اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
ناپ لینے والی ٹیپ فرح کی کمر کے گرد لپٹی ہوئی تھی، اور عمران کی انگلیاں اس کی ناف کے بالکل اوپر ٹھہر گئی تھیں۔ یہ اردو دیسی بھابی کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے، لاہور کے اچھرہ محلے کے ایک چھوٹے سے گھر میں، جہاں سلائی مشین کی گڑگڑاہٹ کے پیچھے کچھ اور بھی سل رہا تھا۔
فرح کی عمر بتیس سال تھی، اور اس کا شوہر راشد لمبے روٹ کا ڈرائیور تھا۔ لاہور سے کراچی، کراچی سے لاہور۔ مہینے میں صرف تین چار دن گھر آتا تھا، اور آ کر بھی تھکا ہارا سوتا رہتا تھا۔ فرح کا جسم جوان تھا، بھرا ہوا تھا، اور اس کی آنکھوں میں ایک پیاس تھی جو راشد بجھا نہیں پاتا تھا۔
عمران چھببیس سال کا درزی تھا، گلی کے نکڑ پر اس کی دکان تھی۔ فرح نے اسے عید کے سوٹ سلوانے کے لیے گھر بلایا تھا۔ "بھابی، ناپ گھر پر ہی لے لیتا ہوں، دکان پر رش ہوتا ہے،" اس نے فون پر کہا تھا۔ فرح نے ہاں کر دی تھی۔
اب عمران اس کے سامنے کھڑا تھا، ہاتھ میں پیمائشی فیتہ۔ "بھابی، بازو اوپر کریں،" اس نے کہا۔ فرح نے بازو اٹھائے، اور عمران نے فیتہ اس کے سینے کے گرد لپیٹا۔ اس کی انگلیاں فرح کے دودھ کو چھو گئیں، ایک لمحے کے لیے۔ دونوں نے محسوس کیا، دونوں نے انجان بننے کی کوشش کی۔
"چھتیس،" عمران نے نوٹ بک میں لکھا، آواز میں ہلکی سی لرزش۔ پھر کمر کا ناپ۔ فیتہ کمر کے گرد، اور اس کی انگلیاں ناف کے اوپر۔ فرح کی سانس تیز ہو گئی۔ اس نے عمران کی کلائی پکڑ لی۔
"عمران،" فرح نے سرگوشی کی۔ "تمہارے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔"
عمران نے نظریں اٹھائیں۔ اس کی آنکھوں میں وہی بھوک تھی جو فرح اپنی آنکھوں میں روز آئینے میں دیکھتی تھی۔ "بھابی، آپ... آپ بہت خوبصورت ہیں۔" یہ کہہ کر اس نے فیتہ چھوڑ دیا۔
فرح نے اس کا ہاتھ اپنے دودھ پر رکھ دیا۔ "تو پھر ڈرو مت۔" عمران نے دودھ کو دبایا، پہلے آہستہ، پھر زور سے۔ فرح کے منہ سے سسکی نکلی۔ اس نے عمران کو اپنی طرف کھینچا اور اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے۔
عمران کا تجربہ کم تھا، لیکن جوش بہت تھا۔ اس نے فرح کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ ایک ایک بٹن، اور فرح کا گورا سینہ ننگا ہوتا گیا۔ برا بھی اتار دی۔ اب اس کے دودھ عمران کے سامنے تھے، سخت اور ت۔ عمران نے ایک دودھ منہ میں لے لیا۔
"آہ... عمران..." فرح نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا دیں۔ عمران زبان سے اس کے نپل کو چاٹ رہا تھا، چوس رہا تھا۔ دوسرے ہاتھ سے دوسرا دودھ مسل رہا تھا۔ فرح کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔
فرح نے عمران کی قمیض اتار دی۔ اس کا سینہ چوڑا تھا، پسینے سے چمک رہا تھا۔ فرح نے اس کے سینے پر بوسے دیے، نیچے اترتی گئی۔ عمران کی شلوار کا بٹن کھولا، اور اس کا لنڈ باہر نکال لیا۔
موٹا، لمبا، رگیں پھولی ہوئی۔ فرح نے اسے ہاتھ میں لیا اور اوپر نیچے کرنے لگی۔ عمران کے منہ سے گہری سانس نکلی۔ "بھابی... یہ... یہ ٹھیک نہیں..." "چپ،" فرح نے کہا، اور لنڈ کو منہ میں لے لیا۔
فرح نے لنڈ کو چوسنا شروع کیا، پہلے سرا، پھر آدھا، پھر جتنا منہ میں آ سکے۔ اس کی زبان لنڈ کے گرد گھوم رہی تھی۔ عمران نے اس کے سر کو پکڑ لیا اور ہلکے سے دھکے دینے لگا۔ فرح کے گلے تک لنڈ جا رہا تھا۔
