One Night Standاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو سفر سیکس کہانی: ٹرین والی رات (حصہ 1)

S
11 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

"ارے! سنبھال کر!" ٹرین کے ایک زور دار جھٹکے سے اوپر والی برتھ پر رکھا ثنا کا بھاری سوٹ کیس پھسل کر نیچے آنے لگا، اور سامنے والی نچلی برتھ پر بیٹھے آدمی نے ایک ہی ہاتھ سے اسے تھام لیا۔ یہ اردو سفر سیکس کہانی اسی ایک جھٹکے سے شروع ہوتی ہے، دہلی سے لکھنؤ جانے والی رات کی ٹرین کے اے سی تھری ٹیئر ڈبے میں، جہاں چھتیس سالہ ثنا اپنی امی کے گھر جا رہی تھی اور اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ اگلے بارہ گھنٹے اس کی زندگی کا سب سے بے باک باب لکھ دیں گے۔

"شکریہ،" ثنا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، اور سوٹ کیس کو سنبھال کر ایک طرف رکھ دیا۔ سامنے بیٹھا آدمی کوئی انتالیس چالیس کا ہوگا، گندمی رنگ، گھنی مونچھیں، اور آنکھوں میں ایک عجیب سی نرمی۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ "دانش۔ دانش قریشی۔ کانپور جا رہا ہوں، کپڑے کا کاروبار ہے۔"

"ثنا۔ لکھنؤ، امی کے پاس۔" ثنا نے ہاتھ ملایا، اور اسے محسوس ہوا کہ دانش نے اس کا ہاتھ ایک لمحہ زیادہ دیر تک تھامے رکھا۔ ڈبے میں باقی لوگ اپنے اپنے کاموں میں مگن تھے۔ اوپر کی برتھ پر ایک بوڑھے انکل خراٹے لے رہے تھے، اور کونے والی سیٹ پر ایک لڑکا کانوں میں ایئر فون لگائے موبائل میں گم تھا۔

ٹرین غازی آباد سے نکل چکی تھی اور باہر اندھیرا گہرا ہو رہا تھا۔ چائے والا آیا تو دانش نے دو کپ چائے منگوائی۔ "سفر میں اکیلے چائے پینے کا مزہ نہیں آتا،" اس نے مسکرا کر کہا۔ ثنا نے کپ تھاما، اور ان کی انگلیاں ایک پل کے لیے آپس میں چھو گئیں۔ وہ چھونا اتنا ہلکا تھا کہ اتفاق لگتا، مگر ثنا کے سینے میں ایک عجیب سی گدگدی دوڑ گئی۔

"شوہر ساتھ نہیں آئے؟" دانش نے باتوں باتوں میں پوچھا۔ ثنا نے چائے کا گھونٹ بھرا۔ "وہ دبئی میں ہیں، دو سال سے۔ سال میں ایک بار آتے ہیں۔" اس کی آواز میں کوئی شکایت نہیں تھی، بس ایک تھکی ہوئی عادت تھی۔ دانش نے سر ہلایا۔ "میری بیوی کو گزرے چار سال ہو گئے۔ کینسر۔" ایک خاموشی چھا گئی، مگر وہ بوجھل نہیں تھی۔ دکھ کی یہ سانجھ دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آئی۔

باتیں بڑھتی گئیں۔ دانش نے بتایا کہ وہ ہر مہینے دہلی کپڑا خریدنے آتا ہے۔ ثنا نے بتایا کہ وہ ایک اسکول میں پڑھاتی ہے۔ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔ رات کے نو بجے کھانا آیا، اور دونوں نے اپنا اپنا ٹفن کھولا۔ دانش نے اپنے ٹفن سے کباب نکال کر ثنا کی طرف بڑھائے۔ "امی کے ہاتھ کے ہیں، چکھ کر دیکھو۔" ثنا نے کباب اٹھایا، اور دانش کی نظریں اس کے ہونٹوں پر ٹھہر گئیں۔

کھانے کے بعد ڈبے کی روشنیاں مدھم کر دی گئیں۔ بوڑھے انکل نے خراٹوں کی رفتار بڑھا دی۔ لڑکا اوپر کی برتھ پر چڑھ کر سو گیا۔ ثنا اپنی نچلی برتھ پر لیٹی، اور دانش سامنے والی برتھ پر۔ دونوں کے درمیان صرف ایک میٹر کا فاصلہ تھا، اور وہ فاصلہ ہر گزرتے منٹ کے ساتھ چھوٹا لگ رہا تھا۔

