Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

S
9 min read10 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

"یہ برتھ میری ہے،" میں نے کہا، ٹکٹ اس کے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے۔ "دیکھیے، کوپ نمبر تین، لوئر برتھ۔ صاف لکھا ہے۔" وہ شخص، کوئی چونتیس پینتیس کا، گہری آنکھوں والا، اپنی ٹکٹ نکال کر مسکرایا۔ "عجیب بات ہے، میری ٹکٹ پر بھی یہی لکھا ہے۔" مجھے اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ یہ سفر میری زندگی کی سب سے گرم اردو سیکس اسٹوری بن جائے گا۔

ٹی ٹی آیا، دونوں ٹکٹیں دیکھیں، سر کھجایا۔ "ڈبل بکنگ ہو گئی ہے میڈم۔ اے سی فرسٹ کا کوپ ہے، دو برتھ کا۔ آپ دونوں ایڈجسٹ کر لیں، لاہور تک کا سفر ہے۔" اس نے کندھے اچکائے اور چلا گیا۔ میں نے اس اجنبی کو دیکھا۔ اس نے ہاتھ بڑھایا۔ "بلال۔ ٹیکسٹائل ایکسپورٹر۔ اور آپ؟"

"فرح۔ ٹیچر ہوں۔" میں نے اس کا ہاتھ تھاما، ایک لمحے کے لیے زیادہ دیر تک۔ اس کی گرفت مضبوط تھی، گرم تھی۔ میں نے ہاتھ چھڑایا اور کھڑکی کی طرف منہ کر لیا۔ کراچی کینٹ کا پلیٹ فارم پیچھے رہ گیا، ٹرین نے رفتار پکڑی۔ رات اتر رہی تھی۔

کوپ چھوٹا تھا، دو برتھیں آمنے سامنے، بیچ میں بمشکل دو فٹ کی جگہ۔ بلال نے اپنا بیگ اوپر رکھا، کوٹ اتارا۔ اس کی شرٹ بازوؤں سے چپکی ہوئی تھی۔ میں نے نظریں چرائیں، لیکن دل کی دھڑکن تیز تھی۔ طلاق کے بعد دو سال سے میں نے کسی مرد کو اس طرح نہیں دیکھا تھا۔

"چائے؟" اس نے تھرماس نکالتے ہوئے پوچھا۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا۔ ہم چائے پیتے رہے، باتیں ہوتی رہیں۔ وہ لاہور کاروبار کے سلسلے میں جا رہا تھا، میں اپنی بہن کے ہاں، اس کی ڈیلیوری کے لیے۔ باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ وہ بھی اکیلا ہے، شادی نہیں کی، "وقت ہی نہیں ملا۔"

"اور آپ؟" اس نے پوچھا۔ "طلاق شدہ،" میں نے صاف کہا، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے۔ "دو سال ہو گئے۔" اس نے نظریں نہیں چرائیں۔ "اس کا افسوس ہے،" اس نے کہا، لیکن اس کے لہجے میں ہمدردی سے زیادہ دلچسپی تھی۔ میرے گال گرم ہوئے۔

"طلاق کیوں ہوئی؟" اس نے پوچھا، اور فوراً کہا، "معاف کیجیے گا، یہ میرا سوال نہیں بنتا۔" "نہیں، ٹھیک ہے،" میں نے کہا۔ "وہ مجھے دیکھتا ہی نہیں تھا۔ دو سال تک میں اس گھر میں فرنیچر کی طرح رہی۔ ایک دن میں نے سوچا، فرح، تو ابھی زندہ ہے۔ اور میں نکل آئی۔" بلال نے میرا ہاتھ تھاما، اس بار میں نے نہیں چھڑایا۔ اس کی آنکھوں میں عزت تھی، اور کچھ اور بھی۔

رات گہری ہوئی۔ ٹی ٹی نے آ کر بتیاں مدھم کر دیں۔ میں نے اپنی برتھ پر چادر بچھائی، کرٹین کھینچی۔ بلال سامنے والی برتھ پر لیٹا تھا، کرٹین آدھی کھلی۔ ٹرین کی تال پر ڈبہ ہل رہا تھا۔ چھک چھک، چھک چھک۔ میری نیند اڑی ہوئی تھی۔

آدھی رات کو میری آنکھ کھلی۔ بلال جاگ رہا تھا، مجھے دیکھ رہا تھا۔ "نیند نہیں آ رہی؟" اس نے دھیمی آواز میں پوچھا۔ "نہیں،" میں نے کہا۔ "مجھے بھی نہیں،" اس نے کہا، اور اٹھ کر میری برتھ کے کنارے بیٹھ گیا۔ ہمارے درمیان چند انچ کا فاصلہ تھا۔ اس کی گرمی مجھے محسوس ہو رہی تھی۔

