Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز

S
10 min read4 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

«اوئے عدیل، سچ بتا، تیری ساس تو اب بھی پٹاخہ ہے نا؟ بالکل اردو ساس کی چدائی والی کہانیوں والی۔» کامران کی ہنسی فون میں گونجی اور میں نے بے اختیار قہقہہ لگایا، حالانکہ میرے کان گرم ہو رہے تھے۔ «بکواس بند کر،» میں نے کہا۔ «امی جیسی ہیں ویسی ٹھیک ہیں۔» لیکن فون رکھنے کے بعد بھی اس کا جملہ میرے دماغ میں گھومتا رہا، جیسے کوئی کنکر جو جوتے میں پھنس جائے۔

وہ جمعہ کی دوپہر تھی۔ دفتر سے ہاف ڈے ملا تھا، حنا اپنی امی کے گھر لاہور گئی ہوئی تھی، اور گھر میں صرف میں اور شازیہ آنٹی تھیں۔ میری ساس۔ سنتالیس سال کی بیوہ، چار سال سے اکیلی، اور کامران غلط نہیں کہہ رہا تھا۔ وہ اب بھی ایسی لگتی تھیں جیسے وقت ان کے آگے ہار مان چکا ہو۔

میں ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو وہ کچن میں چائے بنا رہی تھیں۔ انہوں نے ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ پہنا تھا، دوپٹہ ایک کندھے پر ڈالا ہوا، اور جھکتے ہوئے ان کی کمر کی لکیر صاف نظر آ رہی تھی۔ «آ گئے؟» انہوں نے مڑ کر دیکھا اور مسکرائیں۔ «آج تو جلدی چھٹی مل گئی۔ چائے پیو گے؟»

«جی، ضرور۔» میں صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ دو کپ لے کر آئیں اور میرے سامنے والی کرسی پر نہیں، میرے پاس صوفے پر بیٹھ گئیں۔ اتنی قریب کہ ان کے گھٹنے میرے گھٹنے سے ٹکرا رہے تھے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ پچھلے کچھ ہفتوں سے وہ جان بوجھ کر میرے قریب بیٹھنے لگی تھیں، بات کرتے ہوئے میری بانہہ چھو لیتیں، اور ہنستے ہوئے ان کی نظر میری آنکھوں میں کچھ زیادہ دیر ٹھہرتی۔

«حنا کا فون آیا تھا؟» انہوں نے پوچھا۔

«جی، صبح بات ہوئی تھی۔ کہہ رہی تھی اتوار کو واپس آئے گی۔»

«ہمم۔» انہوں نے چائے کا گھونٹ لیا۔ «تو اس کا مطلب ہے آج اور کل یہ گھر ہمارے حوالے۔» ان کی مسکراہٹ میں کچھ تھا، کوئی شرارت جو میں نے پہلے کبھی ان کے چہرے پر نہیں دیکھی تھی۔ یا شاید دیکھی تھی، بس دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔

چائے ختم کر کے وہ اٹھیں اور اپنا فون لے کر میرے پاس آئیں۔ «عدیل، یہ دیکھو نا، حنا کو ویڈیو کال کرنی ہے لیکن کیمرہ دھندلا آ رہا ہے۔ تم ٹھیک کر دو گے؟»

«لائیے، دیکھتا ہوں۔» میں نے فون لیا۔ وہ میرے کندھے کے اوپر سے جھکیں تاکہ اسکرین دیکھ سکیں۔ ان کے بالوں کی خوشبو، شیمپو اور کسی میٹھے عطر کی ملی جلی مہک، میرے چہرے سے ٹکرائی۔ میں نے کیمرہ صاف کیا، سیٹنگز چیک کیں۔ «بس لینس گندا تھا، اب ٹھیک ہے۔»