"نیند نہیں آ رہی؟" دانش کی آواز اندھیرے میں آئی۔ "نہیں،" ثنا نے دھیرے سے کہا۔ "عادت نہیں ہے ٹرین میں سونے کی۔" دانش اٹھ کر اس کی برتھ کے کنارے آ بیٹھا۔ "تو باتیں کرتے ہیں۔" اس کی یہ حرکت اتنی فطری تھی کہ ثنا نے اعتراض نہیں کیا۔ وہ اپنی شال اوڑھے لیٹی تھی، اور دانش اس کے پیروں کے پاس بیٹھا تھا۔

باتوں کے دوران دانش کا ہاتھ شال کے اوپر سے ثنا کے گھٹنے پر ٹھہر گیا۔ ثنا نے اسے ہٹایا نہیں۔ اس کے دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو گئی کہ اسے لگا دانش سن لے گا۔ دانش کی انگلیاں آہستہ آہستہ اوپر سرکنے لگیں، شال کے کپڑے کے اوپر سے اس کی ران کو سہلانے لگیں۔ ثنا نے آنکھیں بند کر لیں۔ دو سال۔ دو سال سے کسی مرد نے اسے اس طرح نہیں چھوا تھا۔

"ثنا،" دانش نے سرگوشی کی۔ "اگر تم کہو تو میں رک جاؤں گا۔" ثنا نے آنکھیں کھولیں، اور اندھیرے میں اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر دانش کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنی ران پر دبا دیا۔ یہی اس کا جواب تھا۔ دانش کے ہونٹوں پر ایک گہری مسکراہٹ آئی، اور وہ جھک کر اس کے ماتھے کو چومنے لگا۔

اس کا بوسہ ماتھے سے گالوں تک آیا، پھر ہونٹوں تک۔ ثنا نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر دیں۔ چومنے کی شدت بڑھتی گئی۔ دانش کا ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد تھا، دوسرا اس کے سینے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ثنا کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اس نے دانش کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کر دیے، ایک ایک کر کے۔

دانش نے شال ہٹا دی۔ ثنا نے سبز رنگ کا سوٹ پہنا تھا، اور اس کے سینے کا ابھار دانش کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ دانش نے اس کے کرتی کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو دبانا شروع کیا۔ ثنا کے منہ سے ایک دبی ہوئی آہ نکلی۔ "آہستہ،" اس نے سرگوشی کی، "کوئی جاگ جائے گا۔" مگر اس کی آنکھوں میں منع نہیں تھا، بلکہ ایک بھڑکتی ہوئی چاہت تھی۔

دانش نے اس کا کرتہ اوپر کیا اور اس کے پیٹ پر بوسے دینے لگا۔ اس کی زبان ثنا کی ناف کے گرد گھوم رہی تھی۔ ثنا نے اس کے سر کو پکڑ لیا۔ پھر دانش نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا۔ ثنا نے ذرا سی مزاحمت کی، پھر خود ہی اپنی شلوار نیچے سرکا دی۔ ڈبے کے اندھیرے میں اس کی رانوں کی گوری رنگت چمک رہی تھی۔

دانش اس کی رانوں کے درمیان جھکا۔ اس نے پہلے اس کی رانوں کے اندرونی حصے کو چوما، پھر آہستہ آہستہ اوپر بڑھا۔ جب اس کی زبان ثنا کی چوت کو چھوئی تو ثنا کا پورا جسم کانپ اٹھا۔ "اوہ خدا،" وہ بڑبڑائی۔ دانش کی زبان ماہر تھی۔ وہ کبھی چوت کے دانے کو چوستا، کبھی اپنی زبان اندر تک ڈالتا۔ ثنا نے اپنی مٹھی بھینچ لی تاکہ آواز نہ نکلے۔

ثنا کی چوت گیلی ہوتی جا رہی تھی۔ اس کا رس دانش کے چہرے پر لگ رہا تھا۔ "بس، بس کرو،" ثنا نے ہانپتے ہوئے کہا، "میں جھڑنے والی ہوں۔" دانش رکا نہیں۔ اس نے اپنی ایک انگلی اس کی چوت میں ڈال دی اور زبان سے دانے کو رگڑتا رہا۔ چند لمحوں میں ثنا کا جسم اکڑا، پھر ڈھیلا پڑ گیا۔ وہ پہلی بار جھڑی تھی، اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ خوشی کے آنسو۔

