اردو ہنی مون سیکس کہانی: نئی دلہن کی پہلی رات
مری کے اس ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوتے ہی ماہ نور کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ یہ اردو ہنی مون سیکس کہانی اسی رات سے شروع ہوتی ہے، جس رات کا انتظار اس نے اپنی شادی کے دن سے کیا تھا۔ کمرے میں ہلکی سنہری روشنی تھی، بستر پر گلاب کی پتیاں بکھیری گئی تھیں، اور کھڑکی سے پہاڑوں کی ٹھنڈی ہوا اندر آ رہی تھی۔ یاسر دروازہ بند کر کے اس کی طرف مڑا، اور دونوں ایک لمحے کے لیے بس ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔
ماہ نور باتھ روم سے سرخ نائٹی میں نکلی تھی۔ اس کے بال کھلے تھے، چہرے پر ہلکا سا میک اپ، اور آنکھوں میں شرم کے ساتھ ساتھ ایک چھپی ہوئی بے چینی بھی تھی۔ یاسر بستر کے کنارے بیٹھا تھا، اس کی قمیض کے بٹن کھلے تھے۔ "تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو،" اس نے کہا، آواز میں ہلکی سی کپکپاہٹ تھی۔ ماہ نور نے نظریں جھکا لیں، "شکریہ۔"
شادی کو تین دن ہو گئے تھے، لیکن ان کی پہلی رات ادھوری رہ گئی تھی۔ گھر میں ساس نے عین وقت پر دروازہ کھٹکھٹا دیا تھا، کوئی رشتہ دار آ گیا تھا، اور پھر صبح ہو گئی تھی۔ اسی لیے یاسر نے یہ ہنی مون پلان کیا تھا، مری کا یہ ہوٹل، یہ کمرہ، جہاں کوئی دروازہ نہیں کھٹکھٹائے گا۔ "اب کوئی ہمیں ڈسٹرب نہیں کرے گا،" یاسر نے کہا، اور ماہ نور کے دل کی دھڑکن اور تیز ہو گئی۔
یاسر اٹھا اور اس کے قریب آیا۔ اس نے ماہ نور کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا، انگوٹھے سے اس کے گال سہلاتا ہوا۔ "ڈرو مت،" اس نے نرمی سے کہا۔ "میں تمہارا شوہر ہوں، تمہارا دشمن نہیں۔" ماہ نور نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، اور وہاں اسے صرف محبت نظر آئی، کوئی جلدی نہیں، کوئی زبردستی نہیں۔ اس نے ہلکے سے سر ہلایا۔
یاسر نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، محتاط، جیسے وہ اس کی اجازت مانگ رہا ہو۔ ماہ نور نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے، اور پھر خود اس کے ہونٹوں کو چومنے لگی۔ بوسہ گہرا ہوتا گیا۔ یاسر کی زبان ماہ نور کے منہ میں داخل ہوئی، اور ماہ نور نے ایک ہلکی سی سسکی بھری۔ اس کے جسم میں ایک انوکھی گرمی دوڑ گئی۔
یاسر کے ہاتھ ماہ نور کی کمر پر تھے، آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھتے ہوئے۔ اس نے اس کی نائٹی کے اسٹریپ کندھوں سے سرکائے۔ ماہ نور نے شرما کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا، لیکن یاسر نے اس کے کان میں سرگوشی کی، "تم میری بیوی ہو، ماہ نور۔ مجھے دیکھنے دو۔" اس کے لہجے میں اتنی نرمی تھی کہ ماہ نور نے ہاتھ چھوڑ دیا۔ نائٹی اس کے جسم سے پھسل کر فرش پر گر گئی۔
ماہ نور صرف لال لنجری میں کھڑی تھی۔ یاسر نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا، اس کی نظروں میں تعریف تھی۔ "سبحان اللہ،" وہ بڑبڑایا۔ اس نے ماہ نور کو اپنی بانہوں میں لے لیا، اس کے برہنہ کندھوں کو چومتا ہوا۔ ماہ نور نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے، اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ یاسر کی چھاتی چوڑی تھی، ہلکے بالوں والی۔ ماہ نور نے اس کی چھاتی پر ہاتھ پھیرا، اور یاسر نے آنکھیں بند کر لیں۔
