اردو ہاٹ سٹوری: شادی میں آیا مہمان
فارم ہاؤس کے گیٹ پر جب کالی گاڑی نے ہیڈ لائٹس آن کیں تو لان میں لگی قمقموں کی روشنی ایک پل کو دھندلا گئی۔ ڈرائیور کی سیٹ سے جو مرد اترا وہ لمبا تھا، چوڑے کندھوں والا، چال میں فوجی سختی لیے ہوئے۔ عائشہ کے ہاتھ میں پکڑی چائے کی پیالی رک گئی، کیونکہ اسی پل سے ایک اردو ہاٹ سٹوری شروع ہو رہی تھی، جس کی ہیروئن وہ خود بننے والی تھی۔
بلال۔ اس کے شوہر کا پرانا فوجی دوست، راولپنڈی سے لیٹ آنے والا مہمان۔ شوہر نے دوڑ کر اسے گلے لگایا، پیٹھ تھپتھپائی، اور عائشہ کی طرف اشارہ کر کے کہا، میری بیوی۔ بلال نے ہاتھ ملایا تو اس کی گرفت مضبوط تھی، گرم تھی، اور اس کی آنکھیں عائشہ کے چہرے پر ایک لمحہ زیادہ ٹھہر گئیں۔
وہ لمحہ عائشہ کے اندر کہیں اتر گیا۔ اس نے مسکراہٹ سنبھالی، ہاتھ چھڑایا، اور مہندی والے ہاتھوں سے دوپٹہ درست کیا۔ دل عجیب دھڑک رہا تھا، جیسے اسکول کی لڑکی ہو اور پہلی بار کسی نے اسے ایسے دیکھا ہو۔
ولیمے کی شام اپنے عروج پر تھی۔ مارکی کے نیچے سنہرے جھومر، مہندی اور عطر کی ملی جلی خوشبو، اور ایک طرف ڈھول کی تھاپ پر ناچتی لڑکیاں۔ عائشہ اپنی نشست پر واپس آئی تو بلال کو سامنے والی میز پر بٹھایا گیا تھا۔ بالکل اس کے سامنے۔
کھانا شروع ہوا۔ کڑاہی گوشت، بریانی، نان، اور میٹھے میں شاہی ٹکڑے۔ عائشہ نے نوالہ اٹھایا تو محسوس کیا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ نظر اٹھائی تو بلال کی آنکھیں اسی کی طرف تھیں۔ اس نے پلک نہیں جھپکی۔ عائشہ نے جلدی سے نظر جھکا لی، مگر گردن تک سرخی چڑھ گئی۔
شوہر کھانے اور پرانے دوستوں میں مصروف تھا۔ بلال سے باتیں، فوج کی یادیں، ہنسی مذاق۔ عائشہ کو لگا جیسے وہ اس بھیڑ میں اکیلی بیٹھی ہو اور صرف ایک جوڑی آنکھیں اسے گھیرے ہوئے ہوں۔ اس نے پانی کا گلاس اٹھایا، ہونٹوں سے لگایا، اور گلاس کے اوپر سے دوبارہ دیکھا۔ بلال اب بھی دیکھ رہا تھا۔
اس بار اس نے مسکراہٹ نہیں چھپائی۔ ہلکی سی، شرارتی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی اور بلال کے چہرے پر جواب میں ایک گہری مسکراہٹ پھیل گئی۔ عائشہ کے پیٹ میں تتلیاں اڑنے لگیں۔
کھانے کے بعد موسیقی تیز ہو گئی۔ ڈی جے نے پرانے فلمی گانے لگائے اور خواتین کا جھنڈ ڈانس فلور پر اتر آیا۔ عائشہ کی سہیلیوں نے اسے کھینچا۔ وہ سرخ لہنگے میں گھومی، دوپٹہ ہوا میں لہرایا، اور ہر گھماؤ پر اس کی نظر بلال کی طرف جاتی۔
بلال کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا، ایک ہاتھ میں چائے کا کپ۔ اس کی نظریں عائشہ کے گھومتے لہنگے سے اس کے چہرے تک سفر کرتیں۔ جب ان کی آنکھیں ملتیں تو عائشہ کو لگتا جیسے اس کے جسم میں بجلی دوڑ گئی ہو۔
ڈیزرٹ کاؤنٹر پر بھیڑ تھی۔ عائشہ قلفی لینے بڑھی تو پیچھے سے کسی کا کندھا اس کے کندھے سے ٹکرایا۔ مڑ کر دیکھا تو بلال تھا، ہاتھ میں خالی پلیٹ۔ معذرت، اس نے کہا، مگر اس کی آواز میں معذرت سے زیادہ کچھ اور تھا۔
