First Timeاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 1)

N
12 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

"دروازہ بند کر دیجیے گا،" مہنور نے گھونگھٹ کے اندر سے اتنی دھیمی آواز میں کہا کہ دانش کو لگا شاید اس نے سنا ہی نہیں۔ یہ اردو دلہن سہاگ رات کی کہانی اسی ایک جملے سے شروع ہوتی ہے، اس کمرے سے جہاں پھولوں کی خوشبو اور دھڑکتے دلوں کی آواز کے سوا کچھ نہیں تھا۔

دانش نے پیچھے مڑ کر دروازے کی کنڈی لگائی۔ کلک کی آواز کمرے میں گونجی اور مہنور کے کندھے ہلکے سے کانپے۔ باہر صحن میں اب بھی شادی کے مہمانوں کی ہلکی چہل پہل تھی، ڈھول کی تھاپ تھم چکی تھی، اور اندر یہ دونوں، دو اجنبی جو اب شوہر بیوی تھے۔

کمرہ گلاب اور موتیا کے پھولوں سے سجا تھا۔ بستر پر سرخ چادر، تکیوں پر پھولوں کی پتیاں، اور کونے میں جلتی ہوئی خوشبودار موم بتیاں۔ مہنور بستر کے بیچوں بیچ بیٹھی تھی، سرخ جوڑے میں، گھونگھٹ اس کے چہرے پر، ہاتھوں میں مہندی، کلائیوں میں چوڑیاں جو ہلکی سی حرکت پر چھن چھن کرتی تھیں۔

دانش ستائیس سال کا تھا، آگرہ میں کپڑے کا کاروبار کرتا تھا۔ شادی سے پہلے اس نے مہنور کو صرف دو بار دیکھا تھا، ایک بار منگنی پر اور ایک بار نکاح کے دن۔ دونوں بار وہ نظریں جھکائے بیٹھی رہی تھی۔ آج پہلی بار وہ اس کے اتنے قریب تھی کہ اس کی سانسوں کی آواز سن سکتا تھا۔

"پانی پیو گی؟" دانش نے پوچھا، آواز میں گھبراہٹ صاف جھلک رہی تھی۔ مہنور نے گھونگھٹ کے اندر سے ہلکا سا سر ہلایا۔ دانش نے میز سے گلاس اٹھایا اور بستر کے کنارے بیٹھ گیا۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔

"تمہارا ہاتھ کانپ رہا ہے،" مہنور نے کہا، اور اس کی آواز میں پہلی بار ہلکی سی ہنسی کی جھلک تھی۔ "دولہا تم ہو یا میں؟"

دانش ہنس پڑا، تناؤ کچھ کم ہوا۔ "سچ کہوں؟ میں نے سوچا تھا میں بہت بہادر بن کر آؤں گا، مگر یہ کمرہ دیکھ کر سب بھول گیا۔"

"اچھا؟" مہنور نے گھونگھٹ تھوڑا اوپر کیا، اتنا کہ اس کی آنکھیں نظر آئیں۔ کاجل سے سجی بڑی بڑی آنکھیں، جن میں شرم بھی تھی اور تجسس بھی۔ "تو اب کیا کرو گے، بہادر دولہا؟"

دانش کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے ہاتھ بڑھایا اور آہستہ سے گھونگھٹ اوپر اٹھا دیا۔ مہنور کا چہرہ سامنے آیا، گورا، نازک، ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ۔ مہندی والے ہاتھ اس نے گود میں جوڑ رکھے تھے۔

"تم بہت خوبصورت ہو،" دانش نے کہا، اور یہ کوئی رسمی جملہ نہیں تھا۔ اس کی آواز میں سچائی تھی۔ مہنور نے نظریں جھکا لیں، گال سرخ ہو گئے۔

"امی نے کہا تھا،" مہنور نے دھیرے سے کہا، "پہلی رات دولہا جو کہے، شرمانا نہیں۔" پھر اس نے دانش کی طرف دیکھا، "مگر امی نے یہ نہیں بتایا کہ دولہا خود اتنا شرمائے گا۔"

دانش نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ نرم، ٹھنڈا ہاتھ۔ اس نے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے لگایا اور مہندی کی خوشبو سونگھی۔ مہنور کی سانس تیز ہو گئی۔

"میں جلدی نہیں کروں گا،" دانش نے کہا۔ "جتنا وقت چاہیے، لو۔"

مہنور نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ پھر اس نے وہ کیا جس کی دانش کو امید نہیں تھی، اس نے اپنا دوسرا ہاتھ بڑھا کر دانش کے گال کو چھوا۔ "مجھے ڈر لگ رہا ہے،" اس نے سچ کہا۔ "مگر تمہارے ساتھ اچھا لگ رہا ہے۔"

