اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کی پہلی رات، حصہ 1
“مہک، دروازہ بند کر دو،” ارمان نے آہستہ سے کہا، اور اس کی آواز میں وہ گھبراہٹ تھی جو دولہا اپنی اردو دلہن کی سہاگ رات میں چھپا نہیں پاتا۔ مہک نے مسکرا کر دروازہ بند کیا، اور لکھنؤ کے اس چھوٹے سے کمرے میں پھولوں کی خوشبو اور نئی چادروں کی مہک ایک ساتھ گھل گئی۔ ارمان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے بستر تک لے آیا، جہاں گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں۔ مہک کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ڈر سے زیادہ تجسس تھا۔
ارمان نے مہک کے گھونگھٹ کو آہستہ سے اوپر اٹھایا اور اس کے چہرے کو دیکھا۔ مہک نے نظریں جھکا لیں، مگر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ ارمان نے کہا، تم آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو، اور مہک نے جواب میں اس کے ہاتھ کو دبا دیا۔ ارمان نے اس کی پیشانی پر ایک نرم بوسہ دیا، پھر اس کے گال پر، پھر اس کے ہونٹوں کے قریب رک گیا۔ مہک نے خود آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں کو چوم لیا، اور دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں گھل گئیں۔
مہک کا لہنگا بھاری تھا، اور ارمان نے اسے اتارنے میں مدد کی۔ اس نے مہک کے بلاؤز کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے، اور ہر بٹن کے ساتھ مہک کی سانس تیز ہوتی گئی۔ مہک نے ارمان کی شیروانی کے بٹن کھولے اور اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا۔ ارمان کا جسم گرم تھا، اور مہک کی انگلیاں اس کے سینے پر لکیریں کھینچ رہی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس پڑے، کیونکہ گھبراہٹ اب مزے میں بدل رہی تھی۔
ارمان نے مہک کو بستر پر لٹایا اور اس کے اوپر جھک گیا۔ اس نے مہک کی گردن پر بوسے دیے، اور مہک نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر دیں۔ ارمان نے اس کے بلاؤز کو ایک طرف کیا اور اس کے سینے کو ہاتھ سے سہلایا۔ مہک نے آہ بھری اور کہا، آہستہ، ارمان، مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ ارمان نے کہا، ڈرو مت، میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا، اور اس نے اس کے سینے پر نرمی سے بوسہ دیا۔
مہک نے ارمان کے سینے کو چوما اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا۔ ارمان نے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھا اور آہستہ آہستہ نیچے لے گیا۔ مہک کی ٹانگیں خود بخود تھوڑی سی کھل گئیں، اور ارمان نے اس کی رانوں پر بوسے دیے۔ مہک نے کہا، ارمان، یہ عجیب لگ رہا ہے، مگر اچھا بھی لگ رہا ہے۔ ارمان ہنسا اور کہا، یہی تو سہاگ رات ہوتی ہے، جان۔
ارمان نے مہک کا لہنگا پوری طرح اتار دیا، اور مہک صرف اپنی چھوٹی سی چولی اور پینٹی میں رہ گئی۔ ارمان نے اس کے جسم کو دیکھا اور کہا، تم کتنی حسین ہو۔ مہک شرما گئی اور اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں سے چھپا لیا۔ ارمان نے اس کے ہاتھ ہٹائے اور کہا، مجھ سے مت چھپاؤ، آج کی رات تم میری ہو۔ مہک نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور آہستہ سے سر ہلایا۔
