Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو ننگی کہانی: غلط نمبر والی رات

S
10 min read3 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

رات کے گیارہ بج کر چالیس منٹ پر شبانہ کے فون پر ایک انجان نمبر سے وائس نوٹ آیا۔ اس نے ائیربڈ لگائے، پلے دبایا، اور ایک گہری مردانہ آواز کمرے میں اتر آئی۔ "جان، آج تمہاری بہت یاد آ رہی ہے۔ وہ والی ویڈیو دوبارہ بھیجو نا، پلیز۔"

شبانہ کی سانس ایک لمحے کو رک گئی۔ یہ پیغام اس کے لیے نہیں تھا۔ کسی کی "جان" کو بھیجا گیا تھا اور غلطی سے اس کے نمبر پر آ گیا تھا۔ اس نے نوٹ دوبارہ سنا۔ آواز میں وہ بے چینی تھی جو صرف آدھی رات کو نکلتی ہے۔

تیس سال کی شبانہ، لکھنؤ کے اس فلیٹ میں اکیلی تھی۔ شوہر طارق دس دن کے لیے دلی گیا ہوا تھا۔ گھر کی خاموشی اسے کھا رہی تھی۔ اس نے ٹائپ کیا، "غلط نمبر ہے بھائی۔"

جواب فوراً آیا۔ ایک اور وائس نوٹ۔ "اوہ شٹ۔ سوری، سوری، سوری۔ میں تو شرمندہ ہو گیا۔ پلیز ڈیلیٹ کر دیں۔" آواز میں شرمندگی تھی، لیکن آواز خود اچھی تھی۔ گہری، صاف، تھوڑی نیند بھری۔

شبانہ مسکرائی۔ "کر دیا ڈیلیٹ۔ کوئی بات نہیں۔" اس نے لکھا اور فون رکھ دیا۔ لیکن نیند اب آنکھوں سے دور تھی۔ وہ آواز کانوں میں گونج رہی تھی۔

اگلی رات ٹھیک گیارہ بجے پھر اسی نمبر سے میسج آیا۔ "نیند نہیں آ رہی۔ آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا؟ میں دانش ہوں۔ کانپور سے۔"

شبانہ نے تکیے پر کہنی ٹیک کر جواب دیا، "نہیں، جاگ رہی ہوں۔ میں شبانہ، لکھنؤ سے۔" اور پھر جانے کیوں لکھا، "آپ کی 'جان' کو ویڈیو مل گئی؟"

تین ڈاٹ بنے، مٹے، پھر بنے۔ "ہاہاہا۔ وہ میری ایکس تھی۔ اب کوئی جان نہیں ہے۔ آپ نے تو میری عزت ہی لوٹ لی تھی اس رات۔"

بات چیت چل نکلی۔ دانش اٹھائیس سال کا تھا، کانپور میں موبائل کی دکان چلاتا تھا، اور باتوں میں تیز تھا۔ شبانہ نے محسوس کیا کہ وہ ہنس رہی ہے، سچ میں ہنس رہی ہے، مہینوں بعد۔

تیسری رات بات کچھ اور ہو گئی۔ "اتنی رات کو جاگ کر کیا کرتی ہیں؟" اس نے پوچھا۔ "کچھ نہیں، بس۔" "سچ بتائیں نا۔ کیا پہنا ہے ابھی؟"

شبانہ کے گال گرم ہو گئے۔ اس نے لکھا، "سوٹ۔" جواب آیا، "جھوٹ۔ اتنی رات کو کوئی سوٹ پہن کر نہیں سوتا۔ سچ بتائیں۔" اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں جب اس نے لکھا، "نائٹی۔"

"کیسی نائٹی؟" "ہلکے گلابی رنگ کی۔" "اور اس کے نیچے؟" شبانہ نے فون سینے سے لگا لیا۔ دل دھک دھک کر رہا تھا۔ اس نے لکھا، "یہ کیسا سوال ہے؟" "سچا سوال ہے۔ جواب دیں نا۔"

