جب خیرپور کی کھجور منڈی میں تہوار کی رات آخری ٹرک نکل گیا تو کراچی کی فری لانس فوٹوگرافر نے پیکنگ شیڈ کے تالے کے پیچھے وہ رات رکھی جو کسی اخبار کے کالم میں نہیں چھپتی
خیرپور کی کھجور منڈی تہوار کی رات بھی سوتے سوتے جاگتی رہتی ہے۔ باہر میلہ تھا، اندر پیکنگ شیڈ کی لوہے کی چھت پر ڈھول بیٹھی ہوئی تھی، اور کھجور کے ڈبوں کی بو اتنی گہری تھی کہ سانس لینے میں بھی مٹھاس آتی۔ کراچی سے آئی فری لانس فوٹوگرافر زینب قریشی نے تین دن کی شوٹ کے بعد آخری فریم نکالے تھے۔ میلے کے بینر، ٹرکوں کی قطاریں، بچوں کے ہاتھ میں چپکتی کھجور، اور منڈی کے دفتر کے پرانے رجسٹر۔ وہ سب کچھ جو اخبار مانگتا ہے۔ جو نہیں مانگتا وہ اس رات کے بعد آنے والا تھا۔
آخری ٹرک گیٹ سے نکلا تو شیڈ کا چوکیدار زنجیر کھینچنے لگا۔ زینب نے کیفے والا کیمرا بیگ کندھے پر اٹھایا اور باہر کی طرف چلی۔ گیٹ پر ایک آدمی کھڑا تھا۔ لمبا، تیس کے قریب، ہاتھوں پر کھجور کا رس خشک ہو کر داغ بن چکا تھا۔ اس نے پوچھا، گاڑی کہاں ہے؟ زینب نے کہا، شہر کے گیسٹ ہاؤس تک رکشہ لینا ہے۔ آدمی نے سر ہلایا۔ رکشہ اب نہیں ملتا۔ تہوار کی رات سب بھاگ گئے۔ میں اظہر ہوں۔ پیکنگ سپروائزر۔ اگر رکنا ہو تو دفتر کے پیچھے کمرہ ہے، پنکھا چلتا ہے۔ اگر نہیں تو گیٹ پر انتظار۔
زینب نے اس کا چہرہ دیکھا۔ نہ چمک تھی نہ دکھاوا۔ صرف تھکن اور سچائی۔ اس نے کہا، دس منٹ بیٹھتی ہوں۔ پانی چاہیے۔ اظہر نے دروازہ کھولا۔ اندر ایک میز، دو کرسیاں، دیوار پر پرانی کیلنڈر، اور کھجور کے نمونے کی پلیٹیں۔ اس نے ٹھنڈا پانی دیا۔ زینب نے حلق تر کیا اور کیمرا میز پر رکھ دیا جیسے ہتھیار اتار رہی ہو۔
پنکھا آہستہ گھوم رہا تھا۔ زینب نے بتایا کہ وہ تین سال سے تنہا سفر کرتی ہے۔ شادی نہیں، وعدہ نہیں، صرف فریم۔ اظہر نے بتایا کہ وہ منڈی میں بارہ سال سے ہے۔ گھر پر ماں اور چھوٹا بھائی۔ راتیں اکثر شیڈ میں کٹتی ہیں۔ دونوں نے ہنسی میں وہ بات کہی جو اجنبی کہتے ہیں جب رات لمبی ہو اور شہر دور۔
زینب نے پوچھا، تم نے کبھی کراچی دیکھا؟ اظہر نے کہا، تصویر میں۔ سمندر کی بو نہیں سونگھی۔ زینب نے کہا، سمندر بھی جھوٹ بولتا ہے کبھی کبھی۔ آج کی رات سچ بولو۔ اظہر نے نظریں اٹھائیں۔ تم کیا چاہتی ہو اس رات؟ زینب نے لمحہ بھر خاموشی رکھی پھر کہا، وہ جو کل اخبار میں نہیں چھپے گا۔
