اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر ہوا کا ایک جھونکا آیا اور نسرین کا دوپٹہ اس کے کندھے سے سرک گیا، اور اسی لمحے بلال کی آنکھیں اس پر ٹھہر گئیں۔ یہ اردو فونٹ سیکس سٹوریز وہیں سے شروع ہوتی ہے، چاندنی رات کے اس ایک لمحے سے۔
نسرین تیس سال کی تھی۔ شوہر سعودی عرب میں، دو سال سے نہیں آیا۔ وہ چھت پر سوکھے کپڑے اتارنے آئی تھی۔ چاندنی میں بھیگی چھت، ٹھنڈی ہوا، اور سامنے پڑوسی کا چوبیس سالہ بیٹا بلال، جو اپنی چھت پر ٹہل رہا تھا۔
دونوں چھتوں کے درمیان صرف ایک نیچی دیوار تھی۔
”بھابھی، اتنی رات کو؟“ بلال نے کہا، قریب آ کر۔ ”میں مدد کروں؟“
”نہیں نہیں، ہو گیا بس۔“ نسرین نے دوپٹہ سنبھالا، مگر ہوا پھر چلی اور اس بار اس کے بال بکھر گئے۔
چاندنی میں اس کے کھلے بال، اس کا چہرہ۔ بلال اسے دیکھتا رہ گیا۔
”تم۔۔۔ تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔“ وہ بولا، بے اختیار۔
نسرین کے گال سرخ ہو گئے۔ ”بلال! یہ کیا کہہ رہے ہو؟“
”سچ کہہ رہا ہوں۔“ وہ دیوار کے پاس آیا۔ ”اتنی رات کو، چاندنی میں۔۔۔ کوئی بھی کہے گا۔“
نسرین کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ کتنے مہینے ہو گئے تھے کسی نے اس کی تعریف نہیں کی تھی۔ شوہر فون پر بھی بس پیسوں کی بات کرتا تھا۔
”تمہیں شرم نہیں آتی؟ بھابھی ہوں تمہاری۔“ وہ بولی، مگر اس کی آواز میں غصہ نہیں تھا۔
”بھابھی تو ہو۔“ بلال مسکرایا۔ ”مگر پہلے ایک عورت ہو۔ خوبصورت عورت۔“
یہ الفاظ نسرین کے اندر اتر گئے۔ عورت۔ کتنے دنوں بعد کسی نے اسے عورت کہا تھا۔ گھر میں وہ بس بہو تھی، بیوی تھی، ماں تھی۔ عورت کبھی نہیں۔
”تم چھوٹے ہو مجھ سے۔“ وہ بولی۔
”چھ سال۔“ بلال نے کہا۔ ”اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟“
”بہت فرق پڑتا ہے۔“ نسرین نے کپڑوں کی ٹوکری اٹھائی۔ ”میں جا رہی ہوں۔“
مگر وہ ہلی نہیں۔ اس کے پاؤں جیسے چھت سے چپک گئے تھے۔
بلال نے دیوار پھلانگ لی۔ اب وہ اس کی چھت پر تھا۔ نسرین کی آنکھیں پھیل گئیں۔
”تم۔۔۔ تم یہاں کیسے؟“
”تم جا نہیں رہی تھیں۔“ وہ اس کے قریب آیا۔ ”میں نے سوچا، شاید تم چاہتی ہو کہ میں آؤں۔“
نسرین کی سانس رک گئی۔ ”تم بہت۔۔۔ بہت بے باک ہو گئے ہو۔“
”تم نے بنایا ہے۔“ اس نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ ”ہر روز جب تم چھت پر آتی ہو نا، میں دیکھتا ہوں۔ اور ہر روز یہی سوچتا ہوں۔“
”کیا سوچتے ہو؟“
”یہی کہ کاش۔۔۔“ وہ رکا۔ ”کاش میں تمہیں چھو سکوں۔“
نسرین نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔ چاندنی میں اس کا چہرہ۔ جوان، پرکشش، اور آنکھوں میں وہ سچائی جو بڑوں میں نہیں ہوتی۔
”بلال، یہ غلط ہے۔“ وہ بولی۔
”کیا غلط ہے؟“ اس نے اس کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑا۔ ”یہ کہنا کہ تم خوبصورت ہو؟ یہ غلط ہے؟“
”تم جانتے ہو میرا مطلب۔“
”ہاں جانتا ہوں۔“ وہ اور قریب آیا۔ اب ان کے درمیان ہوا بھی نہیں تھی۔ ”اور تم بھی جانتی ہو تم کیا چاہتی ہو۔“
نسرین اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ ”میں۔۔۔ میں شادی شدہ ہوں بلال۔“
”اور میں کنوارا ہوں۔“ وہ بولا۔ ”تو؟ اس سے ہمارے دل بدل جائیں گے؟“
