اردو گرم بیوی کی کہانی: راتوں والی بیوی
یہ اردو گرم بیوی کی کہانی ہے، اور یہ اس رات شروع ہوئی جب میں شادی میں ڈھولک کی تھاپ پر ناچ رہی تھی اور میری نظر بھیڑ میں کھڑے دانیال پر پڑی۔ میرا نام شبانہ ہے، عمر تینتیس سال، لکھنؤ کی رہنے والی۔
میرے قدم رک گئے۔ دس سال۔ دس سال بعد میں نے اسے دیکھا تھا۔ کالج کے دنوں کا دانیال، اب چھتیس سال کا مرد، داڑھی میں ہلکی سفیدی، آنکھوں میں وہی پرانی شرارت۔ وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔ ہجوم، شور، روشنیاں، سب دھندلا گئے۔
میری شادی کو آٹھ سال ہو گئے تھے۔ شوہر سلیم کاروباری آدمی، دن رات کام میں۔ بستر پر وہ پانچ منٹ سے زیادہ نہیں ٹکتے تھے، اور وہ بھی مہینے میں دو بار۔ میں تینتیس سال کی عورت، جس کے اندر آگ دہک رہی تھی اور بجھانے والا کوئی نہیں تھا۔
ڈھولک بجتی رہی۔ میں ناچتی رہی، پر اب میرا ناچ دانیال کے لیے تھا۔ میری کمر لچک رہی تھی، میرے بال اڑ رہے تھے۔ اس کی نظریں میرے جسم پر تھیں۔ میں نے دیکھا اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔ میرے پیٹ میں تتلیاں اڑنے لگیں۔
شادی کے بعد کھانے کی میز پر وہ میرے سامنے آ بیٹھا۔ "شبانہ،" اس نے کہا۔ بس میرا نام۔ میری سانس رک گئی۔ "دانیال۔" "دس سال میں تم ذرا بھی نہیں بدلیں۔" "تم بدل گئے ہو۔ داڑھی رکھ لی۔" "تمہیں پسند نہیں؟" اس نے مسکرا کر پوچھا۔ "پتا نہیں،" میں نے کہا، پر میری آنکھیں کچھ اور کہہ رہی تھیں۔
ہم نے نمبر بدلے۔ اس رات گھر آ کر میں سو نہ سکی۔ سلیم خراٹے لے رہے تھے۔ میں چھت پر گئی۔ فون پر دانیال کا میسج آیا۔ "آج تم بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔" میں نے لکھا، "دس سال پہلے بھی یہی کہتے تھے۔" "دس سال پہلے تم میری تھیں۔ اب بھی ہو۔"
میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ میں نے لکھا، "میں شادی شدہ ہوں، دانیال۔" "اور خوش ہو؟" میں نے جواب نہ دیا۔ خاموشی ہی جواب تھی۔ اس نے لکھا، "کل ملو گی؟ پرانی جگہ۔" پرانی جگہ، گومتی کے کنارے وہ پیڑ، جہاں کالج میں ہم ملتے تھے۔
اگلے دن میں نے بہانہ بنایا، بازار جانا ہے۔ گومتی کنارے وہ پیڑ اب بھی تھا۔ دانیال وہیں کھڑا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ آگے بڑھا۔ بغیر کچھ کہے اس نے مجھے گلے لگا لیا۔ دس سال کی دوری ایک گلے میں سمٹ گئی۔ میں اس کے سینے سے لگی رو پڑی۔
اس نے میرا چہرہ اوپر کیا۔ "رو مت۔" اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں پر۔ میں پگھل گئی۔ اس کا بوسہ ویسا ہی تھا، دعویدار، بھوکا۔ اس کی زبان میرے منہ میں، میری زبان سے الجھ گئی۔ اس کے ہاتھ میری پیٹھ پر، مجھے بھینچ رہے تھے۔
ہم پیڑ کے پیچھے تھے۔ اس کے ہاتھ میری قمیض کے اندر گئے۔ ننگے ہاتھوں سے میرے ممے دبائے۔ میں کراہ اٹھی۔ "دانیال... یہاں کوئی آ جائے گا۔" "آنے دو۔" اس نے میری قمیض کے بٹن کھولے۔ میرے ممے آزاد ہوئے۔ اس نے ایک کو منہ میں لیا۔
میں نے اس کے بال پکڑ لیے۔ دس سال کی پیاس۔ وہ چوس رہا تھا، زور زور سے۔ میری شلوار گیلی ہو رہی تھی۔ اس کا ہاتھ نیچے گیا، میری شلوار کے ناڑے پر۔ "گھر چلو،" اس نے کہا۔ "میرا فلیٹ خالی ہے۔"