«اچھا؟» وہ سیدھی ہوئیں، اور اسی حرکت میں ان کا دوپٹہ کندھے سے سرک کر نیچے گر گیا۔ انہوں نے اسے اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔ گلابی کرتی کے گلے سے ان کی چھاتیوں کی لکیر صاف دکھائی دے رہی تھی، بھری ہوئی، اب بھی کسّی ہوئی۔ میری نظر وہیں جم گئی، اور جب میں نے نظریں اٹھائیں تو وہ مجھے دیکھ رہی تھیں۔ مسکرا رہی تھیں۔

«کیمرہ ٹھیک ہو گیا؟» انہوں نے دھیمے سے پوچھا۔

«جی... جی، ہو گیا۔» میری آواز عجیب لگ رہی تھی۔

«تمہارے ہاتھ کانپ رہے ہیں، عدیل۔» انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ ان کی انگلیاں گرم تھیں۔ «کیا بات ہے؟ بخار تو نہیں؟» انہوں نے اپنا ہاتھ میرے ماتھے پر رکھا، پھر گال پر، پھر وہیں روک لیا۔ ان کا انگوٹھا میرے ہونٹوں کے کنارے کو چھو رہا تھا۔

«آپ... آپ کا دوپٹہ،» میں نے بمشکل کہا۔

«رہنے دو۔» ان کی آواز ایک سرگوشی بن گئی۔ «گھر میں ہم دونوں ہی تو ہیں۔» انہوں نے میرا ہاتھ اپنے گال سے ہٹا کر اپنے سینے پر رکھ دیا۔ کرتی کے کپڑے کے نیچے ان کا دل دھڑک رہا تھا، تیز، بے ترتیب۔ یا شاید وہ میرا دل تھا۔ اس لمحے فرق کرنا مشکل تھا۔

میں نے ہاتھ ہٹانا چاہا، قسم کھاتا ہوں چاہا، لیکن ان کی انگلیوں نے میری کلائی پکڑ لی۔ «چار سال، عدیل،» وہ بولیں، اور ان کی آنکھوں میں کچھ ٹوٹا ہوا اور کچھ جلتا ہوا تھا۔ «چار سال سے میں نے کسی مرد کو چھوا تک نہیں۔ تم سمجھتے ہو یہ کیسا لگتا ہے؟ رات کو بستر میں لیٹ کر چھت کو گھورنا، اور صبح اٹھ کر پھر وہی بیوہ والی اداکاری؟»

«شازیہ آنٹی...»

«شش۔» انہوں نے اپنی انگلی میرے ہونٹوں پر رکھ دی۔ «آج آنٹی نہیں۔ آج صرف شازیہ۔» اور پھر انہوں نے وہ کیا جس کا میں نے خواب بھی نہیں دیکھا تھا: وہ جھکیں اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے۔

پہلے تو میں ساکت رہا۔ پھر ان کے ہونٹوں کی گرمی، ان کی زبان کی بے تابی، اور ان کے ہاتھ کا میرے بالوں میں گھسنا، سب نے میرے اندر کوئی بند توڑ دیا۔ میں نے انہیں اپنی طرف کھینچا اور ان کا جواب دیا، بھوکا، بے صبر۔ وہ ہلکی سی کراہیں اور میرے اوپر چڑھ آئیں، ان کی ٹانگیں میرے دونوں طرف، ان کا وزن میرے سینے پر۔

«کمرہ،» وہ ہانپتے ہوئے بولیں۔ «میرا کمرہ۔ ابھی۔»

میں نے انہیں گود میں اٹھا لیا۔ وہ ہلکی نہیں تھیں، بھری ہوئی عورت تھیں، اور ان کا وزن میری بانہوں میں ایک نشہ تھا۔ کمرے میں پہنچ کر میں نے انہیں بستر پر لٹایا۔ دوپہر کی دھوپ کھڑکی کے پردوں سے چھن کر ان کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ انہوں نے میری قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے، جلدی نہیں، جیسے ہر بٹن ایک وعدہ ہو۔

