اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1
فون کی وائبریشن نے کمرے کی خاموشی توڑ دی اور مہنور کی نظر خود بخود نائٹ اسٹینڈ پر پڑی، جہاں دانیال کا فون بار بار روشن ہو رہا تھا۔ یہ ان کی اردو سہاگ رات کہانی کی پہلی رات تھی اور وہ سرخ لہنگے میں پلنگ پر بیٹھی اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی۔ دانیال ابھی واش روم میں تھا اور باہر سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔ فون ایک بار پھر بجا اور اسکرین پر کسی نامعلوم نمبر کا نام چمکا۔
مہنور نے فون کی طرف دیکھا اور ہونٹوں کو دانتوں میں دبایا۔ شادی کے شور شرابے کے بعد یہ پہلی خاموشی تھی اور اس خاموشی میں وہ نامعلوم نمبر ایک ناخوشگوار مہمان کی طرح گھس آیا تھا۔ اس نے خود سے کہا کہ آج کی رات اس کی ہے اور کوئی پیغام اسے خراب نہیں کرے گا۔ پھر بھی اس کے دل میں ایک ہلکی سی چبھن پیدا ہوئی۔
دانیال واش روم سے نکلا، بال گیلے، سفید کرتا پہنے۔ اس نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر مہنور کی تیز نظر نے اسے روک دیا۔ تم نے میرا فون دیکھا، اس نے مسکرا کر پوچھا۔ مہنور نے جواب دیا، میں نے صرف اتنا دیکھا کہ کوئی تمہیں سونے نہیں دے رہا۔
دانیال نے ہنستے ہوئے کہا کہ شاید کوئی دوست مبارکباد دے رہا ہے۔ مہنور نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور بولی، دوست اتنی رات کو پانچ پیغام نہیں بھیجتے۔ دانیال نے فون اٹھا کر سائلنٹ پر کر دیا اور بولا، اب یہ خاموش ہے اور آج کی رات صرف تمہاری ہے۔ مہنور نے دل میں سوچا کہ پیغام کا حساب بعد میں ہوگا، پہلے یہ رات۔
مہنور پلنگ سے اٹھی اور آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھی۔ اس نے اپنے دوپٹے کا ایک سرا انگلی سے پکڑا اور زمین پر گرنے دیا۔ سرخ دوپٹا قالین پر پھیل گیا جیسے گلاب کی پتیوں کا فرش بچھ گیا ہو۔ اس نے دانیال کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، تمہارا فون تو خاموش ہو گیا، اب تم بھی خاموش ہو جاؤ اور صرف مجھے دیکھو۔
دانیال کی سانس تیز ہو گئی۔ اس نے مہنور کو کمر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ ان کے ہونٹ ملے اور پہلا بوسہ اتنا گہرا تھا کہ مہنور کے گھٹنے کانپنے لگے۔ اس کے ہاتھ دانیال کے گیلے بالوں میں گھس گئے اور اس نے اس کے نچلے ہونٹ کو ہلکے سے کاٹا۔ دانیال نے اس کی گردن پر بوسوں کی بارش شروع کر دی۔
مہنور نے اس کے کرتے کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے۔ ہر بٹن کے ساتھ اس کی انگلیاں اس کے سینے پر رینگتی گئیں۔ کرتا زمین پر گرا اور دانیال کا مضبوط سینہ اس کے سامنے تھا۔ اس نے اس کے سینے پر ہونٹ رکھے اور اس کی دھڑکن کو اپنے ہونٹوں سے محسوس کیا۔ دانیال نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈال کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔
اب میری باری، مہنور نے شرارت سے کہا اور دانیال کو پلنگ پر دھکا دے کر بٹھا دیا۔ اس نے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کی پتلون کا بٹن کھولا۔ دانیال کا لنڈ پہلے ہی تنا ہوا تھا اور مہنور نے اسے ہاتھ میں پکڑ کر آہستہ سے سہلایا۔ دانیال کے منہ سے ایک گہری آہ نکلی۔
