اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات
"دروازہ بند کرو،" ثنا نے کہا، اور دانیال کے کانپتے ہاتھ سے کنڈی چھوٹ کر دھات کی ٹھنڈی کھنک کے ساتھ لگ گئی۔ یہ ان کی اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری کی پہلی سطر تھی، اور دانیال کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے یقین تھا ثنا اس کی دھڑکن سن رہی ہے۔
لاہور کی اس پرانی حویلی کا کمرہ پھولوں سے سجا تھا، گیندے اور گلاب کی خوشبو ہر کونے میں بسی ہوئی تھی۔ بستر پر سرخ چادر بچھی تھی، اور کونے میں رکھے دیے کی لو مدھم مدھم جل رہی تھی۔ باہر صحن میں بارات کا شور ابھی تھما تھا، مہمان جا چکے تھے، اور اب اس کمرے میں صرف وہ دو تھے۔
ثنا سرخ جوڑے میں بستر کے کنارے بیٹھی تھی، گھونگھٹ اس کے چہرے پر تھا، لیکن اس کی آنکھیں گھونگھٹ کے پار سے دانیال کو گھور رہی تھیں۔ دانیال نے آج تک کسی لڑکی کا ہاتھ بھی نہیں پکڑا تھا، اور اب اس کی نئی نویلی دلہن اس کے سامنے بیٹھی اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وہ کوئی شکار ہو۔
"تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟" ثنا نے ہنستے ہوئے کہا، اور گھونگھٹ خود ہی پیچھے ہٹا دیا۔ اس کا چہرہ چاندنی کی طرح چمک رہا تھا، ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ تھی۔ "میں کوئی شیرنی نہیں ہوں، دانیال۔"
دانیال نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ "وہ... میں... مجھے نہیں پتا کہ... مطلب..." اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ ثنا اٹھی اور اس کے قریب آئی، اس کے قدموں کی چاپ سنگ مرمر کے فرش پر گونج رہی تھی۔
اس نے دانیال کا ہاتھ پکڑا اور اپنے گال پر رکھ دیا۔ اس کی جلد نرم اور گرم تھی، اور دانیال کی انگلیاں بے اختیار کانپنے لگیں۔ "دیکھو،" ثنا نے سرگوشی کی، "میں نے ناول پڑھے ہیں۔ رومانوی ناول۔ مجھے سب پتا ہے کہ آج رات کیا ہوتا ہے۔"
دانیال کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ اسے سکھائے گا، رہنمائی کرے گا، لیکن یہاں تو بازی الٹی پڑ رہی تھی۔ ثنا نے اس کی شرٹ کے پہلے بٹن پر انگلی رکھی اور آہستہ سے گھمایا۔ "تم نے بھی کچھ پڑھا ہے؟ یا تم بالکل کورے ہو؟"
"میں... تھوڑا بہت..." دانیال نے جھوٹ بولنے کی کوشش کی، لیکن اس کے سرخ گالوں نے سچ بتا دیا۔ ثنا کھلکھلا کر ہنسی، وہ ہنسی جس میں شرم کم اور شرارت زیادہ تھی۔
اس نے دانیال کو بستر پر دھکیلا۔ وہ گدے پر گرا، اور ثنا اس کے اوپر جھک گئی، اس کے لمبے بال دانیال کے چہرے پر بکھر گئے۔ بالوں میں چمبیلی کے تیل کی خوشبو تھی، اور دانیال نے گہری سانس لی۔
"آج رات میں سکھاؤں گی،" ثنا نے اس کے کان میں سرگوشی کی، اور اس کے کان کی لو کو ہلکے سے دانتوں سے کاٹا۔ دانیال کے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک لڑکی کا چھونا اتنا نشہ آور ہو سکتا ہے۔
ثنا نے اس کی شرٹ کے بٹن ایک ایک کر کے کھولنے شروع کیے۔ ہر بٹن کے ساتھ دانیال کی سانس تیز ہوتی گئی۔ جب شرٹ اتری تو اس نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا، انگلیوں سے اس کے نپلز کو چھوا۔ دانیال نے سسکاری بھری۔