اظہر نے کرسی پیچھے کی۔ زینب اٹھی اور میز کے گرد آئی۔ فاصلہ کم ہوا تو کھجور کی بو دونوں کے کپڑوں سے مل گئی۔ اس نے زینب کی کلائی چھوئی۔ زینب نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔ پہلا بوسہ جلدی میں نہیں تھا۔ ہونٹ خشک تھے، پھر گیلاپن آیا جیسے پکی کھجور پھٹ۔ اظہر کے ہاتھ کمر پر آئے۔ زینب نے اس کی گردن پر سانس چھوڑی۔
شیڈ کے باہر میلہ مر رہا تھا۔ اندر صرف پنکھا اور دو جسم۔ زینب نے قمیض کے بٹن کھولے۔ اظہر نے دیکھا، پوچھا نہیں۔ اس کے ہاتھ سینے پر آئے تو زینب کی سانس ٹوٹی۔ اس نے کہا، آہستہ نہیں۔ آج آہستہ مت کرنا۔ اظہر نے سمجھ لیا۔
زینب میز پر بیٹھی۔ اسکرٹ اوپر ہوئی۔ اظہر گھٹنوں کے بل آیا۔ اس نے رانوں کے اندر بوسہ دیا۔ زینب کی انگلیاں اس کے بالوں میں گھسی۔ جب زبان نے درمیان کو چھوا تو زینب نے دانت کاٹے۔ آواز دبی رہی کیونکہ دیوار پتلی تھی اور چوکیدار باہر تھا۔ اظہر نے نہیں رکا۔ اس نے چوس کر، چاٹ کر، دبا کر وہ جگہ سیکھی جو زینب خود کبھی کسی کو نہیں دکھاتی۔
زینب نے اس کا سر کھینچا۔ اب اندر۔ اظہر کھڑا ہوا۔ بیلٹ کھلی۔ زینب نے ہاتھ سے پکڑا، ناپا، منہ کے قریب لائی مگر پورا نہیں لیا۔ صرف سر چوس کر چھوڑا۔ پھر لیٹ گئی۔ اظہر نے ایک ہی ڈھکے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تنگ تھا۔ زینب نے کمر اٹھائی۔ دوسری بار گہرا ہوا۔ دونوں رک گئے۔ سانس ملی۔ پھر حرکت شروع ہوئی۔
میز ہلی۔ پلیٹیں کھڑکھڑائیں۔ زینب کی ایڑی اظہر کی کمر پر لگی۔ اس نے تیز کیا۔ زینب نے گالی نہیں دی، صرف نام پکارا۔ اظہر، اور۔ اظہر نے کانچھے کاٹے۔ زینب نے ناخن پیٹھ پر پھیرے۔ جب پہلا جھٹکا آیا تو زینب نے منہ دبا لیا اظہر کے گلے میں۔ جسم لرزا۔ اظہر نے نہیں نکالا۔ اندر ہی رہا، آہستہ ہلایا، پھر پھر تیز۔
دوسری بار زینب نے خود کمر گھمائی۔ اظہر حیران ہوا۔ یہ عورت فریم نہیں کاٹ رہی تھی، رات کاٹ رہی تھی۔ اس نے اسے اٹھا کر دیوار سے لگا دیا۔ ٹانگیں کمر کے گرد۔ اب وزن اظہر کا تھا۔ ڈھکے گہرے ہوئے۔ زینب کی پشت دیوار کی ٹھنڈک سے لگی، سامنے اظہر کی گرمی۔ دونوں چیزیں ایک ساتھ جل رہی تھیں۔
وہ فرش پر بھی گئے۔ بوریاں بچھیں۔ کھجور کے تنکے جلد سے چپکے۔ اظہر نے زینب کو اوپر بٹھا دیا۔ زینب نے اپنے حساب سے اتری، اٹھی، دبائی۔ اس کے بال چہرے پر گرے۔ پسینہ سینے سے ناف تک بہا۔ اظہر نے دونوں ہاتھوں سے اس کے کولہے پکڑے اور اوپر ڈھکیلا۔ زینب نے آنکھیں بند کیں۔ اس لمحے اس نے کراچی نہیں سوچا، گیسٹ ہاؤس نہیں سوچا، کل کا ٹرین کا ٹکٹ نہیں سوچا۔ صرف وہ موٹا پن جو اندر بھر رہا تھا، اور وہ خالی پن جو بھرنے کے بعد بھی بھوکا رہتا ہے۔