یاسر نے ماہ نور کی برا کا ہک کھولا۔ اس کے ممے باہر نکل آئے، گول اور نرم، نپل تنے ہوئے۔ یاسر نے ایک نپل کو منہ میں لے لیا، چوستا ہوا، زبان سے اس کے گرد گھماتا ہوا۔ ماہ نور نے اس کے بال پکڑ لیے، "یاسر،" وہ سسکی، "یہ کیا ہو رہا ہے مجھے؟" یاسر نے دوسرے ممے کو ہاتھ سے مسلتے ہوئے کہا، "یہی تو ہونا چاہیے، میری جان۔"
اس نے ماہ نور کو بستر پر لٹا دیا۔ گلاب کی پتیاں اس کے جسم کے نیچے دب گئیں۔ یاسر اس کے اوپر آیا، اس کے پیٹ کو چومتا ہوا نیچے کی طرف بڑھتا گیا۔ اس نے ماہ نور کی پینٹی کو دانتوں سے پکڑ کر نیچے کھینچا۔ ماہ نور نے اپنی ٹانگیں سکیڑنے کی کوشش کی، لیکن یاسر نے انہیں نرمی سے کھول دیا۔ "شرماؤ مت،" اس نے کہا، اور اس کی چوت کو چوم لیا۔
ماہ نور کے جسم کو جھٹکا لگا۔ اس نے پہلے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا تھا۔ یاسر کی زبان اس کی چوت پر گھوم رہی تھی، اس کے دانے کو چھیڑتی ہوئی، اندر تک جاتی ہوئی۔ ماہ نور کی چیخیں نکلنے لگیں، اس نے تکیے کو منہ سے لگا لیا۔ اس کی چوت سے پانی نکل رہا تھا، اور یاسر اسے چاٹ رہا تھا، پیتا جا رہا تھا۔ "یاسر، بس کرو، میں، میں کچھ ہو رہا ہے،" ماہ نور ہانپ رہی تھی۔
"ہونے دو،" یاسر نے کہا، اور اپنی زبان کی رفتار بڑھا دی۔ ماہ نور کا جسم تن گیا، پھر ایک زور دار جھٹکے کے ساتھ وہ جھڑ گئی۔ اس کی چیخ کمرے میں گونج گئی۔ وہ ہانپ رہی تھی، اس کا سارا جسم کانپ رہا تھا۔ یاسر اوپر آیا اور اس کے ہونٹ چومے۔ ماہ نور نے اپنی ہی چوت کا ذائقہ اس کے منہ میں محسوس کیا، اور اسے کوئی گھن نہیں آئی، صرف ایک عجیب سی خوشی ہوئی۔
"اب میری باری،" ماہ نور نے شرماتے ہوئے کہا۔ اس نے یاسر کی پینٹ کھولی۔ اس کا لنڈ باہر نکلا، پورا تنا ہوا، موٹا اور لمبا۔ ماہ نور کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "یہ، یہ اتنا بڑا؟" یاسر ہنسا، "ڈرو مت، آہستہ آہستہ کریں گے۔" ماہ نور نے اسے ہاتھ میں پکڑا، گرم اور سخت۔ اس نے اسے ہلانا شروع کیا، پھر جھک کر اس کے ٹوپے کو چوم لیا۔
یاسر نے سسکی بھری۔ ماہ نور نے اس کے لنڈ کو منہ میں لے لیا، جتنا لے سکتی تھی۔ وہ اسے اندر باہر کر رہی تھی، زبان سے اسے چاٹتی ہوئی۔ یاسر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، "بس، ماہ نور، بس۔ ورنہ میں ابھی نکل جاؤں گا۔" ماہ نور نے اسے چھوڑا، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، ایک نئی قسم کی بے باکی۔
یاسر نے ماہ نور کی ٹانگیں کھولیں اور اس کے اوپر آیا۔ اس نے اپنے لنڈ کو اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ "تیار ہو؟" اس نے پوچھا۔ ماہ نور نے سر ہلایا، آنکھوں میں ہلکا سا ڈر تھا، لیکن زیادہ تجسس تھا۔ یاسر نے آہستہ سے دباؤ ڈالا۔ اس کا ٹوپا اندر داخل ہوا۔ ماہ نور نے درد سے سسکی بھری، اس نے یاسر کی پیٹھ پر ناخن گاڑ دیے۔
"رکو، رکو،" ماہ نور نے کہا۔ یاسر رک گیا، اس کے ماتھے کو چومتا ہوا۔ "سانس لو، میری جان۔" کچھ لمحوں بعد ماہ نور نے سر ہلایا۔ یاسر نے ایک اور زور لگایا، اور اس کا لنڈ آدھا اندر چلا گیا۔ ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن اس نے یاسر کو روکا نہیں۔ "اور، اور کرو،" اس نے سرگوشی کی۔
یاسر نے ایک آخری زور لگایا، اور پورا لنڈ اندر تھا۔ ماہ نور نے چیخ کو دبایا۔ یاسر نے اسے وقت دیا، اس کے مموں کو سہلاتا ہوا، اس کی گردن کو چومتا ہوا۔ آہستہ آہستہ درد کم ہوا، اور ایک نئی قسم کی بھرمار نے اس کی جگہ لے لی۔ ماہ نور نے اپنی کمر ہلائی، "اب، اب ہلو۔" یاسر نے دھکے مارنے شروع کیے، آہستہ آہستہ، گہرے۔
