رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا
رام پور کی پرانی گلیوں میں اب بھی رات کے بجے بڑی دکان بند ہو جاتی ہیں۔ کتاب بندی والی ورکشاپ کی لکڑی چھت پر اب بھی سرخ روشنی چل رہی تھی۔ اندر گندھک کی بو کے ساتھ جلدوں کی ڈھیریاں لگی ہوئی تھیں۔ گونند کے برش کی کچھ کی خوشبو اور گگے ہوئے سر کی گندگی میں گل گئی تھی۔ باہر بارش کی بوندا باندی چل رہی تھی اور نالے کا پانی آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔
مہنک نے آج پورے دن بھر اپنی انگلی سے سلائی کی تھی۔ انیس کے ہاتھ میں سوئی کا نشان اب بھی صاف تھا۔ انگلی کی نوک ان کے انگل پر گرگئی تھی جس سے وہ کام کرتی تھی۔ گوٹا گاہ کا کپڑا گٹ گیا تھا جس پر سوئی کی یاد آ کر انگلی اور خاموش کے درمیان میں پھنس رہ گئے تھے۔ وہ کنواری تھی۔ بائیس سال کی۔ گھر میں ماں بیمار تھی اور باپ پرانے مدرسے میں چپڑاسی کا کام کرتا تھا۔ شادی کی باتیں آتی تھیں مگر مہنک کے منہ سے کوئی جواب نہیں نکلتا تھا۔
حامد پروف ریڈر تھا۔ وہ شہر سے آتا تھا کہتا تھا جب کوئی کتاب چھپڑ جاتی تو اس کو پڑھنا پڑتا تھا۔ آج آخری جلد کی فہرست چیک کرنے آیا تھا۔ ورکشاپ کا مالک باہر نکل گیا تھا۔ چار آدمی لڑکیاں گئی ہوئی تھیں۔ صرف مہنک اور حامد رہ گئے تھے۔ دیوار پر پرانے کیلنڈر لٹکے ہوئے تھے جن پر رجب اور شعبان کے مہینے کٹے ہوئے تھے۔
مہنک نے اپنی تھک پکڑ ایک پیالے پر رکھ دی۔ حامد کے ہاتھ کی طرف پڑ گئے۔ اس نے اپنا ہاتھ اپنی اور تھک پکڑ۔ مہنک کے گال میں کچھ آ گئی۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ اس رات کوئی اور نہیں رہے۔ حامد نے آہستہ کہا کہ فہرست میں دو نام رہ گئے ہیں۔ مہنک نے سر چھکا لیا۔
حامد نے کہا تھا کہ آج کی فہرست میں دو نام ہی ہیں۔ مہنک کے ہاتھوں میں سوئی کا داغ لگ رہا تھا۔ وہ بولی کہتی کہ اس کام کی سلائی میں کوئی غلطی ہو گئی ہے۔ حامد کے ہاتھ اس کی گردن پر پھر گئے۔ مہنک کا جسم کانپ گیا۔ باہر گلی میں کتا بھونکا۔ ورکشاپ کی کھڑکی پر پلاسٹک کی شیٹ ہل رہی تھی۔
مہنک نے کہا تھا کہ آپ چیک کر لیں۔ میں کل ہوئی ہوں۔ حامد نے دروازہ بند کر دیا۔ کنڈی کی روشنی اب صرف انگلی پر گرتی تھی۔ مہنک کے سینے پر پسینے کا پانی گرگیا تھا۔ حامد کے ہاتھ اس پانی پر رک گئے۔ مہنک نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔
وہ پہلی چھونے نے مہنک کو کامپ کر دیا۔ اس کے ہونٹ سے آواز نکل گئی۔ حامد کے ہاتھ اس کے گلوں پر پھر گئے۔ مہنک نے کہا تھا کہ یہ غلط ہے۔ حامد نے کہا تھا کہ غلط نہیں۔ یہ وہ حاشیہ ہے جو فہرست پر نہیں چڑھتا۔ مہنک کی سانس تیز ہو گئی۔ حامد نے اس کی کمیز کا پہلا بٹن کھولا۔ مہنک نے ہاتھ پکڑا پھر چھوڑ دیا۔
حامد نے مہنک کو دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ دیوار پر گوند کی تہہ خشک ہو چکی تھی۔ مہنک کی پیٹھ اس تہہ سے رگڑ رہی تھی۔ حامد نے اس کے گلے میں منہ رکھا۔ مہنک کے منہ سے ایک آہ نکلی جو اس نے دبانے کی کوشش کی۔ حامد نے کہا آہستہ نہیں۔ یہاں کوئی نہیں سنتا۔