"اچھا لگا؟" ثنا نے پوچھا، اور جواب کا انتظار کیے بغیر اس کے سینے پر بوسہ دیا۔ اس کے ہونٹ گرم تھے، زبان نرم۔ وہ نیچے کی طرف بڑھتی گئی، پیٹ پر، ناف کے گرد، اور دانیال کی کمر بے اختیار اٹھنے لگی۔
پھر ثنا رکی اور اسے دیکھا۔ "اب تمہاری باری۔ میرا جوڑا اتارو۔" دانیال کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اس نے اس کے بلاؤز کے ہک کھولنے کی کوشش کی۔ پہلا ہک مشکل سے کھلا، دوسرا بھی، اور پھر کپڑا ڈھیلا ہو کر گر گیا۔
ثنا کے ممے اس کے سامنے تھے، گول اور بھرے ہوئے، نپلز تنے ہوئے۔ دانیال نے انہیں پہلی بار اتنے قریب سے دیکھا تھا، اور اس کی آنکھوں میں حیرت اور بھوک دونوں تھیں۔ ثنا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ دیا۔ "دباؤ، ڈرو مت۔"
دانیال نے دبایا، پہلے ہلکے سے، پھر زور سے۔ ثنا نے آنکھیں بند کر لیں اور ہلکی سی آہ بھری۔ "ہاں... ایسے ہی..." اس نے دانیال کا سر اپنے سینے کی طرف کھینچا، اور دانیال نے اس کے نپل کو منہ میں لے لیا۔
وہ چوسنے لگا، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ ثنا کی انگلیاں اس کے بالوں میں گڑ گئیں۔ "اوہ دانیال..." اس کی آواز میں وہ مٹھاس تھی جو دانیال نے کبھی نہیں سنی تھی۔ اس کا لنڈ اب پوری طرح تن چکا تھا، پتلون میں دباؤ محسوس ہو رہا تھا۔
ثنا نے اس کی پتلون کی زپ پر ہاتھ رکھا۔ "یہ کیا ہے؟" اس نے شرارت سے پوچھا۔ "لگتا ہے کوئی مجھ سے ملنے کے لیے بے تاب ہے۔" اس نے زپ کھولی اور دانیال کا لنڈ باہر نکالا۔ وہ موٹا اور لمبا تھا، سرخ ٹوپی کے ساتھ۔
ثنا نے اسے ہاتھ میں لیا اور آہستہ سے ہلایا۔ دانیال نے بستر کی چادر کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ "ثنا... میں..." "ششش،" ثنا نے کہا، اور پھر اس نے وہ کیا جس کا دانیال نے صرف سنا تھا۔ اس نے اس کے لنڈ کو منہ میں لے لیا۔
گرم، گیلا، نرم۔ دانیال کی دنیا گھوم گئی۔ ثنا کی زبان اس کے لنڈ کے گرد گھوم رہی تھی، کبھی اوپر، کبھی نیچے۔ وہ چوس رہی تھی، اور دانیال کو لگا کہ وہ ابھی جھڑ جائے گا۔
"رکو... رکو ثنا... میں نکلنے والا ہوں..." دانیال نے ہانپتے ہوئے کہا۔ ثنا رکی اور مسکرائی۔ "نہیں، ابھی نہیں۔ ابھی تو اصل کھیل باقی ہے۔" اس نے اپنی شلوار اتاری، اور اب وہ دانیال کے سامنے پوری ننگی تھی۔
اس کی چوت صاف اور نرم تھی، ہونٹ گلابی۔ دانیال نے اسے دیکھا اور اس کے منہ میں پانی آ گیا۔ ثنا بستر پر لیٹی اور ٹانگیں پھیلائیں۔ "آؤ،" اس نے کہا۔ "مجھے چھوؤ۔"
دانیال اس کے اوپر آیا۔ اس کا لنڈ اس کی چوت سے ٹکرا رہا تھا، اور دونوں کے جسم پسینے سے بھیگ چکے تھے۔ ثنا نے اس کی کمر پکڑی۔ "آہستہ سے ڈالو۔ پہلی بار ہے، تھوڑا درد ہوگا۔"
دانیال نے دھکیلا۔ اس کا لنڈ آہستہ آہستہ اندر گیا، اور ثنا نے دانت بھینچ لیے۔ "آہ... دانیال..." اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن اس نے اسے روکا نہیں۔ "رکو مت... چلتے رہو..."
