College Campusاردو (Urdu)⭐ Original Edition

لکھنؤ یونیورسٹی کے پرانے رسالہ کدخانے میں جب رات کی بجلی روک گئی اور تیسرے سال کی مجلہ نگار نے کمپوزٹر کے لڈکے کو وہ صفحہ دی جو کسی شمارے پر کبھی نہیں چھپتا

S
9 min read1 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

لکھنؤ یونیورسٹی کا پرانا رسالہ کدخانہ اب بھی اسمارت گارج میں نہیں رہتا۔ نئے ڈیجٹل اینک کے پیپر شائع کے پیچے لگے ہوئے تھے اور چھت کے بھیتر ورک اب بھی میزبان کی ترح اور سیسے سال پہلے کاغذ کی خوشبو بو ک۔ کمپوزٹر کی ڈسک پر اب بھی سیسے سال سے پہلے کی لہر لگی ہوئی تھی۔ اس رات کی بجلی روک گئی تو مہرالنسا نے فہاد کو بلا یہ کہا تھا۔

مہرالنسا تیسرے سال کی طالبہ تھی۔ مجلہ نگار کا عہدہ اس سال اس کے پاس تھا۔ وہ رسالہ کے لیائٹ کامرے میں بیٹھی بیٹھی آجاتی تھی۔ پروف کے صفحوں کو خود پڑھتی تھی۔ اور جب چھاپے جاتے تو کمپوزٹر کے پاس کھڑی دیر تک جاتی اور فہاد کے ہاتھ کے حرکت دیکھتی تھی۔ فہاد چوتھے سال کا تھا۔ کالج کے پریس روم کا پہلا آپریٹر تھا۔ اس کی کمیز پر ہمیشہ کی سیاہی لگی رہتی تھی اور انگلی پر کالی داغ کے ہلکے کے دھبے ہوتے تھے۔

اس رات کی بجلی اڈیٹریل بورڈ کا آخری دن تھا۔ باقی طالب گھر گئے تھے۔ چوکیدار نے کہا تھا کہ مگزین بند کر دو۔ کہ صبح کے پہلے چھاپنے کا کام نہیں رہا۔ مہرالنسا کے ہاتھ میں پروف کے پننے تھے۔ وہ رہ گئی کہ اگر آج نہ کیا تو شمارہ ادھورہ ہو جائے گا۔ اس نے گھر کے دروازے کی چابی بجائی۔ اندر لال بلب جل رہا تھا۔ فہاد کمپوزٹر کے پاس کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ کالے داغ سے کالے تھے۔ وہ انگلیوں سے ہروف کی پٹیاں اپنا رہا تھا۔

مہرالنسا نے دروازہ بند کیا۔ تالہ اندر سے لگایا۔ فہاد نے سر اٹھایا۔ تو کہا کہ آج بھی یہاں رہ گئی ہو؟ اس نے کہا کہ شمارہ ادھورا ہو جائے گا۔ مگر یہ صفحہ چھپ نہیں سکتے۔ فہاد کے ہونٹ کے اطراف اک دفعہ تھے۔ اس نے ہاتھ پہلے اور کہا کہ پھر بتاؤ میں کیا ہوتا ہے۔ مہرالنسا نے کہا کہ جو چھپنا ہے وہ شمارہ پر نہیں جاتا۔ جو صفحہ انگلیوں کے بیچ رہتا ہے وہ اب چھپنا ہے۔

فہاد نے اس کے قریب جا کر کھڑا۔ کمپوزٹر کی ڈسک کی سرد لوہ تھی۔ اس نے مہرالنسا کے کاندھے کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ اس کے گال میں سیاہ تھی۔ انک کی خوشبو اس کے گریبان پر چھو گئی تھی۔ مہرالنسا کے منہ میں کچھ پہلے سے گرمیائی اٹھی ہوئی تھی۔ وہ گرمیائی اب پھوٹ گئی۔ اس نے اپنے ہونٹ پر اس کے ہونٹ رکھ دی۔ فہاد کے ہونٹ میں سیاہ کی میٹھی تھی۔ اس نے اس کے پھوٹ کو دھیرے سے کہا۔ جیسے کوئی بات کوئی کہانی نہیں کہتی۔

