اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن
یہ اردو دوست کی بیوی کی چدائی کی کہانی اس شام سے شروع ہوتی ہے جب میں نے ماہ نور کو فون پر بات کرتے ہوئے سنا تھا۔ میں دانیال، 29 سال کا، لاہور میں موبائل کی دکان چلاتا ہوں، اور اس وقت میں اپنے دوست کامران کے گھر راشن کا تھیلا رکھنے آیا تھا۔
دروازہ کھلا تھا، میں اندر داخل ہوا تو ڈرائنگ روم سے ماہ نور کی آواز آئی۔ وہ اپنی سہیلی سے فون پر بات کر رہی تھی۔ "کامران کو تو بس کام سے مطلب ہے، بیوی کا کوئی خیال نہیں،" وہ کہہ رہی تھی، "مہینوں ہو گئے اس نے مجھے چھوا تک نہیں۔ میں کیا کروں، دیوار سے باتیں کروں؟" میرا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ میں وہیں رک گیا، سانس روکے سنتا رہا۔
کامران میرا بچپن کا دوست تھا۔ دس دن پہلے وہ دبئی گیا تھا کاروباری دورے پر، اور جاتے ہوئے مجھ سے کہا تھا، "دانیال، ماہ نور اکیلی ہوگی، کبھی کبھی چکر لگا لیا کر، کوئی ضرورت ہو تو دیکھ لیا کر۔" میں نے حامی بھر لی تھی۔ مجھے کیا پتا تھا کہ یہ ذمہ داری میری زندگی بدل دے گی۔
میں نے کھانس کر اپنی موجودگی ظاہر کی۔ ماہ نور چونکی، جلدی سے فون بند کیا، چہرے پر ہلکی سی شرمندگی۔ "ارے دانیال بھائی، آپ کب آئے؟" وہ بولی۔ اس کی عمر 27 سال تھی، لمبے بال، بھری ہوئی جسم، اور آنکھوں میں وہ تنہائی جو میں نے فون پر سنی تھی۔ میں نے راشن رکھا، چائے پی، اور چلا آیا۔ پر اس کی آواز میرے کانوں میں گونجتی رہی۔
اگلے دن میں پھر گیا۔ اس بار پنکھا ٹھیک کرنے کے بہانے۔ اصل میں مجھے اسے دیکھنا تھا۔ وہ کچن میں کھڑی تھی، میں نے پنکھا ٹھیک کیا، ہم نے باتیں کیں۔ اس نے بتایا کہ کامران سے شادی کو پانچ سال ہو گئے ہیں، اور پچھلے ایک سال سے ان کے درمیان شوہر بیوی والا رشتہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ "وہ آتا ہے، کھاتا ہے، سوتا ہے، چلا جاتا ہے،" وہ بولی، "میں اس گھر میں نوکرانی بن کر رہ گئی ہوں۔"
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "تم نوکرانی نہیں ہو ماہ نور، تم بہت خوبصورت ہو،" میں نے کہا۔ اس نے میری طرف دیکھا، آنکھوں میں آنسو اور کچھ اور بھی۔ اس نے ہاتھ نہیں چھڑایا۔ ہم دیر تک ایسے ہی بیٹھے رہے۔ جب میں جانے لگا تو دروازے پر اس نے کہا، "کل پھر آؤ گے نا؟" میں نے ہاں کہہ دیا۔
کھانے کے بعد اس نے مجھے اپنا کمرہ دکھایا۔ بستر پر کامران کی طرف خالی جگہ، الماری میں اس کے کپڑے، پر دیوار پر لگی شادی کی تصویر میں دونوں کے چہروں پر وہ خوشی جو اب کہیں کھو گئی تھی۔ "دیکھو،" وہ بولی، آواز بھر آئی، "یہ ہے میری زندگی، ایک خوبصورت قبر۔" میں نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ وہ میرے سینے پر روئی، اور میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ اس پل میں ہمارے درمیان کچھ ٹوٹا، اور کچھ جڑا۔
تیسرے دن میں شام کو کھانا لے کر گیا۔ ہم نے اکٹھے کھانا کھایا، ٹی وی دیکھا۔ وہ میرے قریب بیٹھی تھی، اتنی قریب کہ اس کے جسم کی گرمی مجھے محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اس کی تعریف کی، اس کے بالوں کی، اس کی آنکھوں کی۔ وہ شرما گئی، پر خوش بھی لگی۔ میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا۔ اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔
"دانیال، یہ غلط ہے،" وہ سرگوشی میں بولی، پر اس کی آواز میں انکار نہیں تھا۔ "مجھے پتا ہے،" میں نے کہا، اور میں نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ میرے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر آ گئے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، ڈرا ہوا۔ جب اس نے پیچھے نہیں ہٹی، تو میں نے اسے اور زور سے چوما۔ اس کی زبان میرے منہ میں آ گئی، میں نے اسے چوسا۔
میرے ہاتھ اس کی کمر پر گئے، اس کی قمیض اوپر کھینچ دی۔ اس نے قمیض اتار دی۔ وہ برا میں میرے سامنے تھی، 27 سال کی عورت کا بھرا ہوا جسم، ممے بڑے اور گول۔ میں نے انہیں ہاتھوں میں بھر لیا، دبایا۔ وہ سسک پڑی۔ میں نے اس کی برا کا ہک کھولا، ممے آزاد ہو گئے۔ میں نے انہیں چوسا، نپلوں کو دانتوں سے ہلکا کاٹا۔
میں نے اسے کھڑا کیا، آہستہ آہستہ اس کے کپڑے اتارے، جیسے کوئی تحفہ کھولتا ہے۔ ہر انچ جلد کو میں نے چوما، اس کی گردن، اس کے کندھے، اس کی کمر کا گڑھا۔ وہ کانپ رہی تھی، میرا نام لے رہی تھی۔ جب وہ پوری ننگی میرے سامنے کھڑی تھی، تو میں نے گھٹنے ٹیک دیے اور اس کی چوت کو چوما، وہیں کھڑے کھڑے۔ اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں، اس نے میرا سر پکڑ لیا۔
اس نے میری قمیض اتار دی، میری چھاتی پر ہاتھ پھیرا۔ میں نے اس کی شلوار کا نالا کھولا، اسے نیچے سرکا دیا۔ وہ اب پوری ننگی میرے سامنے تھی۔ میں نے اسے صوفے پر لٹایا، اس کی ٹانگیں پھیلا دیں۔ اس کی چوت گیلی تھی، پانی بہہ رہا تھا۔ میں نے اپنا منہ وہاں لگا دیا۔
میں نے اس کی چوت کو چاٹا، زبان اندر ڈالی، دانے کو رگڑا۔ وہ کمر اچھال اچھال کر چیخنے لگی۔ "دانیال، اور، اور،" وہ چلا رہی تھی۔ میں نے اور تیز چاٹا، انگلیاں اندر ڈال دیں، اندر باہر کرنے لگا۔ اس کا جسم اکڑ گیا، وہ زور سے چیخی، اور اس کا پانی نکل گیا، میرے منہ پر، میری انگلیوں پر بہہ گیا۔
میں اوپر آیا، اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا، رگڑا، اور ایک جھٹکے سے اندر ڈال دیا۔ وہ چیخ پڑی۔ میرا لنڈ اس کی چوت کو پورا بھر گیا تھا۔ میں رکا، اسے عادت ڈالنے دی، پھر آہستہ آہستہ دھکے لگانے لگا۔ ہر دھکے کے ساتھ وہ اور گیلی ہوتی گئی، اور کمرے میں ہمارے جسموں کی تھاپ گونجنے لگی۔
میں اس کے اوپر تھا، میری چھاتی اس کے مموں پر رگڑ کھا رہی تھی۔ اس نے اپنی ٹانگیں میری کمر پر لپیٹ لیں۔ دھکے تیز ہو گئے۔ "اور زور سے،" وہ بولی۔ میں نے اور زور لگایا۔ اس کا جسم کانپنے لگا، وہ دوسری بار جھڑ گئی، میرے لنڈ پر پانی بہہ گیا۔ میں نے اسے اٹھایا، بیڈروم میں لے گیا، بستر پر لٹایا۔
میں نے اسے گھٹنوں پر کیا، پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ پھر ڈال دیا۔ پیچھے سے دھکے اور گہرے لگ رہے تھے۔ میں نے اس کے بال پکڑے، اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا، تیز دھکے لگاتا رہا۔ وہ آگے پیچھے ہل رہی تھی، چیخ رہی تھی۔ پھر میں نے اسے سیدھا لٹایا، اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں، اور ایک بار پھر اندر ڈال دیا۔