مہنور نے اس کے لنڈ کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور آہستہ آہستہ چوسنے لگی۔ اس کی زبان اس کے سرے پر گھومتی رہی اور دانیال کی انگلیاں اس کے بالوں میں کس گئیں۔ مہنور نے رفتار بڑھائی اور دانیال کی رانوں کے پٹھے تن گئے۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ جھڑنے والا ہے تو رک گئی اور شرارت سے مسکرائی۔ ابھی نہیں، اس نے کہا، آج کی رات لمبی ہے۔
دانیال نے اسے اٹھا کر پلنگ پر لٹایا۔ اس نے اس کے لہنگے کی ڈوری کھولی اور بھاری کپڑا اس کے جسم سے سرک گیا۔ سرخ چولی کے نیچے اس کے دودھ جیسے سینے ابھر رہے تھے۔ دانیال نے چولی کا ہک کھولا اور اس کے ممے آزاد ہو گئے۔ اس نے ایک ممے کو منہ میں لیا اور دوسرے کو ہاتھ سے دبایا۔
مہنور کی چوت گیلی ہو چکی تھی اور اس کی سانسیں بے ترتیب تھیں۔ دانیال نے اس کی شلوار اتاری اور اس کی رانوں کے درمیان اپنا چہرہ رکھ دیا۔ اس نے اس کی چوت کو چاٹنا شروع کیا اور مہنور کی کمر پلنگ سے اٹھ گئی۔ اس کی انگلیاں چادر کو مٹھی میں بھینچ رہی تھیں۔
بس اب اور نہیں، مہنور نے ہانپتے ہوئے کہا اور دانیال کو اپنی طرف کھینچا۔ دانیال نے اپنا لنڈ اس کی گیلی چوت پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈال دیا۔ مہنور کے منہ سے ایک تیز چیخ نکلی جو اس نے تکیے میں دبا دی۔ دانیال نے دھکے مارنے شروع کیے اور کمرہ ان کی آہوں سے بھر گیا۔
مہنور نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور ہر دھکے کے ساتھ اس کا جسم اوپر اٹھتا گیا۔ دانیال کی رفتار تیز ہوتی گئی اور اس کے پسینے کے قطرے مہنور کے سینے پر گر رہے تھے۔ مہنور نے اس کے کندھے پر ناخن گاڑ دیے اور بولی، اور زور سے۔ اچانک اس کے جسم میں ایک لہر دوڑی اور وہ چیختی ہوئی جھڑ گئی۔
اس کے جھڑنے کے چند لمحوں بعد دانیال نے بھی اپنا پانی اس کے اندر نکال دیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ مہنور نے اس کے سینے پر سر رکھا اور اس کی دھڑکن سنی۔ کمرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی۔ مہنور نے مسکرا کر کہا، پہلا راؤنڈ تمہارے نام نہیں، میرے نام۔
کچھ دیر بعد مہنور اٹھی اور پانی کا گلاس لے آئی۔ دانیال نے اس کے ننگے جسم کو دیکھا اور اس کی آنکھوں میں پھر سے بھوک جاگ اٹھی۔ مہنور نے گلاس اس کی طرف بڑھایا اور بولی، پیو، تمہیں طاقت کی ضرورت پڑے گی۔ دانیال نے پانی پیا اور اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔
مہنور نے اس کے کان میں سرگوشی کی، اس بار میں اوپر رہوں گی۔ وہ اس کے اوپر بیٹھ گئی اور اس کے تنے ہوئے لنڈ کو اپنی چوت میں خود اتارا۔ اس نے آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونا شروع کیا۔ دانیال نے اس کے ممے پکڑے اور انہیں دباتے ہوئے اس کی رفتار سے ہم آہنگ ہوا۔
مہنور کی کمر لچک رہی تھی اور اس کے بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔ دانیال نے اسے کمر سے پکڑ کر نیچے سے دھکے مارنے شروع کیے۔ ہر دھکے کے ساتھ مہنور کی آہیں تیز ہوتی گئیں۔ اس نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور اس کی زبان کو چوسا۔
اچانک مہنور نے رفتار تیز کر دی اور اس کا جسم کانپنے لگا۔ میں جھڑ رہی ہوں، وہ چیخی اور اس کی چوت نے دانیال کے لنڈ کو کس لیا۔ اس کے جھڑنے کی لہر نے دانیال کو بھی بے قابو کر دیا اور اس نے اس کے اندر اپنا گرم پانی نکال دیا۔ دونوں پسینے میں شرابور ایک دوسرے پر گر پڑے۔