اظہر نے کہا، میں نکل جاؤں؟ زینب نے سر ہلایا، نہیں۔ اندر۔ یہ ایک رات ہے۔ کل کوئی نہیں پوچھے گا۔ اظہر نے دانت پیسے۔ آخری ڈھکے سخت تھے۔ جب اس نے چھوڑا تو گرم لہر اندر تک گئی۔ زینب ہلی، دب گئی، پھر ہنسی۔ عجیب ہنسی، جیسے کوئی راز ہلکا ہو گیا ہو۔
وہ لیٹے رہے۔ پنکھا اب بھی گھوم رہا تھا۔ اظہر نے انگلی سے زینب کے کنچھے پر کھجور کا ایک چھوٹا سا ذرہ ہٹایا۔ زینب نے کہا، یہ فوٹو نہیں بنے گی۔ اظہر نے کہا، بنے تو بھی میں نہیں پہچانوں گا۔
تھوڑی دیر بعد پھر چھونا شروع ہوا۔ اس بار جلدی کم، دیکھنا زیادہ۔ زینب نے اظہر کو منہ میں لیا۔ آہستہ، گہرا، مکمل۔ اظہر کی سانس بگڑی۔ اس نے بال پکڑے مگر زور نہیں دیا۔ زینب نے خود فیصلہ کیا کب تک، کتنا۔ جب اظہر قریب آیا تو اس نے ہٹایا، اوپر چڑھی، پھر سے اندر لیا۔ دوسری بار لمبی تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھ دیکھی۔ اجنبی ہونے کا لطف یہی ہے کہ آنکھ میں تاریخ نہیں ہوتی۔
زینب نے جب دوسری بار اپنا حاصل کیا تو آواز نکل گئی۔ باہر چوکیدار نے شاید کچھ سنا، زنجیر ہلی، پھر خاموش۔ دونوں ہنسے۔ خوف اور مزہ ایک ہی جگہ رہے۔
چار بجے اظہر نے پانی دیا۔ زینب نے نہایا نہیں، صرف کپڑے درست کیے۔ اسکرٹ میں اب بھی گرمی تھی۔ اظہر نے دروازہ کھولا۔ باہر کہرا تھا۔ منڈی سو رہی تھی جیسے تہوار کبھی ہوا ہی نہ ہو۔
زینب نے بیگ اٹھایا۔ اظہر نے پوچھا، نام لکھوں؟ زینب نے کہا، مت لکھنا۔ اخبار جھوٹ بولے گا، تم سچ رکھنا۔ اس نے اظہر کے ہاتھ پر ایک لمبا بوسہ دیا، کلائی کے اندر، جہاں نبض ہے۔ پھر گیٹ کی طرف چلی۔
رکشہ نہیں ملا۔ ایک دودھ والا ٹرک رکا۔ زینب چڑھ گئی۔ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اظہر شیڈ کے دروازے پر کھڑا رہا جب تک ٹرک مڑ نہ گیا۔
گیسٹ ہاؤس پہنچ کر زینب نے کارڈ نکالا۔ میموری میں تین سو فریم تھے۔ ایک بھی اس رات کا نہیں تھا۔ اس نے لیپ ٹاپ کھولا، کیپشن لکھے، بھیجے۔ پھر نہائی۔ پانی میں کھجور کی بو اب بھی تھی، حالانکہ صابن لگا۔
اظہر نے شیڈ صاف کیا۔ میز سیدھی کی۔ پلیٹ واپس رکھی۔ رجسٹر میں لکھا: رات کی شفٹ مکمل۔ نقصان صفر۔ اس نے قلم رکھا اور مسکرایا کیونکہ نقصان صفر تھا اور فائدہ بھی کسی کالم میں نہیں تھا۔
