اردو بیوہ سیکس کہانی: فرح اور حویلی کی دوپہر
دوپہر کے تین بج رہے تھے جب فرح نے آدھ کھلے دروازے کے پیچھے سے جھانکتی وہ دو آنکھیں پکڑ لیں۔ لکھنؤ کی اس پرانی حویلی میں دو سال سے بیوہ کی خاموش زندگی گزارنے والی فرح کے لیے یہ اردو بیوہ سیکس کہانی اسی ایک چوری شدہ نظر سے شروع ہوئی تھی، ایک ایسی نظر جسے دیکھ کر اس نے گھبرا کر اپنا آنچل سنبھالنے کے بجائے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرا دیا۔
دروازے کے اس پار دانیال کھڑا تھا، اس کے مرحوم شوہر کا چھوٹا کزن، چھببیس سال کا وہ لڑکا جو حویلی کے پچھلے حصے میں ایک چھوٹی سی پرنٹنگ پریس چلاتا تھا۔ اس کی سانس اسے یہاں تک سنائی دے رہی تھی۔ فرح نے جان بوجھ کر اپنا ہاتھ گردن پر پھیرا اور پسینے کی بوند کو انگلی سے پوچھا، اور اس کی یہ حرکت دیکھ کر دانیال کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
دانیال نے دروازہ ذرا اور کھولا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ "بھابھی، وہ۔۔۔ میں تو بس۔۔۔"
"بس کیا؟" فرح کی آواز میں وہ میٹھاس تھی جو دو سال سے کسی نے نہیں سنی تھی۔ "اندر آؤ نا۔ دروازے پر کھڑے کھڑے گرمی لگ جائے گی۔"
وہ اندر آیا تو فرح نے دیکھا کہ اس کی قمیص پسینے میں بھیگی ہوئی ہے اور اس کی نظریں بار بار اس کے سینے پر پھسل رہی ہیں۔ اس نے پانی کا گلاس اٹھایا اور جان بوجھ کر اتنا آہستہ پیا کہ پانی کی ایک بوند اس کی ٹھوڑی سے ہوتی ہوئی گردن تک لڑھک گئی۔ دانیال کی آنکھیں اس بوند کے پیچھے پیچھے گئیں۔
دانیال نے گلاس لیا اور اس کے ہاتھ سے گلاس لیتے ہوئے اس کی انگلیاں اس کی انگلیوں سے ٹکرا گئیں۔ وہ لمس ایک چنگاری کی طرح تھا۔ دونوں میں سے کوئی بھی ہاتھ پیچھے نہیں ہٹا۔
فرح نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ "تم مجھے بھابھی مت کہو۔ میرا نام فرح ہے۔ دو سال سے اس حویلی میں ہر کوئی مجھے بیوہ سمجھ کر ایسے دیکھتا ہے جیسے میں کوئی پتھر کی مورتی ہوں۔ تم پہلے ہو جس نے مجھے عورت کی طرح دیکھا ہے۔"
"کب سے کیا؟" اس نے اسے اپنے اتنا قریب کھینچ لیا کہ اس کے سینے اس کی قمیص سے ٹکرائے۔ دانیال کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ "بولو۔ شرماؤ مت۔"
"کب سے تمہیں ایسے ہی دیکھتا ہوں۔" اس نے آخرکار کہہ دیا۔ "رات کو چھت پر، صبح آنگن میں۔۔۔ میں جانتا ہوں یہ غلط ہے، تم میرے بھائی کی بیوہ ہو، لیکن میں اپنے آپ کو روک نہیں پاتا۔"
فرح نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔ "غلط اور صحیح کی باتیں ان لوگوں کے لیے ہیں جن کے پاس کھونے کو کچھ ہو۔ میرے پاس تو دو سال سے کچھ نہیں ہے۔" اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور حویلی کے پچھلے حصے کی طرف چل پڑی، جہاں اس کی پریس کے گودام کے اوپر اس کا کمرہ تھا۔
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے فرح کے دل کی دھڑکن اس کے کانوں میں بج رہی تھی۔ کمرے کا دروازہ کھلا تو اندر پرانے کاغذوں اور سیاہی کی خوشبو تھی۔ دانیال نے دروازہ بند کیا اور کنڈی لگائی، اور اس کنڈی کی کھٹک فرح کے جسم میں ایک لہر دوڑا گئی۔