رات کے تین بج رہے تھے۔ دانیال کی آنکھ لگ گئی مگر مہنور جاگ رہی تھی۔ اس نے اس کے چہرے کو دیکھا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ اس کے دل میں وہ نامعلوم نمبر اب بھی کھٹک رہا تھا مگر اس نے فیصلہ کیا کہ صبح سے پہلے وہ اس کے بارے میں نہیں سوچے گی۔ اس نے دانیال کے کان میں کہا، اٹھو، رات ابھی ختم نہیں ہوئی۔
دانیال نے نیند بھری آنکھوں سے اسے دیکھا اور مسکرایا۔ تم تو آج مجھے مار ڈالو گی، اس نے کہا۔ مہنور نے اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا جو ابھی نرم تھا، اور آہستہ آہستہ سہلانے لگی۔ اس کی انگلیوں کے جادو سے وہ پھر سے تن گیا۔ دانیال نے اسے پلنگ پر اوندھا لٹایا۔
مہنور نے اپنے کولہے اوپر اٹھائے اور دانیال اس کے پیچھے آ گیا۔ اس نے اپنا لنڈ اس کی گیلی چوت میں پیچھے سے ڈالا اور اس کے بال پکڑ لیے۔ مہنور نے تکیے کو بھینچ لیا اور ہر دھکے کے ساتھ اس کا جسم آگے پیچھے ہلنے لگا۔ دانیال کی سانسیں اس کی گردن پر گرم لگ رہی تھیں۔
یہ انداز سب سے گہرا تھا اور مہنور کو لگ رہا تھا جیسے وہ اس کے اندر تک اتر گیا ہے۔ اس نے ایک ہاتھ پیچھے کر کے دانیال کے کولہے کو دبایا اور بولی، رکؤ مت۔ دانیال نے اس کے ممے کو پیچھے سے پکڑا اور دھکوں کی رفتار بڑھا دی۔ کمرے میں صرف ان کے جسموں کے ٹکرانے کی آواز گونج رہی تھی۔
مہنور کا تیسرا عروج سب سے شدید تھا۔ اس کا پورا جسم کانپا اور اس کی چیخ کمرے کی دیواروں سے ٹکرائی۔ دانیال نے بھی اسی لمحے اپنا پانی اس کے اندر انڈیل دیا اور اس کے اوپر گر پڑا۔ دونوں کی سانسیں بے قابو تھیں اور پسینہ چادر کو بھگو چکا تھا۔
فجر کی اذان سے پہلے کی خاموشی میں وہ دونوں ننگے ایک دوسرے سے لپٹے لیٹے تھے۔ مہنور کا سر دانیال کے سینے پر تھا اور اس کی انگلیاں اس کے سینے کے بالوں میں الجھی ہوئی تھیں۔ کھڑکی سے ہلکی نیلی روشنی اندر آ رہی تھی۔ مہنور نے سوچا کہ یہ اس کی زندگی کی سب سے خوبصورت رات تھی۔
اچانک نائٹ اسٹینڈ پر رکھا فون پھر سے بجا۔ وائبریشن کی آواز خاموش کمرے میں گونجی۔ دانیال کی آنکھ کھلی اور اس نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا، مگر مہنور اس سے تیز تھی۔ اس نے فون اٹھا لیا اور بولی، اس بار میں دیکھوں گی کہ کون ہے۔
اسکرین پر وہی نامعلوم نمبر تھا اور نیچے ایک نیا پیغام چمک رہا تھا۔ مہنور نے پیغام کھولا اور اس کی آنکھیں ساکت ہو گئیں۔ پیغام میں لکھا تھا، تم مجھے بھول گئے؟ میں آ رہی ہوں۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور فون اس کی گرفت میں ڈھیلا پڑ گیا۔
یہ کون ہے دانیال، مہنور کی آواز میں وہ سردی تھی جو سہاگ رات کی گرمی کو ایک پل میں جما سکتی تھی۔ دانیال کا چہرہ سفید پڑ گیا اور اس کے ہونٹ ہلنے لگے مگر کوئی آواز نہ نکلی۔ کھڑکی سے آتی نیلی روشنی اب اس کے چہرے پر ایک سائے کی طرح لگ رہی تھی۔ مہنور نے فون اس کے سامنے کیا اور بولی، جواب دو، یہ عورت کون ہے۔
دانیال نے گہری سانس لی اور کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، مگر اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔ دونوں کی نظریں ایک ساتھ دروازے کی طرف اٹھیں۔ مہنور کے دل کی دھڑکن اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔ اگلا حصہ جلد آ رہا ہے...