ارمان نے مہک کی چولی کھولی اور اس کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔ اس نے ان کو نرمی سے دبایا اور مہک نے ایک لمبی آہ بھری۔ ارمان نے اس کے نپل کو زبان سے چاٹا اور مہک کا جسم کانپ گیا۔ مہک نے کہا، ارمان، اور کرو، رک مت۔ ارمان نے دوسرے ممے کو بھی اسی طرح چوما اور چاٹا، اور مہک کی سانسیں اور تیز ہو گئیں۔
مہک نے ارمان کی قمیض اتار دی اور اس کے ننگے سینے سے اپنا سینہ لگا لیا۔ دونوں کے جسموں کی گرمی ایک دوسرے میں اتر گئی۔ ارمان نے مہک کی پینٹی کے اوپر سے اس کی چوت کو سہلایا، اور مہک نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ مہک نے کہا، اندر سے چھوؤ، ارمان۔ ارمان نے اس کی پینٹی اتار دی اور اس کی گیلی چوت کو اپنی انگلیوں سے سہلانے لگا۔
مہک کی چوت پوری طرح گیلی ہو چکی تھی، اور ارمان کی انگلیاں آسانی سے اندر باہر ہو رہی تھیں۔ مہک نے اس کے کندھے کو پکڑا اور کہا، بس، اب اور برداشت نہیں ہوتا۔ ارمان نے اپنی پینٹ اتاری اور اپنا لنڈ باہر نکالا۔ مہک نے اسے پہلی بار دیکھا اور اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس نے کہا، یہ تو بہت بڑا ہے، مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ ارمان نے کہا، میں آہستہ کروں گا، وعدہ۔
ارمان نے اپنا لنڈ مہک کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ سے دباؤ ڈالا۔ مہک نے ایک ہلکی سی چیخ ماری اور ارمان رک گیا۔ مہک نے کہا، رک مت، بس آہستہ۔ ارمان نے پھر دباؤ ڈالا اور اس کا لنڈ تھوڑا اور اندر گیا۔ مہک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر اس نے ارمان کو خود سے الگ نہیں کیا۔ ارمان نے اس کے ہونٹ چومے اور کہا، تم بہت بہادر ہو، جان۔
تھوڑی دیر میں ارمان کا لنڈ مہک کی چوت میں پوری طرح اتر گیا۔ مہک نے اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا اور کہا، اب حرکت کرو، ارمان۔ ارمان نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے، اور ہر دھکے کے ساتھ مہک کی آہیں نکلنے لگیں۔ مہک کی چوت نے ارمان کے لنڈ کو کس کر پکڑ لیا، اور دونوں کو ایک عجیب سا نشہ چڑھ گیا۔
ارمان نے رفتار بڑھائی اور مہک نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ مہک نے کہا، اور تیز، ارمان، اور تیز۔ ارمان نے اس کی بات مانی اور زور سے دھکے لگانے لگا۔ بستر ہلنے لگا اور مہک کی چوڑیاں کھنکنے لگیں۔ مہک نے کہا، ہاں، یہی، بس یہی۔ ارمان نے اس کے مموں کو چومتے ہوئے چودنا جاری رکھا۔
مہک کا جسم اکڑنے لگا اور اس نے ارمان کو زور سے پکڑ لیا۔ اس نے کہا، ارمان، میں آ رہی ہوں، میں آ رہی ہوں۔ ارمان نے کہا، آ جاؤ، جان، رک مت۔ مہک نے ایک لمبی آہ کے ساتھ اپنا پانی چھوڑ دیا، اور اس کی چوت نے ارمان کے لنڈ کو بار بار نچوڑا۔ ارمان بھی زیادہ دیر نہ رک سکا اور اس نے مہک کے اندر ہی اپنا پانی چھوڑ دیا۔
دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ ارمان نے مہک کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا، تم میری زندگی کی سب سے خوبصورت رات ہو۔ مہک نے مسکرا کر کہا، اور یہ رات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس پڑے۔ مہک نے ارمان کے سینے پر سر رکھ دیا اور اس کی دھڑکن سنی۔
کچھ دیر بعد مہک نے ارمان کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے سینے پر رکھ دیا۔ اس نے کہا، ارمان، مجھے پھر سے چاہیے۔ ارمان نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا، اتنی جلدی؟ مہک نے شرارت سے کہا، سہاگ رات میں جلدی کیا ہوتی ہے۔ ارمان ہنسا اور اسے اپنے اوپر کھینچ لیا۔ مہک اس کے اوپر بیٹھ گئی اور اس کے لنڈ کو اپنی چوت میں خود اتار لیا۔