کوئی بات نہیں، عائشہ نے کہا۔ اس کا ہاتھ قلفی کے چمچ پر تھا اور بلال کا ہاتھ اتفاق سے اس کے ہاتھ پر آ پڑا۔ ایک لمحے کے لیے دونوں کے ہاتھ ایک ساتھ رہے۔ اس کی انگلیاں گرم تھیں، مضبوط تھیں۔ عائشہ نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔
آپ بہت اچھا ناچتی ہیں، بلال نے دھیرے سے کہا، اتنا دھیرے کہ صرف وہ سن سکے۔ عائشہ کی سانس رک گئی۔ شکریہ، اس نے کہا اور جلدی سے اپنی میز کی طرف لوٹ آئی، مگر اس کے ہاتھ اب بھی اس کے ہاتھ کی گرمی محسوس کر رہے تھے۔
رات گہری ہو رہی تھی۔ رخصتی کا وقت قریب آ رہا تھا اور مارکی میں ہلچل بڑھ گئی تھی۔ دلہن کے رشتے دار جمع ہو رہے تھے، عورتیں رونے کی تیاری کر رہی تھیں، بچے ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔ اسی ہلچل میں بلال عائشہ کے پاس سے گزرا۔
اس نے رکتے ہوئے، بالکل اس کے کان کے پاس جھک کر کہا، میرے ساتھ آؤ۔ بس اتنا کہا اور آگے بڑھ گیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ عائشہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ شوہر دلہن کے والد سے باتوں میں مصروف تھا۔
عائشہ اٹھی۔ دلہن کے کمرے کی طرف جانے کا بہانہ بنا کر وہ اس سمت چل پڑی جدھر بلال گیا تھا۔ مارکی کے پیچھے ایک لمبا برآمدہ تھا، جس کے آخر میں مہمانوں کے کمرے تھے۔ برآمدے کی روشنی مدھم تھی۔
تیسرے کمرے کا دروازہ آدھا کھلا تھا۔ عائشہ اندر داخل ہوئی تو بلال نے دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی۔ کمرے میں صرف ایک مدھم بلب جل رہا تھا۔ باہر ڈھول کی تھاپ اب بھی آ رہی تھی، مگر یہاں خاموشی تھی، بھاری خاموشی۔
تم آ گئیں، بلال نے کہا۔ اس کی آواز بھاری تھی۔ عائشہ نے کچھ کہنے کی کوشش کی، مگر الفاظ حلق میں اٹک گئے۔ بلال نے قدم بڑھایا، اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لیا، اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
یہ بوسہ دھیما نہیں تھا۔ یہ بھوکا تھا، بیتاب تھا۔ بلال کی زبان عائشہ کے منہ میں اتری اور عائشہ نے اس کا جواب دیا، اس کے کندھوں کو پکڑ کر۔ اس کے جسم میں آگ لگ گئی تھی۔ اس نے اپنی ٹانگیں اس کے گرد لپیٹنے کی کوشش کی تو بلال نے اسے اٹھا کر دروازے سے لگا دیا۔
دروازے کی ٹھنڈی لکڑی اس کی پیٹھ سے لگی اور بلال کا گرم جسم اس کے سامنے۔ اس کے ہاتھ عائشہ کے لہنگے کے اوپر پھرنے لگے، کمر سے کولہوں تک۔ عائشہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈالیں اور اس کا سر اپنی گردن کی طرف کھینچا۔
بلال نے اس کی گردن پر بوسے دینے شروع کیے، نیچے کندھے تک۔ عائشہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اس کا ایک ہاتھ اس کے بلاؤز کے ہک کھولنے لگا۔ ایک، دو، تین۔ بلاؤز ڈھیلا ہوا تو اس نے اسے کندھوں سے سرکا دیا۔