مہنک کی کمیز کندھے سے سرک گئی۔ حامد نے اس کے سینے کو ہاتھوں میں لیا۔ مہنک کی سانس رک سی گئی۔ یہ پہلی بار تھا کہ کسی مرد نے اس کے جسم کو اس طرح چھوا تھا۔ شرم اور خواہش ایک ساتھ چل رہی تھیں۔ حامد کے ہونٹ اس کے کان کے پاس آئے اور اس نے کہا کہ تمہاری سلائی سیدھی ہے مگر آج کی رات سیدھی نہیں رہے گی۔
حامد نے مہنک کو کاغذ پر بیٹھا دیا۔ کاغذ پر گندھک کی بو اور گندگی کی خوشبو ملی ہوئی تھی۔ مہنک کے کپڑے کاغذ کے کنارے سے ٹکرائے۔ حامد کے موں اس کے گال پر لگ گئے۔ مہنک نے پہلی بار حامد کا موں اپنے ہاتھ میں لیا۔ وہ گرم تھا اور بھاری تھا۔ حامد نے آہستہ کی۔ مہنک کے ہونٹ سے آواز کی لہر نکل گئی۔ حامد نے اس کے بل کے بٹن کھول دیے۔
مہنک کی پہلی بار تھی۔ درد بھی تھا اور مزہ بھی تھا۔ حامد رک گیا۔ پھر بھی رکا۔ کاغذ کے پائوں پر مہنک کی پیٹ پھسل گئی۔ حامد کے ناخن اس کے گال میں ڈوب گئے۔ مہنک نے دانت بھیچے۔ آنسو نکل آئے مگر اس نے منہ نہیں موڑا۔
مہنک نے کہا تھا کہ اندر لکھو۔ حامد نے اس کے بال پکڑے اور گہرے سے پکڑا۔ مہنک کی چھاتی پر پسینے کے نشانات آ گئے۔ حامد نے ان نشانات کو موں میں لیا۔ مہنک کے جسم میں ایک لہر دوڑی جو سوئی کی نوک سے بھی تیز تھی۔
کاغذ کے نیچے گتے کی تہہ تھی۔ وہ تہہ مہنک کی کمر میں چبھ رہی تھی۔ حامد نے اس کی ٹانگیں الگ کیں۔ مہنک شرم سے کانپ رہی تھی مگر اس نے ٹانگیں بند نہیں کیں۔ حامد نے اپنی زبان سے اس جگہ کو چھوا جہاں مہنک نے کبھی خود بھی ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ مہنک کا منہ کھل گیا اور ایک لمبی سانس نکلی۔
حامد نے کہا کہ یہ حاشیہ صاف لکھنا ہے۔ مہنک نے سر ہلایا۔ حامد نے اپنی زبان گہرائی میں لی۔ مہنک کے ہاتھ کاغذ کو مروڑنے لگے۔ گوند کی کٹوری الٹ گئی اور گاڑھا گوند فرش پر پھیل گیا۔ مہنک کی ایڑی اس گوند میں پھنس گئی۔ حامد ہنسا نہیں۔ اس نے اور گہرا کیا۔
حامد نے مہنک کو پلٹ پر لٹا دیا۔ پلٹ پر کاغذ کے کپڑے پڑے ہوئے تھے۔ مہنک کی پیٹ اب کھول گئی۔ حامد پیچے سے اندر گیا۔ مہنک کے ناخن اب بھی نہیں رک سکے۔ اس نے دیوار پکڑی۔ دیوار کی چونے کی تہہ اس کی ہتھیلی پر لگ گئی۔
مہنک نے کہا تھا کہ میرے اندر رہ جاؤ۔ حامد نے اس کی ٹانگیں دبائیں۔ ورکشاپ کی دیوار پر بارش کی آواز پڑ رہی تھی۔ باہر کوئی نہیں تھا۔ مالک کا بیٹا شادی میں گیا ہوا تھا۔ چوکیدار مسجد میں پڑھنے گیا تھا۔ کمرے میں صرف دو جسم اور کاغذ کی بو رہ گئی تھی۔
حامد نے مہنک کو پیچے کی طرف گھمایا۔ مہنک کے گال سے لعاب ٹپک رہے تھے۔ حامد نے وہ لعاب چاٹ لیا۔ مہنک کے شرم اور مزہ گڈ گئے۔ حامد نے اس کے کندھے کاٹے۔ مہنک نے آواز دبائی مگر آواز نکل ہی گئی۔