”دل کی بات نہیں۔۔۔“
”تو کس کی بات ہے؟“ اس نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ ”بتاؤ مجھے۔ تمہارا جسم کیا کہہ رہا ہے؟“
نسرین جواب نہ دے سکی۔ کیونکہ اس کا جسم سب کہہ رہا تھا۔ اس کی تیز سانسیں، اس کے سرخ گال، اس کی کانپتی انگلیاں۔
”دیکھو۔“ بلال نے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا۔ ”محسوس کرو۔ یہ تمہارے لیے دھڑک رہا ہے۔“
اس کی دھڑکن تیز تھی۔ نسرین کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
”پھر۔۔۔“ وہ بولی، ہار مانتے ہوئے۔ ”پھر آج رات۔۔۔ کوئی پچھتاوا نہیں۔“
”کوئی پچھتاوا نہیں۔“ بلال نے وعدہ کیا۔ ”صرف آج رات۔“
دونوں جانتے تھے یہ جھوٹ تھا۔ یہ صرف آج رات نہیں تھی۔ یہ ہر رات کی شروعات تھی۔
نسرین اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔ پھر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
بلال نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔ نرم، پوچھتا ہوا۔ نسرین نے جواب دیا۔ اس کے ہاتھ اس کی قمیض پر۔
بوسہ گہرا ہوا۔ چاندنی رات، ٹھنڈی ہوا، اور دو گرم جسم۔ نسرین کے ہاتھ اس کے بالوں میں۔
”نسرین۔۔۔“ وہ اس کے ہونٹوں پر بولا۔
”ششش۔“ اس نے کہا۔ ”آج رات کوئی نام نہیں۔ کوئی رشتہ نہیں۔“
بلال نے اسے اٹھا لیا۔ نسرین کی ہلکی سی چیخ چاندنی میں گھل گئی۔
چھت کے ایک کونے میں چارپائی پڑی تھی۔ بلال نے اسے وہاں لٹایا۔
”یہاں؟ کھلے آسمان کے نیچے؟“ نسرین نے پوچھا۔
”چاند بھی دیکھے گا۔“ بلال مسکرایا۔ ”اسے بھی مزہ آئے گا۔“
نسرین ہنس پڑی۔ کتنے دنوں بعد وہ ایسے ہنسی تھی۔
بلال نے اس کا دوپٹہ ہٹایا۔ پھر اس کی قمیض کے بٹن کھولنے لگا۔ ایک، دو، تین۔ نسرین کی سانس ہر بٹن کے ساتھ تیز ہوتی گئی۔
قمیض کھلی۔ چاندنی میں اس کے ممے چمک رہے تھے۔ بلال کی آنکھیں پھیل گئیں۔
”اتنے خوبصورت۔۔۔“ وہ جھکا اور اپنا منہ وہیں رکھ دیا۔
نسرین کی کمر اٹھی۔ ”آہ۔۔۔ بلال۔۔۔“
اس کی زبان اس کے نپل پر گھوم رہی تھی، کبھی ہلکی، کبھی زور سے چوستے ہوئے۔ اس کے ہاتھ اس کے دوسرے ممے کو سہلا رہے تھے، کبھی دباتے ہوئے۔ نسرین کے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں۔
”تمہارے ہاتھ۔۔۔“ وہ بولی۔ ”اتنے گرم کیوں ہیں؟“
”تمہاری وجہ سے۔“ بلال نے اس کے پیٹ پر بوسہ دیا، ناف کے گرد زبان پھیری۔ ”تم مجھے جلا دیتی ہو۔“
نسرین کی انگلیاں اس کے بالوں میں۔ ”تو بجھا دو مجھے۔۔۔ پوری طرح۔۔۔“
اس کی زبان اس کے نپل پر گھوم رہی تھی۔ اس کے ہاتھ اس کے دوسرے ممے کو سہلا رہے تھے۔ نسرین کے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں۔
”آہستہ۔۔۔ کوئی سن لے گا۔“ وہ بولی۔
”سب سو رہے ہیں۔“ بلال نے کہا۔ ”اور چاند کسی کو نہیں بتائے گا۔“
اس کے ہاتھ نیچے گئے۔ اس کی شلوار کا ناڑا کھولا۔ نسرین نے مدد کی، کمر اٹھا کر۔
شلوار نیچے۔ چاندنی رات میں وہ ننگی اس کے سامنے تھی۔ بلال اسے دیکھ رہا تھا۔
”تم چاند سے زیادہ خوبصورت ہو۔“ وہ بولا۔
نسرین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ”کوئی مجھ سے ایسے کبھی نہیں بولا۔“
”تو آج سے میں بولوں گا۔“ بلال نے اس کی آنکھوں کے آنسو چومے۔ ”ہر رات۔“
