Rough & Dirtyاردو (Urdu)⭐ Original Edition

امبالہ چھاؤنی کی پرانی سگنل کیبن نمبر سترہ میں دھند والی رات شادی شدہ سگنل مان فوزیہ نے ساہارنپور کے مال گاڑی گارڈ کو وہ لائن بلاک دیا جو کسی ریگسٹر یا شوہر کی چائے میں کبھی نہیں لکھا جاتا

B
12 min read1 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

امبالہ چھاؤنی کے باہر پرانی سگنل کیبن نمبر سترہ کئی برس سے بند پڑی تھی۔ ریلوے نے نیا کیبن بنوا لیا تھا مگر پرانا کیبن اب بھی پٹری کے موڑ پر کھڑا تھا، اس کی کھڑکیوں پر زنگ، اندر تیل کی بو، اور دیوار پر وہی گھڑی جس کی سوئیاں رات نو بجے پر جم گئی تھیں۔

فوزیہ بتائیس برس کی تھی۔ شادی کو تین سال ہو چکے تھے۔ شوہر امتیاز گودام میں نائٹ شفٹ کرتا تھا۔ گھر میں بات کم، بستر پر جلدی، اور صبح کو چائے کے ساتھ خاموشی۔ فوزیہ سگنل کیبن میں رات کی ڈیوٹی کرتی تھی کیونکہ نئی کیبن میں عورتوں کو نہیں رکھتے تھے۔ پرانی کیبن پر صرف دو بٹن اور ایک رجسٹر تھا۔ رات بھر گاڑیاں گزرتیں، وہ سبز دکھاتی، ریڈ دکھاتی، اور کبھی کبھار باہر نکل کر پٹری کے کنارے سگریٹ پی لیتی۔

اس رات دھند اتنی گہری تھی کہ پٹری دس گز کے بعد غائب ہو جاتی۔ مال گاڑی نمبر چار سو گیارہ ساہارنپور سے آ کر موڑ پر رک گئی تھی۔ گارڈ کیبن سے ایک آدمی اترا۔ لمبا، کندھے چوڑے، ہاتھ تیل سے چمکتے ہوئے۔ اس کا نام رفیع تھا۔ اس نے کیبن کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

فوزیہ نے دروازہ کھولا۔ دھند اندر گھس آئی۔ رفیع نے کہا، لائن بلاک ہے میڈم۔ تین گھنٹے انتظار ہے۔ پانی ملے گا؟

فوزیہ نے لوٹے سے پانی دیا۔ رفیع نے گلاس ایک سانس میں ختم کیا۔ اس کی نظر فوزیہ کے گلے کے بٹن پر ٹھہری جو کھلا ہوا تھا۔ فوزیہ نے محسوس کیا اور بٹن بند نہیں کیا۔

کیبن تنگ تھا۔ ایک کرسی، ایک میز، ایک پرانا پنکھا جو نہیں چلتا تھا۔ دیوار پر تیل کا دھبہ۔ فوزیہ نے ریگسٹر کھولا مگر قلم نہیں چلایا۔ رفیع نے جیکٹ اتاری۔ اس کے بازو پر پٹری کا داغ تھا۔ اس نے پوچھا، شوہر کہاں ہے؟

فوزیہ نے کہا، گودام میں۔ رات بھر نہیں آتا۔

رفیع ہنسا۔ اس کی ہنسی میں گالی نہیں تھی مگر نیت صاف تھی۔ اس نے کہا، تین گھنٹے لمبے ہوتے ہیں۔ تم اکیلے بیٹھی رہتی ہو اس زنگ آلود ڈبے میں؟

فوزیہ نے جواب دیا، اکیلے رہنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ گھر میں بھی اکیلے رہتی ہوں۔ بستر پر بھی۔

رفیع قریب آیا۔ اس نے فوزیہ کا ہاتھ پکڑا۔ ہاتھ گرم تھا۔ فوزیہ نے ہاتھ نہیں چھڑایا۔ رفیع نے کہا، میں گندی بات کرتا ہوں۔ اگر پسند نہ ہو تو کہہ دینا۔

فوزیہ نے سر ہلایا۔ پسند ہے یا نہیں، یہ اس نے نہیں کہا۔ اس نے صرف یہ کہا کہ دروازہ بند کر دو۔