ہم اس کے فلیٹ گئے۔ دروازہ بند ہوتے ہی ہم ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔ اس نے میری قمیض پھاڑ دی۔ بٹن فرش پر بکھر گئے۔ اس نے مجھے بیڈ پر دھکیلا۔ میری شلوار اتاری۔ میں صرف برا میں تھی۔ اس نے برا کا ہک کھولا۔
میں اس کے سامنے پوری ننگی تھی۔ وہ مجھے دیکھتا رہا۔ "شبانہ، تم پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی ہو۔" اس نے میرے پیٹ پر ہاتھ پھیرا، ناف کے نیچے، پھر میری چوت پر۔ اس کی انگلی میری چوت کی دراڑ پر پھری۔ میں بھیگ چکی تھی۔
اس نے دو انگلیاں میری چوت میں ڈال دیں۔ میں تڑپ اٹھی۔ "آہ... دانیال..." اس نے انگلیاں اندر باہر کرنی شروع کیں، تیز، گہری۔ میرے کولہے بستر پر اچھلنے لگے۔ "دس سال سے یہی سوچتا رہا،" اس نے کہا۔ "میں بھی،" میں نے کہا۔
پھر وہ نیچے سرکا۔ اس نے میری ٹانگیں پھیلائیں اور اپنا چہرہ میری چوت میں گاڑ دیا۔ اس کی زبان میری چوت کے دانے پر لگی اور میں پاگل ہو گئی۔ "وہیں... ہاں وہیں..." اس نے چاٹنا شروع کیا، لمبی لمبی چاٹ، پھر دانے کو ہونٹوں میں لے کر چوسا۔
میرا جسم کانپنے لگا۔ "میں... میں آ رہی ہوں..." میری چوت نے اس کی زبان پر پانی چھوڑ دیا۔ میں چیخی۔ اس نے چاٹنا نہ روکا۔ پھر وہ اوپر آیا۔ اس نے اپنی قمیض اتاری، پینٹ کھولی۔ اس کا لنڈ کھڑا تھا، لمبا، موٹا۔
میں نے اسے ہاتھ میں لیا۔ گرم، سخت۔ میں نے اسے منہ میں لیا۔ پہلی بار دس سال میں۔ نمکین ذائقہ۔ وہ میرے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔ "ہاں شبانہ، ایسے ہی..." میں نے اسے گہرائی تک لیا۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا۔
"بس،" اس نے مجھے اٹھایا۔ اس نے مجھے بیڈ پر لٹایا۔ اس کے لنڈ کا ٹوپا میری چوت کے منہ پر۔ ایک دھکے میں اندر۔ میں چیخ اٹھی۔ دس سال کا انتظار ایک لمحے میں ختم۔ اس کا لنڈ میری چوت میں پورا گھس گیا تھا۔
اس نے دھکے لگانے شروع کیے۔ پہلے دھیمے، پھر تیز۔ بیڈ چرمرایا۔ اس نے میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ "ہاں... اور تیز... اور تیز..." میں چلا رہی تھی۔ ہر دھکا میری بچہ دانی تک پہنچ رہا تھا۔ میں جھڑی، اس کے لنڈ پر۔
اس نے مجھے پلٹا۔ اب پیچھے سے۔ میں گھٹنوں پر ہوئی۔ اس نے پیچھے سے میری چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ اس کے ہاتھ میرے مموں پر تھے۔ "تمہارے ممے... آہ..." اس کے دھکے بے قابو ہو گئے۔ پھر اس نے لنڈ باہر نکالا اور میرے پیٹ پر جھڑا۔ گرم منی میرے پیٹ پر پھیلی۔
ہم دونوں ہانپتے ہوئے لیٹے رہے۔ اس نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا۔ "دس سال انتظار کیا، شبانہ۔" "میں نے بھی۔" اس دن کے بعد یہ ہمارا معمول بن گیا۔ ہفتے میں دو بار، اس کے فلیٹ میں۔ کبھی دوپہر کو، کبھی شام کو۔
ایک دن سلیم کو شک ہوا۔ "آج کل تم بہت خوش رہتی ہو،" اس نے کہا۔ میں نے مسکرا کر کہا، "موسم اچھا ہے۔" اسے کیا خبر کہ اس کی بیوی اب پوری طرح جاگ چکی ہے۔ اس رات جب سلیم نے مجھے چھوا، میں نے آنکھیں بند کر کے دانیال کو سوچا۔
ایک شام دانیال نے مجھے ہوٹل بلایا۔ کمرہ بک تھا۔ ہم نے شام سے رات تک تین بار کیا۔ تیسری بار کے بعد ہم ننگے ہی سو گئے۔ رات کو جب میں گھر آئی، سلیم سو رہے تھے۔ میں چپکے سے بستر میں گھس گئی۔ میرے جسم پر دانیال کی خوشبو تھی۔
