اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات
چمیلی کی خوشبو ثنا کے کمرے میں ہر طرف پھیلی ہوئی تھی اور اس کی چوڑیوں کی ہلکی آواز ہر حرکت کے ساتھ بج رہی تھی۔ وہ آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے سرخ جوڑے کو ٹھیک کر رہی تھی اور دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگ رہا تھا جیسے عمران باہر سے بھی اس کی دھڑکن سن لے گا۔ شادی کی ساری رسم ختم ہو چکی تھی، مہمان جا چکے تھے، اور حیدرآباد کے پرانے شہر والے اس گھر میں اب صرف وہ اور عمران رہ گئے تھے۔ ثنا نے اپنے ہاتھوں کی مہندی کو دیکھا اور سوچا کہ آج کی رات اس کی زندگی کی سب سے نئی رات ہوگی۔
دروازہ آہستہ سے کھلا اور عمران اندر آیا۔ اس کے ہاتھ میں گلاب کا ایک پھول تھا اور اس کی آنکھوں میں وہی شرم اور چاہت تھی جو ثنا نے نکاح کے وقت دیکھی تھی۔ اس نے دروازہ بند کیا اور آہستہ آواز میں کہا کہ آج وہ جلدی نہیں کرے گا، ثنا کو جتنا وقت چاہیے وہ دے گا۔ ثنا نے مسکرا کر کہا کہ وہ ڈری ہوئی نہیں ہے، بس اس لمحے کو محسوس کرنا چاہتی ہے۔ عمران اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
عمران نے ثنا کے ہاتھ کو چوما اور پھر اس کی کلائی سے لے کر کہنی تک آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرا۔ ثنا کی سانس تیز ہو گئی اور اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ عمران نے اس کے کان کے پاس آ کر کہا کہ وہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے اور آج کی رات وہ اسے اپنی دنیا کا سب سے خاص حصہ بنانا چاہتا ہے۔ ثنا نے اس کے کندھے پر سر رکھ دیا اور اس کی قمیض کی خوشبو کو محسوس کیا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی مگر وہ خاموشی محبت سے بھری ہوئی تھی۔
پھر عمران نے ثنا کا گھونگھٹ آہستہ سے اٹھایا اور اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لے کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ ثنا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا بوسہ دیا۔ یہ بوسہ پہلے نرم تھا، پھر گہرا ہو گیا، اور دونوں کی زبانیں آپس میں ملنے لگیں۔ عمران نے ثنا کو اپنی بانہوں میں کھینچ لیا اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ ثنا نے اس کی گردن پر اپنے ہاتھ رکھے اور اسے اور قریب کر لیا۔
عمران نے ثنا کے جوڑے کی ڈوری کو آہستہ آہستہ کھولا اور اس کا بلاؤز اس کے کندھوں سے نیچے سرکا دیا۔ ثنا کی جلد چاندنی میں چمک رہی تھی اور عمران نے اس کے کندھوں پر بوسے دینے شروع کر دیے۔ وہ اس کی گردن سے لے کر سینے تک ہر جگہ پیار کر رہا تھا اور ثنا کی آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ ثنا نے کہا کہ وہ رکے نہیں، آج وہ اسے پورا اپنا بنائے۔ عمران نے اس کی بات سن کر اسے بستر پر لٹا دیا۔
بستر پر لیٹتے ہی ثنا نے عمران کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کر دیے۔ اس نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے نپل کو اپنی انگلیوں سے چھیڑا۔ عمران نے ایک گہری سانس لی اور ثنا کے بالوں میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب کیا۔ دونوں ایک دوسرے کے جسم کو چھو رہے تھے اور ہر چھونے کے ساتھ چاہت بڑھ رہی تھی۔ ثنا نے عمران کی پینٹ کی بیلٹ کھولی اور اس کا لنڈ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
ثنا نے عمران کا لنڈ آہستہ آہستہ ہلایا اور اس کی سختی کو محسوس کیا۔ عمران نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور اسے سکھایا کہ وہ کیسے اسے خوش کر سکتی ہے۔ ثنا نے اس کا لنڈ اپنے منہ میں لیا اور آہستہ آہستہ چوسنے لگی۔ اس کی زبان لنڈ کے اوپر گھوم رہی تھی اور عمران کی آوازیں تیز ہو رہی تھیں۔ عمران نے کہا کہ ثنا بہت اچھا کر رہی ہے اور وہ اسے روکنا نہیں چاہتا۔ ثنا نے اور گہرائی سے چوسا اور عمران کا جسم کانپنے لگا۔
عمران نے ثنا کو روکا اور کہا کہ اب اس کی باری ہے۔ اس نے ثنا کا لہنگا اوپر کیا اور اس کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا۔ اس نے ثنا کی چوت کو اپنی انگلیوں سے چھوا اور دیکھا کہ وہ پوری طرح گیلی ہو چکی تھی۔ عمران نے اپنی زبان سے اس کی چوت کو چاٹنا شروع کیا اور ثنا نے بستر کی چادر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کی کمر اوپر اٹھنے لگی اور اس کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں۔ عمران نے اور تیز چاٹا اور ثنا کی چوت کا پانی اس کے منہ میں آنے لگا۔