رفیع نے دروازہ بند کیا۔ کیل اندر کی طرف گھمائی۔ کیبن میں صرف لال بلب کی روشنی رہ گئی جو سگنل بورڈ سے جڑی تھی۔ فوزیہ کی ساڑی کا پلو میز پر پڑا تھا۔ رفیع نے پلو کھینچا۔ فوزیہ دیوار سے لگی۔ رفیع نے اس کا منہ پکڑا اور چوما۔ چومنا نرم نہیں تھا۔ دانت ہونٹ پر لگے۔ فوزیہ نے زبان دی۔ رفیع نے زبان چوسی جیسے کوئی آدمی پانی پی رہا ہو جو تین گھنٹے سے نہیں ملا۔

فوزیہ کے سینے پر ہاتھ گیا۔ بلاؤز کے بٹن کھلے۔ برا نہیں تھا۔ کپڑا پرانا تھا۔ رفیع نے برا اتارا اور دونوں تھن ہاتھ میں لیے۔ اس نے نپل دبایا۔ فوزیہ نے سانس روکی۔ رفیع نے منہ لگایا اور چوسا۔ زور سے۔ دانت سے کاٹا۔ فوزیہ کے منہ سے آواز نکلی جو رجسٹر میں نہیں لکھی جا سکتی تھی۔

رفیع نے کہا، چوتڑی، تین شفٹ کے بعد بھی یہ دودھ گرم ہے۔ فوزیہ نے گالی سنی اور شرم نہیں آئی۔ گھر میں امتیاز کبھی گالی نہیں دیتا تھا۔ کبھی زور سے نہیں چوستا تھا۔ کبھی بال نہیں کھینچتا تھا۔

رفیع نے فوزیہ کو میز پر لٹایا۔ رجسٹر گر گیا۔ قلم لڑھک گیا۔ ساڑی کمر تک چڑھی۔ پٹی کوٹ نیچے کھینچی گئی۔ فوزیہ کے بالوں میں تیل کی مہک تھی اور رانوں میں پسینے۔ رفیع نے دو انگلیاں اندر ڈالیں۔ گیلی تھی۔ اس نے انگلیاں نکال کر فوزیہ کے منہ پر پھیریں۔ کھا۔ فوزیہ نے چاٹا۔ رفیع نے کہا، اپنی گندگی چاٹ۔ یہ کیبن تمہاری ماں کا گھر نہیں۔

فوزیہ نے چاٹا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ رفیع نے پٹی کھولی۔ لنڈ نکلا۔ موٹا، رگدار، سرے پر چمک۔ فوزیہ نے ہاتھ لگایا۔ رفیع نے سر دبایا۔ منہ میں لے۔ گلا کھول۔

فوزیہ گھٹنوں پر بیٹھی۔ کیبن کے فرش پر تیل تھا۔ اس نے لنڈ منہ میں لیا۔ رفیع نے بال پکڑے اور اندر دھکیلا۔ فوزیہ نے اگلنا چاہا مگر رفیع نے گلا پکڑ لیا۔ لحام منہ کے کونوں سے بہا۔ رفیع نے کہا، نگل۔ گاڑی کھڑی ہے تو تم بھی کھڑی رہو گی اس پر۔

فوزیہ نے نگلا۔ آنسو نکلے۔ رفیع نے نکالا اور پھر اندر کیا۔ تین بار۔ چوتھی بار اس نے نکال کر فوزیہ کے چہرے پر مارا۔ تھپڑ نہیں، لنڈ کا تھپڑ۔ فوزیہ کے گال سرخ ہوئے۔

پھر رفیع نے اسے پلٹا۔ میز کے کنارے پیٹ۔ ساڑی کمر پر بندھی رہی۔ رفیع نے ران پھیلائی اور ایک ہی دھکے میں اندر گھسا۔ فوزیہ چیخی۔ درد تھا۔ لمبا عرصہ بعد اتنا موٹا اندر گیا تھا۔ رفیع نہیں رکا۔ اس نے کمر پکڑی اور پیچھے سے مارا۔ میز ہلی۔ لال بلب کانپا۔ باہر دھند میں مال گاڑی کی سیٹی بجی مگر کوئی نہیں آیا۔

رفیع نے گالیاں دیں۔ رنڈی کی بیٹی۔ سگنل والی۔ شوہر کو بتا۔ بتا کہ ساہارنپور کا گارڈ تیری چوت میں بیٹھا ہے۔ فوزیہ نے دانت پیسے۔ اس نے کہا، اور زور سے مار۔ گھر میں کوئی نہیں مارتا۔

رفیع نے بال پکڑے اور سر پیچھے کھینچا۔ دھکے گہرے ہوئے۔ فوزیہ کی چوت چٹخنے لگی۔ گیلا گوشت۔ رفیع نے تھپڑ مارا کولہے پر۔ پھر دوسرا۔ فوزیہ کی آواز دھند میں گھل گئی۔

