانتی تھی کہ اگلے کوئی پوچھے تو وہ پہر بھی یقوب کے ہاتھ میں رہ سکے گی۔ یہ بات وہ اپنے جسم کو شیشے میں نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ یہ بات وہ اپنی سانس کو بوتل میں بند کر چھوڑ چکی تھی۔

اگلے دن یقوب پھر آیا۔ سہل نے اس کو گودام کی پیچھلی کی کوٹھئی میں لیا۔ وہاں اب بھی گرم تھی۔ بوتلیں اب بھی کانپ رہی تھیں۔ سہل نے اپنے ہاتھ یقوب کے ہاتھ میں دے دیے۔ یہ دینے کا لیبل نہیں تھا۔ یہ دینے وہ تاریخ تھی جو سہل کے جسم نے خود لکھ لی تھی۔ یقوب نے اس کے کان میں کہا کہ وہ اب بھی نہیں جائے گا۔ سہل نے کہا کہ جانا جسم کبھی نہیں جاتا۔ یہ جسم وہیں رہتا ہے۔

رات کو پھر گودام بند ہوا۔ بارش کم تھی پر چھت پر اب بھی گرتی تھی۔ سہل نے اپنے کپڑے اتارے۔ یقوب نے اس کو پیٹے پر پھر لیٹایا۔ سہل کی پیٹ پہر اپنے ہاتھ میں اٹھ گئی۔ وہ اب بھی چیخنے سے چیخنے لگی۔ یقوب اندر آیا اور رکا رہا۔ سہل نے اپنے ناخن اس کی پیٹ پر گاڑھ دیے۔ یہ درد اب بھی وہی نہیں رہا جو پہلی رات تھا۔ یہ درد اب بھی مزہ تھا جو جسم کو یاد آتا ہے۔

سہل نے کہا کہ وہ اب بھی اکیلی نہیں رہی۔ یقوب نے کہا کہ وہ بھی اکیلا نہیں رہا۔ دونوں کی سانس ایک دوسرے میں گم گئی۔ گودام کی ہوا اب بھی وہی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ یہ ہوا اب بھی سہل اور یقوب کی ہوا تھی۔ سہل نے اپنی آنکھیں بند کر کہا کہ یہ رات شیشے میں نہیں جائے گی۔ یقوب نے اس کے ماتھے پر ہونٹ لگایا۔ سہل جانتی تھی کہ یہ ہونٹ بھی وہی نہیں جو لیبل پر لکھا جاتا ہے۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

First Time

اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات

لاہور کی پرانی حویلی میں نادیہ کی شادی کی پہلی رات۔ سمیر گھبرایا ہوا ہے اور نادیہ کے پاس چھپی ہوئی کتابوں سے سیکھے راز ہیں۔ اردو دلہن کی پہلی رات کی ایک گرم کہانی۔

Read Next Story

Readers who enjoyed “کنوج کے اتر گودام میں مون سون کی رات جب بلنڈنگ بند ہوا اور بیوہ کاتب والہ نے پہلی بار اپنے ہاتھ اور اپنی سانس کو بوتل میں چھوڑ دیا جو شیشے میں کبھی نہیں آتی” also read

8 curated stories
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2

اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات

اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1

نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔

⏱️ 17 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)

اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔

⏱️ 15 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات

اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)

اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views