"فرح،" اس نے کہا، "میں سچ کہوں؟ جب سے آپ کوپ میں آئی ہیں، میں یہی سوچ رہا ہوں کہ..." وہ رک گیا۔ "کہ کیا؟" میں نے پوچھا، میری سانس تیز تھی۔ "کہ کاش یہ ڈبل بکنگ جان بوجھ کر ہوئی ہوتی۔" میرے پیٹ میں تتلیاں اڑنے لگیں۔

میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ہونٹوں سے لگایا۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں، یا میرے ہونٹ؟ میں نے اس کی ایک انگلی منہ میں لی اور چوسی۔ اس کی سانس رک گئی۔ "فرح..." وہ بڑبڑایا۔ میں نے کرٹین پوری طرح کھینچ دی۔

میں نے اسے اپنی برتھ پر کھینچا۔ وہ میرے اوپر جھکا، اس کے ہونٹ میری گردن پر۔ اس کے ہاتھ میری قمیض کے بٹن کھولنے لگے، ایک ایک کر کے۔ ٹرین ایک موڑ پر مڑی، ہم دونوں لڑھکے، ہنسی دب گئی ہونٹوں میں۔ اس کا ہاتھ میری شلوار میں سرکا۔

"تم گیلی ہو،" اس نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ "ٹرین کی وجہ سے ہے،" میں نے کہا، اور ہم دونوں ہنس پڑے۔ اس کی انگلیاں میری چوت میں اتریں، میرے دانے کو رگڑنے لگیں۔ میں نے اس کی شرٹ پکڑ کر کھینچی، اس کا سینہ میرے سینے سے لگا۔ اس کے دل کی دھڑکن میرے دل سے مل رہی تھی۔

میں نے اس کی پینٹ کھولی، اس کا لنڈ نکالا۔ اندھیرے میں بھی میں اس کی سختی محسوس کر سکتی تھی۔ میں نے اسے ہاتھ میں لیا، اوپر نیچے کیا۔ وہ کراہا، میرا نام لیا۔ میں جھکی اور اسے منہ میں لے لیا۔ ٹرین کی ہلچل کے ساتھ میرا سر اوپر نیچے ہو رہا تھا، یہ تال ہمیں پاگل کر رہی تھی۔

"رکو، ورنہ..." وہ ہانپا۔ میں رکی، مسکرائی۔ میں نے اپنی شلوار اتاری، برتھ پر لیٹی، ٹانگیں پھیلائیں۔ "آؤ،" میں نے کہا۔ وہ میرے اوپر آیا، اس کا لنڈ میری چوت کے دہانے پر رگڑا، پھر ایک ہی دھکے میں اندر۔ میں نے اس کے کندھے میں ناخن گاڑ دیے۔

ٹرین کی ہر ہلچل کے ساتھ وہ میرے اندر گہرا اترتا گیا۔ چھک چھک کی تال پر اس کے دھکے۔ میں نے اس کی کمر کو اپنی ٹانگوں میں جکڑا، اسے اور اندر کھینچا۔ اس کا ایک ہاتھ میرے ممے دبا رہا تھا، دوسرا میری کمر کے نیچے۔ "زور سے،" میں نے کہا، "زور سے چودو مجھے۔"

وہ رکا، مجھے گھمایا، مجھے گھٹنوں کے بل کیا۔ میں نے برتھ کا سہارا لیا، وہ پیچھے سے آیا۔ اس کا لنڈ میری چوت میں پھر اترا، اس بار گہرا، اس کے ہاتھ میری کمر پر۔ اس نے میرے بال پکڑے، میرا سر پیچھے کھینچا۔ "تمہاری آواز سننا چاہتا ہوں،" اس نے کہا۔ میں نے دبی آواز میں کراہا، ہر دھکے پر۔

اس نے رفتار بڑھائی۔ برتھ چرچرانے لگی، میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، اس نے میرے منہ پر۔ ہم دبی ہنسی ہنسے، پھر وہ پھر شروع ہو گیا، اس بار اور جنگلی۔ میری چوت اس کے لنڈ کو نچوڑ رہی تھی۔ میں جھڑنے والی تھی، میرا جسم تن گیا۔

"آ رہا ہے..." میں نے اس کے کان میں کہا۔ اس نے دو تین گہرے دھکے مارے اور ہم دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ میرا جسم کانپا، اس کا پسینہ میرے پسینے میں ملا۔ ہم ایک دوسرے سے لپٹے رہے، ٹرین اندھیرے میں دوڑتی رہی۔