اس نے پلٹ کر دیکھا تو دانیال اسے ایسے گھور رہا تھا جیسے وہ کوئی خواب ہو۔ "تم سچ میں۔۔۔؟" اس نے پوچھا۔
جواب میں فرح نے اپنی ساری کا پلو کندھے سے گرا دیا۔ سفید ساری کا بھاری پلو فرش پر پھسل گیا اور اس کا بلاؤز پسینے سے چپکا ہوا اس کے سینے کے ابھاروں کو صاف دکھا رہا تھا۔ "میں سچ میں۔"
دانیال ایک قدم میں اس کے پاس پہنچا اور اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ اس کے ہونٹ فرح کے ہونٹوں سے ملے تو فرح کو لگا جیسے دو سال کی پیاس ایک ہی لمحے میں جاگ اٹھی ہو۔ اس نے اس کے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے کاٹا اور دانیال کی ایک سسکی اس کے منہ میں دب گئی۔
اس کے ہاتھ فرح کے بلاؤز کے بٹنوں پر گئے۔ ایک ایک بٹن کھلتا گیا اور فرح کی سانسیں ہر بٹن کے ساتھ گہری ہوتی گئیں۔ جب بلاؤز اترا تو اس کی سفید برا میں قید اس کے بھرے ہوئے ممے دانیال کے سامنے تھے۔ اس نے برا کا ہک کھولا اور ممے آزاد ہوتے ہی دانیال نے انہیں اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر لیا۔
"کتنے نرم ہیں۔۔۔" وہ بڑبڑایا اور ایک نپل کو منہ میں لے لیا۔ فرح کی کمر مڑ گئی۔ اس نے دانیال کے بالوں میں انگلیاں گاڑ دیں اور اس کا سر اپنے سینے سے اور زور سے لگا لیا۔ "ہاں۔۔۔ ایسے ہی۔۔۔ چوسو۔۔۔ زور سے۔۔۔"
دانیال نے باری باری دونوں نپلوں کو چوسا، کاٹا، چاٹا۔ فرح کی چوت میں ایک گیلی گرمی پھیل رہی تھی۔ اس نے دانیال کی قمیص کے بٹن کھولے اور اس کے چوڑے سینے پر ہاتھ پھیرا، پھر اس کی پتلون کا بیلٹ کھولا۔ جب اس نے اس کا انڈرویئر نیچے کیا تو اس کا موٹا لمبا لنڈ تن کر باہر نکلا۔
فرح نے اسے ہاتھ میں لیا۔ گرم، سخت، اور اس کے انگوٹھے کے نیچے پھڑک رہا تھا۔ اس نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے منہ میں لے لیا۔ دانیال کی ایک زوردار سسکی کمرے میں گونجی۔ "فرح۔۔۔ اوہ۔۔۔"
اس نے اس کے لنڈ کو چوسنا شروع کیا، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ اس کی زبان اس کے لنڈ کے سرے پر گھومتی اور دانیال کے ہاتھ اس کے بالوں میں کس جاتے۔ جب اسے لگا کہ دانیال جھڑنے والا ہے تو اس نے منہ ہٹا لیا اور شرارت سے مسکرائی۔ "ابھی نہیں۔ ابھی تو شروعات ہے۔"
اس نے اپنی ساری کا باقی حصہ بھی اتار پھینکا اور پیٹی کوٹ کے ناڑے کو کھول دیا۔ وہ اب صرف اپنی سفید پینٹی میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔ دانیال نے اسے بانہوں میں اٹھایا اور چارپائی پر لٹا دیا۔ اس نے اس کی پینٹی کو ایک جھٹکے میں اتارا اور اس کی گیلی چوت اس کے سامنے کھل گئی۔
دانیال نے اس کی رانوں کو پھیلایا اور اپنا چہرہ اس کی چوت میں گاڑ دیا۔ اس کی زبان اس کے دانے پر پھری تو فرح چیخ پڑی۔ "آہ۔۔۔ دانیال۔۔۔ وہیں۔۔۔ وہیں چاٹو۔۔۔" اس نے اس کی چوت کو چاٹا، چوسا، اس کی زبان اندر تک گئی اور فرح کی کمر چارپائی سے اٹھ گئی۔