ثنا نے عمران کا سر اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور کہا کہ وہ اب اور انتظار نہیں کر سکتی۔ عمران نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ آہستہ اندر دھکیلنا شروع کیا۔ پہلے درد کی ایک لہر ثنا کے جسم میں دوڑی مگر عمران نے رک کر اسے چوما اور اسے سکون دیا۔ پھر اس نے اور اندر دھکیلا اور ثنا نے اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔ دونوں ایک دوسرے میں مکمل طور پر ڈوب گئے تھے۔
عمران نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے اور ہر دھکے کے ساتھ ثنا کی چوت اس کے لنڈ کو اور مضبوطی سے پکڑنے لگی۔ ثنا کی آوازیں اب کھل کر نکل رہی تھیں اور وہ عمران سے کہہ رہی تھی کہ وہ اور تیز کرے۔ عمران نے اپنی رفتار بڑھائی اور بستر ہلنے لگا۔ دونوں کے جسم پسینے سے بھیگ گئے تھے اور کمرے میں صرف ان کی سانسوں اور بستر کی آواز گونج رہی تھی۔ ثنا نے اپنی ٹانگیں عمران کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔
کچھ دیر بعد عمران نے ثنا کو اوپر آنے کو کہا۔ ثنا اس کے اوپر بیٹھ گئی اور اس کا لنڈ اپنی چوت میں لے کر آہستہ آہستہ ہلنے لگی۔ اس کے بال اس کے چہرے پر آ رہے تھے اور اس کے سینے ہر حرکت کے ساتھ ہل رہے تھے۔ عمران نے اس کے سینوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے نپل کو چوسنے لگا۔ ثنا نے اپنی رفتار تیز کی اور اس کی چوت سے پانی بہنے لگا۔ دونوں ایک ساتھ جھڑنے کے قریب پہنچ گئے تھے۔
ثنا نے چیخ کر کہا کہ وہ جھڑنے والی ہے اور عمران نے اس کی کمر کو پکڑ کر اسے اور تیز ہلایا۔ ثنا کا جسم کانپا اور اس کی چوت نے عمران کے لنڈ کو زور سے دبایا۔ عمران بھی نہ رک سکا اور اس نے ثنا کی چوت میں اپنا پانی چھوڑ دیا۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور کچھ دیر تک اسی حالت میں لیٹے رہے۔ ثنا نے عمران کے سینے پر سر رکھا اور اس کی دھڑکن سنی۔
تھوڑی دیر آرام کے بعد عمران نے ثنا کو چوما اور کہا کہ یہ تو صرف شروعات تھی۔ ثنا ہنس پڑی اور کہا کہ وہ ابھی تھکی نہیں ہے۔ عمران نے اسے پیچھے سے پکڑا اور اسے گھوڑی کی طرح جھکا دیا۔ اس نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور اس کی چوت کو پیچھے سے چاٹا۔ ثنا نے اپنی کمر اور نیچے کی اور اسے اندر آنے کا اشارہ دیا۔ عمران نے پیچھے سے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا اور زور زور سے دھکے لگانے لگا۔
پیچھے سے چدائی میں ثنا کو ہر دھکا اور گہرا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے بستر کی چادر کو پکڑا اور اپنی کمر کو ہلایا۔ عمران نے اس کے بال پکڑے اور اسے اپنی طرف کھینچا۔ دونوں کی آوازیں کمرے میں گونج رہی تھیں اور ثنا بار بار کہہ رہی تھی کہ وہ اسی طرح کرتا رہے۔ عمران نے اپنی رفتار اور بڑھائی اور ثنا کی چوت کا پانی اس کی ٹانگوں پر بہنے لگا۔
عمران نے ثنا کو پلٹا کر اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس حالت میں اس کا لنڈ ثنا کی چوت میں سب سے گہرائی تک جا رہا تھا۔ ثنا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اس کے ہاتھوں کو پکڑ لیا۔ ہر دھکے کے ساتھ ثنا کی سسکیاں بڑھ رہی تھیں اور عمران بھی جھڑنے کے قریب تھا۔ اس نے ثنا کے سینوں کو دبایا اور آخری زور دار دھکوں کے ساتھ دونوں پھر ایک ساتھ جھڑ گئے۔
جھڑنے کے بعد دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ عمران نے ثنا کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا کہ آج کی رات اس کی زندگی کی سب سے خوبصورت رات ہے۔ ثنا نے کہا کہ وہ بھی یہی محسوس کر رہی ہے اور اب وہ ہر رات اسی طرح چاہتی ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو چوما اور کچھ دیر تک باتیں کرتے رہے۔ باہر حیدرآباد کی گلیوں میں خاموشی تھی مگر ان کے کمرے میں محبت کی گرمی تھی۔
رات کے آخری پہر میں عمران پھر ثنا کے قریب آیا۔ اس نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا اور اس کی چوت کو پھر چھیڑا۔ ثنا نے نیند سے جاگ کر اسے مسکرا کر دیکھا اور اس کا لنڈ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس بار دونوں نے آہستہ اور پیار سے چدائی کی، ایک دوسرے کو چومتے ہوئے، باتیں کرتے ہوئے۔ ثنا نے عمران کے کان میں کہا کہ وہ اس سے بہت محبت کرتی ہے۔ عمران نے جواب میں اسے اور مضبوطی سے جکڑ لیا۔