مہنک کی پہلی بار کی چیخ تھی۔ وہ چیخ کسی کتاب کے حاشیے پر نہیں لکھی جا سکتی۔ حامد نے اس کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ مہنک کے ناخن بھر گئے۔ حامد نے اس کے اندر رہ کر حرکت کی۔ ہر حرکت پر مہنک کی سانس ٹوٹتی اور جڑتی۔
حامد نے مہنک کے بالوں کو مٹھی میں لیا اور پیچے کھینچا۔ مہنک کی گردن کھل گئی۔ حامد نے گردن پر دانت گاڑے۔ مہنک نے کہا اور کرو۔ حامد نے اور زور سے ڈھکا دیا۔ پلٹ کی لکڑی چرچرائی۔ اوپر الماری میں بند جلدیں ہل گئیں۔
حامد نے مہنک کو دوبارہ پلٹ پر لٹایا۔ اس بار مہنک خود اوپر بیٹھی۔ حامد کے ہاتھ اس کی پیٹ پر پھر گئے۔ مہنک کے بل کے بٹن کام کر رہے تھے۔ وہ اپنے جسم کو حامد کے اوپر لے کر بیٹھی۔ پہلی بار کی سست روی اب تیزی میں بدل رہی تھی۔
ورکشاپ میں سرف کی آواز آ گئی تھی۔ گلی سو گئی تھی۔ مہنک کے جسم پر پسینے کے نشانات چمک گئے تھے۔ حامد نے ان نشانات کو زبان سے صاف کیا۔ مہنک نے سر پیچے پھینکا۔
حامد نے مہنک کے کان میں کہا کہ کل ہو گئی ہے پر یہ کام پورا ہوگا۔ مہنک نے کہا تھا کہ کل نہیں کہنا۔ آج کے بعد جو بھی ہو گیا۔ وہ جو کل ہو گئی ہے وہ پہلی بار ہی تھی۔ حامد نے مہنک کو گود کی طرف گھمایا۔ مہنک کے گود حامد کے ہاتھ میں آ گئے۔ حامد نے اس کے گود کو چوسا اور کہا۔ مہنک کی پیٹ میں اب بھی زور سے ہل گئی۔
مہنک نے حامد کے سینے پر ناخن چلائے۔ حامد کے سینے پر سرخ لکیروں سی پڑ گئیں۔ مہنک نے وہ لکیریں دیکھیں اور شرم سے ہنس دی۔ حامد نے کہا یہ بھی فہرست میں نہیں چڑھے گی۔ مہنک نے منہ اس کے منہ پر رکھ دیا۔ دونوں کی زبان ملی۔ گوند کی مٹھاس اور پسینے کی نمک ایک ساتھ چلی۔
حامد نے مہنک کو نیچے کیا اور اس کی ٹانگیں کندھوں پر رکھ دیں۔ اس زاویے میں مہنک کی سانس بالکل ٹوٹ گئی۔ حامد اندر تک گیا۔ مہنک نے کہا وہاں رک جاؤ۔ حامد رک گیا پھر آہستہ ہلا۔ مہنک کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا مگر وہ پانی رونے کا نہیں تھا۔
صبح قریب تھی۔ اذان کی آواز آنے والی تھی۔ مہنک نے اپنے کپڑے پہنے۔ حامد نے اس کے گال پر ہاتھ پھیرا۔ مہنک کے گال میں اب بھی شرم نہیں تھی۔ حامد نے کہا کہ یہ حاشیہ فہرست پر نہیں چڑھے گا۔ مہنک نے کہا کہ نہیں چڑھانا۔ یہ سلائی ہی ہماری سلائی ہے۔ یہ کوئی کتاب کی جلد نہیں ہے۔
وہ دونوں باہر نکلے۔ مہنک نے دروازہ کھولا۔ گلی میں اب بھی اندھیرے تھے۔ حامد نے فہرست بند کر دی۔ آخری صفحہ خالی چھوڑ گئی تھی۔ اس خالی صفحے پر مہنک کی انگلی کا نشان سوکھ رہا تھا۔
حامد نے مہنک کو دیوار کے ساتھ ایک آخری بار چھوا۔ مہنک نے اس کا ہاتھ اپنی کمر پر رکھا۔ حامد نے کان میں کہا کہ اگلی جلد پر بھی میں آؤں گا۔ مہنک نے کہا آنا۔ مگر فہرست الگ رکھنا۔ حامد نے سر ہلایا۔ بارش اب رک چکی تھی۔ نالے کا پانی اب بھی بہہ رہا تھا۔
رام پور کی پورانی گلیوں میں اب بھی صبح کے قریب آنے والے تھے۔ کتاب بندی ورکشاپ کی لکڑی چھت پر سرخ روشنی پھر چڑ گئی تھی۔ اندر گندھک کی بو کے ساتھ جلدوں کی ڈھیریاں ویسے ہی پڑی ہوئی تھیں۔ لیکن ان ڈھیروں میں اب ککھ وہ حاشیہ چھپا ہوا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا۔