دانیال نے پورا اندر ڈال دیا۔ ثنا کی چوت تنگ اور گرم تھی، اس کے لنڈ کو کس کر پکڑے ہوئے تھی۔ وہ رکا رہا، اسے عادت ہونے کا وقت دیا۔ پھر آہستہ آہستہ ہلنے لگا۔ باہر، اندر، باہر، اندر۔
درد آہستہ آہستہ مزے میں بدل گیا۔ ثنا کی کمر اٹھنے لگی، وہ اس کے دھکوں کا جواب دے رہی تھی۔ "تیز کرو... ہاں... ایسے ہی..." کمرہ ان کی سانسوں اور بستر کی چرچراہٹ سے بھر گیا۔
دانیال نے اس کے ممے پکڑے اور دباتے ہوئے تیز دھکے لگائے۔ ثنا چلا رہی تھی، "ہاں دانیال! ہاں! مجھے چودو!" اس کے ناخن اس کی پیٹھ پر نشان چھوڑ رہے تھے، لیکن دانیال کو کوئی درد محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
پھر ثنا کا جسم اکڑ گیا۔ اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو زور سے بھینچا، اور وہ چیخی۔ "میں... میں نکل رہی ہوں..." اس کا پانی نکلا، اور دانیال نے محسوس کیا کہ وہ بھی اب نہیں رک سکتا۔
اس نے آخری چند زوردار دھکے لگائے اور پھر جھڑ گیا۔ گرم پانی اس کی چوت میں بھرا، اور دونوں ایک ساتھ کانپتے رہے۔ دانیال اس کے اوپر گرا، دونوں ہانپ رہے تھے، پسینے میں بھیگے ہوئے۔
کچھ دیر وہ ایسے ہی لیٹے رہے۔ پھر ثنا نے انگلی سے دانیال کے سینے پر لکیریں کھینچنی شروع کیں، نیچے پیٹ تک، اور پھر اس کے لنڈ تک۔ وہ ابھی بھی آدھا تنا ہوا تھا، اور اس کے چھونے سے پھر سے کھڑا ہونے لگا۔
"دیکھو،" ثنا نے شرارت سے کہا، "یہ تو پھر تیار ہو رہا ہے۔ لگتا ہے اسے میری چوت کا ذائقہ لگ گیا ہے۔" دانیال نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے لنڈ پر رکھا۔ "تو پھر دیر کس بات کی؟" اس کی آواز میں اب وہ گھبراہٹ نہیں تھی، صرف بھوک تھی۔
ثنا نے اس کے لنڈ کو ہلانا شروع کیا، تیز اور مضبوط۔ دانیال نے اس کے ممے پکڑے اور نپلز کو انگلیوں سے مروڑا۔ ثنا نے سسکاری بھری اور اس کے اوپر چڑھ گئی۔ "اس بار میں اوپر رہوں گی۔"
وہ اس کے لنڈ پر بیٹھی اور آہستہ آہستہ نیچے آئی۔ اس کی چوت اب گیلی اور تیار تھی، اور لنڈ آسانی سے اندر چلا گیا۔ ثنا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اور ہلنے لگی، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ اس کے ممے ہر اچھال کے ساتھ ہل رہے تھے، اور دانیال نے انہیں پکڑ کر دبایا۔
"اوہ... ثنا... تم... بہت گرم ہو..." دانیال نے ہانپتے ہوئے کہا۔ ثنا نے رفتار بڑھا دی، اس کی کمر لہر کی طرح ہل رہی تھی۔ "ہاں... لو... میری چوت لو..." وہ چلا رہی تھی، اور پھر اس کا جسم کانپنے لگا۔ وہ پھر سے جھڑی، اور اس بار اس کا پانی دانیال کے پیٹ پر بہہ گیا۔
دانیال نے اسے پلٹا اور اب وہ اوپر تھا۔ "اب میری باری،" اس نے کہا، اور اس کی ٹانگیں پھیلا کر پھر سے اندر گیا۔ ثنا ہنسنے لگی، "تو سیکھ گیا تم!"
اس بار دانیال نے پہل کی۔ اس نے ثنا کو گھوڑی بنایا، اس کے پیچھے آیا، اور اس کی چوت میں پیچھے سے ڈالا۔ ثنا نے تکیے کو بھینچ لیا۔ "اوہ... یہ... یہ تو اور گہرا جا رہا ہے..."