دانش نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا، انگوٹھے سے اس کے ہونٹوں کو چھوا۔ مہنور کے ہونٹ ہلکے سے کھلے۔ دانش جھکا اور پہلی بار اس کے ہونٹوں کو چوما۔ نرم، ہلکا بوسہ، جیسے کوئی قیمتی چیز کو چھو رہا ہو۔

مہنور نے آنکھیں بند کر لیں۔ دوسرا بوسہ گہرا تھا۔ دانش کی زبان نے اس کے ہونٹوں کو چھوا اور مہنور نے ہلکی سی آہ بھری۔ اس کی چوڑیاں چھنکیں جب اس نے دانش کے کندھے پکڑے۔

بوسے لمبے ہوتے گئے۔ دانش کا ہاتھ مہنور کی کمر پر آیا، سرخ جوڑے کے اوپر سے اس کے جسم کی گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ مہنور نے اسے خود سے اور قریب کھینچ لیا۔

"یہ جوڑا بہت بھاری ہے،" مہنور نے بوسے کے درمیان ہنستے ہوئے کہا۔ "امی نے کہا تھا سہاگ رات پر سب سے اچھا پہننا، مگر اب یہ قید خانہ لگ رہا ہے۔"

"تو قید سے آزاد کر دوں؟" دانش نے شرارت سے پوچھا۔ مہنور نے شرما کر سر ہلایا، ہاں میں۔

دانش نے آہستہ سے اس کے دوپٹے کی پن نکالی۔ دوپٹہ کندھوں سے سرکا۔ پھر اس نے اس کے بالوں میں لگے پن ایک ایک کر کے نکالے۔ لمبے کالے بال کندھوں پر بکھر گئے۔ مہنور اب اور بھی حسین لگ رہی تھی۔

اس کے گلے کا ہار دانش نے اتارا، کانوں کی بالیاں میز پر رکھیں۔ ہر زیور اترتے ہی مہنور ہلکی ہوتی گئی، جیسے دلہن کا خول اتر رہا ہو اور اندر سے عورت نکل رہی ہو۔

بلاؤز کے بٹن دانش کی انگلیوں کے نیچے ایک ایک کر کے کھلے۔ مہنور کی سانس تیز تھی، سینہ اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ جب بلاؤز الگ ہوا تو اس کے گورے، بھرے ہوئے ممے سامنے آئے، جن پر شرم کی سرخی تھی۔

دانش نے انہیں ہاتھوں میں لیا۔ نرم، گرم، بھاری۔ مہنور نے زور سے سانس لی اور اس کے ناخن دانش کی پیٹھ میں گڑ گئے۔ "آہستہ،" وہ بولی، مگر اس کے ہاتھ دانش کو روک نہیں رہے تھے، بلکہ دبا رہے تھے۔

دانش نے جھک کر ایک ممے کو منہ میں لیا۔ زبان نے نپل کو چھوا تو مہنور کے منہ سے سسکی نکلی۔ "دانش،" وہ بولی، اس کا نام پہلی بار اس کے منہ سے اتنے پیار سے نکلا تھا۔

وہ دونوں بستر پر لیٹ گئے۔ پھولوں کی پتیاں ان کے جسموں کے نیچے دب گئیں۔ دانش کا ہاتھ مہنور کے پیٹ پر پھسلا، ناف کو چھوا، اور نیچے بڑھا۔ مہنور نے اس کی کلائی پکڑ لی، ایک لمحے کو رکی، پھر چھوڑ دی۔

اس کی شلوار کے اندر دانش کی انگلیوں نے اس کی چوت کو چھوا۔ گیلی، گرم، نرم۔ مہنور کا جسم اینٹھ گیا۔ "یہ، یہ ٹھیک ہے؟" اس نے پوچھا، آواز کانپ رہی تھی۔

"بالکل ٹھیک ہے،" دانش نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ "تمہارا جسم مجھے چاہتا ہے، یہی سچ ہے۔"

دانش کی انگلی نے آہستہ آہستہ اس کے دانے کو سہلایا۔ مہنور کی کمر اٹھی، اس کے ہونٹوں سے مسلسل سسکیاں نکلنے لگیں۔ اس نے دانش کے کرتے کو مٹھی میں بھینچ لیا۔

"میرا کرتہ بھی اتارو گی یا میں خود اتاروں؟" دانش نے پوچھا۔ مہنور نے شرماتے ہوئے اس کے کرتے کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں، دو بٹن اس نے غلط کھولے، دونوں ہنس پڑے۔

