اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات
رات کے وقت کمرے میں چمیلی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، اور مہ نور کے ہاتھوں کی مہندی ابھی تک گیلی سی لگ رہی تھی۔ یہ اردو سہاگ رات کی کہانی اسی خوشبو سے شروع ہوتی ہے، جہاں ایک نئی دلہن اپنے شوہر کے سامنے پہلی بار اس طرح بیٹھی تھی کہ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ دانیال دروازہ بند کر کے آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا، اور اس نے مہ نور کا گھونگھٹ نرمی سے اٹھایا۔ مہ نور نے نظریں جھکا لیں، مگر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی جو اس کی گھبراہٹ کو چھپا نہیں پا رہی تھی۔
دانیال نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کی انگلیوں کو چوما۔ اس نے کہا کہ آج کی رات جلدی نہیں ہے، ہر لمحہ آہستہ آہستہ جینا ہے۔ مہ نور نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اس کی سانس تیز ہو گئی۔ دانیال نے اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، پھر اس کے گالوں پر، پھر اس کے ہونٹوں کے قریب رک گیا۔ مہ نور نے خود آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں کو چوم لیا، اور اس ایک بوسے نے دونوں کے درمیان کی ساری دیوار گرا دی۔
بوسہ لمبا ہوتا گیا، اور دانیال نے مہ نور کو اپنے قریب کھینچ لیا۔ اس کی باہیں مہ نور کی کمر کے گرد لپٹ گئیں، اور مہ نور کی انگلیاں اس کے بالوں میں الجھ گئیں۔ دانیال نے اس کے لہنگے کی ڈوری کو آہستہ سے کھولا، اور کپڑا اس کے کندھوں سے سرک گیا۔ مہ نور نے شرم سے آنکھیں بند کر لیں، مگر دانیال نے کہا کہ شرمانے کی کوئی بات نہیں، آج وہ اس کی ہے اور وہ اس کا ہے۔ اس کے الفاظ نے مہ نور کے اندر ایک عجیب سی گرمی پیدا کر دی۔
دانیال نے اس کے بلاؤز کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے، اور ہر بٹن کے ساتھ مہ نور کی سانس اور تیز ہوتی گئی۔ جب اس کا سینہ کھلا تو دانیال نے اسے دیکھ کر ایک لمبی سانس لی اور اس کے نرم سینے کو اپنے ہاتھوں سے تھام لیا۔ اس نے مہ نور کے سینے کو دبایا اور اس کے نپلز کو اپنی انگلیوں سے چھیڑا، جس سے مہ نور کے منہ سے ہلکی سی آہ نکل گئی۔ مہ نور نے اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا، اور دانیال نے اس کے نپل کو اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔
مہ نور کی کمر بستر پر جھک گئی، اور اس نے دانیال کے سر کو اپنے سینے پر دبا لیا۔ دانیال نے باری باری دونوں سینوں کو چوسا، اور اس کی زبان مہ نور کے نپلز پر گھومتی رہی۔ مہ نور کے ہاتھ دانیال کی پیٹھ پر پھسل رہے تھے، اور اس کے ناخن اس کی جلد میں ہلکے سے چبھ رہے تھے۔ دانیال نے اس کا لہنگا نیچے سرکا دیا، اور مہ نور صرف اپنی چولی اور پینٹی میں رہ گئی۔ اس نے مہ نور کی ٹانگوں کے درمیان ہاتھ رکھا، اور پینٹی کے اوپر سے ہی اس کی چوت کو سہلایا۔
مہ نور نے اپنی ٹانگیں تھوڑی سی کھول دیں، اور دانیال کی انگلیاں اس کی پینٹی کے اندر چلی گئیں۔ اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی، اور دانیال نے اپنی انگلی کو اس کے اندر ڈال کر آہستہ آہستہ حرکت دی۔ مہ نور نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ اور اندر کرو، اسے یہ احساس بہت اچھا لگ رہا ہے۔ دانیال نے دو انگلیاں اس کی چوت میں ڈال دیں، اور اس کی چوت کی دیواروں نے ان انگلیوں کو کس کر پکڑ لیا۔ مہ نور کی آہیں کمرے میں گونجنے لگیں۔
دانیال نے اپنی انگلیاں باہر نکالیں اور مہ نور کی پینٹی اتار دی۔ اس نے مہ نور کی ٹانگیں کھول کر اس کی چوت کو دیکھا، اور پھر اپنی زبان اس پر رکھ دی۔ اس نے مہ نور کی چوت کو چاٹنا شروع کیا، اور اس کی زبان اس کے دانے پر گھومتی رہی۔ مہ نور نے بستر کی چادر کو مٹھی میں پکڑ لیا، اور اس کا جسم کپکپانے لگا۔ دانیال نے اس کی چوت میں اپنی زبان اندر ڈالی، اور مہ نور نے زور سے اس کا سر اپنی ٹانگوں کے درمیان دبا لیا۔