مہک اوپر سے حرکت کرنے لگی، اور ارمان نے اس کی کمر کو پکڑ لیا۔ مہک کے ممے ہر حرکت کے ساتھ ہل رہے تھے، اور ارمان نے انہیں اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ مہک نے کہا، دیکھو، میں بھی کر سکتی ہوں۔ ارمان نے کہا، تم تو کمال ہو، جان۔ مہک نے رفتار بڑھائی اور اس کی آہیں کمرے میں گونجنے لگیں۔
مہک نے ارمان کے لنڈ پر تیزی سے اوپر نیچے ہونا شروع کیا، اور ارمان نے اس کی چوت کو نیچے سے دھکے دینے شروع کر دیے۔ دونوں کی حرکتیں ایک تال میں آ گئیں، اور مہک نے پھر سے اپنا پانی چھوڑ دیا۔ اس بار ارمان نے خود کو روک لیا اور کہا، ابھی نہیں، ابھی ایک اور طریقہ باقی ہے۔ مہک نے حیرت سے پوچھا، کون سا طریقہ؟
ارمان نے مہک کو گھوڑی کی طرح کھڑا کیا اور اس کے پیچھے آ گیا۔ اس نے مہک کی کمر پر بوسہ دیا اور اپنا لنڈ اس کی چوت میں پیچھے سے ڈال دیا۔ مہک نے کہا، اوہ، یہ تو اور گہرا لگ رہا ہے۔ ارمان نے اس کے بال پکڑے اور زور سے چودنے لگا۔ مہک نے بستر کی چادر کو مٹھی میں پکڑ لیا اور اس کی آہیں تیز ہو گئیں۔
ارمان نے مہک کے مموں کو پیچھے سے پکڑا اور انہیں دباتے ہوئے چودتا رہا۔ مہک نے کہا، ارمان، بس، میں پھر آ رہی ہوں۔ ارمان نے کہا، آ جاؤ، جان، سب کچھ چھوڑ دو۔ مہک نے تیسری بار اپنا پانی چھوڑا، اور اس بار ارمان نے بھی اپنا پانی اس کے اندر چھوڑ دیا۔ دونوں بستر پر گر گئے اور ہانپنے لگے۔
مہک نے ارمان کے سینے پر سر رکھا اور کہا، ارمان، ایک بات بتاؤ، تم نے کبھی کسی اور سے محبت کی تھی؟ ارمان کا جسم اچانک سخت ہو گیا۔ اس نے کہا، مہک، یہ سوال اس رات کیوں؟ مہک نے کہا، کیونکہ تمہاری آنکھوں میں کچھ چھپا ہوا ہے، اور میں تمہاری بیوی ہوں، مجھے حق ہے جاننے کا۔ ارمان نے خاموشی سے چھت کو دیکھا۔
ارمان نے آہستہ سے کہا، مہک، ایک بات ہے جو مجھے تمہیں بتانی چاہیے، مگر آج کی رات نہیں۔ مہک نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا، نہیں، آج ہی، ابھی۔ ارمان نے اس کی طرف دیکھا اور اس کے ہونٹ کانپنے لگے۔ اس نے کہا، مہک، وہ لڑکی جس سے میں محبت کرتا تھا، وہ ابھی بھی اس شہر میں ہے۔ مہک کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
مہک نے کہا، کون ہے وہ؟ ارمان نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا، مگر اسی لمحے دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ دونوں چونک گئے۔ مہک نے چادر اپنے اوپر لپیٹ لی اور ارمان نے جلدی سے اپنی قمیض پہنی۔ دروازے کے باہر سے ایک عورت کی آواز آئی، ارمان، دروازہ کھولو، مجھے تم سے ابھی بات کرنی ہے۔ مہک نے ارمان کی طرف دیکھا، اور ارمان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
مہک نے سرگوشی میں پوچھا، یہ کون ہے، ارمان؟ ارمان نے دروازے کی طرف دیکھا اور اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ اس نے کہا، مہک، یہ وہی ہے۔ مہک نے دروازے کی طرف دیکھا، اور دستک پھر سے ہوئی، اس بار اور زور سے۔ مہک کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا، اور اس نے چادر کو اور کس کر پکڑ لیا۔ کمرے میں سناٹا چھا گیا، اور صرف دستک کی آواز گونج رہی تھی۔
اگلا حصہ جلد آ رہا ہے۔ دروازے کے پیچھے کون ہے، اور ارمان کا راز کیا ہے، یہ سب اگلے حصے میں کھلے گا۔