جب فرح کی سانسیں بے قابو ہونے لگیں تو دانیال اٹھا اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ "تیار ہو؟" اس نے پوچھا، اور فرح نے اس کی گردن میں بانہیں ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
اس نے ایک دھکے میں اپنا لنڈ اس کی گیلی چوت میں گھسا دیا۔ فرح کی ایک دبی ہوئی چیخ نکلی۔ دو سال بعد پہلی بار اس کی چوت میں کوئی لنڈ تھا، اور وہ درد اور مزے سے بھر گئی۔ دانیال نے دھیرے دھیرے دھکے لگانے شروع کیے، پھر رفتار بڑھا دی۔
چارپائی چرمرا رہی تھی۔ فرح نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور ہر دھکے پر اسے اور اندر لینے کی کوشش کی۔ "اور زور سے۔۔۔ ہاں۔۔۔ ایسے ہی چودو مجھے۔۔۔" اس کی آواز میں وہ بے شرمی تھی جو اس نے کبھی اپنے شوہر کے سامنے نہیں دکھائی تھی۔
دانیال نے اسے پلٹا دیا۔ اب وہ چارپائی پر گھٹنوں کے بل تھی اور دانیال اس کے پیچھے سے اس کی چوت میں گھسا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ اس کے مموں کو پیچھے سے دبا رہے تھے اور اس کے دھکے اتنے گہرے تھے کہ فرح کو لگا وہ اس کے اندر تک پہنچ رہا ہے۔
اس کے الفاظ ختم ہوتے ہی اس کی چوت نے دانیال کے لنڈ کو کس لیا اور ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ وہ جھڑ گئی۔ اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ دانیال نے چند اور گہرے دھکے لگائے اور پھر وہ بھی اس کے اندر جھڑ گیا، اس کا گرم پانی اس کی چوت میں بہتا ہوا محسوس ہوا۔
دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے چارپائی پر گر پڑے۔ فرح نے اس کے سینے پر سر رکھا اور اس کی دھڑکن سنی۔ "دو سال۔" وہ بولی۔ "دو سال سے میں ایک لاش کی طرح جی رہی تھی۔"
"اب نہیں۔" دانیال نے اس کے ماتھے کو چوما۔ "اب میں ہوں۔"
شام کو جب بارش کی پہلی بوندیں پڑنے لگیں تو فرح چھت پر کپڑے اتارنے گئی۔ آسمان پر کالے بادل چھائے تھے اور ہوا میں مٹی کی خوشبو تھی۔ اس نے کپڑے اتارے ہی تھے کہ پیچھے سے دانیال کی آواز آئی۔ "میں مدد کر دوں؟"
دانیال نے دروازہ بند کیا اور اس کے پاس آیا۔ بارش تیز ہو گئی تھی اور دونوں بھیگنے لگے۔ فرح نے اسے دیوار سے لگا دیا اور اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی۔ بارش کا پانی ان کے جسموں پر بہہ رہا تھا اور ان کے ہونٹوں کا نمکین ذائقہ اس میں گھل رہا تھا۔
اس نے دانیال کی بھیگی قمیص اتاری اور اس کے سینے پر بارش کی بوندوں کو اپنی زبان سے چاٹا۔ دانیال نے اس کی ساری کھینچ کر اتار دی۔ اب وہ چھت پر، کھلے آسمان کے نیچے، صرف بلاؤز اور پیٹی کوٹ میں تھی، اور بارش ان دونوں کو بھگو رہی تھی۔
دانیال نے اسے پانی کی ٹینکی کی دیوار سے لگایا۔ اس نے اس کا بلاؤز اوپر اٹھایا اور اس کے بھیگے مموں کو منہ میں لے لیا۔ بارش کی ٹھنڈک اور اس کے منہ کی گرمی کا ملاپ فرح کو پاگل کر رہا تھا۔ اس نے اس کا پیٹی کوٹ اوپر کیا اور اپنا ہاتھ اس کی چوت پر رکھا۔
"کتنی گیلی ہو تم۔" وہ ہنسا۔ "یہ بارش کا پانی ہے یا کچھ اور؟"
"خود چیک کر لو۔" فرح نے اس کی پتلون کھولی اور اس کے کھڑے لنڈ کو باہر نکالا۔ اس نے اسے اپنی چوت کے منہ پر رکھا۔ "اب بتاؤ۔"
