Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

جب مرادآباد کی پیتل کی فیکٹری میں رات کی شفٹ کا پنکھا بند ہوا تو شادی شدہ سپروائزر نے پالش والے لڑکے کو اندرونی گودام میں وہ کام سکھایا جو کسی رجسٹر میں نہیں لکھا جاتا

N
17 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

مرادآباد کی پرانی پیتل کی گلی میں رات گیارہ بجے کے بعد صرف تین آوازیں رہ جاتی ہیں۔ پہلی آواز ہتھوڑے کی ہے جو دن بھر چلی ہوتی ہے اور اب بھی کانوں میں گھومتی رہتی ہے۔ دوسری آواز ٹیوب ویل کی ہے جو چھت پر کھڑی ہوتی ہے اور پانی کو زور سے زمین میں دھکیلتی ہے۔ تیسری آواز نادیہ کی چپل کی ہے جو فیکٹری کے پچھلے گودام کے لوہے کے دروازے تک آتی ہے اور وہیں رک جاتی ہے۔

نادیہ بتیس سال کی تھی۔ شادی کو نو سال ہو چکے تھے۔ شوہر رضوان ٹرک چلاتا تھا۔ دہلی کانپور لکھنؤ کے چکر میں ہفتے میں دو راتیں گھر آتا۔ جب آتا تو کپڑے سونگھتا، کھانا دیکھتا، اور سو جاتا۔ نادیہ نے کبھی اس سے نہیں کہا کہ رات کی شفٹ میں پنکھا بند ہونے کے بعد گودام کا تالا اس کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ اس نے کبھی نہیں کہا کہ پالش والا لڑکا کامران اس تالے کے دوسری طرف کھڑا ہوتا ہے۔

کامران بائیس کا تھا۔ گاؤں سے آیا تھا۔ ہاتھوں پر پیتل کی زردی چھائی رہتی۔ ناخن کٹے ہوئے۔ آواز ابھی پکی نہیں ہوئی تھی۔ وہ نادیہ کو آپ کہتا تھا۔ نادیہ اسے نام سے بلاتی تھی جیسے کوئی چھوٹا بھائی ہو۔ دونوں جانتے تھے کہ یہ جھوٹ ہے۔

اس رات جنریٹر نے تین بج کر بارہ منٹ پر سانس چھوڑی۔ بڑے ہال میں روشنی مر گئی۔ صرف گودام کی پیلی بتی رہ گئی جو تار سے لٹکی ہوئی تھی اور ہوا کے بغیر بھی کانپتی تھی۔ نادیہ نے رجسٹر بند کیا۔ قلم کی ٹوپی چڑھائی۔ باہر والی قمیض کے بٹن جو پہلے ہی کھلے تھے انہیں اور ڈھیلا چھوڑ دیا۔

کامران برش ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔ سینے پر پسینے کی لکیر۔ نادیہ نے قریب جا کر برش اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ انگلیاں اس کی ہتھیلی پر رکیں۔

کامران کا گلا بھرا۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ نادیہ نے گودام کا اندرونی کواڑ بند کیا۔ باہر والی زنجیر صرف دکھاوے کی تھی۔ اندر لکڑی کا تختہ تھا جہاں تیار لوٹے رکھے جاتے تھے۔ نادیہ نے ایک لوٹا ہٹایا۔ جگہ بنی۔ وہ بیٹھی۔ کامران کھڑا رہا جیسے حکم کا انتظار ہو۔

نادیہ نے اس کا ہاتھ اپنے گھٹنے پر رکھا۔ ساڑی کا Pallu پہلے ہی کندھے سے سرکا ہوا تھا۔ چولی کے نیچے پسینے کی مہک۔ اس نے کامران کا ہاتھ اوپر کھینچا۔ ہتھیلی اس کے سینے پر آئی۔ کپڑے کے اوپر۔ پھر کپڑے کے اندر۔ نادیہ کی سانس بدل گئی۔

تم ڈرتے ہو۔ میں نہیں ڈرتی۔ رضوان کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ میری جلد کی گرمی کس کے ہاتھ میں رہی۔