دانیال نے اس کے بال پکڑے اور تیز دھکے لگائے۔ اس کے ممے ہر دھکے کے ساتھ ہل رہے تھے۔ کمرے میں صرف ان کی آہیں اور جسموں کے ٹکرانے کی آواز تھی۔ ثنا بار بار چلا رہی تھی، "ہاں! ایسے ہی! رکو مت!"
اس بار وہ زیادہ دیر تک چلے۔ دانیال نے اسے الٹا لٹایا، اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں، اور پھر سے اندر گیا۔ ثنا کی آنکھیں الٹ رہی تھیں مزے سے۔ "دانیال... تم تو... تم تو ماہر ہو..."
آخر میں دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ ثنا کی چیخ حویلی کی دیواروں میں گونجی، اور دانیال نے اسے کس کر پکڑ لیا۔ وہ دونوں بستر پر ڈھیر ہو گئے، ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے۔
باہر فجر کی اذان ہونے لگی۔ ثنا نے دانیال کے سینے پر سر رکھا اور سرگوشی کی، "اب ہر رات سہاگ رات جیسی ہوگی۔ وعدہ کرو۔" دانیال نے اسے اور کس کر پکڑا اور کہا، "وعدہ۔"
Readers who enjoyed “اردو سہاگ رات سیکس اسٹوری: ثنا اور دانیال کی پہلی رات” also read
8 curated storiesنوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی کے گودام میں موسم کے آخری ڈھیر کے بعد کنواری چھانٹنے والی نے نائٹ گارڈ کو وہ خوشبو دی جو کسی بیچ رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی
نوشہرہ کی پرانی تمباکو منڈی۔ آخری ڈھیر۔ کنواری منالہ اور نائٹ گارڈ ارشد۔ وہ خوشبو جو بیچ کے رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتی۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 2
اردو سہاگ رات کہانی کا آخری حصہ: دروازے پر دستک، پراسرار عورت کا انکشاف، دانیال کے ماضی کا سچ، اور مہنور کا فیصلہ۔ کیا ان کی شادی بچ پائے گی؟
اردو پہلی رات کی کہانی: حیدرآباد میں ثنا اور عمران کی پہلی رات
اردو پہلی رات کی کہانی میں ثنا اور عمران کی شادی کی پہلی رات کی کہانی، حیدرآباد کے پرانے گھر میں محبت اور قربت سے بھری ایک یادگار رات۔
اردو سہاگ رات کہانی: حصہ 1
نئے گھر میں مہنور اور دانیال کی سہاگ رات ایک بے چین فون سے شروع ہوتی ہے۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی جذبے، رومانس اور ایک چونکا دینے والے راز سے بھرپور ہے۔
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ میں آخری جلد بند ہونے کے بعد کنواری سلائی کرنے والی نے پروف ریڈر کو وہ حاشیہ دیا جو کسی فہرست یا رجسٹر پر کبھی نہیں چڑھتا
رام پور کی پرانی کتاب بندی ورکشاپ۔ آخری جلد۔ کنواری مہنک اور پروف ریڈر حامد۔ وہ حاشیہ جو فہرست پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو دلہن سہاگ رات: مہنور کی آدھی ادھوری پہلی رات (حصہ 2)
اردو دلہن سہاگ رات کی یہ کہانی اپنے آخری حصے میں پہنچی ہے۔ دانش اسپتال سے واپس آ گیا ہے، اور مہنور کی آدھی ادھوری رات اب پوری ہونے جا رہی ہے۔ پڑھیں حصہ 2، انجام۔
اردو سہاگ رات کی کہانی: کانپور کی مہ نور کی پہلی رات
اردو سہاگ رات کی کہانی میں کانپور کی نئی دلہن مہ نور اور دانیال کی پہلی رات کی کہانی پڑھیں، جہاں شرم، محبت اور جذبہ ایک حسین رات بن جاتا ہے۔
اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کا فیصلہ، حصہ 2 (آخری حصہ)
اردو دلہن کی سہاگ رات کے دوسرے اور آخری حصے میں مہک دروازے پر آئی عورت کا سامنا کرتی ہے اور ارمان کے ساتھ اپنی رات کو اپنا بناتی ہے۔