ساہیوال ریلوے کالونی کے خالی کوارٹر میں رات کی ٹرین لیٹ ہونے کے بعد کنواری ٹیچر ٹرینی ثمینہ نے اسٹیشن ماسٹر کے بیٹے کو وہ پہلی رات دی جو کسی ٹیکٹ یا خالہ کی ڈائری میں کبھی نہیں چڑھی
ساہیوال جنکشن کے پپے پھلوں کی سوئی ابھی پورانی کے بادل پرانی ریلوے کالونی کے چوتھے گھر کاڑے ہوتے ہیں۔ کوارٹر نمبر چھ تین سال سے خالی پڑا ہوا تھا۔ چھت ٹوٹی ہوئی تھی، چھت برامدہ الماری نے اپنے ہاتھ سے کھٹ دیے تھے، اور چھت رات کے دھویں بجے الگ الگ خڑکتے تھے کہ کوئی ٹرین لائن پر آ گئی ہے۔
ثمینہ کی عمر انیس سال تھی۔ ٹیچر ٹریننگ کا دوسرا سال تھا۔ ابو پھول میں رہتے تھے جہاں پردہ پڑھتے تھا، ماں کی موت ہر کام پہ رہتی تھی، اور خود ثمینہ کو گھر کے باہر نکلنے سے پہلے آزاد کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ پھوپھو کی چچا نے کہا تھا کہ ساہیوال میں چچا کے پہوپھی کے گھر ٹھہر یک ہفتہ رہنا ہے، پھر وہ گھر خالی پڑا ہوا۔ ثمینہ کے پاس سفید کی ڈبل کی ٹرین شام کو لیٹ ہو چکی تھی۔ سٹیشن ماسٹر صاحب صاحب نے کہا تھا کہ رات کی ٹرین سوبہ سویر سے پہلے نہیں آئے گی۔ چچا نے فون کرکے کہا، بچی کو کوارٹر چھ میں بیٹھا، چابی کے پاس ٹیکٹ لگاؤ دے دینا۔
ثمینہ کے سینے پر پسینہ لگی ہوئی تھی۔ کالونی کے گھروں کے پیچے ٹوٹے ہوئے تھے۔ چبکی کے گھر میں چراغ کے ڈبے جل رہے تھے۔ اس نے کبھی اکیلے مرد کے ساتھ ہاتھ میں اپنے ہاتھ نہیں رکھے تھے۔ شادی کی باتیں گھر میں بھی ہوئی تھیں، مگر کہیں تو بھی ہوئی تھیں، لیکن رات کو اکیلے کمرے میں اکیلے سوجھ کے ساتھ لیٹنے کی عادت تھی۔ اس کی چھاتی۔ اس کے تھن کے نیچے پہ بال ابھی بھارے تھے۔ رات کو کبھی کہ اپنے ہاتھ پیٹ کو دباتی تو اپنے پیر کے درمیان سے پانی آ جاتی۔
دروازے پر دستک ہوئی۔ ثمینہ دروازہ کھولے گئی تو حارث کھ کاڑھ کاندھا کے سامنے کے ہاتھ میں تھا۔ کالی کپڑے میں کالی سے پہنی بانہ تھی۔ گردن پر مٹی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں چابی کی ڈبل کی چاب کی بو تھی۔
حارث نے کہا، آپہ اندر آ جائیے؟ رات کی ٹرین چار گھنٹے لیٹ ہے۔ چچا نے کہا کہ آپ کو یہاں ہی رہ سکتے ہیں۔
ثمینہ کے ہونٹ میں سخن آ گئی۔ وہ پہلی بار تھا کسی نوجوان مرد اس کے گھر کے اندر کھ خڑا کے بات کر رہا تھا۔ اس نے کہا، آ جائیے۔ باہر گھر کے باہر کوئی نہیں ہے۔
حارث اندر آیا۔ دروازہ بند کیا۔ چولھے کی روشنی ابھی چلگ گئی۔ اس نے ٹیکٹ میز پر رکھ دیا۔ ثمینہ نے چاہ بنائی۔ اس کے گلے میں کالی دیر تھی۔ گردن پر مٹی کی تہ ہوئی تھی۔ گردن کی گرد گھر بھی ہوئی تھی۔ ثمینہ کے حلق میں ایک عجیب سی لہر آ گئی۔ اس نے اپنے ہاتھ آگے پیچھ کیے اور بھار کے ساتھ گھوم دیا۔
حارث نے کہا، آپ کہاں ڈرتے ہو؟
ثمینہ نے سر ہلایا۔ اس کے ہونٹ سے جواب نہیں نکلا۔ حارث نے اس کے کان پر ہاتھ رکھ دیا۔ پہلے پہلے ثمینہ کی کمر کانپک گئی۔ پھر وہ ہاتھ پہلے ہاتھ کا ہاتھ نہیں تھا۔ ہاتھ گرم تھا، سخت تھا، اور اس کے کان کے نیچے پہ موٹے چھلے ہوئے تھے۔ ثمینہ کے سانس رک گئی۔ حارث نے اس کے ہونٹ کے قریب آ کر کہا، در کیو ٹھنڈھے؟