کامران کے ہاتھ کانپے۔ نادیہ نے کانپنے والے ہاتھ کو اور اندر دبایا۔ چولی کا بٹن خود کھلا۔ اس نے کامران کا سر نیچے کھینچا۔ منہ اس کے گلے پر لگا۔ دانت نہیں۔ صرف سانس۔ گرم۔ گلی۔ جیسے پیتل پگھلنے سے پہلے ہوتا ہے۔

نادیہ نے اس کی پاجامہ کی ڈوری کھولی۔ ہاتھ اندر گیا۔ کامران کی آواز نکل کر رک گئی۔ نادیہ نے مٹھی بند کی۔ دھیما۔ پھر زور۔ جیسے برش سے پیتل رگڑتی ہے۔ وہ جانتی تھی کتنا زور چاہیے۔ فیکٹری میں ہر چیز کا اندازہ ہوتا ہے۔ دھات کا۔ آدمی کا بھی۔

کامران کے گھٹنے نرم پڑے۔ نادیہ نے اسے تختے پر بٹھا دیا۔ خود سامنے کھڑی رہی۔ ساڑی کی پلیٹیں ایک ایک کر کے کھولیں۔ پٹ کوٹ نیچے کیا۔ کپڑے گودام کی دھول پر گرے۔ وہ ننگی نہیں ہوئی اچانک۔ وہ آہستہ ہوئی جیسے کوئی حساب کھول رہی ہو۔

کامران نے دیکھا۔ پہلی بار پوری طرح۔ نادیہ کے جسم پر شادی کی نو سال کی کہانی تھی۔ پیٹ نرم۔ سینے بھاری۔ رانوں پر وہ نشان جو بچہ نہ ہونے کے باوجود ماں جیسا جسم دے دیتے ہیں۔ اس نے کامران کا منہ اپنے پیٹ پر رکھا۔ بال اس کی انگلیوں میں۔

چاٹو۔ آہستہ۔ جیسے پالش کرتے ہو۔ جلدی کی تو میں تمہیں باہر بھیج دوں گی۔

کامران نے زبان نکالی۔ نادیہ کی سانس اندر کٹی۔ اس نے دیوار پکڑی۔ پیلی بتی کے نیچے اس کا چہرہ بدل گیا۔ آنکھیں بند۔ منہ کھلا۔ وہ آواز نکالتی رہی جو رجسٹر میں نہیں لکھی جا سکتی۔ کامران کے ہاتھ اس کی رانوں پر جمے۔ ناخن دبے۔ نادیہ نے بال کھینچے۔ زور سے۔ کامران کی آواز گلے میں دب گئی مگر زبان نہیں ہٹی۔

نادیہ نے اسے اوپر کھینچا۔ منہ منہ سے لگا۔ پہلی چوم۔ کڑوی۔ پیتل اور پسینے اور پیاز کی چٹنی کی۔ اس نے کامران کی زبان اپنے منہ میں لی جیسے سزا دے رہی ہو۔ دانت سے دبایا۔ کامران ہلا۔ نادیہ ہنسی نہیں۔ صرف سانس چھوڑی۔

اب اندر۔ میں بتاتی ہوں کتنا۔ تم گننا۔ ایک دو نہیں۔ گہرے۔

کامران کھڑا ہوا۔ نادیہ نے پیٹھ تختے سے لگائی۔ ایک ٹانگ اٹھائی۔ کامران کے کندھے پر۔ دخول آہستہ نہیں ہوا۔ نادیہ نے ہپ دبا کر اسے اندر کھینچ لیا۔ درد کی لکیر نکلی اور مزا بن گئی۔ کامران نے حرکت کی۔ نادیہ نے کمر پکڑی۔