مہ نور کا جسم اچانک اکڑ گیا، اور اس کی چوت سے پانی نکل گیا۔ اس نے لمبی آہ بھری اور بستر پر ڈھیلا پڑ گئی۔ دانیال مسکرایا اور اس کے اوپر آ گیا۔ اس نے اپنے کپڑے اتارے، اور اس کا لنڈ اب پوری طرح کھڑا تھا۔ مہ نور نے اس کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے حیرت سے دیکھا۔ اس نے کہا کہ یہ بہت بڑا ہے، اسے ڈر لگ رہا ہے۔ دانیال نے اسے چوما اور کہا کہ آہستہ کرے گا، درد نہیں ہوگا۔
مہ نور نے اس کے لنڈ کو اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگی۔ اس نے دانیال کے لنڈ کی ٹوپی پر اپنی زبان پھیری، اور پھر اسے گہرائی تک اپنے منہ میں لے گئی۔ دانیال نے اس کے بال پکڑ لیے اور اس کے منہ میں آہستہ آہستہ دھکے دینے لگا۔ مہ نور کے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں، اور دانیال کی سانس تیز ہو گئی۔ اس نے مہ نور کو روکا اور کہا کہ ابھی نہیں، پہلی بار اس کی چوت میں ہی جھڑنا چاہتا ہے۔
دانیال نے مہ نور کی ٹانگیں کھولیں اور اس کے لنڈ کو اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ اس نے آہستہ سے دھکا دیا، اور اس کا لنڈ مہ نور کی کنواری چوت میں داخل ہونے لگا۔ مہ نور نے درد سے اس کی پیٹھ کو پکڑ لیا، اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ دانیال رک گیا اور اسے چومتا رہا، پھر ایک اور دھکے سے پورا لنڈ اندر کر دیا۔ مہ نور نے چیخ روک لی، مگر اس کے ناخن دانیال کی پیٹھ میں گڑ گئے۔
کچھ دیر رک کر دانیال نے آہستہ آہستہ حرکت شروع کی۔ مہ نور کا درد آہستہ آہستہ مزے میں بدل گیا، اور اس نے اپنی کمر اٹھا کر اس کے دھکوں کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ دانیال کی رفتار بڑھ گئی، اور بستر کی آواز کمرے میں پھیل گئی۔ مہ نور نے اس کی گردن کو چوما اور کہا کہ اور زور سے کرو، اسے یہ بہت اچھا لگ رہا ہے۔ دانیال نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں، اور اس کی چوت میں گہرے دھکے دینے لگا۔
مہ نور کی آہیں تیز ہو گئیں، اور اس نے دانیال کے سینے پر اپنے ناخن چلائے۔ دانیال نے اس کے سینے کو دبایا اور اس کے نپلز کو چوستے ہوئے اس کی چوت میں دھکے دیتا رہا۔ مہ نور کا جسم پھر اکڑ گیا، اور اس کی چوت نے دانیال کے لنڈ کو کس کر پکڑ لیا۔ اس کی چوت سے پانی بہنے لگا، اور دانیال نے محسوس کیا کہ اس کا اپنا بھی نکلنے والا ہے۔ اس نے اپنی رفتار اور بڑھا دی، اور چند گہرے دھکوں کے بعد اس کا پانی مہ نور کی چوت میں نکل گیا۔
دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر لیٹ گئے، اور ان کی سانسیں آہستہ آہستہ نارمل ہوئیں۔ مہ نور نے دانیال کے سینے پر سر رکھا اور کہا کہ اس کی زندگی کی سب سے خوبصورت رات تھی۔ دانیال نے اس کے بالوں کو سہلایا اور کہا کہ یہ تو صرف شروعات ہے۔ کچھ دیر آرام کے بعد مہ نور نے اس کی طرف دیکھا اور شرارت سے کہا کہ کیا ایک بار اور ہو سکتا ہے۔ دانیال نے ہنس کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
اس بار مہ نور اوپر آئی، اور اس نے دانیال کے لنڈ کو اپنی چوت میں خود ڈالا۔ وہ آہستہ آہستہ اس پر اچھلنے لگی، اور اس کے سینے دانیال کے چہرے کے سامنے ہل رہے تھے۔ دانیال نے اس کے سینے کو پکڑ کر دبایا، اور مہ نور کی رفتار بڑھ گئی۔ مہ نور نے اپنی چوت کو اس کے لنڈ پر رگڑا، اور اس کا جسم پسینے سے چمک رہا تھا۔ کمرے میں صرف ان کی سانسوں اور بستر کی آواز گونج رہی تھی۔
مہ نور نے اپنی رفتار اور تیز کر دی، اور اس کی آہیں چیخوں میں بدل گئیں۔ دانیال نے اس کی کمر پکڑ کر نیچے سے دھکے دینے شروع کر دیے، اور دونوں کی حرکت ایک تال میں آ گئی۔ مہ نور نے اس کا سینہ چوما اور کہا کہ وہ جھڑنے والی ہے۔ دانیال نے اسے کس کر پکڑ لیا، اور مہ نور کی چوت نے اس کے لنڈ کو نچوڑ لیا۔ مہ نور زور سے چیخی اور اس کے اوپر ڈھیر ہو گئی۔
دانیال نے اسے پلٹا کر بستر پر لٹایا، اور اس کی ٹانگیں کھول کر پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال دیا۔ اس نے مہ نور کی کمر پکڑ کر گہرے دھکے دیے، اور مہ نور نے تکیے کو اپنے ہاتھوں میں دبا لیا۔ دانیال نے اس کے بال کھینچے اور اس کی گردن پر بوسے دیے، اور مہ نور کی آہیں اور تیز ہو گئیں۔ اس کی چوت گیلی ہو کر آواز کر رہی تھی، اور دانیال کا لنڈ اس میں پوری طرح سماتا جا رہا تھا۔