اس نے اپنے کپڑے اتارے۔ اس کا جسم چاندنی میں چمک رہا تھا۔ جوان، مضبوط۔ اس کا لن تنا ہوا، تیار۔
نسرین نے اسے دیکھا۔ ”اتنا بڑا۔۔۔“ وہ بے اختیار بولی۔
بلال ہنسا۔ ”تمہارے لیے ہی ہے۔“
وہ اس پر آیا۔ نسرین نے اپنی ٹانگیں کھولیں۔ وہ اس میں داخل ہوا۔ آہستہ، گہرائی تک۔
نسرین نے اس کی پیٹھ پکڑ لی۔ ”ہاں۔۔۔“
بلال حرکت کرنے لگا۔ ہر دھکا گہرا۔ چارپائی ہل رہی تھی۔ نسرین کے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں جو وہ دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔
”زور سے۔۔۔“ وہ بولی۔ ”ڈرو مت۔“
بلال کی رفتار بڑھ گئی۔ چاندنی میں ان کے جسم چمک رہے تھے۔ پسینہ۔ سانسیں۔
”نسرین۔۔۔ تم۔۔۔ تم بہت۔۔۔“ وہ ہانپ رہا تھا۔
”میں کیا؟“
”بہت گرم۔۔۔ ہو۔۔۔“ اس کا جملہ ٹوٹا نہیں، کیونکہ نسرین کا پہلا پانی نکل آیا۔
اس کا جسم کانپا۔ بلال رکا نہیں۔
اس نے اسے پلٹایا۔ اب وہ چارپائی پر گھٹنوں کے بل تھی۔ بلال پیچھے سے آیا۔
”ایسے۔۔۔“ وہ بولا۔ ”چاند کو بھی دکھاؤ۔“
نسرین نے شرم سے منہ چھپایا، مگر اس کا جسم بول رہا تھا۔ بلال اس میں پھر سے داخل ہوا، پیچھے سے گہرا۔
اس کی آوازیں اب دب نہیں رہی تھیں۔ ”ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ ایسے ہی۔۔۔“
بلال کے ہاتھ اس کے مموں پر تھے، پیچھے سے۔ اس کے دھکے تیز، گہرے۔
دوسری بار کا پانی۔ نسرین کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ وہ چارپائی پر گرنے والی تھی، مگر بلال نے اسے پکڑ رکھا تھا۔
”ابھی نہیں گرو گی۔“ وہ بولا۔ ”ابھی میری باری باقی ہے۔“
اس نے رفتار اور بڑھائی۔ پھر ایک زوردار دھکے کے ساتھ اس کا پانی اس کے اندر نکل گیا۔ وہ اس پر گر پڑا۔
دونوں ہانپ رہے تھے۔ چاند اوپر تھا۔ ہوا چل رہی تھی۔
”یہ۔۔۔ یہ خواب تو نہیں؟“ نسرین بولی۔
”اگر خواب ہے تو میں کبھی نہیں جاگنا چاہتا۔“ بلال نے اسے لپٹا لیا۔
وہ ایسے ہی لیٹے رہے۔ نسرین اس کے سینے پر سر رکھے۔ اس کی دھڑکن سن رہی تھی۔
”کل؟“ بلال نے پوچھا۔
”کل شوہر کا فون آئے گا۔“ نسرین بولی۔ ”مگر رات۔۔۔ رات کو میں پھر کپڑے اتارنے آؤں گی۔“
”اور میں پھر ٹہلنے آؤں گا۔“ بلال مسکرایا۔
”تم بہت شرارتی ہو۔“
”تمہاری وجہ سے۔“ اس نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
نسرین اٹھی۔ اس نے کپڑے پہنے۔ ٹوکری اٹھائی۔ بلال دیوار پھلانگ کر اپنی چھت پر واپس گیا۔
”شب بخیر نسرین۔“ وہ بولا۔
”شب بخیر۔“ وہ مسکرائی۔ ”اور ہاں۔۔۔ چاند سے کہنا، کل پھر آئے۔“
بلال ہنسا۔ نسرین سیڑھیاں اتر گئی۔
کمرے میں آ کر اس نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ گال سرخ، آنکھوں میں چمک، ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ بالوں میں چاندنی کی خوشبو اب بھی تھی۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ چاند اب بھی وہیں تھا۔ اسے لگا چاند اسے دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔
آج کی رات۔۔۔ آج کی رات چاندنی بھی شرما گئی تھی۔
Readers who enjoyed “اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات” also read
8 curated storiesاردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)
شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