اور زور۔ میں کانچ نہیں۔ میں پیتل ہوں۔ پیتل ٹوٹتا نہیں۔ پیتل گرتا ہے آگ میں۔

گودام میں آوازیں بدلیں۔ تختہ چیخا۔ لوٹے آپس میں ٹکرائے۔ نادیہ کی آواز پہلے دبی رہی پھر کھلی۔ گالیاں نہیں۔ حکم۔ اور۔ وہیں رکو۔ نہیں ابھی نہیں۔ پھر سے۔ کامران پسینے میں بھیگا۔ نادیہ کے ناخن اس کی پیٹھ پر لکیریں کھینچتے رہے۔

تیسری دفعہ جب کامران کے جسم نے خبردار کیا تو نادیہ نے اسے نکال دیا۔ گھٹنوں کے بل بیٹھی۔ منہ آگے کیا۔ کامران کا ہاتھ اس کے سر پر۔ نادیہ نے نگلا نہیں پہلی بار۔ چہرے پر لینے دیا۔ گرم۔ گاڑھا۔ پیلی بتی میں چمک۔ اس نے انگلی پھیر کر اپنے منہ کے کونے سے صاف کیا اور کامران کی آنکھوں میں دیکھا۔

یہ پہلی بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تم کل بھی آؤ گے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر تم نے کسی سے کہا تو میں تمہارا نام رجسٹر سے کاٹ دوں گی اور گاؤں بھیج دوں گی۔

کامران نے سر ہلایا۔ بول نہ سکا۔ نادیہ نے کپڑے پہنے۔ Pallu درست کیا۔ چولی کے بٹن لگائے۔ باہر زنجیر لگائی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ جنریٹر اب بھی مرا پڑا تھا۔ چاندنی گلی میں پڑی تھی جیسے سفید پیتل بکھرا ہو۔

دوسری رات پنکھا چل رہا تھا۔ ہوا گودام میں گھومتی تھی مگر نادیہ کی جلد پر نہیں لگتی تھی۔ رضوان کا فون آیا تھا۔ دہلی میں لوڈ پھنسا ہے۔ تین دن اور لگیں گے۔ نادیہ نے ٹھیک ہے کہا۔ فون رکھ کر کامران کی طرف دیکھا جو برش سے ایک تھالی رگڑ رہا تھا۔

آج دروازہ بند کرو پہلے۔ میں رجسٹر بعد میں بھروں گی۔

کامران نے زنجیر ڈالی۔ نادیہ نے اسے دیوار سے لگا دیا۔ قمیض اوپر کی۔ منہ اس کے سینے پر۔ دانت سے دبایا۔ کامران کی آواز نکل۔ نادیہ نے ہاتھ نیچے کیا۔ پاجامہ اتارا۔ اس بار وہ گھٹنوں پر پہلے گئی۔ منہ گرم۔ گلے۔ ہاتھ خصیوں پر دبے۔ کامران کی ٹانگیں کانپیں۔ نادیہ نے اسے منہ سے نکال کر دیکھا۔

بول۔ کیا چاہیے۔

کامران نے سر جھکایا۔ نادیہ نے ٹھوڑی اٹھائی۔

نام لے کر بولو۔ نادیہ آپ نہیں۔ نادیہ۔

کامران نے نام لیا جیسے کوئی دعا پڑھ رہا ہو۔ نادیہ نے پھر منہ لگایا۔ اس بار گہرا۔ گلے تک۔ آنسو کامران کی آنکھوں میں۔ نادیہ نے اسے کھڑا کیا۔ خود پیٹھ دے کر دیوار پکڑی۔ ساڑی کمر تک اٹھائی۔ کامران پیچھے سے داخل ہوا۔ نادیہ کی پیشانی دیوار سے لگی۔ ہر دھکے پر سانس ٹوٹی۔

بال پکڑو۔ کھینچو۔ میں بتاؤں گی کب چھوڑنا ہے۔

کامران نے بال پکڑے۔ نادیہ کی گردن پیچھے ہوئی۔ منہ کھلا۔ گودام کی دھول زبان پر۔ وہ گندی باتیں کہنے لگی جو گھر میں کبھی نہیں نکلتیں۔ تمہارا یہ۔ میرے اندر۔ رضوان کو پتہ نہیں اس کی بیوی کتنی گہری لے سکتی ہے۔ کامران اور تیز ہوا۔ نادیہ کی ٹانگ اٹھی۔ ایڑی اس کی کمر میں۔