کرتہ اترا تو دانش کا چوڑا سینہ سامنے آیا۔ مہنور نے پہلی بار کسی مرد کو ایسے دیکھا تھا۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے ہاتھ بڑھایا اور اس کے سینے کو چھوا۔ گرم، مضبوط۔

"تمہیں اچھا لگ رہا ہے؟" دانش نے پوچھا۔ مہنور نے صرف سر ہلایا، بول نہ سکی۔

پھر مہنور نے وہ کیا جس کی دانش کو بالکل امید نہیں تھی۔ اس نے دانش کے پاجامے کا ناڑا کھینچ دیا۔ دانش کا لنڈ باہر آیا، سخت، تنا ہوا۔ مہنور کی آنکھیں پھیل گئیں۔

"اتنا، بڑا؟" وہ بولی، آواز میں حیرت اور ہلکا سا ڈر۔ دانش ہنسا۔ "ڈرو نہیں، یہ تمہارے لیے ہی ہے۔"

مہنور نے ہچکچاتے ہوئے اسے ہاتھ میں لیا۔ نرم کھال، سخت اندر۔ اس نے آہستہ سے دبایا تو دانش کے منہ سے آہ نکلی۔ "ایسے ہی،" دانش نے کہا۔ "ہاں، ایسے ہی۔"

پھر مہنور جھکی اور اس نے دانش کے لنڈ کو اپنے ہونٹوں سے چھوا۔ دانش کا جسم تن گیا۔ اس نے آہستہ سے اسے منہ میں لیا، جتنا لے سکتی تھی۔ دانش نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ "مہنور، تم، تم کمال ہو۔"

کچھ دیر بعد دانش نے اسے اوپر اٹھایا۔ "اب میری باری،" اس نے کہا اور اس کی شلوار اتار دی۔ مہنور اب مکمل ننگی تھی، بستر پر لیٹی، پھولوں کی پتیاں اس کے جسم سے چپکی ہوئی تھیں۔ دانش نے اسے دیکھا، جیسے کوئی خزانہ دیکھ رہا ہو۔

اس نے اپنے کپڑے بھی اتار دیے۔ دونوں ننگے، ایک دوسرے کے سامنے۔ مہنور نے شرم سے چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔ دانش نے اس کے ہاتھ ہٹائے۔ "چھپاؤ نہیں، تم میری ہو۔"

دانش اس کے اوپر آیا۔ اس کا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر تھا۔ "تھوڑا درد ہوگا،" اس نے سچ کہا۔ "مگر میں رکوں گا نہیں، جب تک تم نہ کہو۔"

مہنور نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور سر ہلایا۔ دانش نے آہستہ سے دباؤ ڈالا۔ مہنور کے منہ سے چیخ نکلی، اس نے دانش کے کندھے پر کاٹ لیا۔ "رکو، رکو، درد ہو رہا ہے۔"

دانش رک گیا، اس کے ماتھے کو چوما، اس کے مموں کو سہلایا۔ کچھ دیر بعد مہنور نے خود اس کی کمر کو اپنی طرف کھینچا۔ "اب، کرو۔"

دانش نے ایک جھٹکے میں اندر دھکیلا۔ مہنور کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے، مگر اس نے دانش کو خود سے الگ نہیں کیا۔ "تم اندر ہو،" وہ بولی، آواز میں درد بھی تھا اور کوئی نئی خوشی بھی۔

آہستہ آہستہ دانش نے حرکت شروع کی۔ پہلے دھیرے، پھر تیز۔ مہنور کا درد خوشی میں بدلنے لگا۔ اس کی ٹانگیں دانش کی کمر کے گرد لپٹ گئیں۔ "اور تیز،" وہ بولی، خود حیران کہ یہ الفاظ اس کے منہ سے نکلے۔

کمرہ اب سسکیوں اور سانسوں سے بھرا تھا۔ موم بتیاں جل رہی تھیں، پھولوں کی خوشبو پسینے کی خوشبو میں گھل گئی تھی۔ دانش نے مہنور کو پلٹایا، اب وہ گھٹنوں کے بل تھی اور دانش پیچھے سے اندر تھا۔

اس پوزیشن میں دانش اور گہرائی تک گیا۔ مہنور کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ "دانش، مجھے، مجھے کچھ ہو رہا ہے،" وہ بولی، اس کا جسم کانپ رہا تھا۔

"ہونے دو،" دانش نے کہا، اس کی رفتار بڑھا دی۔ "خود کو روکو نہیں۔"

اور پھر مہنور چیخی، ایک لمبی، گہری چیخ، اس کا جسم اینٹھا، اس کی چوت نے دانش کے لنڈ کو بھینچ لیا۔ وہ جھڑ گئی تھی، پہلی بار، اپنے شوہر کی بانہوں میں۔