کمپوزٹر کی ڈسک پر لگے حروف کے ڈبے پڑے ہوئے تھے۔ مہرالنسا نے اپنا کمیز اپنے ہاتھ سے اتار کیا۔ کمیز گرم تھی۔ فہاد کے ہاتھ کی پنجوں اس کی کمر پر پھیل گئیں۔ اس نے کہا کہ اگر رکنا ہے تو کہو۔ مہرالنسا نے کہا کہ رکنا تو ہے لیکن آج کی رات رکنے کی بات نہیں ہے۔ فہاد نے اس کے بلوز کے بٹن کھولے۔ کپڑے کے پھول کے نیچے کھولے۔ مہرالنسا کی سانس رک گئی۔ اس کے چھاتی پر اس کے نام کی گرمی بھی گئی تھی۔

فہاد نے اس کے کپڑے کے بٹن کو منہ میں لیا۔ زبان پر دانت سے دانت دبائے۔ جیس طرح کمپوزٹر پر حروف رکھتے ہیں ویسے اب زبان پر دبائے۔ مہرالنسا کے گٹنے کھنپے تھے۔ اس نے اس کے سر کو اپنے پیٹ پر دبایا۔ اس کی زبان سے انک کی خوشبو آئی۔ فہاد نے کہا کہ یہ زبان بھی چھپے گی۔ یہ صفحہ ہے جو شمارہ نہیں چھپتا۔ مہرالنسا کی آنکھ کھنپے پیچے لگ گئی۔ اس نے اس کے سر کو اور دبایا۔

کپڑے کے بٹن کہل گئے۔ کپڑے کے نیچے کہل گئے۔ مہرالنسا کے بچے کے گگر پر سیاہ کے حلقے تھے۔ فہاد نے ان حلقوں کو زبان سے چاٹا۔ پھر پھوٹ اپنے منہ میں لیا۔ مہرالنسا کی پیٹ کھنپ اٹھی۔ اس نے اس کے بال پکڑے۔ اس کے منہ کو اپنے منہ سے لگایا۔ کہا کہ پہلے سے ہوں ٹھا تھا۔ کہا کہ بس اب بھی ہوں ٹھا۔ فہاد نے کہا کہ پھلے بھی ٹھا ہوں لیکن اس رات پہلے سے بھی زیادہ ٹھا۔

وہ اس کے پیٹ پر بیٹھی ہو گئی جیس طرح کوئی کاغذ پڑھتا ہے۔ مہرالنسا کے ہاتھ کامپنے۔ فہاد کے ہاتھ کی پنجوں اس کے گگر کو مل رہی تھیں۔ اس نے اس کو کمپوزٹر کی ڈسک پر پیٹ کے بل لٹا دیا۔ اس کی پیٹھ کی کھل ڈسک کی سرد لوہ سے لگی۔ فہاد نے اپنے کپڑے کھولے اور اس کے پیچے کھڑے دی۔ مہرالنسا نے دندنا کہا کہ ایسے مت کرو۔ فہاد نے کہا کہ ایسے مت کرو لیکن آج اس کام کے لیے مت کرو۔

وہ اندر آئی جیس طرح کوئی حرف اپنے مقام پر رکھتا ہے۔ پہلے دفعے مہرالنسا کے منہ میں درد تھا۔ فہاد رک گیا۔ پھر اس نے اس کے کندھوں کو پکڑا۔ اس کے پیٹ کو اپنے قریب کیا۔ اس کی سانس اس کے گلے پر گرم ہو گئی۔ دفعے آہستہ آہستہ گھرے ہوئے۔ کمپوزٹر کی ڈسک ہلکے ہلکے ہلنے لگی۔ مہرالنسا کے ناخن سے آواز آئے۔ فہاد نے ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا اور کہا کہ یہ تیری کی طرح ہے جیس طرح ہرف کا سھانچ کہین سے کھٹا جاتا ہے۔

مہرالنسا کے ناخن میں اس کا نام تھا۔ فہاد فہاد فہاد۔ جیس طرح کوئی شعر پہلے بار اپنا نام پڑھ رہا ہو۔ فہاد نے اس کے بال اور کسے اور اس کے گگر کو اپنی گود میں دبایا۔ دفعے اب تیز ہو گئے۔ ڈسک ہلنے لگی۔ مہرالنسا کی پٹیاں کہل گئیں۔ اس کے منہ میں گرمی نم ہو گئی تھی۔ فہاد نے اپنے بیج باہر نکال اور اندر تک آ گیا۔ مہرالنسا کا جسم کامپ گیا۔ اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ اس کی پیٹ پر اس کے پانی کا پانی گرم ہو گیا۔