جب نادیہ کا جسم جکڑا تو اس نے کامران کا ہاتھ اپنے سامنے لے جا کر خود کو رگڑوایا۔ پہلا زور دار جھٹکا آیا تو اس نے دانت میں کپڑا دبا لیا۔ آواز پھر بھی نکل۔ کامران نے باہر نکال کر کمر پر چھوڑا۔ گرم دھار نادیہ کی کمر سے ساڑی کی پلیٹوں تک۔ اس نے کپڑے سے پونچھا نہیں۔ رہنے دیا۔ جیسے نشان رکھنا ہو۔

باہر بارش شروع ہوئی۔ پیتل کی چھت پر بوندیں لوہے کی طرح پڑیں۔ نادیہ بیٹھی رہی۔ کامران کے سر کو اپنے گھٹنے پر رکھا۔ انگلیوں سے اس کے بالوں میں پیتل کی باریک زردی نکالتی رہی۔

تم سمجھتے ہو یہ محبت ہے۔ یہ محبت نہیں۔ یہ وہ بھوک ہے جو شادی کے بعد بچ جاتی ہے جب آدمی صرف سوتا ہے۔ میں تمہیں اس بھوک کا برتن بنا رہی ہوں۔ برتن ٹوٹ جائے تو نیا مل جاتا ہے۔ تم یاد رکھنا۔

کامران نے آنکھیں بند کیں۔ نادیہ نے اس کی پلک پر بوسہ لیا۔ پہلی نرم بات رات کی۔ پھر اٹھی۔ کپڑے درست کیے۔ رجسٹر کھولا۔ جھوٹی لائن لکھی۔ شفٹ مکمل۔ پالش تین سو پیس۔ دستخط۔

تیسری رات رضوان نے بتایا کہ ٹرک مرادآباد سے بیس میل باہر خراب ہے۔ کل صبح مکینک آئے گا۔ نادیہ کے پیٹ میں کچھ اتر گیا پھر اٹھ گیا۔ خوف نہیں۔ حساب۔ گودام اب بھی اس کے پاس تھا۔ کامران اب بھی اس کے حکم پر تھا۔

اس رات نادیہ نے کامران کو گودام کے تختے پر لیٹا دیا۔ خود اوپر بیٹھی۔ ہاتھ سے پکڑ کر اندر اتاری۔ اپنے حساب سے۔ دیر تک نہیں ہلی۔ صرف بھری رہی۔ کامران کے ہاتھ اس کے کولھوں پر۔ نادیہ نے ہاتھ ہٹائے۔

ہاتھ اوپر۔ سر کے پیچھے۔ میں چلوں گی۔ تم صرف اندر رہو۔

وہ ہلی۔ پہلے دیر سے۔ پھر تیز۔ چھاتی کامران کے منہ پر۔ اس نے منہ دیا۔ نادیہ نے سر پیچھے کیا۔ پسینہ گردن سے سینے بہا۔ گودام کی بو بدل گئی۔ پیتل کے نیچے عورت کی بو۔ نادیہ نے اپنے ناخن کامران کے سینے میں گاڑے جب جھٹکا آیا۔ آواز اس بار دبائی نہیں۔ باہر تک جا سکتی تھی مگر بارش نے کھا لی۔

وہ کامران کے اوپر گری۔ سانس ملی ہوئی۔ منہ اس کے کان پر۔

کل رضوان گھر آئے گا۔ تین دن تم مجھے آپ کہنا۔ برش پکڑنا۔ آنکھ نیچی رکھنا۔ چوتھی رات جب وہ پھر نکلے گا تب میں تمہیں بتاؤں گی نئی بات۔ آج کی بات یہ ہے کہ تم نے میرے اندر چھوڑ دیا۔ میں صاف نہیں کروں گی آج۔ گھر جا کر سوؤں گی اس گرمی کے ساتھ۔