دو ہفتے بعد زینب کا فوٹو مضمون چھپا۔ خیرپور کی میٹھی راتیں۔ تصاویر میں ٹرک، بچے، ڈبے، سورج۔ شیڈ کی اندرونی روشنی نہیں تھی۔ اظہر نے اخبار منڈی کے دفتر میں دیکھا۔ زینب کا نام نیچے تھا۔ اس نے اخبار محفوظ نہیں کیا۔ صرف پڑھا اور کام پر لوٹ گیا۔
تین مہینے بعد زینب پھر نہیں آئی۔ اظہر نے توقع بھی نہیں کی۔ کبھی رات کو پنکھا چلتا دیکھ کر وہ رات یاد آ جاتی۔ جسم میں وہی گرمی، وہی فیصلہ کہ ایک رات نام نہیں مانگتی۔
زینب کراچی کی کسی عمارت کی چھت پر بیٹھی سمندر دیکھتی تو کبھی سوچتی کہ مٹھاس سمندر میں نہیں، اس شیڈ میں تھی جہاں رجسٹر جھوٹ بولتا ہے اور جسم سچ۔ وہ کسی کو نہیں بتاتی۔ فری لانس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ کچھ کہانیاں کبھی فروخت نہیں ہوتیں۔
منڈی اب بھی تہوار مناتی ہے۔ آخری ٹرک نکلتا ہے۔ زنجیر پڑتی ہے۔ کبھی کبھی کوئی اجنبی عورت گیٹ پر کھڑی ہوتی ہے رکشہ ڈھونڈتے ہوئے۔ اظہر پانی دیتا ہے، کمرہ دکھاتا ہے، اور اگر رات لمبی ہو تو پوچھتا نہیں۔ صرف دروازہ بند کرتا ہے اس نرمی سے جیسے کھجور کو زیادہ دبانے سے رس ضائع ہو جاتا ہے۔
اس رات کا کوئی گواہ نہیں۔ نہ کیمرا، نہ رجسٹر، نہ چوکیدار کی زنجیر۔ صرف دو سانیں جو ایک شیڈ میں ملیں، بھریں، اور صبح سے پہلے الگ ہو گئیں اس سمجھ کے ساتھ کہ کچھ چیزیں پکنے کے بعد توڑنی پڑتی ہیں ورنہ سڑ جاتی ہیں۔
زینب نے بعد میں ایک ذاتی نوٹ بک میں صرف ایک جملہ لکھا۔ خیرپور۔ پیکنگ شیڈ۔ اظہر۔ باقی خالی چھوڑ دیا کیونکہ الفاظ اس رات کے وزن سے ہلکے تھے۔ اظہر نے کچھ نہیں لکھا۔ اس کے ہاتھوں پر کھجور کا داغ پہلے جیسا رہا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اب وہ داغ چھونے پر ایک اور جلد یاد آتی تھی، نرم، تیز، اور ایک رات کے لیے بالکل اس کی۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ ایسی راتیں ختم نہیں ہوتیں۔ وہ لوگوں کے اندر ٹہرتی ہیں جیسے منڈی کی ڈھول کپڑوں میں ٹہرتی ہے۔ ڈھلتی ہے، مگر خوشبو کچھ دیر اور رہتی ہے۔
اور جب کبھی تہوار کی رات آخری ٹرک نکل جاتا ہے، شیڈ کی روشنی تھوڑی دیر اور جلتی ہے، جیسے کسی کو انتظار ہو۔ انتظار کا نام نہیں ہوتا۔ بس پنکھا گھومتا ہے، اور لوہے کی چھت پر ڈھول اپنی جگہ پر بیٹھی رہتی ہے۔