دانیال کی رفتار اب بہت تیز تھی، اور مہ نور نے کہا کہ وہ پھر جھڑنے والی ہے۔ دانیال نے آخری چند گہرے دھکے دیے، اور اس کا پانی مہ نور کی چوت میں بہہ گیا۔ مہ نور بھی اسی لمحے جھڑ گئی، اور اس کا جسم کانپتا رہا۔ دونوں بستر پر ایک دوسرے سے لپٹ گئے، اور مہ نور نے کہا کہ اسے یقین نہیں ہو رہا کہ یہ اس کی سہاگ رات ہے۔ دانیال نے کہا کہ آج کی رات ابھی ختم نہیں ہوئی، صبح تک بہت وقت ہے۔
صبح کی اذان سے پہلے وہ دونوں چھت پر گئے، اور ٹھنڈی ہوا میں ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کر بیٹھ گئے۔ مہ نور نے دانیال کے کندھے پر سر رکھا اور کہا کہ اسے اب کسی چیز کا ڈر نہیں، کیونکہ وہ اس کا ہو چکا ہے۔ دانیال نے اس کا ہاتھ چوما اور کہا کہ یہ محبت ہر رات اسی طرح جوان رہے گی۔ چاند کی روشنی میں مہ نور کی مہندی چمک رہی تھی، اور کانپور کی خاموش گلیوں میں ان کی کہانی ایک نئی صبح کی طرف بڑھ رہی تھی۔
اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر آئی تو مہ نور کی آنکھ کھلی، اور اس نے دیکھا کہ دانیال اسے دیکھ رہا ہے۔ اس نے شرم سے چادر اپنے سینے تک کھینچ لی، مگر دانیال نے چادر ہٹا کر اس کے کندھے پر بوسہ دیا۔ مہ نور نے کہا کہ اس کا جسم ابھی تک درد کر رہا ہے، مگر یہ درد اسے بہت اچھا لگ رہا ہے۔ دانیال نے اسے اپنی باہوں میں لیا اور اس کے سینے کو سہلایا، اور مہ نور کی سانس پھر تیز ہو گئی۔
دانیال نے مہ نور کی ٹانگیں کھولیں اور اس کی چوت پر اپنی انگلیاں پھیریں۔ مہ نور کی چوت ابھی تک گیلی تھی، اور اس نے دانیال کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر کرنے کو کہا۔ دانیال نے اپنی دو انگلیاں اس کی چوت میں ڈالیں اور آہستہ آہستہ حرکت دی، اور مہ نور نے اس کی گردن کو چوم لیا۔ اس نے کہا کہ وہ پھر اس کا لنڈ چاہتی ہے، اور دانیال نے مسکرا کر اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھ دیا۔
مہ نور نے خود اپنی کمر اٹھا کر اس کا لنڈ اندر لیا، اور دانیال نے آہستہ آہستہ دھکے دینے شروع کیے۔ صبح کی روشنی میں مہ نور کا جسم چمک رہا تھا، اور اس کے سینے دانیال کے ہاتھوں میں تھے۔ دانیال نے اس کے نپلز کو چوسا اور اس کی چوت میں گہرے دھکے دیے، اور مہ نور کی آہیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ اس نے دانیال کی پیٹھ کو پکڑ لیا اور کہا کہ اور زور سے کرو۔
دانیال نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور تیز رفتار سے اس کی چوت میں دھکے دینے لگا۔ مہ نور کا جسم اکڑ گیا اور اس کی چوت سے پانی بہنے لگا۔ دانیال نے چند آخری گہرے دھکے دیے اور اس کا پانی مہ نور کی چوت میں نکل گیا۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے، اور مہ نور نے ہنس کر کہا کہ اب اسے سہاگ رات کی صبح بھی اتنی ہی یادگار لگ رہی ہے جتنی رات تھی۔
Readers who enjoyed “اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات” also read
8 curated storiesنوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کے گودام میں موسم کے آخری ڈھیر کے بعد کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو کسی بیچ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی
نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی۔ آخری ڈھیر۔ کنواری منالہ اور نائٹ گارڈ ارشد۔ وہ خوشبو جو بیچ کے رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2
اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟
اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات
اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1
نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)
اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔
اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)
اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