مہنک گلی میں نکلی۔ اس کے پیر میں اب بھی حامد کے ہاتھوں کی گرمی تھی۔ حامد فہرست لے کر باہر نکلا۔ دونوں جانتے تھے کہ یہ رات کسی کتاب کی جلد میں نہیں بندھی جائے گی۔ یہ رات صرف انگلی اور گندھک کی بو کی خوشبو میں رہ گئی تھی۔
اگلے ہفتے مالک نے نئی آرڈر کی جلدیں منگوائیں۔ مہنک نے پھر سوئی پکڑی۔ حامد نے پھر فہرست چیک کی۔ دونوں کے درمیان کوئی لفظ نہیں ہوا۔ صرف ایک نظر ہوئی جو کاغذ کے کنارے سے گزر کر اندر تک گئی۔ مہنک کی انگلی پھر کٹی۔ حامد نے وہ کٹی انگلی اپنے رومال سے دبائی۔ رومال پر خون کا نقطہ پڑ گیا۔ مہنک نے کہا یہ بھی حاشیہ ہے۔ حامد نے رومال جیب میں رکھ لیا۔
رات کو پھر بارش آئی۔ ورکشاپ میں پھر صرف وہ دونوں رہے۔ حامد نے اس بار مہنک کو الماری کے پیچے لے جایا۔ الماری میں پرانی جلدیں تھیں جن پر سنہری حرف ٹوٹ چکے تھے۔ حامد نے مہنک کی ساڑی کا پلا اتارا۔ مہنک نے خود بٹن کھولے۔ اس بار درد کم تھا اور بھوک زیادہ تھی۔ حامد نے اس کو کھڑے کھڑے لیا۔ مہنک کی پیٹھ الماری سے ٹکرا رہی تھی۔ جلدیں گر پڑیں۔ کوئی نہیں اٹھا۔
مہنک نے حامد کے کان میں کہا کہ گھر والوں کو کچھ نہیں بتانا۔ حامد نے کہا فہرست میں نام نہیں آتے۔ مہنک ہنسی۔ وہ ہنسی ورکشاپ کی خاموشی میں عجیب لگ رہی تھی۔ حامد نے اس ہنسی کو منہ سے روکا۔ دونوں پھر زمین پر آ گئے۔ گوند اب بھی فرش پر چپکا ہوا تھا۔ مہنک کی کمر اس گوند پر لیٹ گئی۔ حامد نے اوپر سے ڈھکے دیے۔ ہر ڈھکے پر الماری کا دروازہ ہلتا۔
تیسری رات مہنک خود حامد کے پیچے دروازہ بند کرنے آئی۔ حامد حیران ہوا۔ مہنک نے کہا آج میں فہرست چیک کروں گی۔ حامد نے اسے میز پر لٹا دیا۔ میز پر سیاہی کی دوات تھی۔ سیاہی مہنک کی کمر پر گر گئی۔ حامد نے وہ سیاہی زبان سے صاف کی۔ مہنک کے جسم پر نیلی لکیروں سی بن گئیں۔ حامد نے کہا یہ دستخط ہیں۔ مہنک نے کہا دستخط فہرست پر نہیں ہوتے۔ حامد نے اور گہرا کیا۔
مہنک کی آواز اب دبی ہوئی نہیں رہی تھی۔ وہ کھل کر بول رہی تھی۔ حامد نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا پھر ہٹا لیا۔ باہر اذان ہو رہی تھی۔ اندر دونوں ختم ہونے کے قریب تھے۔ مہنک نے حامد کو اپنی ٹانگوں میں کس لیا۔ حامد نے سب کچھ اس کے اندر چھوڑ دیا۔ مہنک کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ اس کے ہونٹ پر ایک چھوٹی سی مسکراہٹ رہ گئی۔
صبح جب مالک آیا تو ورکشاپ صاف تھی۔ کاغذ سیدھے تھے۔ فہرست بند تھی۔ مہنک سوئی چلا رہی تھی۔ حامد کونے میں کھڑا فائل دیکھ رہا تھا۔ مالک نے کہا کام اچھا ہو رہا ہے۔ دونوں نے سر ہلایا۔ مالک کے جانے کے بعد حامد نے مہنک کی طرف دیکھا۔ مہنک نے سوئی نیچے رکھی اور ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔ اس لمحے میں پوری رات واپس آ گئی۔