پھر ہم لیٹے رہے، پسینے میں بھیگے، ایک دوسرے کی سانسیں سنتے۔ "تمہیں ڈر نہیں لگا؟" اس نے پوچھا۔ "کس سے؟" میں نے کہا۔ "کہ میں کوئی... غلط آدمی ہو سکتا تھا۔" میں نے اس کی طرف دیکھا۔ "بلال، دو سال میں پہلی بار مجھے لگا کہ میں غلط نہیں ہوں۔ ڈر تو مجھے اپنی شادی میں لگتا تھا۔" اس نے مجھے زور سے بھینچ لیا۔

پتہ نہیں کتنی دیر سوئے۔ جب آنکھ کھلی تو ٹرین کسی اسٹیشن پر رکی تھی۔ سناٹا تھا۔ بلال میری بانہوں میں تھا، اس کا سر میرے سینے پر۔ میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔ اس نے آنکھیں کھولیں، مسکرایا۔ "ابھی لاہور دور ہے،" اس نے کہا۔

میں اس پر چڑھ گئی۔ اس بار میں اوپر تھی، اس کا لنڈ میرے اندر، میں اس پر سوار۔ میں نے آہستہ شروع کیا، پھر تیز۔ میرے بال اس کے چہرے پر گر رہے تھے، میرے ممے اس کی آنکھوں کے سامنے اچھل رہے تھے۔ اس نے انہیں پکڑا، دبایا، میرے نپل چوسے۔

اچانک باہر قدموں کی آہٹ۔ ہم جم گئے، وہ میرے اندر، میری سانس رکی۔ کوئی گزرا، آہٹ دور ہوئی۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دبے منہ ہنسے۔ خطرے نے ہمیں اور بھڑکا دیا تھا۔ میں نے پھر حرکت شروع کی، اس بار اور تیز، اور بے باک۔

"دیکھو،" میں نے کہا، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے، "یہ میں ہوں، فرح، جو دو سال سے سوئی ہوئی تھی۔" اس نے میری کمر پکڑی، نیچے سے دھکے مارنے لگا۔ ہماری رفتار بڑھی، برتھ کی چرچراہٹ بڑھی، ہمیں پروا نہیں تھی۔ میں چلائی، اس نے میرے منہ کو اپنے ہاتھ سے بند کیا، میری آنکھوں میں دیکھتا رہا۔

اس نے مجھے اٹھایا، کھڑکی کی طرف موڑا۔ باہر دھند تھی، کھیت گزر رہے تھے۔ اس نے مجھے پیچھے سے لیا، کھڑکی کے شیشے پر میرے ہاتھ۔ دھندلے شیشے پر میری سانس کے نشان بن رہے تھے۔ اس نے میری گردن پر بوسے دیے، میرے کان میں کہا، "تم بہت خوبصورت ہو، فرح۔" میں نے شیشے میں اس کی آنکھوں میں دیکھا اور جھڑ گئی۔

میں شیشے سے لگی رہی، میرا جسم لرزتا رہا۔ وہ میرے پیچھے جھڑا، اس کا جسم میرے جسم سے لگا کانپا۔ ہم دونوں ہانپتے رہے، دھندلا شیشہ ہماری کہانی کا گواہ بنا۔ باہر فجر کی اذان کہیں دور سے آ رہی تھی۔ لاہور قریب تھا۔

ہم نے جلدی جلدی کپڑے پہنے، بکھری چادریں ٹھیک کیں۔ بلال نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ "لاہور آنے والا ہے،" اس نے کہا۔ اس کی آواز میں اداسی تھی۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ "یہ رات کبھی ختم نہ ہو،" میں نے کہا۔

ٹرین لاہور اسٹیشن پر رکی۔ پلیٹ فارم پر بھیڑ، شور، چائے والوں کی آوازیں۔ ہم اترے، اجنبیوں کی طرح، لیکن ہماری انگلیاں ایک لمحے کے لیے ملیں۔ اس نے میرے بیگ میں کچھ ڈالا۔ "میرا کارڈ ہے،" اس نے دھیمے سے کہا۔ "جب دل کرے۔"

میں بھیڑ میں آگے بڑھی، مڑ کر دیکھا۔ وہ وہیں کھڑا تھا، مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں نے بیگ سے کارڈ نکالا، اسے دکھایا، اور مسکرا کر اپنے پرس میں رکھ لیا۔ ٹرین کی سیٹی بجی۔ یہ اردو سیکس اسٹوری یہیں ختم نہیں ہوئی تھی، یہ تو بس شروع ہوئی تھی۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو ننگی کہانی: غلط نمبر والی رات

ایک غلط نمبر سے آیا وائس نوٹ شبانہ کی تنہا راتوں کو بدل دیتا ہے۔ دانش کی آواز، پھر اس کی ویڈیو کال، اور پھر وہ خود لکھنؤ آ جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)

شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔

⏱️ 10 min read•👁️ 1 views