دانیال نے اسے ایک جھٹکے میں اندر کیا۔ فرح کی پیٹھ ٹینکی کی ٹھنڈی دیوار سے لگی اور اس کا منہ کھل گیا۔ بارش ان پر برس رہی تھی اور دانیال اسے دیوار سے لگائے چود رہا تھا۔ اس کے دھکے تیز تھے، بے رحم تھے، اور فرح کو ہر دھکے میں جنت نظر آ رہی تھی۔
فرح کی دوسری بار کی جھڑن پہلی سے بھی تیز تھی۔ اس کی چیخ بارش میں گھل گئی اور اس کے ناخن دانیال کی پیٹھ میں گڑ گئے۔ دانیال نے اسے اور کس کر پکڑا اور چند دھکوں کے بعد وہ بھی جھڑ گیا۔ دونوں بھیگے ہوئے، ہانپتے ہوئے، ایک دوسرے سے لپٹے کھڑے رہے۔
رات کے کھانے کے بعد جب حویلی سو گئی تو فرح دبے پاؤں پریس کے کمرے میں گئی۔ کاغذوں کے ڈھیروں کے بیچ دانیال اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے دروازہ بند کیا اور فرح کو کاغذوں کے ایک نرم ڈھیر پر بٹھا دیا۔
"تیسری بار؟" فرح نے شرارت سے پوچھا۔
"جب تک تم تھکو نہیں۔" دانیال نے اس کی ساری اتاری۔ اس بار اس نے جلدی نہیں کی۔ اس نے اس کے پورے جسم کو چوما، اس کی گردن سے لے کر اس کے پیروں تک، ہر جگہ اپنی زبان پھیری۔ فرح اس کے نیچے پگھل رہی تھی۔
پھر اس نے اسے اپنے اوپر بٹھایا۔ فرح نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت میں لیا اور آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونے لگی۔ اس کے ممے اس کے چہرے کے سامنے جھول رہے تھے اور دانیال نے انہیں باری باری چوسا۔ یہ رفتار دھیمی تھی، گہری تھی، اور ہر حرکت میں ایک نیا مزہ تھا۔
"دنیا کی سب سے خوبصورت عورت۔" دانیال نے اس کی کمر پکڑ کر اسے اور تیز کیا۔
اس بار وہ دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ فرح کی چیخ دانیال کے کندھے میں دبی اور دانیال کی سسکی اس کے بالوں میں۔ وہ اس کے اوپر گر پڑی اور دونوں کی سانسیں ایک ہو گئیں۔
کچھ دیر بعد فرح اٹھی اور اپنی ساری پہنی۔ دانیال نے اسے پیچھے سے بانہوں میں لیا۔ "کل دوپہر۔" وہ بولا۔ "یہیں۔ اسی وقت۔"
فرح مڑی اور اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکا سا بوسہ دیا۔ "کل دوپہر۔" اس نے کہا، اور پھر دبے پاؤں سیڑھیاں اتر کر اپنی سوئی ہوئی حویلی میں واپس چلی گئی، اس کے ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ لیے جو دو سال بعد پہلی بار سچی تھی۔
Readers who enjoyed “اردو بیوہ سیکس کہانی: فرح اور حویلی کی دوپہر” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
اردو شہوت انگیز کہانی: آدھی رات کی غلط کال
اردو شہوت انگیز کہانی: لکھنؤ میں اکیلی رہنے والی حنا کو آدھی رات کو ایک غلط کال آتی ہے۔ انجان آواز والے دانیال سے فون پر شروع ہونے والی بات چیت جلد ہی آمنے سامنے کی ملاقات میں بدل جاتی ہے۔
نئی اردو سیکس کہانی: حیدرآباد کے اسٹوڈیو میں
حیدرآباد کے بنجارہ ہلز میں عریبہ کے خطاطی اسٹوڈیو میں ایک نئی اردو سیکس کہانی جنم لیتی ہے، جہاں ایک گاہک کی بار بار آمد اور اس کی چھوٹی corrections ان دونوں کو قریب لاتی ہیں۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