عائشہ نے شرم سے اپنے سینے کو ڈھانپنے کی کوشش کی تو بلال نے اس کے ہاتھ ہٹا دیے۔ تمہیں شرمانے کی ضرورت نہیں، اس نے کہا۔ اس کی آنکھوں میں جو بھوک تھی، اس نے عائشہ کو مزید گرم کر دیا۔ اس نے خود اپنے ہاتھ بڑھا کر بلال کے کرتے کے بٹن کھولنے شروع کیے۔
کرتہ اترتے ہی اس کا چوڑا سینہ سامنے آیا، مضبوط، ہلکے بالوں والا۔ عائشہ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا، اس کی نپل کو انگلی سے چھیڑا۔ بلال نے گہری سانس لی اور اسے بستر کی طرف دھکیلا۔ عائشہ بستر پر گری، لہنگا اس کے گرد پھیل گیا۔
بلال اس پر جھکا۔ اس نے اس کے سینے پر بوسے دیے، پھر اس کے نپل کو منہ میں لے لیا۔ عائشہ کی چیخ نکل گئی، مگر اس نے فورا اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لیا۔ باہر شادی کا شور تھا، مگر یہاں احتیاط ضروری تھی۔ بلال نے اس کے دوسرے نپل کو چوسا، چبایا، ہلکے سے کاٹا۔
عائشہ کا جسم تڑپنے لگا۔ اس نے بلال کی پتلون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ بیلٹ کھولی، زپ کھولی۔ اس کا لنڈ باہر نکلا، سخت، موٹا، گرم۔ عائشہ نے اسے ہاتھ میں پکڑا تو بلال کے منہ سے آہ نکلی۔
اس نے اسے دھیرے دھیرے ہلانا شروع کیا۔ اوپر نیچے، اوپر نیچے۔ بلال کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ پھر عائشہ نے جھک کر اسے منہ میں لے لیا۔ اس کی زبان اس کے سرے پر گھومی، پھر اس نے اسے گہرائی تک لیا۔
بلال نے اس کے بال پکڑ لیے۔ ہاں، ایسے ہی، وہ بڑبڑایا۔ عائشہ نے تیز کیا، اس کا منہ اوپر نیچے ہونے لگا۔ بلال کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اس نے عائشہ کو اٹھایا۔ بس، ورنہ میں یہیں جھڑ جاؤں گا، اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
پھر بلال نے اس کا لہنگا اوپر اٹھایا۔ اس کی شلوار گیلی ہو چکی تھی۔ اس نے شلوار کو ایک طرف سرکایا اور اپنی انگلی اس کی چوت پر رکھی۔ عائشہ نے بستر کی چادر کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ اس کی انگلی اندر گئی، پھر دوسری۔
بلال نے انگلیوں کو اندر باہر کرنا شروع کیا، تیز، گہرا۔ اس کا انگوٹھا اس کے دانے پر رگڑ کھا رہا تھا۔ عائشہ کا جسم اکڑنے لگا۔ اس کی سانسیں چھوٹی چھوٹی ہو گئیں۔ میں، میں آنے والی ہوں، وہ بڑبڑائی۔
آنے دو، بلال نے کہا اور انگلیوں کی رفتار بڑھا دی۔ عائشہ کا جسم ایک جھٹکے سے اکڑا، پھر ڈھیلا پڑ گیا۔ اس کی چوت سے رس بہہ نکلا۔ وہ ہانپ رہی تھی، پسینے میں بھیگی ہوئی۔
مگر بلال رکا نہیں۔ اس نے اپنی پتلون پوری اتار دی اور عائشہ کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس کا لنڈ اس کی گیلی چوت کے منہ پر تھا۔ اس نے دھیرے سے دباؤ ڈالا اور اندر اتر گیا۔
عائشہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ اتنا بھرا ہوا محسوس کر رہی تھی کہ سانس لینا مشکل ہو گیا۔ بلال نے ایک جھٹکے سے پورا اندر کر دیا۔ عائشہ نے اس کی پیٹھ کو ناخنوں سے کھروچا۔
پھر اس نے دھکے مارنے شروع کیے۔ دھیرے دھیرے، پھر تیز۔ بستر چرچرانے لگا۔ عائشہ نے اس کی کمر کو اپنی ٹانگوں سے جکڑ لیا۔ ہر دھکے کے ساتھ اس کے سینے اچھلتے۔ بلال نے جھک کر اس کے نپل کو منہ میں لیا، دھکے جاری رکھے۔
باہر ڈھول کی تھاپ تیز ہو گئی تھی۔ رخصتی کا وقت آ گیا تھا۔ مگر اس کمرے میں صرف دو جسموں کی آوازیں تھیں، سانسوں کی، جلد کی۔ عائشہ نے بلال کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تاکہ اس کی آوازیں باہر نہ جائیں۔
بلال نے اسے پلٹایا۔ اب وہ بستر کے کنارے پر اوندھی تھی، کولہے اٹھائے ہوئے۔ اس نے پیچھے سے اس میں داخل کیا۔ اس پوزیشن میں وہ اور گہرائی تک جا رہا تھا۔ عائشہ نے تکیے میں منہ دے دیا۔
اس کے ہاتھ اس کے کولہوں پر تھے، انہیں پکڑے ہوئے، ہر دھکے کے ساتھ آگے دھکیلتے ہوئے۔ عائشہ کا جسم لہر کی طرح ہل رہا تھا۔ اس کی چوت بلال کے لنڈ کو نچوڑ رہی تھی۔ مجھے، مجھے پھر آنے والا ہے، وہ چیخی، آواز تکیے میں دب گئی۔
بلال نے اس کے بال پکڑ کر اس کا سر پیچھے کھینچا۔ میرے ساتھ، اس نے کہا۔ ایک ساتھ۔ اس نے آخری چند دھکے اتنے زور سے مارے کہ عائشہ کو لگا وہ ٹوٹ جائے گی۔ پھر دونوں ایک ساتھ جھڑے۔
بلال کا گرم رس اس کے اندر بہہ گیا۔ عائشہ کا جسم کانپتا رہا، لہریں اس کے پیٹ سے اٹھتی رہیں۔ وہ دونوں بستر پر ڈھیر ہو گئے، پسینے میں بھیگے، ہانپتے ہوئے۔ باہر عورتیں رو رہی تھیں، رخصتی ہو رہی تھی۔
دوسری بار کا عروج پہلے سے زیادہ میٹھا تھا۔ عائشہ نے اس کے کندھے پر دانت گاڑ دیے تاکہ چیخ نہ نکلے۔ بلال نے اسے کس کر پکڑا اور اس کے اندر جھڑا۔ وہ اس پر گر پڑی، دونوں کا پسینہ ایک ہو گیا۔
دروازے پر بلال نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ کل ناشتہ ہوٹل میں ہے، اس نے کہا۔ میں وہیں ٹھہرا ہوں۔ عائشہ نے کچھ نہ کہا، بس اس کی آنکھوں میں دیکھا اور باہر نکل گئی۔ برآمدہ خالی تھا۔
شوہر اس کے پاس آیا۔ کہاں تھیں تم، اس نے پوچھا۔ دلہن کے پاس، عائشہ نے کہا، آواز بالکل عام۔ شوہر نے سر ہلایا اور دلہن کی گاڑی کی طرف دیکھنے لگا۔
گاڑی میں بیٹھ کر عائشہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ فارم ہاؤس کی روشنیاں پیچھے رہ گئیں۔ اس نے اپنا کلچ کھولا تو اندر ایک کاغذ کی پرچی تھی، جو اس نے وہاں نہیں رکھی تھی۔ اس نے پرچی کو مٹھی میں بھینچ لیا، بغیر پڑھے۔ اس کے ہونٹوں پر ایک رازدارانہ مسکراہٹ تھی، ایسی جو صرف وہی سمجھ سکتی تھی۔
صبح ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں ناشتے کی میز پر جب عائشہ نے اپنا کلچ کھولا تو اندر سے ایک چھوٹی سی پرچی نکلی۔ شوہر بل کی ادائیگی میں مصروف تھا۔ عائشہ نے پرچی کو ہتھیلی میں کھولا۔ اس پر بلال کی گہری لکھائی میں لکھا تھا، چھت والا اسٹور روم، دس بجے، اکیلی آنا۔
اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے گھڑی دیکھی۔ نو بج کر پچاس منٹ۔ اس نے شوہر سے کہا، میں ذرا چھت پر ہوا کھا کر آتی ہوں۔ شوہر نے سر ہلایا، نظریں بل سے نہ ہٹائیں۔
لفٹ سے چھت پر پہنچی تو دھوپ تیز تھی۔ ایک کونے میں پرانے فرنیچر والا اسٹور روم تھا، دروازہ آدھا کھلا۔ عائشہ اندر داخل ہوئی۔ اندر اندھیرا تھا، اور ٹوٹے فرنیچر کے پیچھے بلال کھڑا تھا۔
تم آ گئیں، اس نے کہا اور دروازہ بند کر دیا۔ عائشہ اس سے لپٹ گئی۔ اس رات کے بعد یہ پہلی بار تھا کہ وہ اکیلے تھے۔ بلال نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔ ہمارے پاس وقت کم ہے، اس نے کہا۔
عائشہ نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے۔ بلال نے اس کی قمیض اوپر اٹھائی، اس کے سینے کو ہاتھوں میں لیا۔ اس کے نپل سخت ہو چکے تھے۔ اس نے جھک کر انہیں چوسا۔ عائشہ نے اس کے بال پکڑ لیے۔
پھر عائشہ نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کی پتلون کھولی۔ اس کا لنڈ باہر نکلا، پہلے سے سخت۔ اس نے اسے منہ میں لیا، تیز تیز چوسا۔ بلال کی سانسیں بھاری ہو گئیں۔ اس نے اسے اٹھایا اور ایک بڑے صندوق کی طرف دھکیلا۔
عائشہ صندوق پر جھکی، کولہے اٹھائے۔ بلال نے اس کی شلوار نیچے سرکائی اور پیچھے سے اس میں داخل ہو گیا۔ وہ گیلی تھی، تیار تھی۔ اس نے زور زور سے دھکے مارنے شروع کیے۔ صندوق ہلنے لگا۔
عائشہ نے اپنا منہ اپنے ہاتھ میں دبایا تاکہ آواز نہ نکلے۔ باہر چھت پر کسی کے قدموں کی آواز آئی۔ دونوں رک گئے، سانس روکے۔ قدم دور چلے گئے۔ بلال نے پھر دھکے مارنے شروع کیے، اس بار اور تیز۔
اس کے ہاتھ اس کے سینے پر تھے، نپل مروڑتے ہوئے۔ عائشہ کا جسم اکڑا، پھر اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو کس کر نچوڑا۔ وہ جھڑ گئی، لہریں اس کے جسم میں دوڑ گئیں۔
بلال نے آخری دھکے مارے اور اس کے اندر جھڑا۔ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ پھر جلدی سے کپڑے درست کیے۔ عائشہ نے بال سنوارے، قمیض ٹھیک کی۔
دروازہ کھولنے سے پہلے بلال نے اس کے ہاتھ میں ایک اور پرچی تھمائی۔ عائشہ نے اسے بغیر پڑھے کلچ میں رکھا۔ وہ پہلے باہر نکلی، سیڑھیوں سے نیچے اتری۔ ڈائننگ ہال میں شوہر اب بھی بل کا انتظار کر رہا تھا۔ عائشہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئی، چائے کا نیا کپ منگوایا، اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ اس کے گال سرخ تھے اور ہونٹوں پر وہی رازدارانہ مسکراہٹ تھی۔
Readers who enjoyed “اردو ہاٹ سٹوری: شادی میں آیا مہمان” also read
8 curated storiesاردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)
شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