پانچ منٹ چوسنے کے بعد عمران نے فرح کو اٹھایا۔ "اب میری باری، بھابی۔" اس نے فرح کی شلوار اتار دی۔ فرح اب مکمل ننگی کھڑی تھی، ڈرائنگ روم کے بیچ میں۔ عمران اس کی چوت کو دیکھتا رہ گیا۔
"کتنی گیلی ہے،" اس نے انگلی سے چوت کی دراڑ کو چھوا۔ فرح کانپ اٹھی۔ عمران نے انگلی اندر ڈال دی، اور فرح چلا اٹھی۔ انگلی اندر گھومنے لگی، چوت کی دیواروں سے رگڑ کھانے لگی۔
پھر عمران نے منہ نیچے کیا۔ اس کی زبان فرح کے دانے پر لگتے ہی فرح کا جسم کمان کی طرح مڑ گیا۔ "نہیں... عمران... وہاں نہیں..." لیکن اس کے ہاتھوں نے عمران کا سر اور دبا دیا۔
زبان اندر جا رہی تھی، باہر آ رہی تھی، دانے کو چوس رہی تھی۔ فرح کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، گلے سے عجیب آوازیں نکل رہی تھیں۔ دس منٹ میں اس کا جسم اکڑ گیا، اور چوت سے گرم رس بہہ نکلا۔ فرح نے اتنے زور سے پانی چھوڑا کہ اس کی چیخ نکل گئی۔
عمران کھڑا ہوا، لنڈ چوت کے منہ پر رکھا۔ ایک دھکے میں پورا اندر۔ فرح چلا اٹھی، اتنا موٹا لنڈ اس نے مدتوں نہیں لیا تھا۔ راشد کا تو اس کے آدھا بھی نہیں تھا۔
عمران نے ٹھاپنا شروع کیا۔ پہلے آہستہ، پھر تیز۔ ہر ٹھاپے پر فرح کے دودھ اچھل رہے تھے۔ عمران نے جھک کر اس کے ہونٹ چومے، زبان اندر ڈال دی، اور نیچے ٹھاپے چلتے رہے۔
فرح نے ناخنوں سے عمران کی پیٹھ کھروچ دی۔ "اور زور سے... اور زور سے مارو..." عمران نے رفتار بڑھا دی۔ صوفہ چرچرانے لگا، دونوں کے پسینے سے بھیگے جسم ایک دوسرے سے لپٹے تھے۔
عمران نے فرح کو پلٹ دیا۔ کتے والی پوزیشن میں۔ پیچھے سے لنڈ چوت میں ڈال دیا۔ اس پوزیشن میں لنڈ اور گہرا جا رہا تھا۔ فرح تکیے میں منہ دے کر چلانے لگی۔
عمران نے ایک ہاتھ سے فرح کے بالوں کی مٹھی پکڑی، دوسرے سے اس کا دودھ دبانے لگا۔ "تمہاری چوت کتنی ٹائٹ ہے، بھابی۔" فرح جواب نہ دے سکی، صرف کراہتی رہی۔
پھر فرح کا جسم دوبارہ اکڑ گیا۔ دوسری بار پانی چھوڑا اس نے، اس بار اور زور سے۔ چوت کے پٹھوں نے لنڈ کو دبوچ لیا، اور عمران بھی اب نہ روک سکا۔
"میں... میں آ رہا ہوں..." اس نے لنڈ باہر نکال کر فرح کی پیٹھ پر مال انڈیل دیا۔ گرم، گاڑھا مال فرح کی پیٹھ پر بہنے لگا۔ دونوں ہانپتے ہوئے صوفے پر ڈھیر ہو گئے۔
اس دن کے بعد سب بدل گیا۔ عمران نے کہا، "بھابی، فٹنگ کے لیے ایک بار اور آنا پڑے گا۔" فرح مسکرائی۔ "پر سوٹ تو ابھی کٹے بھی نہیں۔" "تو کیا ہوا، ناپ دوبارہ لے لوں گا۔" دونوں ہنس پڑے۔
تین دن بعد عمران پھر آیا، اس بار شام کو۔ راشد کا فون آیا تھا، ٹرک خراب ہو گیا تھا، واپسی میں دو دن کی دیر تھی۔ فرح نے دروازہ بند کیا اور عمران کو بیڈروم میں لے گئی۔
اس بار فرح نے پہل کی۔ اس نے عمران کو بستر پر لٹایا اور اس کے لنڈ پر بیٹھ گئی۔ چوت میں لنڈ ڈال کر اوپر نیچے اچھلنے لگی۔ اس کے دودھ عمران کے منہ کے سامنے جھول رہے تھے۔ عمران نے ایک دودھ منہ میں لے کر چوسنا شروع کیا۔
فرح اپنی رفتار سے ٹھاپے کھا رہی تھی، کمر گھما رہی تھی۔ "تمہارا لنڈ میری چوت کے اندر کتنا اچھا لگتا ہے،" وہ سرگوشی میں بولی۔ یہ بات اس نے راشد سے کبھی نہیں کہی تھی۔
عمران نے اچانک فرح کو اٹھا کر دیوار سے لگا دیا۔ فرح کی ٹانگیں اس کی کمر میں۔ کھڑے کھڑے ٹھاپنے لگا۔ فرح کی پیٹھ دیوار سے رگڑ کھا رہی تھی، لیکن مزے کے آگے درد کچھ بھی نہ تھا۔