اس نے نکالا اور فوزیہ کو گھمایا۔ اب سامنے سے۔ ٹانگیں کندھوں پر۔ فوزیہ کی پیٹھ رجسٹر کی جگہ دیوار سے ٹکرائی۔ رفیع نے دونوں تھن دبائے اور اندر تک مارا۔ فوزیہ کے ناخن رفیع کی پیٹھ پر لگے۔ رفیع نے کہا، کھول۔ پوری کھول۔ میں بھرنے والا ہوں۔

فوزیہ نے کہا، اندر نہیں۔ باہر۔ رفیع ہنسا۔ جھوٹ بولتی ہے۔ اندر چاہتی ہے۔ اس نے نہیں نکالا۔ اس نے اور گہرا کیا اور پانی چھوڑا۔ گرم۔ بہت۔ فوزیہ کے اندر بھر گیا اور کناروں سے بہہ کر میز کی ٹانگوں پر گرا۔

رفیع کھڑا رہا۔ اندر۔ سانس بھاری۔ فوزیہ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ رفیع نے کہا، اب صاف کر۔ زبان سے۔ فوزیہ نیچے بیٹھی اور چاٹا۔ نمکین۔ گرم۔ رفیع کا لنڈ پھر سخت ہوا۔ فوزیہ نے منہ میں لیا۔ دوسری بار زیادہ گہرا۔ رفیع نے کمر دبا کر منہ بھر دیا۔ فوزیہ نے نگلا۔ کچھ بہہ گیا ٹھوڑی پر۔

باہر سیٹی پھر بجی۔ ابھی وقت تھا۔ رفیع نے فوزیہ کو کھڑکی کے پاس کھڑا کیا۔ کھڑکی کے باہر دھند اور پٹری۔ رفیع پیچھے سے گھسا۔ ایک ہاتھ گردن پر، ایک ہاتھ چوت پر۔ فوزیہ نے شیشہ پکڑا۔ دھند میں اس کا چہرہ دھندلا تھا۔ رفیع نے کان میں کہا، اگر کوئی گارڈ دیکھ لے تو کیا کرے گی؟ فوزیہ نے کہا، دیکھنے دے۔ دیکھ کہ میں کیسی کتیا ہوں اس کیبن میں۔

دھکے تیز ہوئے۔ کھڑکی کی کنڈی کھڑکھڑائی۔ فوزیہ کے سینے شیشے سے دبے۔ رفیع نے کولہا پکڑ کر اور اندر تک مارا۔ فوزیہ کا منہ کھلا رہا۔ آواز نہیں نکلی۔ صرف سانس۔ رفیع نے دوسری بار پانی چھوڑا۔ اس بار بھی اندر۔ فوزیہ کے رانوں پر سفید دھار۔

وہ فرش پر بیٹھ گئے۔ تیل کپڑوں پر لگا۔ فوزیہ نے بلاؤز نہیں پہنا۔ رفیع نے سگریٹ جلائی اور فوزیہ کے ہونٹوں پر دی۔ فوزیہ نے پھیونکا۔ رفیع نے پوچھا، کل بھی ڈیوٹی ہے؟ فوزیہ نے کہا، کل بھی یہی کیبن۔ یہی دھند۔ امتیاز کل بھی گودام میں ہوگا۔

رفیع نے کہا، میں واپسی پر رکوں گا۔ اگر لائن کلیئر ہوئی تو بھی رکوں گا۔ فوزیہ نے سر ہلایا۔ اس نے رفیع کا ہاتھ اپنی ران پر رکھا۔ رفیع کی انگلی پھر اندر گئی۔ آہستہ۔ گھومتی ہوئی۔ فوزیہ نے ٹانگ پھیلائی۔ رفیع نے تیسری بار نہیں مارا۔ صرف انگلیوں سے کھیلا یہاں تک کہ فوزیہ کا جسم جھٹکا اور اس نے رفیع کا کندھا کاٹا۔

پھر کپڑے پہنے گئے۔ ساڑی سیدھی کی گئی۔ رجسٹر اٹھایا گیا۔ فوزیہ نے سبز بٹن دبایا۔ لائن کلیئر۔ رفیع باہر نکلا۔ دھند نے اسے نگل لیا۔ مال گاڑی چلی۔ سیٹی دور ہوتی گئی۔