اب باری ثنا کی تھی۔ اس نے دانش کو برتھ پر لٹایا اور اس کی پینٹ کا بیلٹ کھولا۔ دانش کا لنڈ پہلے سے ہی تنا ہوا تھا، موٹا اور لمبا۔ ثنا نے اسے ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ ہلانے لگی۔ پھر وہ جھکی اور اس کے ٹوپے کو اپنے منہ میں لے لیا۔ دانش کے منہ سے ایک گہری آہ نکلی۔ "اوہ ثنا۔"

ثنا کا منہ گرم تھا۔ وہ لنڈ کو اندر باہر کر رہی تھی، اور اس کی زبان ٹوپے کے گرد گھوم رہی تھی۔ دانش نے اس کے بال پکڑ لیے۔ "تم تو کمال ہو،" وہ ہانپ رہا تھا۔ ثنا نے رفتار بڑھا دی۔ دانش کا جسم تننے لگا۔ "میں آنے والا ہوں،" اس نے خبردار کیا۔ ثنا نہیں رکی۔ چند لمحوں بعد دانش کا گرم منی اس کے منہ میں بھر گیا۔ ثنا نے اسے نگل لیا اور مسکرائی۔

دونوں کچھ دیر ایک دوسرے کی بانہوں میں لیٹے رہے۔ ٹرین کی دھڑکن ان کے دلوں کی دھڑکن سے مل رہی تھی۔ "یہ سب،" ثنا نے دھیرے سے کہا، "یہ ٹھیک ہے نا؟" دانش نے اس کے ہونٹوں کو چوما۔ "یہ سب سے زیادہ ٹھیک ہے جو میرے ساتھ چار سال میں ہوا ہے۔" ثنا کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی۔

رات کے ایک بجے ٹرین ایک انجانے سے اسٹیشن پر رک گئی۔ اعلان ہوا کہ سگنل کی خرابی کی وجہ سے ٹرین تین گھنٹے یہیں کھڑی رہے گی۔ ڈبے کے اکثر مسافر سو رہے تھے۔ دانش نے ثنا کا ہاتھ پکڑا۔ "چائے پیتے ہیں؟ پلیٹ فارم پر ٹھنڈی ہوا کھاتے ہیں۔" ثنا نے شال اوڑھی اور دونوں نیچے اتر گئے۔

پلیٹ فارم سنسان تھا۔ صرف ایک چائے کا کھوکھا کھلا تھا، اور دور ایک لالٹین ٹمٹما رہی تھی۔ دونوں چائے لے کر پلیٹ فارم کے آخری سرے کی طرف چل دیے، جہاں اندھیرا زیادہ تھا۔ وہاں ایک پرانی بینچ پڑی تھی۔ دونوں بیٹھ گئے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، اور ثنا دانش کے قریب سرک آئی۔

دانش نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔ "یہاں کوئی نہیں دیکھے گا،" اس نے سرگوشی کی۔ اس کا ہاتھ ثنا کے کرتی کے اندر چلا گیا، اور اس نے اس کے ننگے مموں کو پکڑ لیا۔ ثنا نے اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔ دونوں کی سانسیں پھر تیز ہونے لگیں۔ دانش نے اسے بینچ پر لٹا دیا۔

اس نے ثنا کی شلوار پھر سے نیچے کی۔ اس کا لنڈ پھر تنا ہوا تھا۔ اس نے ثنا کی ٹانگیں پھیلائیں اور اپنا لنڈ اس کی گیلی چوت پر رگڑنے لگا۔ ثنا بے چین ہو رہی تھی۔ "ڈالو نا،" وہ منت کر رہی تھی۔ "اب تڑپاؤ مت۔" دانش مسکرایا اور ایک ہی جھٹکے میں اپنا پورا لنڈ اس کی چوت میں اتار دیا۔

ثنا کے منہ سے ایک دبی چیخ نکلی۔ دانش نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ "ششش۔" پھر اس نے دھکے لگانے شروع کیے۔ ہر دھکے کے ساتھ بینچ چرچرانے لگتی۔ ثنا نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ چاندنی رات میں، سنسان پلیٹ فارم پر، دونوں ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے۔