"کچھ نہیں۔" بھیجنے کے بعد اسے لگا جیسے کمرے کی ہوا بدل گئی ہو۔ جواب آیا، صرف دو لفظ، "اف، شبانہ۔" اور پھر ایک وائس نوٹ۔

اس نے پلے دبایا۔ دانش کی آواز اب دھیمی تھی، بھاری۔ "پتا ہے، میں ابھی آپ کو سوچ رہا ہوں۔ وہ گلابی نائٹی۔ اس کے نیچے کچھ نہیں۔ آپ کی سانسیں تیز ہو گئی ہوں گی، ہے نا؟"

شبانہ نے انجانے میں اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لیا۔ دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا وہ سن لے گا۔ اس نے وائس نوٹ بھیجا، آواز کانپ رہی تھی، "تم بہت بے شرم ہو۔"

"اور آپ کو اچھا لگ رہا ہے۔" وہ ہنسا۔ "ہاتھ کہاں ہے ابھی آپ کا؟ سچ بتائیں۔"

شبانہ نے جواب نہیں دیا۔ اس نے فون ایک طرف رکھا، کمرے کی لائٹ بند کی، اور کمبل کے نیچے اپنا ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے لے گئی۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے وائس نوٹ پلے کیا۔

"میں سوچ رہا ہوں کہ آپ کی نائٹی کا اسٹرپ کندھے سے سرک رہا ہے۔" دانش کی آواز کان میں تھی۔ "آپ کی گردن، آپ کے کندھے۔ میں وہاں چومنا چاہتا ہوں، آہستہ آہستہ۔"

شبانہ کی انگلیاں نائٹی کے اندر پھسل گئیں۔ اس کے ممے تن گئے تھے۔ اس نے ہلکی سی آہ بھری۔ فون پر ٹائپ کیا، "اور پھر؟" ہاتھ رکا نہیں۔

"پھر میں آپ کی نائٹی اوپر کروں گا۔ آپ کی چوت گیلی ہو رہی ہوگی، ہے نا؟ میں اپنی انگلی سے پہلے آہستہ چھوؤں گا، پھر اندر۔"

شبانہ کی چوت واقعی بھیگ چکی تھی۔ اس کی انگلی اندر پھسل گئی۔ "ہاں،" اس نے وائس نوٹ میں سرگوشی کی۔ "اور تیز بتاؤ۔"

اگلے بیس منٹ تک دانش بولتا رہا اور شبانہ سنتی رہی، اپنا ہاتھ چلاتی رہی۔ جب اس کا جسم اکڑا اور پانی نکلا تو اس نے تکیے میں منہ دے کر چیخ دبائی۔ طارق کے جانے کے بعد پہلی بار وہ اتنی گہرائی سے جھڑی تھی۔

"سو گئیں؟" میسج آیا۔ اس نے لکھا، "ابھی سوؤں گی۔ تم نے تو مار ہی ڈالا۔" "کل فوٹو بھیجو گی؟" "سوچوں گی۔" "پلیز۔"

اگلے دن شام کو شبانہ نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی سیلفی لی۔ پہلے ایک عام سی، مسکراتی ہوئی۔ دانش نے لکھا، "بہت خوبصورت ہو۔ اب ایک ویسی والی؟" "ویسی والی مطلب؟" "تم جانتی ہو۔"

دل کی دھڑکن تیز تھی۔ اس نے نائٹی کا اسٹرپ ایک طرف سرکایا، کندھا ننگا کیا، اور فوٹو بھیجی۔ جواب میں اس کی اپنی فوٹو آئی۔ دانش واقعی خوبصورت تھا۔ گہری آنکھیں، ہلکی داڑھی، مضبوط جبڑا۔

"اب تمہاری باری، پوری۔" اس نے لکھا۔ شبانہ نے کمرے کا دروازہ لاک کیا، پردے کھینچے، اور فون کو شیلف پر ٹکا دیا۔ ویڈیو کال آئی۔

