First Timeاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2

S
10 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

اردو سہاگ رات کہانی کے اس آخری حصے میں دروازے پر دستک ہوئی تو مہنور کی انگلیاں ابھی فون کی سکرین پر جمی تھیں۔ "تم مجھے بھول گئے ہو؟ میں آ رہی ہوں۔" یہ پیغام تین بار آ چکا تھا، اور اب دروازے پر کھڑا کوئی اس پیغام کو جسم دے چکا تھا۔ دانیال کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا، اس کی آنکھوں میں وہ خوف تھا جو مہنور نے پہلی بار دیکھا تھا۔

مہنور نے چادر اپنے گرد لپیٹی، فون میز پر پٹخا اور دروازے کی طرف بڑھی۔ دانیال نے اس کا بازو پکڑا۔ "رکو، میں دیکھتا ہوں۔" اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ مہنور نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔ "نہیں۔ یہ رات میری ہے، اور اس دروازے کے پیچھے جو بھی ہے، اس سے میں بات کروں گی۔"

اس نے کنڈی کھولی۔ دروازے پر ایک عورت کھڑی تھی، چھببیس ستائیس سال کی، گہرے نیلے سوٹ میں، ہاتھ میں چھوٹا بیگ۔ اس کی آنکھیں سیدھی دانیال پر تھیں۔ "تو تم نے شادی کر لی؟" اس نے کہا، اور اس کی آواز میں وہ زہر تھا جو صرف پرانی محبت میں ہوتا ہے۔ "مبارک ہو۔"

دانیال کی سانس رک گئی۔ "اریبہ؟" مہنور نے نام سنا اور اس کے اندر کچھ ٹھنڈا سا اتر گیا۔ یہ کوئی انجان نمبر نہیں تھا۔ یہ کوئی ایسی تھی جس کا نام دانیال کی زبان پر تھا۔

"اندر آنے دو گی یا دروازے پر ہی تماشا بناؤ گی؟" اریبہ نے مہنور کو دیکھے بغیر کہا۔ مہنور ایک طرف ہٹی۔ "آؤ۔ تماشا تو اب بنے گا۔"

کمرے میں پھولوں کی خوشبو ابھی باقی تھی، بستر بکھرا ہوا، رات کے نشان ہر جگہ۔ اریبہ کی نظریں بستر پر ٹھہریں، پھر مہنور کے چہرے پر۔ "تو یہ ہے تمہاری دلہن۔" اس نے طنز سے کہا۔ "دانیال، تم نے مجھے کہا تھا کہ تم کبھی شادی نہیں کرو گے۔"

"میں نے ایسا کبھی نہیں کہا۔" دانیال کی آواز اب مضبوط ہو رہی تھی۔ "اریبہ، یہ سب ختم ہوئے دو سال ہو گئے۔ تم نے میرا نمبر کہاں سے لیا؟ یہ پیغامات تم نے بھیجے؟"

"ہاں میں نے بھیجے۔" اریبہ نے بیگ صوفے پر پٹخا۔ "کیونکہ تم نے میری کالز کا جواب دینا بند کر دیا۔ کیونکہ تم نے سوچا کہ شادی کر کے تم مجھ سے چھٹکارا پا لو گے۔"

مہنور اب تک خاموش کھڑی تھی، لیکن اس کی خاموشی وہ تھی جو طوفان سے پہلے ہوتی ہے۔ اس نے دانیال کی طرف دیکھا۔ "کون ہے یہ؟ پوری بات بتاؤ۔ ابھی۔"

دانیال نے گہری سانس لی۔ "یونیورسٹی میں، تین سال پہلے۔ ایک رشتہ تھا، چھ مہینے چلا۔ پھر میں نے ختم کر دیا۔ وہ... وہ حد سے بڑھ گئی تھی، میری ہر چیز پر قبضہ چاہتی تھی۔ میں نے نمبر بدل لیا، شہر بدل لیا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ مجھے ڈھونڈ لے گی۔"

"جھوٹ!" اریبہ چیخی۔ "تم نے مجھے کہا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔ تم نے کہا تھا کہ ہم شادی کریں گے۔"

"میں نے کہا تھا کہ میں کوشش کروں گا۔" دانیال نے جواب دیا۔ "اور پھر میں نے دیکھا کہ تم کیسی ہو۔ مہنور، قسم کھا کر کہتا ہوں، یہ سب میرے ماضی کا حصہ ہے۔ میں نے تم سے یہ اس لیے چھپایا کہ میں ڈرتا تھا کہ تم مجھے غلط سمجھو گی۔"

مہنور نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا، لیکن جھوٹ نہیں۔ اس نے اریبہ کی طرف رخ کیا۔ "تم نے اپنی بات کہہ لی؟ اب میری سنو۔"

اریبہ نے ہنسی۔ "تم مجھے کیا سناؤ گی؟ تم تو ابھی کل کی دلہن ہو۔ تمہیں پتا بھی ہے کہ یہ راتوں کو کس کس کو پیغام بھیجتا تھا؟"