زینب نے اگلے سال سنڈھ کا کوئی اور میلہ کور کیا۔ خیرپور نہیں۔ جان بوجھ کر۔ کچھ دروازے دوبارہ نہیں کھولنے ہوتے تاکہ پہلی رات اپنی شکل نہ کھوئے۔ اظہر نے یہ بات نہیں جانی۔ اسے جاننے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ ایک رات کا حساب اسی رات چکا دیا جاتا ہے۔ باقی زندگی رجسٹر کی سطروں میں چلتی ہے، اور کچھ سطریں جان بوجھ کر خالی چھوڑ دی جاتی ہیں۔
منڈی کے پرانے لوگ کہتے ہیں کھجور رات کو زیادہ میٹھی لگتی ہے۔ وہ وجہ نہیں بتاتے۔ وجہ شیڈ کے اندر ہے، جہاں دو اجنبیوں نے ایک دوسرے کو اس طرح چھاپا جیسے ڈبے پر لیبل نہیں، جسم پر سانس چپکتی ہے۔ لیبل ڈھل جاتا ہے۔ سانس یاد رہتی ہے۔
یہی پوری بات ہے۔ نہ وعدہ، نہ خط، نہ دوسری ملاقات۔ صرف تہوار کی رات، آخری ٹرک، بند گیٹ، اور وہ عورت جس نے کیمرا میز پر رکھ دیا تھا جیسے ہتھیار اتار رہی ہو۔ اور وہ مرد جس نے پانی دیا تھا پہلے، اور بعد میں وہ سب دیا جو پانی سے نہیں بھرتا۔
خیرپور اب بھی نقشے پر وہی جگہ ہے۔ زینب کے نقشے پر وہ ایک سیاہ نقطہ ہے جسے وہ انگلی سے چھوتی ہے اور ہٹا لیتی ہے، بار بار، جیسے زخم نہیں، مہر ہو۔
Readers who enjoyed “جب خیرپور کی کھجور منڈی میں تہوار کی رات آخری ٹرک نکل گیا تو کراچی کی فری لانس فوٹوگرافر نے پیکنگ شیڈ کے تالے کے پیچھے وہ رات رکھی جو کسی اخبار کے کالم میں نہیں چھپتی” also read
8 curated storiesاردو سفر سیکس کہانی: ٹرین والی رات (حصہ 1)
دہلی سے لکھنؤ کی رات والی ٹرین میں ثنا کی ملاقات دانش سے ہوتی ہے۔ برتھ کے پردے کے پیچھے بڑھتی بے چینی، ایک انجانے اسٹیشن پر رکا سفر، اور ایک ایسی رات جو دونوں کبھی بھول نہیں پائیں گے۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔
اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔
اردو گرم بیوی کی کہانی: راتوں والی بیوی
اردو گرم بیوی کی کہانی: لکھنؤ کی شبانہ، جس کا شوہر کام میں مصروف ہے، شادی میں دس سال پرانے عاشق دانیال سے ملنے کے بعد جاگ اٹھی۔
اردو بیوہ سیکس کہانی: فرح اور حویلی کی دوپہر
لکھنؤ کی پرانی حویلی میں دو سال سے بیوہ رہنے والی فرح کی اس دوپہر نے اس کی زندگی بدل دی۔ ایک دلچسپ اردو بیوہ سیکس کہانی جو پہلی نظر سے شروع ہوئی۔
لاہور کی پرانی گلی میں اس نے دروازہ بند کیا، رسی کی کلائی میرے گلے میں پہنائی اور کہا کہ آج سے تم میرے حکم میں ہو
کلیگرافی کی کلاس تھی تھی دور جانے والے گھر تھیں اک شام کے بعد وہ دروازہ بند ہوا اور جس نے قلم پکڑنا تھا اس نے باقی رات کا فیصلہ خود لکھایا۔