دوسرے دفعے فہاد نے اس کو پلٹ کیا۔ گھٹنے کے بل پیٹ کے بل کھڑا کیا۔ پیچے سے داخل ہوا۔ یہ زاویہ زیادہ گھری تھی۔ مہرالنسا کے ہاتھ ڈسک کے کنارے پر ٹیک گئے۔ اس کی چھاتیاں لال پر لہر گئیں۔ فہاد کے ہاتھ اس کے کمر کو پکڑ کر رہے تھے۔ اس نے کہا کہ اب بھی اندر تک آو جاؤ۔ مہرالنسا نے گہر گہر کہا کہ آج رکو مگر یہ صفحہ پورا ہو گیا۔ فہاد نے کہا کہ یہ صفحہ تیری ہے اور تیری شمارے پر نہیں چھپتا۔

تیسرے دفعے فہاد نے اپنا بیج باہر نکال۔ گرم اس کے اندر اور اس کے باہر پر بھی گرم ہو گئی۔ مہرالنسا کے ناخن سے ایک لمبی سی آواز آئی جو رسالہ کدخانے کی کہی دیوار نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ فہاد اس کے اندر ہی رہا۔ کامپتا رہا۔ جب تک مہرالنسا کے پیر بھی کامپ گئے۔ اس کی پٹیاں کھنپ گئیں۔ اس کا سر کمپوزٹر کی ڈسک پر گرا تھا۔ فہاد اس کے اوپر چھاتی پر گرا تھا۔

ان دونوں نے کچھ دیر تک کچھ نہیں کہا۔ فہاد نے اس کے گگر پر ہاتھ پہیرا اور اس کی پیٹ پر ہونٹ رکھ کر کہا کہ تو باہر نکل سکتی ہے؟ مہرالنسا نے کہا کہ نہیں نکل سکتی۔ یہ صفحہ میرے اندر رہے گا۔ شمارے میں نہیں جائے گا۔ فہاد کے ہونٹ پر ایک نرم ہنسی آ گئی۔ اس نے اس کے ہونٹ پر ہونٹ رکھ کر کہا کہ یہ رات میرے پاس بھی رہے گی۔

وہ دوبارہ ہوئے لیکن اب آہستہ سے۔ فہاد نے اس کو اپنی گود میں اپنا یا کیا۔ مہرالنسا کی ٹانگیں اس کے کندھوں پر جکڑ گئیں۔ یہ زاویہ بھی گھری تھی۔ کمپوزٹر کی ڈسک پھر ہلنے لگی۔ مہرالنسا کے ناخن سے فہاد کا نام پھر نکلا۔ فہاد نے اس کے گگر پر اپنا منی ڨال گرا دیا۔ جب وہ اندر پہوٹا تو دونوں کے جسم کامپ گئے۔ گرم ان کے پیٹ پر بھی گرم تھا اور اس کے اندر پر بھی۔

چوتھے دفعے وہ پھر بھی زمین پر لیٹے۔ فہاد اس کے بال سہلا رہا تھا۔ مہرالنسا کی کمیز اس کے سینے پر پھیل تھی۔ بجلی کے گٹے میں روشنی کی خوشبو اب بھی نہیں رہی تھی۔ انک کے پیپر شائع کے نیچے گرم ہو گئے تھے۔ فہاد نے کہا کہ کل کو شمارہ چھپنا ہے یہ صفحہ ہمارے اندر رہے گا۔ مہرالنسا نے کہا کہ ہاں تو ہمارا شمارہ چھپنا ہے۔ ہم دونوں جانتے ہیں کہ یہ صفحہ ہمارے پاس رہے۔

پانچ بجے تھے۔ کینٹین کی روشنی آئی تو فہاد نے اس کے کپڑے کے بٹن لگائے۔ کپڑے کے نیچے لگائے۔ کمیز پہنائے۔ مہرالنسا نے آئینے میں پروف کے پننے سیدھے کیے۔ فہاد نے کمپوزٹر کی ڈسک ساف کی۔ حروف وہیں کے وہیں پڑے تھے۔ جیس طرح کچھ ہوا ہی نہ ہوا۔ مہرالنسا نے دروازے کا تالہ کھولا۔ باہر نکلا۔ پھر اندر سے نہیں نکلا۔ فہاد نے کہا کہ کل کو بتانا ہے کہ یہ رات ہوئی ہے۔ مہرالنسا نے کہا کہ ہاں ہمیشہ ہم جانتے ہیں کہ یہ رات ہوئی ہے۔