ثمینہ نے سر ہلایا۔ حارث کے ہونٹ میں گرم سانس گرم ہوئی تھی۔ اس کے ہونٹ کے پیچھے پھٹ سے بھی ہوئی تھی۔ ثمینہ کے پیٹ کامپنے لگے۔ حارث نے اس کے ہونٹ میں زبان ڈال دیا۔ ثمینہ کے ساث کا زبان کے ساتھ کاٹھ گیا۔ حارث کے زبان نے اس کے منہ کو چوسا۔ ثمینہ کی کمر مہ کامپنے لگی۔ اس نے ہاتھ بڑھایا لیکن ہاتھ ہٹایا نہیں تھا۔
حارث نے اس کی چھاتیوں پر ہاتھ رکھ۔ ثمینہ کی چھاتیاں بھاری اور گرم تھیں۔ حارث کے ہاتھ نے کپڑے کے اوپر سے بٹن کھ کپڑے کو مل کیا۔ ثمینہ کی سانس ٹھم گئی۔ اس نے کہا، نہیں ۔ میرے گھر کوئی نہیں آئے گا۔ نہیں ۔
حارث نے کپڑہ کھ بٹن اور کاٹھ کیا۔ ثمینہ کی چھاتیاں باہر آ گئیں۔ گورے رنگ کے تھے۔ حارث نے ایک چھاتی منہ میں لی لی اور چوسا۔ ثمینہ کی پیٹھ کمپ گئی۔ اس نے حارث کے بال پکڑ لیے۔ حارث نے اس کے بال کو پیچھے کرکے کہا، چپ رہو۔ اب تک خود بتائوگی۔
ثمینہ کے گال کی گندگی سن کے نیچے گرج گئی۔ اس نے کبھی اپنے گال میں اتنی سنی نہیں سنی تھی۔ حارث نے اس کے گال کو گندے شبدوں سے بھر دیا۔ ثمینہ کی جگہ میں آگ لگ گئی۔ اس کے پیشاب گیلے ہو گئے۔ حارث نے کہا، یہ گندے بوب ہیں تمھارے۔ آج میں ان کو چوسوں گا۔
ثمینہ کے پیر میں پانی آ گئی تھی۔ حارث نے اس کی شلوار کے اندر ہاتھ ڈالا۔ ثمینہ کے پیر کی چپ گیلی ہوئی تھی۔ اس نے کبھی کسی کو اپنے پیر میں ہاتھ نہیں لگنے دیا تھا۔ حارث کی انگلی کی گندگی گالیاں نے اس کو اور گیلا کیا۔ ثمینہ کے پیر میں اک گرم لہر آ گئی جو پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔
حارث نے اس کے سال کے پجامے کھ ہاتھ پہیر گھسے دیا۔ ثمینہ چیخ گئی۔ حارث نے کہا، چپ رہو۔ اب تک میری عنگلی چوسو۔ ثمینہ کے نخنے میں گرم پانی بھر گئی۔ حارث کی زبان اس کے چہٹ پر لگ گئی۔ ثمینہ کے ہاتھ کمپ گئے۔ اس نے حارث کے سر کو اپنے پیر کے بیچ دبا لیا۔
حارث کے لنڈ کے اندر لو آ گیا تھا۔ ثمینہ نے پہلی بار کسی مرد کا لنڈ دیکھا تھا۔ وہ موٹا تھا، گرم تھا، اور اس کی منہ کے سامنے پر پھٹک رہا تھا۔ ثمینہ کے ہونٹ میں ڈر آ گئی۔ اس نے کہا، یہ اندر جائے گا؟
حارث نے کہا، آج جائے گا۔ آج تک میری لوۚ ہے۔ ثمینہ کے پیر اور زیادہ گیلے ہو گئے۔ حارث نے اس کے پیر کے چہٹے پر اپنے لنڈ کا سرا رگڑایا۔ ثمینہ کی آنکھ سکڑ گئی۔ حارث نے آہستہ آہستہ اندر دکیلا۔ ثمینہ کے ناخن سے آواز نکلی۔ درد تھا لیکن درد کے ساتھ کچ گرم لہر بھی جل رہا تھا۔ حارث نے رکا۔ پھر ثمینہ نے پیر اپنائے۔ حارث کا لنڈ آہستہ آہستہ اندر آیا۔ ثمینہ کی چہاتی کا پھٹ گئی۔ اس کے ناخن سے گندی گالیاں نکلیں۔
حارث نے اس کے پیر کو پکڑا اور اندر باہر باہر ڈالا۔ ہر ڈکے کے ساتھ ثمینہ کے منہ سے آہ نکلی۔ حارث نے کہا، کیسی ٹڈ گیلی چودی ہے۔ گیلی گیلی۔ اس کی گندی چوت میرے لنڈ کو نگل رہی ہے۔ ثمینہ کے ناخن سے آہ آہ کر کہا، اور اندر ڈال دے ہرامی گندی ہو۔ حارث نے اس کے پیر پر اپنا پورا بیر ڈال دیا۔ کمرہ گھون گیا۔ خٹ کے پتلے پر دھک ہوئے۔ باہر الگ الگ کسی ٹرین گزری تھی۔