اسکرین پر دانش تھا، کمرے میں مدھم روشنی۔ "ہائے،" وہ مسکرایا۔ "ہائے،" شبانہ کی آواز پھنسی۔ "ڈرو نہیں۔ صرف میں ہوں۔ آہستہ آہستہ۔"

شبانہ نے نائٹی کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے۔ دانش کی سانسیں اسکرین کے پار سنائی دے رہی تھیں۔ نائٹی زمین پر گری۔ وہ صرف پینٹی میں تھی۔ "اف،" وہ بولا۔ "تم کتنی حسین ہو۔"

اس نے پینٹی بھی اتار دی۔ پوری ننگی، کیمرے کے سامنے۔ شرم اور جوش ایک ساتھ اس کی رگوں میں دوڑ رہے تھے۔ دانش نے اپنا ٹی شرٹ اتارا۔ اس کا سینہ چوڑا تھا، اور اس کا لنڈ پاجامے میں تنا ہوا صاف نظر آ رہا تھا۔

اس نے پاجامہ نیچے کیا۔ اس کا لنڈ لمبا اور موٹا تھا، اوپر کی نس ابھری ہوئی۔ شبانہ کو اپنے اندر ایک کھنچاؤ محسوس ہوا۔ "چھوؤ اسے،" اس نے سرگوشی کی۔

دانش نے اپنا لنڈ ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ ہلانے لگا۔ "دیکھو، یہ تمہارے لیے ہے۔ تمہاری چوت کے لیے۔" شبانہ نے اپنی انگلیاں اپنی چوت پر رکھیں اور گول گول گھمانے لگیں۔

دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ دانش کی رفتار بڑھی۔ "میں تمہارے اندر آنا چاہتا ہوں، شبانہ۔ گہرائی تک۔ تمہاری چوت میرے لنڈ کو جکڑے گی۔" "ہاں،" وہ کراہی۔ "اندر آؤ۔"

اس کی انگلیاں تیز ہو گئیں۔ اسکرین پر دانش کا چہرہ بگڑا، اس کی مٹھی تیز چلی، اور وہ کراہتے ہوئے جھڑا۔ اسے دیکھ کر شبانہ کے جسم میں بھی لہر دوڑی اور وہ چیختی ہوئی جھڑ گئی۔

دونوں ہانپ رہے تھے۔ "یہ تو صرف ٹریلر تھا،" دانش نے مسکرا کر کہا۔ "پوری فلم کب دیکھو گی؟" شبانہ نے بنا سوچے کہا، "کل آ جاؤ۔"

اگلی شام سات بجے دروازے کی گھنٹی بجی۔ شبانہ نے دروازہ کھولا تو دانش سامنے تھا۔ اسکرین سے زیادہ لمبا، زیادہ اصلی۔ اس کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا۔ "جھوٹا منہ میٹھا کرنے آیا ہوں۔"

وہ ہنسی، لیکن اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ اندر آ کر وہ صوفے پر بیٹھا۔ شبانہ نے چائے بنائی۔ باتیں ہوئیں، عام سی، لیکن ہوا میں بجلی تھی۔ پھر دانش نے اپنا ہاتھ اس کے گھٹنے پر رکھا۔

شبانہ نے اس کا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ اس کا ہاتھ اوپر سرکا، اس کی ران پر۔ "کمرے میں چلیں؟" دانش نے دھیمے سے پوچھا۔ وہ اٹھی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بیڈروم لے گئی۔

کمرے میں پہنچ کر دانش نے اسے دیوار سے لگایا اور اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا۔ اس کا بوسہ بھوکا تھا۔ اس کے ہاتھ شبانہ کی قمیض کے اندر گھسے، اس کے ممے دبوچے۔ شبانہ کراہ اٹھی۔

اس نے دانش کی شرٹ کے بٹن کھولے، اس کا سینہ چوما، نیچے ہوتی گئی۔ اس کا لنڈ پینٹ میں تنا ہوا تھا۔ اس نے زپ کھولی اور اسے باہر نکالا۔ لمبا، گرم، اوپر سے گیلا۔