گلی میں پھل والی کی آواز آئی۔ ورکشاپ کی کھڑکی سے دھوپ اندر آئی۔ دھوپ میں گوند کی کٹوری چمک رہی تھی۔ مہنک نے کٹوری اٹھائی اور حامد کی طرف بڑھا دی۔ حامد کے ہاتھ اور مہنک کے ہاتھ کٹوری پر ملے۔ وہ چھوٹا سا لمس بھی فہرست میں نہیں لکھا گیا۔
رات پھر آئے گی۔ جلد پھر بند ہوگی۔ سلائی پھر سیدھی ہوگی۔ مگر حاشیہ ہمیشہ خالی رہے گا اس خالی حاشیے میں دو جسم رہیں گے جن کا کوئی رجسٹر نہیں جانتا۔ رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں وہ حاشیہ اب بھی خشک نہیں ہوا۔
مہنک نے گھر جا کر ماں کو دوائیں دیں۔ باپ مدرسے سے آیا تو چپ رہا۔ مہنک نے کھانا گرم کیا۔ رات کو چارپائی پر لیٹی تو جسم میں حامد کی یاد دوڑی۔ اس نے ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھا۔ اندھیرے میں مسکرائی۔ کل ورکشاپ میں پھر آخری جلد آئے گی۔ پھر فہرست چیک ہوگی۔ پھر دروازہ بند ہوگا۔
حامد نے اپنے کمرے میں فہرست کھولی۔ آخری صفحہ اب بھی خالی تھا۔ اس نے پنسل اٹھائی پھر رکھ دی۔ کچھ چیزیں لکھی نہیں جاتیں۔ کچھ سلائیاں کپڑے پر نہیں کاغذ کے نیچے چلتی ہیں۔ حامد نے روشنی بجھا دی۔ باہر رام پور کی گلی سو رہی تھی۔ کتاب بندی والی چھت پر سرخ بلب اب بند تھا۔ مگر اندھیرے میں بھی وہ خوشبو رہ گئی تھی جو گوند اور پسینے اور پہلی بار کی سانس سے بنتی ہے۔
یہ کہانی کسی رجسٹر کی سطر نہیں۔ یہ اس حاشیے کی کہانی ہے جو مہنک کی انگلی اور حامد کے ہاتھ نے مل کر لکھا۔ جلد بند ہو گئی۔ فہرست بند ہو گئی۔ مگر وہ رات اب بھی ورکشاپ کی لکڑی چھت کے نیچے سانس لے رہی ہے۔
جب اگلی بارش آئے گی تو کاغذ پھر نرم ہوں گے۔ گوند پھر پگھلے گا۔ سوئی پھر ہاتھ کاٹے گی۔ اور دو جسم پھر اس جگہ ملیں گے جہاں کوئی نام نہیں لکھا جاتا۔ رام پور جانتا ہے کتابوں کو۔ رام پور نہیں جانتا اس حاشیے کو۔ مہنک اور حامد نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ حاشیہ ہمیشہ خالی رہے گا۔ خالی اس لیے نہیں کہ کچھ نہیں ہوا۔ خالی اس لیے کہ جو ہوا وہ کسی صفحے کی برداشت سے باہر تھا۔
ورکشاپ کے باہر اب صبح چمک رہی ہے۔ اندر اب بھی گندھک کی بو ہے۔ مہنک سوئی پکڑتی ہے۔ حامد فہرست کھولتا ہے۔ دونوں کے درمیان کاغذ کی ایک پتلی سی دیوار ہے۔ وہ دیوار جب چاہیں ہٹا سکتے ہیں۔ آج نہیں تو کل۔ کل نہیں تو اگلی بارش میں۔ آخری جلد ہمیشہ ایک اور آخری جلد بن جاتی ہے۔
مہنک نے آج نئی دھاگہ کاٹی۔ دھاگہ سرخ تھا۔ حامد نے وہ سرخ دھاگہ دیکھا اور کچھ نہیں کہا۔ مہنک نے دھاگہ جلد میں پیوست کیا۔ سوئی اندر گئی باہر آئی۔ حامد کی نظر سوئی پر تھی۔ مہنک کی نظر حامد پر۔ ورکشاپ میں وقت رک سا گیا۔ پھر مالک کی آواز آئی اور وقت پھر چل پڑا۔ مگر دونوں جانتے تھے کہ وقت کا رکنا بھی فہرست میں نہیں چڑھتا۔