"مجھے یہ پتا ہے کہ یہ میرا شوہر ہے۔" مہنور کی آواز برف جیسی ٹھنڈی تھی۔ "اور مجھے یہ بھی پتا ہے کہ جو عورت آدھی رات کو کسی کے گھر دروازہ کھٹکھٹائے، اس کے پاس عزت کے سوا سب کچھ ہوتا ہے۔ تمہیں جو کہنا تھا کہہ لیا۔ اب نکلو۔"

"میں کہیں نہیں جاؤں گی۔" اریبہ نے کہا اور ایک قدم آگے بڑھی۔ "دانیال، تم مجھے دیکھو۔ تمہیں یاد ہے وہ راتیں؟ تمہیں یاد ہے تم میرے لیے کیا کیا کرتے تھے؟ یہ لڑکی تمہیں وہ نہیں دے سکتی جو میں دے سکتی ہوں۔"

اس نے اپنے دوپٹے کا ایک سرا گرایا، جان بوجھ کر۔ کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ دانیال نے نظریں پھیر لیں۔ "اریبہ، بس کرو۔ چلی جاؤ۔"

مہنور نے آگے بڑھ کر دوپٹا اٹھایا اور اریبہ کے کندھے پر ڈالا۔ "سنبھال کر۔" اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ "اور سنو، میں تمہیں ایک بات بتاؤں۔ جس رات کی تم بات کر رہی ہو، وہ رات میں نے ابھی جی ہے۔ تین بار۔ اور ہر بار اس نے میرا نام لیا تھا، تمہارا نہیں۔"

اریبہ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ "تمہیں شرم نہیں آتی؟"

"شرم؟" مہنور ہنسی۔ "شرم اسے آنی چاہیے جو کسی کی سہاگ رات میں دروازہ کھٹکھٹائے۔ اب آخری بار کہہ رہی ہوں۔ نکلو، ورنہ میں محلے والوں کو بلا کر تمہارا تماشا بناؤں گی۔"

اریبہ نے دانیال کی طرف دیکھا، امید کی آخری کرن کے ساتھ۔ دانیال نے مہنور کا ہاتھ پکڑا۔ "میں نے اپنا انتخاب کر لیا ہے، اریبہ۔ بہت پہلے۔ چلی جاؤ۔"

کچھ لمحے خاموشی رہی۔ پھر اریبہ نے اپنا بیگ اٹھایا۔ دروازے پر رک کر اس نے کہا، "تم پچھتاؤ گے، دانیال۔" مہنور نے جواب دیا، "دروازہ بند کرتے وقت دھیان رکھنا۔ یہ رات اب ہماری ہے۔"

کنڈی لگی۔ سناٹا۔ دانیال دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا تھا، اس کے چہرے پر تھکن اور شرمندگی۔ "مہنور، مجھے معاف کر دو۔ مجھے تمہیں پہلے بتانا چاہیے تھا۔"

مہنور نے اسے دیکھا۔ غصہ ابھی تھا، لیکن اس کے نیچے کچھ اور بھی تھا۔ اس رات اس نے اس مرد کو تین بار اپنا بنایا تھا، اور اب وہ اس کے سامنے ننگا کھڑا تھا، نہ صرف جسم سے بلکہ سچ سے بھی۔ "تم نے مجھ سے جھوٹ بولا۔" اس نے کہا۔

"چھپایا۔ جھوٹ نہیں بولا۔" دانیال نے اس کے ہاتھ پکڑے۔ "میں ڈرتا تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر تمہیں پتا چلا تو تم یہ شادی توڑ دو گی۔"

"تو تم مجھے اتنا کمزور سمجھتے ہو؟" مہنور نے اس کے ہاتھ چھوڑے اور اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔ "سنو، دانیال۔ میں وہ عورت نہیں ہوں جو ماضی سے ڈر کر بھاگے۔ لیکن آئندہ کوئی راز نہیں۔ کوئی پیغام، کوئی عورت، کوئی بات۔ سمجھے؟"

"سمجھا۔" اس نے سرگوشی کی۔ "قسم کھاتا ہوں۔"

"قسم بعد میں۔" مہنور کی آنکھوں میں وہ چمک لوٹ آئی جو رات بھر تھی۔ "پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے اس رات مجھے کیوں چنا؟"

دانیال نے اسے اپنی بانہوں میں کھینچا۔ "کیونکہ تم وہ ہو جو دروازے پر کھڑی ہو کر میری لڑائی لڑتی ہو۔ کیونکہ تم ڈرتی نہیں۔" اس نے اس کے ماتھے کو چوما، پھر اس کے ہونٹوں کو۔ یہ بوسہ رات والوں جیسا نہیں تھا۔ اس میں معافی تھی، شکر تھا، اور ایک نیا وعدہ۔

مہنور نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ "تو پھر ثابت کرو۔" اس کی آواز میں شرارت تھی۔ "اس رات جو ادھوری رہ گئی تھی، اسے پوری کرو۔"

دانیال نے اسے اٹھا کر بستر پر لٹایا۔ چادر ایک طرف سرک گئی۔ اس نے اس کے جسم کو دیکھا، ہر نشان، ہر جگہ جہاں رات بھر اس کے ہونٹ رہے تھے۔ "تم میری ہو۔" اس نے کہا، اور اس کی آواز میں وہ ملکیت تھی جو محبت سے بنتی ہے، زبردستی سے نہیں۔