دونوں ایک ساتھ فارغ ہوئے اس بار۔ عمران کا مال فرح کی چوت کے اندر ہی جھڑا، گرم دھار۔ فرح اس کے سینے سے لگ کر ہانپنے لگی۔ "یہ غلط ہے، عمران۔" "غلط ہو تو روک لو۔" فرح نے جواب نہ دیا۔ روک نہیں سکتی تھی، وہ جانتی تھی۔
آخری بار عید سے ایک دن پہلے ہوئی۔ عمران سوٹ لے کر آیا۔ فرح نے سوٹ پہن کر دکھایا، اور عمران کی آنکھوں میں وہی بھوک۔ "فٹنگ بالکل صحیح ہے،" اس نے کہا، اور فرح کو بانہوں میں بھر لیا۔
بیڈروم میں، نئے سوٹ کے اوپر ہی، عمران نے فرح کو بستر پر لٹا دیا۔ اس نے سوٹ نہیں اتارا، صرف شلوار نیچے کی۔ "نئے کپڑوں میں چدائی کا اپنا مزہ ہے، بھابی،" وہ ہنسا۔ فرح بھی ہنس پڑی، پھر اس کی ہنسی سسکی میں بدل گئی جب لنڈ اندر گیا۔
اس بار عمران نے بہت دیر تک ٹھاپا، آہستہ آہستہ، فرح کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔ "راشد کب آ رہا ہے؟" "پرسوں۔" "تو پرسوں تک تم میری ہو۔" فرح نے اس کی گردن میں بانہیں ڈال دیں۔ "اور پرسوں کے بعد؟" "پرسوں کے بعد بھی، جب وہ روٹ پر ہو گا۔"
عید کے دن راشد گھر آیا۔ اس نے نیا سوٹ دیکھا۔ "درزی نے اچھا سیا ہے،" اس نے کہا۔ فرح مسکرائی۔ "ہاں، بہت... محنت سے سیا ہے۔" اس کے ذہن میں عمران کا چہرہ تھا، اس کے ہاتھ تھے، اس کا لنڈ تھا۔
رات کو راشد نے اسے چھوا۔ فرح کا جسم جواب نہ دے سکا۔ راشد کا لنڈ ہاتھ میں لے کر اس نے سوچا، اتنا چھوٹا، اتنی جلدی ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔ عمران کا خیال آتے ہی اس کی چوت گیلی ہو گئی، لیکن وہ راشد کے لیے نہیں تھی۔
راشد پانچ منٹ ٹھاپ کر سو گیا۔ فرح اندھیرے میں لیٹی رہی، آنکھوں میں آنسو۔ وہ سمجھ رہی تھی، وہ اب پہلی والی فرح نہیں رہی۔ گلی کے نکڑ والے درزی نے اس کے اندر ایسی آگ لگا دی تھی، جسے بجھانے کی طاقت راشد میں نہیں تھی۔
اگلی صبح راشد روٹ پر روانہ ہوا۔ دروازہ بند ہوتے ہی فرح نے فون اٹھایا۔ "عمران، ناپ کا وقت ہو گیا ہے۔" فون کے اس پار ہنسی کی آواز آئی۔ "آ رہا ہوں، بھابی۔ دکان بند کر کے آتا ہوں۔" فرح نے فون رکھا اور آئینے میں خود کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی پیاس تھی، لیکن اب اسے بجھانے والا مل گیا تھا۔ یہ اردو دیسی بھابی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، کیونکہ راشد تو ہر مہینے روٹ پر جاتا ہے، اور عمران کی دکان تو گلی کے نکڑ پر ہی ہے۔
Readers who enjoyed “اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی” also read
8 curated storiesاردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2
رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔
اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ
راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔
اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی
اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔
اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں
آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔
اردو مامی کہانی: شادی والی رات
اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔
اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام
اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