First Timeاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات

N
10 min read4 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

"دروازہ... دروازہ ٹھیک سے بند ہوا؟" سمیر کی آواز کانپ رہی تھی۔ اردو دلہن کی پہلی رات کا وہ لمحہ آخر آ گیا تھا جس کا نادیہ نے مہینوں سے انتظار کیا تھا، اور اس کا دولہا ابھی تک دروازے کی کنڈی سے لڑ رہا تھا۔

نادیہ بستر کے کنارے بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ تئیس سال کی نادیہ، لاہور کے اندرون شہر کی پرانی حویلی کی دلہن، سرخ لہنگے میں لپٹی، ہاتھوں میں مہندی، اور دل میں ایک ایسا راز جو اس رات کے بارے میں سب کچھ بدلنے والا تھا۔

کمرہ پھولوں سے سجا تھا۔ گیندے کی مالائیں، گلاب کی پتیاں بستر پر، اور ایک مدھم لیمپ کی روشنی۔ باہر صحن میں شادی کی رونق ابھی تھمی تھی۔ ڈھول کی تھاپ ابھی کانوں میں گونج رہی تھی۔ اور اب یہ کمرہ، یہ بستر، اور یہ کانپتا ہوا دولہا۔

راز یہ تھا کہ نادیہ اتنی معصوم نہیں تھی جتنی سب سمجھتے تھے۔ اس کی کزن کے بکسے میں چھپے ہوئے ناول اس نے پچھلے دو سال میں ایک ایک کر کے پڑھ ڈالے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ پہلی رات میں کیا ہوتا ہے۔ وہ جانتی تھی کہ مرد کو کہاں چھونا ہے، کہاں چومنا ہے، اور کیسے اسے پاگل کرنا ہے۔ سمیر کو اس کا کچھ علم نہیں تھا۔

ستائیس سال کا سمیر، دکان دار کا بیٹا، شریف اور سادہ۔ اس نے اپنی زندگی میں کبھی کسی لڑکی کا ہاتھ نہیں پکڑا تھا۔ اب وہ بستر سے چار فٹ دور کرسی پر بیٹھا تھا، جیسے بستر میں بجلی دوڑ رہی ہو۔

"تم وہاں کیوں بیٹھے ہو؟" نادیہ نے شرارت سے پوچھا۔ "میں کاٹتی تو نہیں۔"

سمیر نے گھبرا کر مسکرانے کی کوشش کی۔ "وہ... میں... تم تھکی ہو گی۔ اتنا لمبا دن تھا۔"

نادیہ اٹھی، لہنگا سنبھالتی ہوئی اس کے پاس آئی۔ اس نے سمیر کا ہاتھ پکڑا۔ اس کا ہاتھ پسینے سے بھیگا تھا اور کانپ رہا تھا۔ "سمیر،" اس نے دھیرے سے کہا، "تم میرے شوہر ہو۔ ڈرو نہیں۔"

اس نے سمیر کو بستر تک کھینچا۔ وہ بیٹھ گیا، اکڑا ہوا، جیسے لکڑی کا تختہ ہو۔ نادیہ نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ۔ سمیر کا جسم ایک دم سے تن گیا، پھر آہستہ آہستہ ڈھیلا پڑنے لگا۔

نادیہ نے بوسے کو گہرا کیا۔ اس نے سمیر کے نچلے ہونٹ کو ہلکے سے کاٹا، پھر اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی۔ سمیر نے ایک عجیب سی آواز نکالی، حیرت اور لذت کے بیچ کی آواز۔ اس کے ہاتھ ہوا میں اٹھے، پھر نادیہ کی کمر پر آ کر ٹھہر گئے۔

"دیکھو،" نادیہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی، "یوں کرتے ہیں۔" اس نے سمیر کا ہاتھ اٹھا کر اپنے سینے پر رکھ دیا۔ سمیر کی انگلیاں نادیہ کی چھاتیوں پر کانپنے لگیں۔ بلاؤز کے اوپر سے ہی اسے ان کی نرمی اور گرمی محسوس ہوئی۔

نادیہ نے خود اپنے بلاؤز کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ ایک، دو، تین۔ سمیر کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس نے زندگی میں پہلی بار کسی عورت کے ننگے سینے دیکھے تھے۔ نادیہ کی گوری چھاتیاں، ان پر کھڑے گلابی نوک، لیمپ کی روشنی میں چمک رہے تھے۔

"چھوؤ انہیں،" نادیہ نے کہا۔ "ڈرو نہیں۔ یہ تمہاری ہیں۔"

سمیر نے کانپتے ہاتھوں سے نادیہ کی چھاتیوں کو چھوا۔ پہلے ہلکے سے، پھر دباؤ کے ساتھ۔ نادیہ نے آنکھیں بند کر کے ایک لمبی سانس لی۔ "ہاں... ایسے ہی... اور زور سے دباؤ..."