جب میری چھاتی ننگی ہوئی تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر پھیرے، پھر جھک کر میرے نپل کو زبان سے چھوا۔ میرے جسم میں بجلی دوڑ گئی۔ «شازیہ...» میں کراہا۔

«چپ،» وہ مسکرائیں۔ «آج تم کچھ نہیں بولو گے۔ آج صرف میں۔» انہوں نے میری پینٹ کا بیلٹ کھولا، زپ نیچے کی، اور میرا لنڈ باہر نکالا۔ وہ پہلے سے تنا ہوا تھا، بے چین۔ انہوں نے اسے ہاتھ میں لیا، تولا جیسے، پھر جھک کر اس کی نوک کو چوما۔ میری سانس رک گئی۔

پھر انہوں نے اسے منہ میں لے لیا۔ دھیرے دھیرے پہلے، صرف نوک، زبان سے چاروں طرف گھماتے ہوئے، پھر گہرائی تک۔ ان کا منہ گرم تھا، گیلا تھا، اور ان کی تکنیک ایسی تھی جو صرف تجربے سے آتی ہے۔ میں نے ان کے بال پکڑ لیے اور ان کا سر اپنے اوپر دبانے لگا۔ وہ پیچھے نہیں ہٹیں۔ ان کی آنکھیں اوپر اٹھ کر مجھے دیکھ رہی تھیں، اور اس نظر میں ایک چیلنج تھا: دیکھو، میں کیا کر سکتی ہوں۔

جب مجھے لگا کہ میں جھڑنے والا ہوں، میں نے انہیں روکا۔ «نہیں،» میں ہانپا۔ «ایسے نہیں۔ میں تمہیں چاہتا ہوں۔ پوری طرح۔»

وہ بستر پر لیٹ گئیں اور اپنی کرتی اتارنے لگیں۔ میں نے ان کے ہاتھ روکے۔ «میں اتاروں گا۔» میں نے ان کی کرتی اوپر کھینچی۔ ان کے ممے ننگے ہوئے، بڑے، بھاری، نپل گہرے بھورے اور تنے ہوئے۔ میں نے ایک کو منہ میں لیا اور دوسرے کو ہاتھ سے دبایا۔ وہ زور سے کراہیں اور میرا سر اپنے سینے پر دبا لیا۔ «ہاں،» وہ بڑبڑائیں۔ «ایسے ہی۔ چوسو انہیں۔»

میں نے ان کی شلوار کا ازاربند کھولا اور اسے نیچے سرکایا۔ ان کی چوت میرے سامنے تھی، گیلی، سوجی ہوئی، بے تاب۔ میں نے اپنی انگلی اندر ڈالی اور وہ چیخ پڑیں۔ «اوہ خدایا... ہاں...» میں نے دوسری انگلی بھی ڈالی اور اندر باہر کرنے لگا، جبکہ میرے انگوٹھے نے ان کے دانے کو رگڑا۔ ان کی کمر بستر سے اٹھ گئی۔ ان کے ہاتھ چادر کو مٹھیوں میں بھینچ رہے تھے۔

«اب،» وہ ہانپیں۔ «اب اندر آؤ۔ میں اور انتظار نہیں کر سکتی۔»

میں ان کے اوپر آیا۔ انہوں نے اپنی ٹانگیں میری کمر کے گرد لپیٹ لیں اور میری رہنمائی کی۔ جب میں ان کے اندر داخل ہوا تو ہم دونوں نے ایک ساتھ کراہا۔ وہ تنگ تھیں، گرم تھیں، اور چار سال کی پیاس ان کے جسم کے ہر حصے سے ٹپک رہی تھی۔ میں نے دھیرے دھیرے دھکے لگانے شروع کیے، ہر دھکے کے ساتھ ان کا نام لیتے ہوئے۔

«تیز،» انہوں نے حکم دیا۔ «ڈرو مت۔ میں ٹوٹنے والی نہیں ہوں۔»