صبح کو شمارہ ادھورہ ہو گیا۔ مہرالنسا نے پروف کے صفحوں پر اپنا نام لکھا۔ فہاد نے کمپوزٹر کے حروف کی کتری میں وہ صفحہ چھپا جو کسی شمارے پر کبھی نہیں چھپتا۔ وہ صفحہ ان دونوں کے جسموں میں رہ گیا۔ رسالہ کدخانے کی خاموش دیواروں نے اس رات کو سن لیا لیکن چھاپا نہیں۔ بجلی کے گٹے اب بھی پہلے جیسے تھے لیکن ان دونوں کے بیچ کہ کچھ اور کہا گیا تھا۔

دو ہفتے بعد شمارہ نکل گیا۔ مہرالنسا نے فہاد کو کینٹین میں دیکھا۔ فہاد نے اس کو پریس روم کے پیچے دیکھا۔ ان کی نظریں مل گئیں۔ لیکن جب کوئی ان کے قریب سے گزرا تو ان کے جسموں میں وہ رات اب بھی جی رہتی تھی جو کسی شمارے پر کبھی نہیں چھپتی۔ رسالہ کدخانہ اب بھی وہیں کام کرتا ہے۔ بجلی اب بھی وہیں رکتی ہے۔ لیکن وہ صفحہ جو اس رات چھپا گیا وہ ان دونوں کے بیچ رہ گیا جو کسی کاغذ پر نہیں چھپتا۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

College Campus

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرانے جغرافیہ ڈیپارٹمنٹ کے میپ روم میں فیلڈ سروے کی رات جنریٹر رک گیا تو تیسرے سال کی طالبہ ثریا نے دہرادون سے آئے کارٹوگرافر کو وہ نقشہ دیا جو کسی اٹینڈنس یا ہاسٹل کی حاضری پر کبھی نہیں چڑھا

علی گڑھ کا پرانا میپ روم۔ فیلڈ سروے کی رات۔ جنریٹر بند۔ ثریا اور دہرادون کا احسان۔ وہ نقشہ جو حاضری پر کبھی نہیں چڑھتا۔

Read Next Story

More stories by Shabana Ansari

View all →

Readers who enjoyed “لکھنؤ یونیورسٹی کے پرانے رسالہ کدخانے میں جب رات کی بجلی روک گئی اور تیسرے سال کی مجلہ نگار نے کمپوزٹر کے لڈکے کو وہ صفحہ دی جو کسی شمارے پر کبھی نہیں چھپتا” also read

8 curated stories
College Campusاردو (Urdu)

اردو ٹیچر کی چدائی: لائبریری کا خفیہ نوٹ

اردو ٹیچر کی چدائی: لکھنؤ کے گرلز کالج میں فرزانہ کو اپنے حاضری رجسٹر میں ایک خفیہ نوٹ ملتا ہے۔ نوٹ لکھنے والا نوجوان لیکچرر عامر نکلتا ہے، اور ان کا راز لائبریری سے شروع ہو کر بہت آگے جاتا ہے۔

⏱️ 14 min read•👁️ 0 views
College Campusاردو (Urdu)

اردو کالج گرل کہانی: لائبریری کی شام

زویا (20، کراچی یونیورسٹی) کی منگنی خلیج میں مقیم منگیتر سے ہے۔ انگلش لٹریچر کی ٹیوشن کے لیے ٹیچنگ اسسٹنٹ فہد (26) کی لائبریری والی شامیں، اور پھر جو ہوا، یہ اردو کالج گرل کہانی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 0 views
College Campusاردو (Urdu)

اردو پروفیسر کی چدائی: کالج آفس میں پروفیسر عمران نے زارا کو جم کر چودا

کراچی کالج میں لیکچرر زارا ایک شام کتاب واپس کرنے پروفیسر عمران کے دفتر پہنچی، اور وہ ملاقات ایک ایسی شام میں بدل گئی جسے دونوں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
College Campusاردو (Urdu)

اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ والی رات

اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ کے لڑکیوں کے ہوسٹل میں خراب موٹر ٹھیک کرنے آیا دانش، اور اریبہ سے اس کی ملاقات ایک نئی کہانی بن گئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
College Campusاردو (Urdu)

اردو کالج گرل سیکس کہانی: وین چھوٹنے کے بعد

اردو کالج گرل سیکس کہانی: ڈبیٹ پریکٹس کے بعد وین چھوٹ گئی تو مہنور کو بلال کی بائیک پر سوار ہونا پڑا۔ بارش، ایک خالی فلیٹ، اور پھر وہ شام بدل گئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ

دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔

⏱️ 13 min read•👁️ 5 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔

⏱️ 14 min read•👁️ 4 views