دانیال کے سونے کے بعد مہنور چپکے سے اٹھی اور واش روم کی طرف بڑھی۔ اس کے ننگے جسم پر رات کی محبت کے نشان تھے اور اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے شاور کھولا اور گرم پانی کی دھار کے نیچے کھڑی ہو گئی۔ پانی اس کے چہرے، اس کے سینے اور اس کی رانوں پر بہنے لگا۔
اس نے آنکھیں بند کیں اور رات کے لمحوں کو یاد کرنے لگی۔ دانیال کے ہونٹ، اس کے ہاتھ، اس کے دھکے۔ ہر یاد کے ساتھ اس کے جسم میں ایک ہلکی سی لہر دوڑ گئی۔ اس نے اپنے ہاتھ اپنے مموں پر رکھے اور آہستہ سے دبایا۔ اس کے منہ سے ایک دبی ہوئی آہ نکلی جو پانی کی آواز میں گم ہو گئی۔
اچانک اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو دانیال دروازے میں کھڑا تھا، اس کی آنکھوں میں وہی بھوک جو رات بھر نہیں بجھی تھی۔ تم سوئی نہیں، اس نے کہا۔ مہنور نے مسکرا کر اسے اندر بلایا۔ پانی کی دھار کے نیچے وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔
دانیال نے اسے دیوار سے لگایا اور اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا۔ پانی ان دونوں کے جسموں پر بہہ رہا تھا اور ان کے بوسے اور بھی گرم لگ رہے تھے۔ مہنور نے اس کے لنڈ کو پکڑا جو پھر سے تن چکا تھا۔ اس نے اسے اپنی گیلی چوت پر رکھا اور خود اندر لے لیا۔
دیوار کے سہارے کھڑے ہو کر دانیال نے دھکے مارنے شروع کیے۔ پانی کی دھار ان کے جسموں کو چھو رہی تھی اور مہنور کی آہیں واش روم کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں۔ اس نے دانیال کی گردن پر کاٹا اور بولی، مجھے کبھی مت چھوڑنا۔ دانیال نے اسے کس کر پکڑ لیا۔
مہنور کا جسم ایک بار پھر عروج کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور اس نے دانیال کے کندھوں کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ ایک تیز لہر کے ساتھ وہ جھڑ گئی اور اس کی چیخ پانی کی آواز میں دب گئی۔ دانیال نے بھی اسی لمحے اپنا پانی اس کے اندر نکال دیا۔
وہ دونوں شاور کے نیچے ایک دوسرے سے لپٹے کھڑے رہے۔ مہنور نے اس کے سینے پر سر رکھا اور سوچا کہ یہ لمحہ ہمیشہ رہے۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ باہر نائٹ اسٹینڈ پر رکھا فون ایک ایسا پیغام لا چکا ہے جو سب کچھ بدل دے گا۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2
Readers who enjoyed “اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1” also read
8 curated storiesنوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کے گودام میں موسم کے آخری ڈھیر کے بعد کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو کسی بیچ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی
نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی۔ آخری ڈھیر۔ کنواری منالہ اور نائٹ گارڈ ارشد۔ وہ خوشبو جو بیچ کے رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2
اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟
اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات
اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)
اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔
اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات
اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔
اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)
اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