سمیر کی ہمت بڑھنے لگی۔ اس نے ایک نوک کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا۔ نادیہ کی کمر خم کھا گئی۔ اس نے سمیر کے بالوں میں انگلیاں ڈال دیں اور اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔ "ہاں سمیر... بہت اچھے..."

پھر نادیہ نے سمیر کی قمیض کے بٹن کھولے۔ اس کا سینا چوڑا تھا، ہلکے بالوں سے ڈھکا۔ اس نے اس کے سینے پر بوسے دیے، نیچے اترتی گئی، اس کی ناف تک۔ سمیر کی سانسیں تیز ہو گئیں۔

"نادیہ... یہ... یہ ٹھیک ہے؟" اس نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔

"سب ٹھیک ہے،" نادیہ نے مسکرا کر کہا۔ "آج کی رات ہماری ہے۔" اس نے سمیر کے پاجامے کا ناڑا کھولا۔

سمیر کا لنڈ تنا ہوا باہر نکلا۔ نادیہ نے اسے دیکھا تو اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ ناولوں میں پڑھا تھا، مگر پہلی بار سامنے دیکھنا اور بات تھی۔ لمبا، موٹا، رگیں ابھری ہوئی۔ اس نے اسے ہاتھ میں پکڑا۔ سمیر نے ایک زور کی سانس لی۔

نادیہ نے لنڈ کو آہستہ آہستہ ہلانا شروع کیا۔ اوپر نیچے، دباؤ بڑھاتے ہوئے۔ سمیر بستر پر لیٹ گیا، آنکھیں بند، منہ کھلا۔ "اوہ... نادیہ... یہ کیا کر رہی ہو... بہت اچھا لگ رہا ہے..."

پھر نادیہ نے وہ کیا جس کا سمیر نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ اس نے جھک کر لنڈ کو منہ میں لے لیا۔ پہلے صرف سرا، پھر آہستہ آہستہ گہرائی تک۔ سمیر کی کمر بستر سے اٹھ گئی۔ "نہیں... نادیہ... یہ گندا ہے... مت کرو..." مگر اس کی آواز میں روکنے کی طاقت نہیں تھی۔ اس کے ہاتھ نادیہ کے سر پر تھے، دبا رہے تھے، اور بھی اندر۔

نادیہ نے اسے چوستے ہوئے اس کے ٹٹوں کو سہلایا۔ سمیر کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ "میں... میں... کچھ ہونے والا ہے..." نادیہ سمجھ گئی۔ اس نے منہ ہٹا لیا اور لنڈ کو ہاتھ سے دبائے رکھا۔ "ابھی نہیں،" اس نے شرارت سے کہا۔ "ابھی تو رات شروع ہوئی ہے۔"

سمیر حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ "تمہیں یہ سب کہاں سے آیا، نادیہ؟"

نادیہ نے صرف مسکرا کر اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔ "کچھ راز راز ہی رہنے دو، دولہا میاں۔" پھر وہ بولی، "اب میری باری۔ تم نے مجھے چھوا، اب پورا چھوؤ۔"

نادیہ نے اپنا لہنگا اتار دیا۔ اس کے نیچے صرف ایک پتلی سی شلوار تھی۔ اس نے وہ بھی اتار دی۔ اب وہ سمیر کے سامنے پوری ننگی کھڑی تھی۔ گیندے کی خوشبو، لیمپ کی سنہری روشنی، اور اس کا گورا بدن۔ سمیر کی نظر اس کی ٹانگوں کے بیچ ٹھہر گئی۔

نادیہ بستر پر لیٹی اور ٹانگیں پھیلادیں۔ "آؤ،" اس نے کہا۔ سمیر اس کے اوپر آیا، کانپتا ہوا۔ نادیہ نے اس کا لنڈ پکڑ کر اپنی چوت کے منہ پر رکھا۔ وہ گیلی تھی، بہت گیلی۔

"آہستہ سے دھکیلو،" نادیہ نے ہدایت دی۔ "ڈرو نہیں۔"

سمیر نے دھکیلا۔ سرا اندر گیا۔ نادیہ نے ایک تیز سانس لی۔ درد کی ایک لہر اٹھی، مگر اس نے سمیر کی کمر کو پکڑ کر اسے اور اندر کھینچا۔ "اور... اور اندر..."

سمیر نے پوری طاقت سے دھکیلا اور اس کا لنڈ نادیہ کی کنواری چوت میں پورا اتر گیا۔ نادیہ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے، مگر اس نے سمیر کو رکنے نہیں دیا۔ "ہلو مت... بس ایک منٹ..."