حارث نے ثمینہ کو پلٹ پر پٹک دیا۔ پیٹ اوپر کی۔ لنڈ پیچھے اندر گیا۔ ثمینہ کے بوب بھر گئے اور اس کے منہ سے پانی ٹپک ٹپک گرم ہوئی تھی۔ حارث نے اس کے بال پکڑ کر کہا، اب کی گندی چوت میرا لنڈ کا پورا اندر لے رہی ہے۔ ثمینہ کے ناخن سے آہ آہ کر کہا، میری کسی کی لنڈ مت چوسو۔ حارث نے اس کے منہ میں گرم پانی گرا دی۔ ثمینہ کا جسم کانپنے لگا۔ حارث نے اس کے اندر اپنا گرم بیج گرا دیا۔
دونوں کی سانسیں مل گئیں۔ کمرہ گھون سے بھر گیا تھا۔ حارث نے ثمینہ کے گلے پر تھوک تھوک کر کہا، اب میری رنڈی ہو۔ آج سے تم کوئی کواری نہیں رہی۔ ثمینہ نے انکھیں بند کیں تھیں۔ حارث نے اس کے اندر آخری بار پورا گرم بیج گرا دیا اور اپنا پانی اس کے پیٹ کے اندر چھوڑ دیا۔ ثمینہ کے پیٹ پر گرم چیک بھی گئی۔ اس نے کبھی نہیں محسوس کیا تھا کہ کسی مرد کے اندر اتنی گرمی چیک کبھی کر سکتا ہے۔
حارث اس کے اوپر گر گیا۔ لنڈ ابھی گیلا ہوا تھا۔ ثمینہ کے پیٹ سے حارث کا پانی بھی بھر رہا تھا۔ دونوں کی سانسیں ابھی بھاری تھیں۔ باہر دھیر سے کسی کلب کی آواز آئی۔ کوئی ٹرین نہیں گزری تھی۔ حارث نے ثمینہ کے کان پر ہاتھ رکھ کر کہا، یہ رات کسی ٹیکٹ پر نہیں چڑھے گی۔ کسی ڈائری میں نہیں لکھے گی۔
ثمینہ نے آنکھیں بند کیں تھیں۔ اس کے پیر میں ابھی گرمی چیک بھی ہوئی تھی۔ حارث کا پانی ریلتا رہا تھا۔ اس نے حارث کے گلے پر ہاتھ پھیرا اور کہا، میں یہ رات رکھوں گی۔ خود جانتی ہو۔ چچا کل سے پوچھے گئیں تو بھی مت پوچھنی۔
صبح کو ٹرین آئی۔ حارث نے ثمینہ کو سٹیشن تک پہنچایا۔ چچا نے پوچھا کہ رات کی ٹرین لیٹ ہو گئی تھی اس لیے کو کوارٹر چھ میں رک گئی۔ ثمینہ کے ہونٹ میں مسکرانہ تھا۔ لیکن مسکرانہ کے ساتھ ایک گرم چیک بھی پڑی ہوئی تھی جو کسی ٹیکٹ پر نہیں چڑھتی اور کسی ڈائری میں نہیں لکھتی۔
کوارٹر چھ کے باہر پھر خالی پڑا۔ چھت ٹوٹی پھر بھی ہوئی تھی۔ لیکن اس کمرے کی ہوا میں اب بھی ہوئی تھی جو کسی ریلوے کے رجسٹر میں کبھی نہیں چڑھتی۔ ثمینہ نے کانڈھی پک لی اور ٹرین کے روڑے پر بیٹھ گئی۔ حارث پلیٹ فارم پر کاڑھ تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے نہیں دیکھا۔ وہ رات جو کسی ٹیکٹ یا خالہ کی ڈائری میں کبھی نہیں چڑھی۔
Readers who enjoyed “ساہیوال ریلوے کالونی کے خالی کوارٹر میں رات کی ٹرین لیٹ ہونے کے بعد کنواری ٹیچر ٹرینی ثمینہ نے اسٹیشن ماسٹر کے بیٹے کو وہ پہلی رات دی جو کسی ٹیکٹ یا خالہ کی ڈائری میں کبھی نہیں چڑھی” also read
8 curated storiesاردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2
اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟
اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات
اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1
نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)
اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔
اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات
اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔
اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)
اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