اس پوز میں میرا لنڈ سب سے گہرا جا رہا تھا۔ وہ چیخ رہی تھی، ناخن میری پیٹھ میں گاڑ رہی تھی۔ "دانیال، میں پھر جھڑنے والی ہوں،" وہ ہانپتی ہوئی بولی۔ "اکٹھے،" میں نے کہا، اور ہم دونوں اکٹھے جھڑے۔ پھر میں نے اسے کس کر پکڑا، دھکے اور تیز کیے، اور ایک زور کی کراہ کے ساتھ میں نے اپنا پانی اس کی چوت کے اندر چھوڑ دیا۔ گرم، گاڑھا۔
ہم دونوں بستر پر ڈھیر ہو گئے، پسینے میں بھیگے، ہانفتے ہوئے۔ اس نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ "یہ ہمارا راز ہے،" اس نے سرگوشی میں کہا۔ "کامران کو کبھی پتا نہیں چلنا چاہیے۔" میں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ "کبھی نہیں،" میں نے وعدہ کیا۔
ایک رات بارش ہو رہی تھی۔ بجلی چمک رہی تھی، اور ہم کھڑکی کے پاس کھڑے بارش دیکھ رہے تھے، دونوں ننگے، ایک دوسرے سے لپٹے۔ اس نے کہا، "کامران کے ساتھ میں نے کبھی بارش نہیں دیکھی۔" میں نے اسے کھڑکی کے شیشے سے لگا دیا، پیچھے سے اس میں داخل ہوا، اور بارش کی آواز میں ہماری چیخیں ڈوب گئیں۔ وہ رات مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔
اس کے بعد کے آٹھ دن ہم ہر روز ملتے رہے۔ کبھی دوپہر کو، کبھی شام کو، جب محلہ سوتا ہوتا۔ اس نے مجھے سب کچھ سکھایا، ہر انداز، ہر طریقہ۔ میں اس کا شاگرد بن گیا تھا۔ جس دن کامران کو واپس آنا تھا، اس سے ایک رات پہلے ہم آخری بار ملے، اور وہ رات سب سے لمبی تھی، سب سے گہری تھی۔
اگلی صبح میں کامران کو ایئرپورٹ سے لینے گیا۔ وہ خوش تھا، تحفے لایا تھا۔ گھر آ کر اس نے ماہ نور کو گلے لگایا۔ میں وہیں کھڑا دیکھتا رہا۔ جاتے ہوئے ماہ نور نے مجھے دروازے تک چھوڑا۔ سب کی نظروں سے بچا کر اس نے میرے ہاتھ میں ایک پرچی دبائی۔ میں نے جیب میں ڈال لی۔
میں نے کلینڈر پر نشان لگایا ہے، اس تاریخ پر جب کامران کی فلائٹ ہے۔ ماہ نور روز فون کرتی ہے، دبی آواز میں، اور ہر کال کے آخر میں وہی ایک جملہ، "جلدی آؤ، میں انتظار کر رہی ہوں۔" اور میں جانتا ہوں، یہ انتظار کبھی ختم نہیں ہوگا۔
گھر آ کر میں نے پرچی کھولی۔ اس پر اس کے نئے نمبر کے ساتھ لکھا تھا، "جب کامران پھر جائے گا، تم پھر آؤ گے نا؟ اس بار دروازہ کھلا رکھوں گی۔" میں نے پرچی کو چوما، الماری میں چھپا دیا۔ کامران اگلے مہینے پھر دبئی جا رہا تھا۔ اور میں گن رہا تھا دن، اس شام تک جب میں نے اسے فون پر سنا تھا، اور جس شام نے ہم دونوں کی زندگی بدل دی تھی۔
Readers who enjoyed “اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن” also read
8 curated storiesاردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2
رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔
اردو ساس بہو کہانی: فرزانہ اور نادیہ کا راز
لاہور کی پرانی حویلی میں ساس فرزانہ اور بہو نادیہ کی کہانی، جہاں چھت پر پکڑے جانے کے بعد ایک راز دونوں عورتوں کو ایک کر دیتا ہے۔ اردو ساس بہو کہانی کا سب سے بولڈ باب۔
اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ
راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔
اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی
اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔
اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں
آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔
اردو مامی کہانی: شادی والی رات
اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