فوزیہ اکیلی رہی۔ کیبن میں تیل کی بو کے ساتھ اب جسم کی بو بھی تھی۔ اس نے کپڑا گیلا کیا اور میز صاف کی۔ فرش پر جو سفید دھبے تھے وہ تیل میں مل گئے۔ اس نے رجسٹر میں لکھا، گاڑی چار سو گیارہ، دھند، تاخیر تین گھنٹے، لائن کلیئر۔ اس نے یہ نہیں لکھا کہ تین گھنٹے میں کیا ہوا۔

صبح امتیاز گھر آیا۔ چائے پی۔ پوچھا، رات کیسی رہی؟ فوزیہ نے کہا، دھند تھی۔ گاڑی رکی۔ پھر چلی۔ امتیاز سو گیا۔ فوزیہ نے غسل کیا۔ پانی گرم تھا۔ اس نے رانوں کے درمیان صاف کیا اور مسکرائی۔ گالیوں کی یاد کانوں میں تھی۔ دھکوں کی یاد کمر میں۔

اگلی رات دھند پھر آئی۔ فوزیہ نے کیبن کا دروازہ پہلے سے کھلا چھوڑا۔ رفیع آیا۔ اس بار اس نے جیکٹ اندر اتاری۔ اس بار فوزیہ نے خود بلاؤز کھولا۔ اس بار میز پر نہیں، پرانی کرسی پر۔ رفیع بیٹھا۔ فوزیہ اس پر بیٹھی۔ اندر اترا۔ فوزیہ نے کمر ہلائی۔ رفیع نے تھن کاٹے۔ فوزیہ نے گالی دی۔ پہلی بار اس نے خود گالی دی۔ سالے، اور اندر۔ پوری چوت پھاڑ۔

رفیع نے پھاڑی۔ کرسی ہلی۔ دیوار کا زنگ ہاتھ پر لگا۔ فوزیہ کے بال بکھرے۔ رفیع نے اسے اٹھا کر دیوار سے لگایا اور کھڑے کھڑے مارا یہاں تک کہ فوزیہ کے پاؤں زمین سے اٹھ گئے۔ پانی دونوں کے پیٹ پر بہا۔ فوزیہ نے رفیع کا منہ چوما اور کہا، اب ہر دھند والی رات یہی کیبن۔ یہی گارڈ۔ یہی گندی بات۔

رفیع نے کہا، اور جب دھند نہ ہو؟ فوزیہ نے کہا، پھر بھی بلاک دکھا دوں گی کچھ دیر کے لیے۔ سبز بٹن میرے ہاتھ میں ہے۔

باہر پٹری چمک رہی تھی دھند میں جیسے کوئی سانپ لیٹا ہو۔ کیبن نمبر سترہ پر لال بلب جلی رہی۔ رجسٹر بند تھا۔ قلم گرا ہوا۔ اور اندر دو جسم ایسے ملے ہوئے تھے جیسے لائن کبھی کلیئر نہ ہونے والی ہو۔

رات کے آخری پہر رفیع گیا۔ فوزیہ نے بال باندھے۔ ساڑی درست کی۔ اس نے آئینے میں دیکھا جو زنگ آلود تھا۔ ہونٹ سوئے ہوئے نہیں لگ رہے تھے۔ گلے پر نشان تھا۔ اس نے دوپٹہ اوپر کیا۔ گھر جانا تھا۔ امتیاز پوچھے گا تو دھند بتائے گی۔ دھند سچ تھی۔ باقی سب اس کیبن کی دیواروں کے اندر رہ گیا جہاں کوئی انسپکٹر کبھی نہیں آتا تھا۔

تیسری رات بارش ہوئی۔ دھند نہیں، پانی۔ رفیع پھر آیا۔ گیلا جسم۔ فوزیہ نے تولیہ دیا مگر رفیع نے تولیہ نہیں لیا۔ اس نے گیلی قمیص اتاری اور فوزیہ کو فرش پر لٹایا۔ اس رات اس نے پیچھے سے زیادہ دیر تک مارا۔ فوزیہ کے منہ میں اپنی دو انگلیاں دیں۔ فوزیہ نے چوسے۔ رفیع نے کہا، کل میری گاڑی صبح تک کھڑی رہے گی۔ ساری رات دے گی؟ فوزیہ نے سر ہلایا انگلیوں کے ساتھ۔