کمرہ ان کی سانسوں اور بستر کی چرمراہٹ سے بھر گیا۔ ماہ نور نے اپنی ٹانگیں یاسر کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ "تیز، تیز کرو،" وہ بولی، اور خود حیران رہ گئی کہ یہ الفاظ اس کے منہ سے نکلے تھے۔ یاسر نے رفتار بڑھا دی۔ اس کا لنڈ اس کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا، اور ماہ نور کو لگ رہا تھا جیسے وہ کسی اور دنیا میں ہے۔
"میں، میں پھر سے،" ماہ نور چیخی، اور اس کا جسم ایک بار پھر تن گیا۔ وہ زور سے جھڑی، اس کی چوت نے یاسر کے لنڈ کو کس کر پکڑ لیا۔ یاسر بھی نہ رک سکا، وہ اس کے اندر ہی جھڑ گیا، گرم دھار اس کے اندر اترتی ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹے ہانپ رہے تھے، پسینے میں بھیگے ہوئے۔
کچھ دیر بعد ماہ نور یاسر کی چھاتی پر سر رکھ کر لیٹی تھی۔ "درد ہوا تھا،" اس نے کہا، "لیکن اب اچھا لگ رہا ہے۔" یاسر نے اس کے بال سہلائے، "پہلی بار ایسا ہی ہوتا ہے۔" ماہ نور نے اس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں شرارت تھی، "تو دوسری بار کب ہوگی؟" یاسر ہنسا، "تم تو بڑی بے صبر نکلی، بیگم صاحبہ۔"
ماہ نور نے اس کے اوپر آ کر اسے دبایا۔ اس بار وہ خود اوپر تھی۔ اس نے یاسر کے لنڈ کو پکڑ کر اپنی چوت میں ڈالا، اور خود ہلنے لگی۔ اس کے ممے یاسر کے چہرے کے سامنے جھول رہے تھے، اور یاسر انہیں باری باری چوس رہا تھا۔ ماہ نور کی رفتار تیز ہوتی گئی۔ وہ اب شرما نہیں رہی تھی، وہ مانگ رہی تھی۔
"ہاں، ایسے ہی،" یاسر ہانپ رہا تھا۔ ماہ نور نے اس کے ہاتھ پکڑ کر اپنے مموں پر رکھے، "دباؤ انہیں۔" یاسر نے انہیں مسلا، نپلوں کو چٹکیا۔ ماہ نور کی چیخیں تیز ہو گئیں۔ اس نے اپنی کمر کو گھمایا، یاسر کے لنڈ کو اپنی چوت میں گہرائی تک محسوس کرتی ہوئی۔ "میں تمہاری ہوں، یاسر، صرف تمہاری،" وہ بولی۔
دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ ماہ نور یاسر کے اوپر گر پڑی، دونوں ہانپ رہے تھے۔ کمرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی، اور باہر پہاڑوں سے آتی ٹھنڈی ہوا۔ ماہ نور نے یاسر کے ہونٹ چومے، ایک لمبا، مطمئن بوسہ۔ "اب مجھے ڈر نہیں لگتا،" اس نے سرگوشی کی۔ یاسر نے اسے کس کر گلے لگایا، "اور اب تمہیں کبھی ڈرنے کی ضرورت بھی نہیں۔"
کھڑکی سے چاند کی روشنی اندر آ رہی تھی۔ ماہ نور نے یاسر کے سینے پر سر رکھا، اس کے دل کی دھڑکن سنتے ہوئے۔ تین دن کی ادھوری راتوں کے بعد، یہ ان کی پہلی پوری رات تھی۔ اور دونوں جانتے تھے کہ یہ صرف شروعات تھی۔ ماہ نور نے آنکھیں بند کیں، ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے، اور یاسر کی بانہوں میں سو گئی۔
Readers who enjoyed “اردو ہنی مون سیکس کہانی: نئی دلہن کی پہلی رات” also read
8 curated storiesاردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2
اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟
اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات
اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1
نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)
اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔
اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات
اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔
اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)
اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