First Timeاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)

N
10 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

اردو دلہن کی سہاگ رات کا وہ لمحہ ابھی مہک کی آنکھوں میں تازہ تھا جب دروازے پر پھر دستک ہوئی، اس بار اور زور سے، اور ارمان کا چہرہ بالکل سفید پڑ گیا۔ مہک نے اس کا ہاتھ پکڑا اور دھیرے سے بولی کہ ڈرو مت، دروازہ کھولو، جو بھی ہے سامنے آ جائے گا۔ ارمان نے کانپتے ہاتھوں سے کنڈی کھولی تو سامنے ایک عورت کھڑی تھی، سادہ سوٹ میں، آنکھیں گیلی، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ۔

وہ عورت پہلے کچھ دیر خاموش کھڑی رہی، پھر اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ اس نے کہا کہ اس کا نام شازیہ ہے اور آج رات اس کے شوہر نے اسے گھر سے نکال دیا ہے، اس کے پاس جانے کو کوئی جگہ نہیں تھی اور اسے یاد آیا کہ ارمان اسی شہر میں رہتا ہے۔ مہک نے ارمان کی طرف دیکھا، ارمان نے نظریں جھکا لیں، اور مہک سمجھ گئی کہ یہی وہ عورت ہے جس کا ذکر ارمان نے کچھ دیر پہلے کیا تھا۔

مہک نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ وہ آگے بڑھی، دروازے پر کھڑی ہو کر بولی کہ میں مہک ہوں، ارمان کی بیوی، اور آج ہماری شادی کی پہلی رات ہے۔ شازیہ کا چہرہ شرمندگی سے لال ہو گیا، اس نے معافی مانگی اور واپس جانے کے لیے مڑی، مگر مہک نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ مہک نے کہا کہ رات کے اس پہر کوئی عورت اکیلی سڑک پر نہیں جائے گی، تم مہمان ہو، مہمان خانے میں آرام کرو۔

ارمان حیران کھڑا دیکھتا رہا جب مہک نے مہمان خانے کا دروازہ کھولا، صاف چادر بچھائی، ایک کمبل نکالا اور شازیہ کو پانی کا گلاس دیا۔ شازیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اس نے مہک کا ہاتھ پکڑ کر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسے ڈر تھا کہ دروازہ اس کے منہ پر بند ہو جائے گا۔ مہک نے مسکرا کر کہا کہ اس گھر کے دروازے کسی پر بند نہیں ہوتے، تم سو جاؤ، صبح بات کریں گے۔

مہمان خانے کا دروازہ بند کر کے مہک واپس اپنے کمرے میں آئی تو ارمان بستر کے کنارے بیٹھا تھا، سر جھکائے ہوئے۔ مہک نے دروازہ اندر سے بند کیا، اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور بولی کہ اب سچ بتاؤ، پورا سچ، آج کے بعد کوئی راز نہیں رہے گا۔ ارمان نے گہری سانس لی اور بتایا کہ برسوں پہلے اس کی منگنی شازیہ سے ہوئی تھی، گھر والوں نے رشتہ توڑ دیا تھا، اس کے بعد اس نے کبھی اس سے رابطہ نہیں کیا اور آج تک اس کا کوئی پیغام نہیں آیا تھا۔

مہک نے ارمان کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور کہا کہ ماضی دروازے پر کھڑا تھا اور اب مہمان خانے میں سو رہا ہے، مگر یہ کمرہ، یہ رات اور تم صرف میرے ہو۔ ارمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ مجھے ڈر تھا کہ تم مجھے غلط سمجھو گی۔ مہک نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی اور بولی کہ اب کوئی بات نہیں، اب صرف ہم ہیں۔ اس نے ارمان کا کرتا آہستہ سے اتارا، اس کے سینے پر اپنا سر رکھا اور اس کی دھڑکن سنی۔

ارمان نے مہک کے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور اس کی گردن پر بوسہ دیا۔ مہک نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے، اس کے کندھوں پر ہاتھ پھیرا اور اسے بستر پر لٹا دیا۔ وہ اس کے اوپر جھکی، اس کے ہونٹوں کو چوما، پھر اس کی گردن، اس کا سینہ، اور آہستہ آہستہ نیچے کی طرف بڑھی۔ ارمان کی سانسیں تیز ہو گئیں، اس نے مہک کی کمر کو پکڑا اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔

مہک نے ارمان کی دھوتی کھولی اور اس کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ وہ سخت اور گرم تھا۔ مہک نے اسے آہستہ سے سہلایا، پھر اپنے ہونٹوں سے اسے چوما اور اپنی زبان سے اس کی نوک پر گھمایا۔ ارمان نے ایک گہری آہ بھری، اس کے ہاتھ مہک کے بالوں میں الجھ گئے۔ مہک نے اسے منہ میں لیا، آہستہ آہستہ اندر باہر کیا، اور ارمان کے جسم کا ہر ردعمل محسوس کیا۔

جب ارمان نے کہا کہ بس اب اور نہیں، تو مہک مسکرائی اور اس کے اوپر آ کر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی ساڑھی کا پلو ہٹایا، اپنا بلاؤز کھولا اور اپنے ممے ارمان کے سینے پر رکھ دیے۔ ارمان نے اس کے مموں کو چوما، اس کی نپل کو زبان سے چھیڑا اور مہک کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔ مہک نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت پر رکھا اور آہستہ سے نیچے بیٹھ گئی، پورا لنڈ اندر لے کر ایک لمبی سانس لی۔

مہک نے آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونا شروع کیا۔ ارمان نے اس کی کمر پکڑی، اس کے کولہوں کو سہارا دیا اور ہر دھکے کے ساتھ اس کے اندر گہرائی تک گیا۔ مہک کی چوت گیلی ہو چکی تھی، ہر حرکت کے ساتھ ایک نرم آواز آتی تھی اور دونوں کی سانسیں ایک ہو گئی تھیں۔ مہک نے ارمان کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے کہا کہ آج کی رات کوئی تمہیں مجھ سے نہیں چھین سکتا۔

کچھ دیر بعد مہک تھک گئی تو ارمان نے اسے پلٹا دیا اور اس کے اوپر آ گیا۔ اس نے مہک کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور زور سے دھکے مارنے لگا۔ مہک نے چادر کو مٹھی میں پکڑ لیا، اس کی کمر اوپر اٹھنے لگی اور وہ بار بار ارمان کا نام لینے لگی۔ ارمان نے اس کی رفتار اور بڑھا دی، اس کے مموں کو چوما اور اس کی گردن پر دانتوں سے ہلکا سا کاٹا۔

مہک کی آواز تیز ہو گئی، اس کا جسم کانپنے لگا اور وہ جھڑ گئی، اس کی چوت نے ارمان کے لنڈ کو زور سے جکڑ لیا۔ ارمان نے دو چار زوردار دھکے اور مارے اور پھر وہ بھی جھڑ گیا، اس کا پانی مہک کے اندر اتر گیا۔ دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے، سانسیں دھیرے دھیرے نارمل ہوئیں اور کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

مہک نے پانی کا گلاس ارمان کو دیا اور خود بھی پیا۔ وہ دونوں بستر پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ ارمان نے کہا کہ آج کی رات اس کی زندگی کی سب سے عجیب رات تھی، پہلے خوشی، پھر ڈر، پھر تمہارا فیصلہ۔ مہک نے ہنس کر کہا کہ یہی تو سہاگ رات ہے، جس میں شوہر کی آزمائش بھی ہو اور بیوی کی سمجھداری بھی۔ ارمان نے اس کا ہاتھ چوما اور کہا کہ وہ خوش قسمت ہے۔

مہک نے ارمان سے کہا کہ صبح شازیہ سے بات کریں گے، اسے سمجھائیں گے کہ وہ اپنے گھر واپس جائے یا کسی محفوظ جگہ کا انتظام کرے، مگر آج کی رات وہ مہمان ہے اور مہمان کی عزت فرض ہے۔ ارمان نے سر ہلایا اور کہا کہ جو تم کہو گی وہی ہو گا۔ مہک نے اس کی بات پر مسکرا کر اس کے گال پر بوسہ دیا۔

تھوڑی دیر بعد مہک اٹھی اور دبے پاؤں مہمان خانے کے دروازے تک گئی۔ اندر سے شازیہ کی ہلکی خراٹوں کی آواز آ رہی تھی، وہ سو چکی تھی۔ مہک نے سکون کی سانس لی، دروازہ بند کیا اور واپس کمرے میں آ گئی۔ ارمان نے اسے بانہوں میں لے لیا اور کہا کہ تم نے آج میری عزت بچا لی۔ مہک نے کہا کہ عزت بچانا بیوی کا کام ہے، شوہر کا کام صرف سچ بولنا ہے۔