اس نے اس کی گردن کو چوما، نیچے اس کے سینے تک۔ اس کے ہاتھ اس کے جسم پر پھر رہے تھے، ہر لمس میں معافی مانگتے ہوئے۔ مہنور کی سانسیں تیز ہونے لگیں۔ "ہاں..." وہ بڑبڑائی۔ "ایسے ہی۔"

اس نے اس کے کپڑے اتارے، آہستہ، جیسے وہ پہلی بار اسے دیکھ رہا ہو۔ اس کی انگلیاں اس کی رانوں پر پھریں، اندر کی طرف، اور مہنور نے اس کے بالوں میں انگلیاں گاڑ دیں۔ "دانیال..."

اس نے اسے اپنے منہ سے پیار دیا، وہ جگہ جہاں وہ سب سے زیادہ حساس تھی۔ مہنور کی کمر بستر سے اٹھ گئی۔ اس کی آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں، بے باک، بے شرم۔ "اور... اور کرو..."

جب وہ تیار ہوئی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، خوشی کے۔ دانیال اس کے اوپر آیا۔ "میں تم سے محبت کرتا ہوں۔" اس نے کہا، اور اس کے اندر اترا۔ مہنور نے اسے اپنے اندر محسوس کیا، پورا، گہرا۔ "میں بھی..." وہ ہانپی۔ "اب رک نہ۔"

وہ حرکت کرنے لگا، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ ہر دھکے کے ساتھ رات کا خوف دھل رہا تھا۔ مہنور نے اس کی کمر کو اپنے پیروں سے جکڑا، اسے اور اندر کھینچا۔ "ہاں، ایسے ہی، میرے ہو، صرف میرے۔"

دانیال نے اسے پلٹایا، اب وہ اوپر تھی۔ اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور حرکت کرنے لگی، پہلے دھیرے، پھر جنون سے۔ اس کے بال اس کے چہرے پر بکھرے، پسینہ اس کی گردن پر۔ "دیکھو مجھے۔" اس نے کہا۔ "میں کہیں نہیں جا رہی۔"

اس کے الفاظ نے اسے پاگل کر دیا۔ اس نے اسے پھر پلٹایا، پیچھے سے اس میں داخل ہوا۔ مہنور نے تکیے کو بھینچا، اس کی آوازیں اب چیخوں میں بدل رہی تھیں۔ "دانیال... میں... میں..."

وہ ایک ساتھ چھوٹے، اس کے اندر، اس کے اوپر۔ دونوں کی سانسیں پھولی ہوئی، جسم پسینے میں بھیگے۔ دانیال اس کے اوپر گرا، اسے اپنی بانہوں میں بھینچا۔ "تم میری سب کچھ ہو۔"

کچھ دیر وہ ایسے ہی لیٹے رہے۔ باہر اذان کی آواز آنے لگی۔ مہنور نے اس کے سینے پر سر رکھا، اس کی دھڑکن سنی۔ "دانیال؟" "ہاں؟" "اگلی بار کوئی دروازہ کھٹکھٹائے، تو پہلے مجھے بتانا۔ پھر ہم دونوں مل کر کھولیں گے۔"

وہ ہنسا، پہلی بار اس صبح دل سے۔ "وعدہ۔" مہنور نے اس کے ہونٹوں کو چوما، آہستہ، گہرا۔ "اور سنو۔" اس نے کہا۔ "یہ جو رات تھی، یہ صرف شروعات تھی۔ اب ہماری ہر رات ایسی ہوگی۔"

اس نے اسے پھر اپنی طرف کھینچا، اور صبح کی روشنی میں انہوں نے ایک دوسرے کو پھر پایا، اس بار بغیر کسی خوف کے، بغیر کسی راز کے۔ جب وہ آخرکار سوئے، تو مہنور کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ دروازہ بند تھا۔ فون خاموش تھا۔ اور یہ کہانی، ان کی کہانی، ابھی شروع ہوئی تھی۔

🔒 Bonus Scene locked

سہاگ رات کے ایک ہفتے بعد، مہنور نے دانیال کو ایک ایسی سزا سنائی جس کا اس نے خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

First Time

اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات

لاہور کی پرانی حویلی میں نادیہ کی شادی کی پہلی رات۔ سمیر گھبرایا ہوا ہے اور نادیہ کے پاس چھپی ہوئی کتابوں سے سیکھے راز ہیں۔ اردو دلہن کی پہلی رات کی ایک گرم کہانی۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2” also read

8 curated stories
First Timeاردو (Urdu)

نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کے گودام میں موسم کے آخری ڈھیر کے بعد کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو کسی بیچ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی

نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی۔ آخری ڈھیر۔ کنواری منالہ اور نائٹ گارڈ ارشد۔ وہ خوشبو جو بیچ کے رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات

اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1

نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔

⏱️ 17 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)

اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔

⏱️ 15 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات

اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)

اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views