بارات کی رات جب سب لوگ ناچ گانے میں مصروف تھے، مہک چھت سے نیچے اسٹور روم میں اپنا دوپٹہ لینے گئی تھی۔ ارمان اس کے پیچھے پیچھے آ گیا اور دروازہ آہستہ سے بند کر دیا۔ مہک نے کہا، تم یہاں کیا کر رہے ہو، کوئی آ جائے گا۔ ارمان نے مسکرا کر کہا، اسی لیے تو آیا ہوں، سب کو ناچنے دو، مجھے تم سے دو منٹ چاہییں۔
ارمان نے مہک کو دیوار سے لگا لیا اور اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔ مہک نے پہلے اسے دھکیلا، پھر خود اس کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔ ارمان نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے کان میں کہا، تم اس لال جوڑے میں کتنی حسین لگ رہی ہو۔ مہک شرما گئی اور بولی، بس کرو، باہر سب انتظار کر رہے ہیں۔
ارمان نے اس کے بلاؤز کے اوپر سے اس کے مموں کو سہلایا اور مہک کی سانس تیز ہو گئی۔ مہک نے کہا، ارمان، یہاں نہیں، رات کو کمرے میں سب ہو گا۔ ارمان نے اس کے ہونٹ پھر چومے اور کہا، رات کو تو ہو گا ہی، مگر یہ لمحہ بھی میرا ہے۔ اس نے مہک کی گردن پر بوسے دیے اور مہک نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر دیں۔
باہر ڈھول کی آواز تیز ہو گئی اور مہک نے ارمان کو دھکیلا۔ اس نے کہا، بس، اب جاؤ، میں آتی ہوں۔ ارمان نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا، مگر جاتے جاتے اس نے مہک کی طرف دیکھ کر آنکھ ماری۔ مہک نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ اس کے گال لال تھے اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
مہک نے دل میں سوچا، یہ آدمی تو رات ہونے سے پہلے ہی میرا دل لے گیا۔ وہ سیڑھیاں چڑھ کر واپس ناچ میں شامل ہو گئی، مگر اس کی نظریں بار بار ارمان کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ ارمان نے دور سے اسے دیکھا اور مسکرا دیا۔ اس رات مہک کو پہلی بار لگا کہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت باب شروع ہونے والا ہے۔
اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)
Readers who enjoyed “اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کی پہلی رات، حصہ 1” also read
8 curated storiesنوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کے گودام میں موسم کے آخری ڈھیر کے بعد کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو کسی بیچ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی
نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی۔ آخری ڈھیر۔ کنواری منالہ اور نائٹ گارڈ ارشد۔ وہ خوشبو جو بیچ کے رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2
اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟
اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات
اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1
نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)
اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات
اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: گھبرائے دولہا دانیال اور نڈر دلہن ثنا کی پہلی رات۔ جب شرمیلے پن کا پردہ اٹھا تو لاہور کی حویلی میں ایک ناقابل فراموش رات رقم ہو گئی۔
اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات
اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