شام کو حامد نے چائے کی دو پیالیاں منگائیں۔ ایک مہنک کے پاس رکھی۔ مہنک نے پیالی ہاتھ میں لی تو انگلی حامد کی انگلی سے لگ گئی۔ چائے گرمی سے بھاپ دے رہی تھی۔ بھاپ دونوں کے چہروں پر پڑی۔ مہنک نے چائے پی اور آنکھ نیچی کی۔ حامد نے چائے پی اور دروازے کی طرف دیکھا۔ دروازہ ابھی کھلا تھا۔ شام ڈھل رہی تھی۔ جلد بند ہونے والی تھی۔ فہرست قریب تھی۔ حاشیہ انتظار کر رہا تھا۔
رات ہوئی۔ مالک گیا۔ لڑکیاں گئیں۔ چوکیدار گیا۔ بارش نہیں تھی مگر ہوا چل رہی تھی۔ ہوا کھڑکی کی پلاسٹک شیٹ کو پٹکا رہی تھی۔ مہنک نے حامد کی طرف دیکھا۔ حامد نے دروازہ بند کیا۔ کنڈی چڑھی۔ سرخ روشنی دونوں پر پڑی۔ مہنک نے سوئی میز پر رکھی۔ حامد نے فہرست الماری میں ڈالی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف قدم بڑھائے۔ کاغذ کے ڈھیر کے پیچے دنیا ختم ہو گئی۔
حامد نے مہنک کا منہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ مہنک کی آنکھوں میں وہی پہلی رات کی نمی تھی۔ حامد نے کہا آج حاشیہ لمبا ہوگا۔ مہنک نے کہا جتنا کاغذ ہے اتنا لکھ لینا۔ دونوں ہنسے۔ پھر خاموش ہو گئے۔ پھر جسم بولنے لگے۔ ورکشاپ کی لکڑی چھت نے سب سن لیا اور کچھ نہیں کہا۔ گندھک کی بو نے سب ڈھانپ لیا۔ سوئی میز پر پڑی رہی۔ فہرست بند رہی۔ حاشیہ بھر گیا اس چیز سے جو کبھی رجسٹر پر نہیں چڑھتی۔
صبح قریب آئی تو مہنک نے کپڑے درست کیے۔ حامد نے بال درست کیے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگر جسم جانتے تھے۔ انگلیاں جانتی تھیں۔ کاغذ کے نیچے دبا ہوا گوند جانتا تھا۔ رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ جانتی تھی۔ اور وہ جاننا ہی اس کہانی کا آخری جملہ تھا۔ کوئی فہرست اس جملے کو اپنے خانے میں نہیں بٹھا سکتی۔
Readers who enjoyed “رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا” also read
8 curated storiesنوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کے گودام میں موسم کے آخری ڈھیر کے بعد کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو کسی بیچ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی
نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی۔ آخری ڈھیر۔ کنواری منالہ اور نائٹ گارڈ ارشد۔ وہ خوشبو جو بیچ کے رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2
اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟
اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات
اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1
نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔
اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)
اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔
اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات
اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔
اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)
اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