شبانہ نے اسے منہ میں لیا۔ دانش نے اس کے بال پکڑے۔ "اف، شبانہ۔" وہ آہستہ آہستہ چوستی رہی، زبان سے اوپر کے حصے کو چھیڑتی رہی۔ دانش کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔

پھر دانش نے اسے اٹھایا، بیڈ پر لٹایا، اور اس کی شلوار اتار دی۔ اس کی چوت بھیگی ہوئی چمک رہی تھی۔ اس نے اپنا منہ وہاں رکھا اور چاٹنے لگا۔ شبانہ کی کمر اٹھی۔ "ہاں، وہیں، وہیں۔"

اس کی زبان اندر گھسی، پھر باہر، پھر دانے پر۔ شبانہ نے چادر مٹھی میں بھینچی۔ دو منٹ میں وہ چیختی ہوئی جھڑ گئی۔ دانش رکا نہیں، چاٹتا رہا جب تک اس کا جسم کانپنا بند نہ ہوا۔

پھر وہ اس کے اوپر آیا۔ اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ سے دباؤ ڈالا۔ شبانہ نے اسے محسوس کیا، اندر آتا ہوا، بھرتا ہوا۔ "اف،" دونوں ایک ساتھ بولے۔

وہ دھیرے دھیرے چودنے لگا۔ ہر دھکے کے ساتھ بیڈ چرمرایا۔ شبانہ نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ "اور اندر،" وہ بولی۔ "پورا۔"

رفتار بڑھی۔ کمرے میں صرف ان کی سانسوں اور جلد کی آواز تھی۔ دانش نے اسے پلٹا، ڈاگی پوزیشن میں کیا، اور پیچھے سے گھسا۔ اس بار گہرائی اور تھی۔ شبانہ نے تکیہ دبوچا۔

"تمہاری چوت اتنی ٹائٹ ہے،" وہ ہانپا۔ "طارق خوش قسمت ہے۔" "ابھی طارق کا نام مت لو،" شبانہ نے کہا اور خود پیچھے دھکیلی۔

پھر وہ اوپر آئی۔ اس کے لنڈ پر بیٹھ کر وہ اچھلنے لگی۔ اس کے ممے ہل رہے تھے۔ دانش نے انہیں ہاتھوں میں لیا، چوسا۔ شبانہ کی رفتار بڑھی، بڑھی، اور پھر وہ زور سے چیخی۔

اس کے جھڑتے ہی دانش نے اسے نیچے لٹایا، تیزی سے چودا، اور اس کے اندر جھڑ گیا۔ دونوں پسینے میں بھیگے، ایک دوسرے سے لپٹے لیٹے رہے۔

آدھی رات کو وہ شاور میں تھے۔ گرم پانی میں دانش نے اسے دیوار سے لگایا اور ایک بار پھر اس میں گھسا۔ پانی اور پسینہ ایک ہو گئے۔ شبانہ نے اس کی پیٹھ پر ناخن گاڑ دیے۔

صبح پانچ بجے دانش کا فون بجا۔ کانپور کی بس چھ بجے تھی۔ وہ کپڑے پہننے لگا۔ شبانہ دروازے تک آئی۔ "پھر کب؟" اس نے پوچھا۔ دانش نے اس کے ماتھے کو چوما۔ "جب طارق اگلی بار دلی جائے۔"

وہ ہنسی۔ دروازہ بند ہوا۔ شبانہ کھڑکی سے اسے گلی میں جاتا دیکھتی رہی۔ فون پر ایک میسج آیا، "وہ والی ویڈیو اب میں تمہیں بھیجوں گا۔" اس نے جواب دیا، "بھیجو۔ اس بار صحیح نمبر پر بھیجنا۔"

🔒 Bonus Scene locked

اگلی صبح طارق کا فون آیا، اور دروازے پر کوئی اور تھا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو ننگی کہانی: غلط نمبر والی رات” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)

شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔

⏱️ 10 min read•👁️ 1 views