کمرے میں واپس آ کر مہک کچھ دیر کھڑکی کے پاس کھڑی رہی۔ باہر گلی میں ایک کتا بھونک رہا تھا اور دور سے کسی رکشے کی آواز آ رہی تھی۔ مہک نے سوچا کہ صبح وہ شازیہ کو ناشتہ کرائے گی، اس سے آرام سے بات کرے گی اور اس کے گھر والوں سے رابطہ کرنے میں مدد کرے گی۔ اس نے اپنے دل میں فیصلہ کر لیا کہ وہ اس معاملے کو نفرت سے نہیں بلکہ سمجھداری سے ختم کرے گی، کیونکہ اس کا گھر اب اس کی ذمہ داری ہے اور اس گھر کی عزت اس کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سوچ کر اس کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ آ گئی۔

واپس بستر پر آ کر مہک نے ارمان کو اپنے قریب کھینچا اور اس کے کان میں کہا کہ رات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ارمان نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا، اس کے مموں کو دوبارہ چوما اور مہک کی چوت کو انگلیوں سے سہلایا۔ مہک گیلی ہو گئی، اس نے ارمان کے لنڈ کو پکڑا، اسے پھر سخت کیا اور اپنے اوپر کھینچ لیا۔ اس بار دونوں نے آہستہ آہستہ، بنا جلدی کے، ایک دوسرے کا مزہ لیا۔

ارمان نے مہک کو پیچھے سے لیا، اس کے کولہوں کو پکڑ کر آہستہ آہستہ اندر باہر کیا، اور مہک نے تکیے میں منہ چھپا کر آوازیں دبائیں تاکہ مہمان خانے تک آواز نہ جائے۔ یہ چوری چھپے والا مزہ دونوں کو اور بھی زیادہ لگا۔ مہک نے کہا کہ دھیرے کرو، مگر ارمان نے اس کی بات سن کر اور تیز کر دیا اور مہک نے ہنس کر اس کے ہاتھ کو چوم لیا۔

دوسری بار بھی دونوں ساتھ جھڑے، اس بار زیادہ نرمی سے، زیادہ پیار سے۔ ارمان نے مہک کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا کہ اب اسے نیند آ رہی ہے۔ مہک نے اس کے سینے پر سر رکھا، اس کی انگلیوں سے کھیلنے لگی اور دونوں کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ کھڑکی سے چاند کی روشنی کمرے میں آ رہی تھی اور باہر گلی بالکل خاموش تھی۔

نیند سے پہلے مہک نے آخری بار ارمان سے کہا کہ کل صبح جو بھی ہو، تم میرے ہو اور میں تمہاری ہوں، یہ بات کوئی نہیں بدل سکتا۔ ارمان نے اسے زور سے سینے سے لگا لیا اور کہا کہ یہی سچ ہے اور یہی رہے گا۔ مہک نے اس کی دھڑکن سنتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں اور اس رات کا آخری لمحہ اسی طرح گزر گیا، اس کے سر ارمان کے سینے پر اور ارمان کا ہاتھ اس کے بالوں میں۔

🔒 Bonus Scene locked

صبح کی پہلی چائے سے پہلے مہک اور ارمان کے درمیان ایک ایسا لمحہ آیا جسے کوئی دیکھ نہیں پایا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

First Time

اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات

لاہور کی پرانی حویلی میں نادیہ کی شادی کی پہلی رات۔ سمیر گھبرایا ہوا ہے اور نادیہ کے پاس چھپی ہوئی کتابوں سے سیکھے راز ہیں۔ اردو دلہن کی پہلی رات کی ایک گرم کہانی۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)” also read

8 curated stories
First Timeاردو (Urdu)

نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کے گودام میں موسم کے آخری ڈھیر کے بعد کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو کسی بیچ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی

نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی۔ آخری ڈھیر۔ کنواری منالہ اور نائٹ گارڈ ارشد۔ وہ خوشبو جو بیچ کے رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2

اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات

اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1

نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔

⏱️ 17 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)

اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔

⏱️ 15 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات

اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views