دانش کی رفتار بڑھتی گئی۔ وہ کبھی تیز دھکے لگاتا، کبھی رک کر اس کے مموں کو چوستا۔ ثنا کی چوت اس کے لنڈ کو کس کر پکڑ رہی تھی۔ "میں پھر جھڑنے والی ہوں،" ثنا نے ہانپتے ہوئے کہا۔ "ساتھ میں،" دانش نے کہا۔ دونوں نے اپنی رفتار بڑھا دی، اور پھر ایک ساتھ عروج پر پہنچے۔ ثنا کی چیخ دانش کے ہاتھ میں دب گئی۔

دونوں ہانپتے ہوئے بینچ پر لیٹے رہے۔ دانش ابھی بھی اس کے اندر تھا۔ "ثنا،" اس نے کہا، "کانپور میں میرا گھر ہے۔ دو دن رک جاؤ۔ کوئی نہیں پوچھے گا۔" ثنا کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اچانک پلیٹ فارم کے دوسرے سرے سے ایک آواز آئی۔ "ثنا بھابھی؟"

دونوں کا خون خشک ہو گیا۔ ایک آدمی لالٹین کی روشنی میں ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جیسے جیسے وہ قریب آیا، ثنا کا چہرہ سفید پڑتا گیا۔ یہ تو وہی تھا۔ اس کے شوہر کا دبئی والا ساتھی، عمران۔ جو اسی شہر میں رہتا تھا۔ جو اسے اچھی طرح جانتا تھا۔

"ارے ثنا بھابھی، آپ یہاں؟ اس سنسان پلیٹ فارم پر؟" عمران کی نظریں ثنا سے دانش کی طرف گئیں، اور پھر ان کے بکھرے ہوئے کپڑوں پر۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی۔ ثنا کی زبان حلق میں اٹک گئی۔ دانش نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔

اگلا حصہ جلد آ رہا ہے۔۔۔

📖 The story continues

اردو سفر سیکس کہانی: ٹرین والی رات (حصہ 2، آخری)

Continue to Part 2 →
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

One Night Stand

اردو سفر سیکس کہانی: ٹرین والی رات (حصہ 2، آخری)

اردو سفر سیکس کہانی کا آخری حصہ۔ پلیٹ فارم پر عمران کا سامنا، ثنا کی حاضر جوابی، اور ٹرین کی اسی رات کا انجام۔ لکھنؤ کی صبح تک کی کہانی۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو سفر سیکس کہانی: ٹرین والی رات (حصہ 1)” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ

دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔

⏱️ 13 min read•👁️ 5 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔

⏱️ 14 min read•👁️ 4 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی

اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔

⏱️ 9 min read•👁️ 4 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو ہاٹ سٹوری: شادی میں آیا مہمان

ایک اردو ہاٹ سٹوری جس میں لاہور کے فارم ہاؤس کی شادی میں عائشہ کی نظر شوہر کے پرانے فوجی دوست بلال سے ملتی ہے، اور رخصتی کی ہلچل میں دونوں ایک سنسان کمرے میں اتر جاتے ہیں۔

⏱️ 11 min read•👁️ 3 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو گرم بیوی کی کہانی: راتوں والی بیوی

اردو گرم بیوی کی کہانی: لکھنؤ کی شبانہ، جس کا شوہر کام میں مصروف ہے، شادی میں دس سال پرانے عاشق دانیال سے ملنے کے بعد جاگ اٹھی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 3 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو بیوہ سیکس کہانی: فرح اور حویلی کی دوپہر

لکھنؤ کی پرانی حویلی میں دو سال سے بیوہ رہنے والی فرح کی اس دوپہر نے اس کی زندگی بدل دی۔ ایک دلچسپ اردو بیوہ سیکس کہانی جو پہلی نظر سے شروع ہوئی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 3 views
BDSM & Dominationاردو (Urdu)

لاہور کی پرانی گلی میں اس نے دروازہ بند کیا، رسی کی کلائی میرے گلے میں پہنائی اور کہا کہ آج سے تم میرے حکم میں ہو

کلیگرافی کی کلاس تھی تھی؂ دور جانے والے گھر تھیں؂ اک شام کے بعد وہ دروازہ بند ہوا؂ اور جس نے قلم پکڑنا تھا اس نے باقی رات کا فیصلہ خود لکھایا۔

⏱️ 10 min read•👁️ 3 views