وہ ایک منٹ گزرا۔ درد کی جگہ ایک عجیب سی بھرپوریت نے لے لی۔ نادیہ نے اپنی کمر ہلائی۔ "اب... اب ہلو۔ آہستہ آہستہ۔"

سمیر نے دھکے لگانے شروع کیے۔ پہلے آہستہ، بے ڈھنگے، پھر ایک تال پکڑ لی۔ نادیہ کی چوت اس کے لنڈ کو جکڑ رہی تھی۔ ہر دھکے کے ساتھ نادیہ کے منہ سے آوازیں نکلنے لگیں۔ "ہاں... ہاں سمیر... ایسے ہی... اور زور سے..."

سمیر کا خوف اب ختم ہو چکا تھا۔ اس کے اندر کا مرد جاگ گیا تھا۔ اس نے نادیہ کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر اٹھالیں اور زور زور سے دھکے لگانے لگا۔ بستر چرچرانے لگا۔ گیندے کی مالا ٹوٹ کر بستر پر بکھر گئی۔

نادیہ کو لگا جیسے اس کے پیٹ میں کوئی گرہ کھل رہی ہو۔ لذت کی لہریں اس کے جسم میں دوڑنے لگیں۔ "میں... میں جھڑنے والی ہوں..." وہ چلائی۔ اس کی چوت نے سمیر کے لنڈ کو زور سے جکڑ لیا اور وہ ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ جھڑ گئی۔ اس کا پورا جسم کانپنے لگا۔

اس کے جھڑتے ہی سمیر بھی نہ رک سکا۔ "نادیہ... میں بھی..." اس نے چند گہرے دھکے لگائے اور نادیہ کے اندر ہی جھڑ گیا۔ گرم پانی کی دھار اس کے اندر اترتی محسوس ہوئی۔ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔

کچھ دیر وہ یوں ہی لیٹے رہے۔ سمیر نادیہ کے بال سہلا رہا تھا۔ "تم... تم تو..." وہ الفاظ ڈھونڈ رہا تھا۔ نادیہ نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ "میں تمہاری بیوی ہوں۔ اور آج سے تمہاری استانی بھی۔"

سمیر ہنس پڑا، پہلی بار کھل کر۔ اس نے پانی کا گلاس اٹھا کر نادیہ کو پلایا، خود پیا۔ باہر کہیں دور سے فجر کی اذان کی آواز آنے لگی۔ رات ڈھل رہی تھی۔

مگر نادیہ کی آنکھوں میں ابھی نیند نہیں تھی۔ اس نے سمیر کی طرف کروٹ لی اور اس کے کان میں بولی، "رات ابھی ختم نہیں ہوئی، دولہا میاں۔" اس کا ہاتھ نیچے سرکا۔ سمیر کا لنڈ پھر سے تننے لگا تھا۔

اس بار سمیر نے پہل کی۔ اس نے نادیہ کو پیٹ کے بل لٹایا، اس کی کمر پر بوسے دیے، اور پیچھے سے اس میں اتر گیا۔ نادیہ نے تکیے کو بھینچ لیا۔ یہ دھکے پہلے سے گہرے تھے، زیادہ جنگلی۔ سمیر نے اس کے بال پکڑ رکھے تھے اور اس کے کان میں بول رہا تھا، "میری نادیہ... میری جان..."

نادیہ نے اپنی ایک ٹانگ موڑ کر اسے اور گہرائی دی۔ "ہاں... مجھے اور زور سے چودو..." اس کے منہ سے یہ لفظ نکلتے ہی سمیر پاگل ہو گیا۔ اس نے اسے گھوڑی بنا کر اتنے زور سے چودا کہ بستر دیوار سے ٹکرانے لگا۔

دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ نادیہ کی چیخ اس کے گلے میں دب گئی۔ سمیر اس کی پیٹھ پر ڈھے گیا، دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے۔

صبح کی پہلی روشنی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ نادیہ کی ساس کی آواز آئی، "بیٹا... چائے رکھ دی ہے۔" دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دبے ہونٹوں سے ہنس پڑے۔

سمیر نے نادیہ کا ہاتھ پکڑا، اس کی مہندی والی انگلیوں کو چوما، اور بولا، "کل رات میں ڈرا ہوا تھا۔ آج میں دنیا کا سب سے خوش نصیب مرد ہوں۔" نادیہ نے اس کے سینے سے لگ کر آنکھیں بند کر لیں۔ حویلی کی یہ رات اب ان دونوں کی تھی، ہمیشہ کے لیے۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

First Time

اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کی پہلی رات، حصہ 1

اردو دلہن کی سہاگ رات کی کہانی میں لکھنؤ کی مہک اور ارمان کی پہلی رات ایک ایسے راز کے دروازے پر آ کر رک جاتی ہے جس کا جواب اگلے حصے میں ملے گا۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات” also read

8 curated stories
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2

اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات

اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1

نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔

⏱️ 17 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)

اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔

⏱️ 15 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات

اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)

اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views