کامران کی آنکھیں کھلی رہیں۔ نادیہ نے اس کا منہ چوما۔ لمبا۔ پھر کپڑے پہنے جیسے وردی پہنی جا رہی ہو۔ زنجیر۔ رجسٹر۔ چپل کی آواز گلی میں۔ ٹیوب ویل اب بھی پانی دھکیل رہا تھا۔

رضوان تین دن رہا۔ سوتا رہا۔ نادیہ اس کے پاس لیٹی۔ جسم خاموش۔ اندر وہ گرمی یاد رہی جو گودام کی پیلی بتی نے دی تھی۔ جب رضوان پھر نکلا تو نادیہ نے کامران کو صرف گودام نہیں بلایا۔

اتوار کی دوپہر فیکٹری بند تھی۔ نادیہ نے کامران کو پرانی کوٹھی والی گلی کے کرائے کے کمرے میں بلایا جو کبھی ورکرز رکھتے تھے۔ چارپائی۔ کھڑکی پر کپڑا۔ باہر دھوپ۔ اندر نیم اندھیرا۔ نادیہ نے دروازہ اندر سے بند کیا۔ ساڑی اتاری ایک سانس میں۔ اس بار شرم کی تہ نہیں رہی۔

آج تم حکم دو گے۔ ایک گھنٹہ۔ پھر حکم میرا۔

کامران نہ بولا۔ نادیہ نے اس کا ہاتھ اپنی گردن پر رکھا۔ دباؤ دیا۔ کامران سمجھ گیا۔ ہاتھ تنگ کیا۔ نادیہ کی سانس اٹکی۔ آنکھوں میں پانی آیا مگر منہ میں مسکراہٹ۔ کامران نے اسے چارپائی پر لٹایا۔ ٹانگیں کھولیں۔ اس بار دخول شروع سے تیز۔ نادیہ کی آواز چھت سے ٹکرائی۔ کامران نے منہ اس کے منہ پر رکھ کر آواز کھائی۔

پلٹ۔ گھٹنے چارپائی پر۔ نادیہ نے کہا پھر خود پلٹ گئی اس سے پہلے۔ کامران پیچھے سے آیا۔ ہاتھ کمر پر۔ نادیہ نے سر نیچے کیا۔ بال چہرے پر۔ ہر دھکا گہرا۔ کمر کی ہڈی تک۔ وہ گندی باتیں اب کامران کے منہ سے نکلوانا چاہتی تھی۔

کہو میں کیا ہوں۔

کامران ہکا۔ نادیہ نے پیچھے ہاتھ بڑھا کر اسے اور اندر کھینچا۔

کہو۔

کامران نے کہا۔ آواز ٹوٹی ہوئی۔ نادیہ کی بھوک۔ نادیہ کی۔ الفاظ پورے نہ تھے مگر کافی تھے۔ نادیہ کا جسم کانپا۔ اس نے چارپائی کا پایہ پکڑا۔ دوسرا جھٹکا پہلو کے بل۔ تیسرا منہ نیچے سینے زمین پر۔ کامران نے کمر پر چھوڑا پھر نادیہ نے پلٹ کر اسے منہ میں لیا باقی۔ نگلا اس بار۔ آنکھیں کامران کی آنکھوں میں۔

ایک گھنٹہ پورا ہوا۔ نادیہ اٹھی۔ پانی پیا کمبرے کے گھڑے سے۔ واپس چارپائی پر۔ کامران کے ران پر ہاتھ۔

اب میرا حکم۔ تم لیٹو۔ میں اوپر سے ختم کروں گی۔ تم ہاتھ نہیں اٹھاؤ گے۔ اگر اٹھائے تو میں رکنے والی نہیں۔

وہ بیٹھی۔ اندر لیا۔ ہلی اپنے انداز سے۔ دیر تک۔ پسینہ چارپائی کے کپڑے میں۔ کامران کے ہاتھ چارپائی کے کنارے سفید پڑے۔ نادیہ نے آخر میں اسے سینے سے چپکا لیا جب دونوں کے جسم ایک ساتھ جکڑے۔ سانس ایک جگہ ملی۔ باہر گلی میں کوئی پکار رہا تھا پیتل والا پیتل والا۔ نادیہ ہنسی۔ پہلی بار کھل کر۔