دانش بھی قریب تھا۔ اس نے مہنور کو سیدھا کیا، اس کے اوپر آیا، اور تیز حرکت کے ساتھ وہ بھی جھڑ گیا، گرم پانی اس کے اندر۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹے، پسینے میں شرابور، ہانپتے ہوئے۔

"یہ، یہ تھا؟" مہنور نے ہانپتے ہوئے پوچھا، آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ "امی نے تو ڈرایا تھا کہ بہت درد ہوگا۔"

"درد بھی تھا، مزہ بھی،" دانش نے اس کے ماتھے کو چوم کر کہا۔ "اور یہ تو صرف شروعات ہے، بیگم صاحبہ۔ رات ابھی باقی ہے۔"

مہنور ہنسی، وہ ہنسی جو دلہن کی نہیں، عورت کی تھی۔ اس نے دانش کے سینے پر سر رکھا اور اس کی دھڑکن سنی۔ "مجھے تم سے،" وہ رکی، پھر بولی، "مجھے تم اچھے لگتے ہو، دانش۔"

دانش نے اسے اور زور سے لپٹایا۔ "سو جاؤ تھوڑی دیر،" اس نے کہا۔ "پھر اٹھ کر دوبارہ، اس بار تم اوپر۔"

مہنور کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ کمرے میں سکون تھا، موم بتیاں آدھی جل چکی تھیں۔ دونوں کی سانسیں ایک تال پر چل رہی تھیں۔

اور تبھی دانش کا فون بجا۔ تیز، چبھتی ہوئی گھنٹی نے سکون توڑ دیا۔ دانش نے فون اٹھایا، اسکرین پر "امی" لکھا تھا۔ اس نے کال لی۔

"ہیلو امی؟" پھر اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "کیا؟ کب؟ ابھی کیسے ہیں؟" مہنور اٹھ بیٹھی، چادر خود پر لپیٹے۔ "کون سا اسپتال؟ میں ابھی آ رہا ہوں، ابھی۔"

فون کٹا۔ دانش نے جلدی سے کپڑے پہننے شروع کیے، ہاتھ کانپ رہے تھے۔ "ابو کو سینے میں درد ہوا ہے،" اس نے کہا، آواز بھرا گئی۔ "اسپتال لے گئے ہیں۔ مجھے جانا ہوگا، ابھی۔"

مہنور کا دل دھک سے رہ گیا۔ "میں بھی چلتی ہوں،" وہ بولی، اٹھنے لگی۔

"نہیں،" دانش نے اسے روکا، اس کے ہاتھ تھامے۔ "تم یہیں رہو، نئی دلہن ہو، آدھی رات کو اسپتال میں تمہارا کیا کام۔ میں فون کرتا رہوں گا۔ دروازہ اندر سے بند کر لینا۔"

اس نے جلدی سے مہنور کے ماتھے کو چوما، اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "میں جلدی واپس آؤں گا، وعدہ۔ رات ابھی ختم نہیں ہوئی، بیگم صاحبہ۔"

دروازہ کھلا، بند ہوا۔ کنڈی کی آواز۔ پھر خاموشی۔ مہنور بستر پر اکیلی رہ گئی، آدھی ننگی، چادر میں لپٹی، موم بتیوں کی ٹمٹماتی روشنی میں۔ باہر کہیں ایمبولینس کی آواز گونجی۔

اس نے فون اٹھایا، کوئی میسج نہیں۔ اس نے دروازے کو دیکھا، پھر بستر کی سلوٹوں کو، جہاں ابھی ان کے جسموں کی گرمی باقی تھی۔ اس کی سہاگ رات آدھی رہ گئی تھی، اور اس کا شوہر اسپتال کی طرف دوڑ رہا تھا۔

اگلا حصہ جلد آ رہا ہے۔ مہنور دروازے کی کنڈی لگا کر واپس بستر پر آئی، مگر اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ باہر صحن میں کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی، جو اسپتال کی طرف نہیں جا رہے تھے۔

📖 The story continues

اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)

Continue to Part 2 →
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

First Time

اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات

لاہور کی پرانی حویلی میں نادیہ کی شادی کی پہلی رات۔ سمیر گھبرایا ہوا ہے اور نادیہ کے پاس چھپی ہوئی کتابوں سے سیکھے راز ہیں۔ اردو دلہن کی پہلی رات کی ایک گرم کہانی۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 1)” also read

8 curated stories
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2

اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات

اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1

نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا

رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔

⏱️ 17 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)

اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔

⏱️ 15 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات

اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات

اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)

اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views