میں نے رفتار بڑھا دی۔ بستر چرچرانے لگا۔ ان کے ممے ہر دھکے کے ساتھ اچھل رہے تھے۔ میں نے جھک کر ایک نپل کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹا اور وہ چلائیں۔ ان کے ناخن میری پیٹھ میں گڑ گئے۔ «ہاں... ہاں... ایسے ہی چودو مجھے...» ان کے الفاظ نے مجھے پاگل کر دیا۔ میں نے انہیں اور زور سے، اور گہرائی تک لیا، یہاں تک کہ ان کا جسم میرے نیچے کانپنے لگا۔

«میں جھڑ رہی ہوں... اوہ... عدیل...» ان کی چوت نے میرے لنڈ کو بھینچا، لہر در لہر، اور اسی لمحے میں بھی چھوٹ گیا، ان کے اندر، گہرائی تک۔ ہم دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے، پسینے سے شرابور، دل دھڑکتے ہوئے۔

کچھ دیر بعد وہ اٹھیں، ننگی ہی کچن میں گئیں اور پانی کے دو گلاس لے آئیں۔ «پیو،» انہوں نے کہا۔ «ابھی تو شام باقی ہے۔» ان کی مسکراہٹ میں وہی شرارت تھی جو دوپہر کو دیکھی تھی، بس اب اس میں کوئی پردہ نہیں تھا۔

شام کو جب مغرب کی اذان ہوئی تو ہم ٹیرس پر تھے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ انہوں نے مجھے دیوار سے لگایا اور میرے سامنے گھٹنوں پر بیٹھ گئیں۔ «یہ میری طرف سے شکریہ،» وہ بولیں، اور مجھے منہ میں لے لیا۔ اس بار کوئی جلدی نہیں تھی۔ انہوں نے وقت لیا، ہر حرکت سے لطف اٹھاتے ہوئے، یہاں تک کہ میں ان کے منہ میں جھڑ گیا اور انہوں نے ایک قطرہ بھی ضائع نہیں ہونے دیا۔

پھر انہوں نے مجھے نیچے بٹھایا، میری گود میں بیٹھیں، اور خود اوپر سے سوار ہو گئیں۔ ان کی کمر کی حرکت ایسی تھی جیسے کوئی رقص ہو۔ چاند نکل آیا تھا۔ ان کے چہرے پر چاندنی پڑ رہی تھی۔ میں نے ان کے مموں کو ہاتھوں میں لیا اور نیچے سے دھکے لگائے۔ وہ میرے کان میں بڑبڑا رہی تھیں، گندی باتیں، سچی باتیں، وہ سب جو چار سال سے ان کے اندر دبا تھا۔ ہم ایک ساتھ جھڑے، ان کی چیخ ٹیرس کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئی۔

رات کو کھانا کھانے کے بعد، جب وہ برتن دھو رہی تھیں، میں پیچھے سے ان سے لپٹ گیا۔ وہ ہنس پڑیں۔ «بس کرو، شیطان،» وہ بولیں، لیکن ان کا جسم میرے ساتھ لگا رہا۔ «حنا اتوار کو آ رہی ہے۔ اس کے بعد... مشکل ہو گا۔»

«تو؟» میں نے ان کے کان کی لو کو چوما۔

وہ مڑیں، ان کے ہاتھ گیلے تھے، ان کی آنکھوں میں وہی آگ تھی۔ انہوں نے اپنا دوپٹہ درست کیا، جو اب ان کے کندھے پر واپس تھا، اور دھیمے سے بولیں: «حنا کو کچھ مت بتانا۔ یہ ہمارا راز ہے۔ صرف تمہارا اور میرا۔» پھر انہوں نے میرے ہونٹوں پر ایک ہلکا سا بوسہ دیا اور برتن دھونے لگیں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)

شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔

⏱️ 10 min read•👁️ 1 views