پیتل والا باہر ہے۔ پیتل والی اندر ہے۔ یاد رکھنا فرق۔

مہینے بھر یہ سلسلہ گودام اور کرائے کے کمرے کے بیچ بٹتا رہا۔ رضوان جب آتا نادیہ خاموش بیوی بن جاتی۔ کھانا گرم۔ بستر درست۔ جسم بند۔ جب جاتا تو جسم کھل جاتا جیسے تالا جس کی چابی صرف ایک ہاتھ میں ہو۔

کامران بدل گیا۔ آواز میں وزن آیا۔ آنکھوں میں وہ ڈر رہا جو لذت کے ساتھ رہتا ہے۔ نادیہ نے اسے سکھایا کہاں دبانا ہے۔ کب رکنا ہے۔ کب نام لینا ہے۔ کب چپ رہنا ہے۔ ایک رات اس نے کامران کے ہاتھ اپنے گلے پر رکھے اور کہا دباؤ یہاں تک کہ میں ٹھوکروں سے اشارہ دوں۔ کامران نے دبایا۔ نادیہ کی دنیا تنگ ہوئی۔ روشنی پیلی سے کالا۔ پھر اشارہ۔ ہوا داخل ہوئی جیسے کوئی نئی زندگی۔ اس کے بعد وہ کامران کے کندھے سے لپٹی رہی دیر تک۔ بول نہیں سکی۔

بارش کے آخری ہفتے نادیہ نے کامران کو بتایا کہ رضوان کو لمبا روٹ ملا ہے جنوبی ہند کا۔ پندرہ دن۔ کامران نے پوچھا کیا میں گھر آ سکتا ہوں۔ نادیہ نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

گھر نہیں۔ گھر رضوان کا ہے۔ تمہاری جگہ گودام ہے اور وہ کمرہ جس کا کرایہ میں بھرتی ہوں۔ وہاں تم میرے ہو۔ باہر تم پالش ہو۔ یہ لکیر مت مٹانا۔ مٹی تو میں تمہیں مٹا دوں گی۔

کامران نے سر جھکایا۔ نادیہ نے ٹھوڑی پکڑ کر بوسہ لیا۔ نرم۔ پھر دانت سے نچوڑا۔ دونوں سچ ایک ساتھ۔

پندرہ دنوں میں گودام کی پیلی بتی کئی بار کانپی۔ تختہ کمزور پڑا۔ نادیہ نے ایک رات کامران کو ہاتھ باندھ کر سکھایا انتظار۔ رسی پیتل کے تار سے۔ زیادہ مضبوط نہیں۔ بس یاد دلانے جتنی۔ کامران نے انتظار سیکھا۔ نادیہ نے انتظار توڑنا سیکھا اپنے وقت پر۔ جب توڑا تو آواز اس رات گلی تک گئی مگر گلی سوئی ہوئی تھی۔ صرف ٹیوب ویل جاگتا رہا۔

آخری رات جب رضوان کے واپس آنے سے پہلے نادیہ گودام میں بیٹھی تھی اس نے کامران کا سر اپنی گود میں رکھا۔ انگلیوں سے پیشانی پھیری۔

لوگ کہیں گے میں نے ایک لڑکے کو بگاڑا۔ میں نے بگاڑا نہیں۔ میں نے وہ نکالا جو شادی کے بعد کپڑوں کے نیچے دب جاتا ہے۔ تم جوان ہو۔ کل تمہاری شادی ہوگی۔ تب یاد رکھنا ایک عورت نے تمہیں گودام میں سکھایا تھا کہ جسم صرف بچہ پیدا کرنے کا اوزار نہیں۔ جسم وہ آگ ہے جسے پیتل کی طرح گڑھا جا سکتا ہے۔