ساری رات دی۔ کبھی میز پر۔ کبھی کھڑکی پر۔ کبھی اس پرانی گھڑی کے نیچے جس کی سوئیاں نو پر جم گئی تھیں۔ جب صبح کی پہلی روشنی کیبن میں پڑی تو فوزیہ کے جسم پر نیل تھے اور رفیع کے کندھے پر دانت کے نشان۔ دونوں ہنسے۔ گندی ہنسی۔ اس ہنسی میں شادی کا نام نہیں تھا، گودام کا نام نہیں تھا، صرف پٹری کی سیٹی تھی جو دور سے آتی اور دونوں کو یاد دلاتی کہ لائن ابھی کلیئر نہیں۔

فوزیہ نے اس صبح رجسٹر میں صرف ایک جملہ بڑھایا۔ موسم خراب۔ گاڑی تاخیر۔ تفصیل نہیں۔ تفصیل اس کی رانوں میں لکھی ہوئی تھی جو کپڑے کے نیچے چھپی رہتی ہے اور جو شوہر کی چائے کے ساتھ کبھی نہیں کھلتی۔

کیبن نمبر سترہ اب بھی کھڑی ہے۔ زنگ زیادہ ہو گیا ہے۔ گھڑی اب بھی نو بجے پر ہے۔ اور جب دھند گرتی ہے تو سبز بٹن دیر سے دبتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں کیوں۔ پوچھنے والے رجسٹر پڑھتے ہیں۔ رجسٹر میں صرف گاڑیاں ہوتی ہیں۔ آدمی نہیں ہوتے۔ گالیاں نہیں ہوتیں۔ اور وہ گرم دھار نہیں ہوتی جو میز کی ٹانگوں سے نیچے تیل میں مل جاتی ہے۔

فوزیہ اب بھی رات کی ڈیوٹی کرتی ہے۔ امتیاز اب بھی گودام میں سوتا ہے۔ رفیع جب لائن پر آتا ہے تو کیبن کا دروازہ بند ہوتا ہے اور لال بلب جلتی رہتی ہے ضرورت سے زیادہ دیر تک۔ اس دیر میں جو ہوتا ہے وہ نہ کسی لاگ بک پر چڑھتا ہے نہ کسی گھر کی ڈائری میں۔ وہ صرف پرانی سگنل کیبن کی دیواروں میں رہتا ہے جہاں تیل کی بو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Rough & Dirty

اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس

اردو نرس سیکس کہانی: لکھنؤ کے اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر نرس شبانہ اور مریض عمران کے درمیان بھڑک اٹھنے والی آگ کی کہانی۔

Read Next Story

Readers who enjoyed “امبالہ چھاؤنی کی پرانی سگنل کیبن نمبر سترہ میں دھند والی رات شادی شدہ سگنل مان فوزیہ نے ساہارنپور کے مال گاڑی گارڈ کو وہ لائن بلاک دیا جو کسی ریگسٹر یا شوہر کی چائے میں کبھی نہیں لکھا جاتا” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ

دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔

⏱️ 13 min read•👁️ 5 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔

⏱️ 14 min read•👁️ 4 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی

اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔

⏱️ 9 min read•👁️ 4 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو ہاٹ سٹوری: شادی میں آیا مہمان

ایک اردو ہاٹ سٹوری جس میں لاہور کے فارم ہاؤس کی شادی میں عائشہ کی نظر شوہر کے پرانے فوجی دوست بلال سے ملتی ہے، اور رخصتی کی ہلچل میں دونوں ایک سنسان کمرے میں اتر جاتے ہیں۔

⏱️ 11 min read•👁️ 3 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو گرم بیوی کی کہانی: راتوں والی بیوی

اردو گرم بیوی کی کہانی: لکھنؤ کی شبانہ، جس کا شوہر کام میں مصروف ہے، شادی میں دس سال پرانے عاشق دانیال سے ملنے کے بعد جاگ اٹھی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 3 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو بیوہ سیکس کہانی: فرح اور حویلی کی دوپہر

لکھنؤ کی پرانی حویلی میں دو سال سے بیوہ رہنے والی فرح کی اس دوپہر نے اس کی زندگی بدل دی۔ ایک دلچسپ اردو بیوہ سیکس کہانی جو پہلی نظر سے شروع ہوئی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 3 views
BDSM & Dominationاردو (Urdu)

لاہور کی پرانی گلی میں اس نے دروازہ بند کیا، رسی کی کلائی میرے گلے میں پہنائی اور کہا کہ آج سے تم میرے حکم میں ہو

کلیگرافی کی کلاس تھی تھی؂ دور جانے والے گھر تھیں؂ اک شام کے بعد وہ دروازہ بند ہوا؂ اور جس نے قلم پکڑنا تھا اس نے باقی رات کا فیصلہ خود لکھایا۔

⏱️ 10 min read•👁️ 3 views