صبح کی اذان سے پہلے دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں سو گئے۔ ثنا کے چہرے پر سکون تھا اور عمران کے چہرے پر خوشی۔ جب صبح کی پہلی روشنی کھڑکی سے اندر آئی تو ثنا نے آنکھیں کھولیں اور عمران کو اپنے پاس سویا ہوا پایا۔ اس نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور سوچا کہ پہلی رات کی یہ کہانی اس کے دل میں ہمیشہ رہے گی۔ عمران نے آنکھیں کھولیں اور اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔
صبح ثنا نے عمران کے لیے چائے بنائی اور دونوں نے چھت پر بیٹھ کر چائے پی۔ عمران نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ آج سے ان کی ہر رات اسی محبت سے بھری ہوگی۔ ثنا نے شرما کر کہا کہ وہ تیار ہے، مگر پہلے وہ اسے ناشتہ کرائے گی۔ دونوں ہنس پڑے اور ایک دوسرے کو چوم لیا۔ حیدرآباد کی صبح ان کے لیے نئی زندگی کی صبح تھی۔
اس رات کے بعد ثنا اور عمران کا رشتہ اور گہرا ہو گیا۔ ہر رات وہ ایک دوسرے کے قریب آتے اور اپنی چاہت کو نئے طریقوں سے پورا کرتے۔ ثنا نے سیکھ لیا تھا کہ محبت میں شرم کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور عمران نے سیکھ لیا تھا کہ بیوی کی خوشی ہی اصل خوشی ہے۔ ان کی پہلی رات کی کہانی ان دونوں کے لیے ایک یاد بن گئی جسے وہ ہمیشہ مسکرا کر یاد کرتے تھے۔
دوپہر کو جب گھر میں کوئی نہیں تھا تو عمران نے ثنا کو باورچی خانے میں پیچھے سے پکڑ لیا۔ ثنا برتن دھو رہی تھی اور اس کے ہاتھ گیلے تھے۔ عمران نے اس کی گردن پر بوسہ دیا اور اس کا جوڑا اوپر کر دیا۔ ثنا نے ہنس کر کہا کہ وہ کام کر رہی ہے مگر عمران نے اس کی چوت کو چھوا اور وہ بھیگی ہوئی تھی۔
عمران نے ثنا کو کچن کی میز پر جھکا دیا اور پیچھے سے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈال دیا۔ ثنا نے میز کو پکڑا اور اپنی کمر ہلائی۔ دونوں آہستہ آہستہ چدائی کر رہے تھے تاکہ باہر کوئی آواز نہ سنے۔ مگر ثنا کی سسکیاں بڑھ رہی تھیں اور عمران نے اس کا منہ اپنے ہاتھ سے بند کر دیا۔
کچھ دیر بعد عمران نے ثنا کو پلٹایا اور اسے میز پر بٹھا کر اس کی ٹانگیں کھول دیں۔ اس نے اس کی چوت کو چاٹا اور پھر اپنا لنڈ اندر ڈال کر زور سے دھکے لگائے۔ ثنا نے اس کی گردن میں بانہیں ڈال لیں اور اسے چومنے لگی۔ دونوں کی چاہت دوپہر کی خاموشی میں اور تیز ہو گئی تھی۔
آخر میں دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے اور ثنا نے عمران کے سینے پر سر رکھ دیا۔ عمران نے کہا کہ دوپہر کی یہ چدائی اسے پہلی رات سے بھی زیادہ یاد رہے گی۔ ثنا نے شرما کر کہا کہ اب وہ اسے کام کرنے دے، ورنہ کھانا نہیں بنے گا۔ دونوں ہنس پڑے اور ایک دوسرے کو چوم کر اپنے کام میں لگ گئے۔
شام کو ثنا نے عمران کو چائے دی اور اس کے پاس بیٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ عمران نے اس کے کان میں کہا کہ رات کو وہ پھر اسی طرح اسے پیار کرے گا۔ ثنا نے اس کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھوں میں وہی چاہت دیکھی جو پہلی رات تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا کہ وہ انتظار کرے گی اور عمران نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دے دیا۔
Readers who enjoyed “اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات” also read
8 curated storiesنوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کے گودام میں موسم کے آخری ڈھیر کے بعد کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو کسی بیچ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی
نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی۔ آخری ڈھیر۔ کنواری منالہ اور نائٹ گارڈ ارشد۔ وہ خوشبو جو بیچ کے رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2
اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1
نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)
اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔
اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات
اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔
اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)
اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