کامران کی آنکھ نم ہوئی۔ نادیہ نے آنسو انگلی سے لیا اور اپنے گلے پر پھیرا جیسے مہندی ہو۔ پھر اٹھی۔ زنجیر کھولی۔ رجسٹر بند کیا۔ چپل کی آواز گلی میں گئی اور رکی نہیں۔ فیکٹری پیچھے رہ گئی۔ پیتل کی بو کپڑوں میں رہ گئی۔ کامران برش ہاتھ میں لیے کھڑا رہا جب تک پیلی بتی خود بجھ نہیں گئی۔

صبح شیفٹ کے وقت نادیہ نے کامران کو آپ کہا۔ کامران نے نادیہ کو میم کہا۔ رجسٹر میں صرف پالش کے عدد تھے۔ دیوار پر پسینے کا نشان سوکھ چکا تھا۔ مگر رات جب پنکھا بند ہوتا ہے مرادآباد کی اس گلی میں اب بھی تین آوازیں رہتی ہیں۔ ہتھوڑا۔ ٹیوب ویل۔ اور وہ چپل جو لوہے کے دروازے تک آتی ہے اور کچھ دیر کے لیے دنیا کو باہر چھوڑ دیتی ہے۔

نادیہ جانتی ہے یہ ہمیشہ نہیں چلے گا۔ لڑکا بڑے گا یا ڈر جائے گا یا کوئی دیکھ لے۔ تب وہ نیا تالا خریدے گی۔ نیا گودام نہیں۔ وہی گودام۔ صرف نئی چابی۔ پیتل ہمیشہ گرم رہتا ہے جب آگ قریب ہو۔ نادیہ نے آگ کو نام دے دیا ہے۔ کامران۔ اور کامران نے آگ کو چھوا ہے۔ دونوں جانتے ہیں چھونا گناہ ہے اور گناہ ہی وہ گرمی ہے جس سے پیتل چمکتا ہے۔

رات پھر آئے گی۔ جنریٹر پھر مرے گا۔ رجسٹر پھر جھوٹ بولے گا۔ اور نادیہ پھر وہ عورت بنے گی جو شادی کے نو سال بعد بھی اپنے جسم کا حساب خود رکھتی ہے۔ کسی شوہر کی ٹرک کی روشنی میں نہیں۔ گودام کی پیلی بتی میں۔ جہاں پالش کے بعد جسم چمکتا ہے اور چمک کو کوئی گاہک نہیں خریدتا۔ وہ چمک صرف دو آدمیوں کے درمیان رہتی ہے اور مرنے سے پہلے کئی راتیں جیتی ہے۔

مرادآباد کی پیتل کی گلی یہ کہانی نہیں سنے گی۔ سنے گی تو ہنسے گی۔ نادیہ کو ہنسی کی پروا نہیں۔ اسے پروا اس سانس کی ہے جو کامران کے منہ سے نکلتی ہے جب وہ نام لیتا ہے۔ نادیہ۔ صرف نادیہ۔ میم نہیں۔ بیوی نہیں۔ وہ عورت جو تالا اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے اور کلید اپنی رانوں کے بیچ۔

یہیں کہانی ختم نہیں ہوتی کیونکہ راتیں ختم نہیں ہوتیں۔ پنکھا بند ہوتا رہے گا۔ ٹرک نکلتا رہے گا۔ اور گودام کے اندر وہ حساب چلتا رہے گا جو کسی دفتر کے کالم میں نہیں سماتا۔ نادیہ نے ایک رات کامران سے کہا تھا پیتل ٹوٹتا نہیں۔ اب وہ جانتی ہے کچھ چیزیں ٹوٹتی بھی ہیں اور پھر بھی چمکتی ہیں۔ اس کی شادی۔ اس کا جسم۔ اس لڑکے کی جوانی۔ سب چمک کے ساتھ ٹوٹے ہوئے ہیں۔ اور چمک ہی کافی ہے اگلی رات کے لیے۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “جب مرادآباد کی پیتل کی فیکٹری میں رات کی شفٹ کا پنکھا بند ہوا تو شادی شدہ سپروائزر نے پالش والے لڑکے کو اندرونی گودام میں وہ کام سکھایا جو کسی رجسٹر میں نہیں لکھا جاتا” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views