ہوٹل کے کمرے میں اس نے مجھے شیشے کے سامنے کھڑا کیا۔ "دیکھو،" اس نے کہا۔ میں نے دیکھا، ہم دونوں ننگے، اس کے ہاتھ میرے جسم پر۔ اس نے پیچھے سے مجھے لیا، شیشے میں ہماری نظریں ملیں۔ خود کو اس طرح دیکھنا، اس کی باہوں میں، مجھے پاگل کر گیا۔ میں چیخ چیخ کر جھڑی۔
پھر اس نے مجھے بیڈ پر بٹھایا اور میرے سامنے گھٹنوں پر بیٹھا۔ اس نے میری چوت کو چاٹا، دیر تک، جب تک میں دو بار نہ جھڑی۔ پھر وہ اوپر آیا اور مجھ میں سمایا۔ اس رات ہم نے وقت کو بھلا دیا تھا۔ صرف ہم تھے، اور ہماری پیاس۔
ایک دن سلیم جلدی گھر آ گئے۔ میں دانیال کے فلیٹ میں تھی۔ فون پر سلیم کی کال آئی۔ "کہاں ہو؟" میرا دل دھڑکا۔ "بازار میں،" میں نے کہا۔ دانیال نے میرا منہ بند کیا اور دھکے جاری رکھے۔ میں نے فون کاٹ دیا۔ اس ڈر میں جو مزہ تھا، وہ ناقابل بیان تھا۔
میں گھر پہنچی تو سلیم نے پوچھا، "اتنی دیر کہاں تھیں؟" "رش تھا،" میں نے کہا۔ اس نے میری طرف دیکھا۔ میری گردن پر دانیال کا دیا ہوا نشان تھا۔ میں نے دوپٹہ سنبھالا۔ "یہ نشان؟" اس نے پوچھا۔ "مچھر نے کاٹا،" میں نے کہا۔ وہ مان گیا۔ مرد کتنے بھولے ہوتے ہیں۔
ایک دن ہم گومتی کنارے ملے، پرانی جگہ۔ بارش ہو رہی تھی۔ ہم پیڑ کے نیچے بھیگ رہے تھے۔ اس نے مجھے پیڑ سے لگایا اور میری شلوار نیچے سرکائی۔ کھلے آسمان کے نیچے، بارش میں، اس نے مجھے لیا۔ ڈر بھی تھا، مزہ بھی۔ کوئی آ سکتا تھا، پر اس ڈر نے مزہ دوگنا کر دیا۔
اس نے مجھے گود میں اٹھایا۔ بارش میں بھیگتے ہوئے ہم ایک دوسرے میں گم تھے۔ "شبانہ،" اس نے کہا، "کبھی مجھے چھوڑ کر مت جانا۔" "کبھی نہیں،" میں نے کہا۔ اس وقت مجھے پتا تھا، یہ کہانی اب کبھی ختم نہیں ہوگی۔
اب یہ میری زندگی ہے۔ دن میں سلیم کی بیوی، اور جب موقع ملے دانیال کی شبانہ۔ اس نے مجھے وہ دیا جو آٹھ سال میں کوئی نہ دے سکا، اپنی بیوی ہونے کا احساس۔ کل اس نے کہا، "تم گرم بیوی ہو، شبانہ۔ بہت گرم۔" میں نے ہنس کر کہا، "اور تم وہ آگ ہو جو مجھے جلاتی ہے۔"
کل رات اس کا میسج آیا۔ "پرانی جگہ، کل دوپہر۔" میں نے لکھا، "آؤں گی۔" سلیم کو میں نے کہا، بازار جانا ہے۔ آئینے میں دیکھا، میری آنکھوں میں چمک تھی۔ دس سال پہلے والی شبانہ واپس آ گئی تھی۔ گرم، زندہ، اور پیاسی۔
Readers who enjoyed “اردو گرم بیوی کی کہانی: راتوں والی بیوی” also read
8 curated storiesاردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2
رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔
اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ
راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔
اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں
آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔
اردو مامی کہانی: شادی والی رات
اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔
اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام
اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی 2026: مہنور کی آدھی رات
آدھی رات کو اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور مہنور اندر آ گئی۔ یہ اردو سالی کی چدائی 2026 کی وہ کہانی ہے جو ایک سرد رات میں شروع ہوئی۔