Rough & Dirtyاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس

S
9 min read10 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

یہ اردو نرس سیکس کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو رات کی ڈیوٹی کی تنہائی میں چھپی آگ کو جانتے ہیں۔ میرا نام عمران ہے، عمر تیس سال، اور میں لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال کے جنرل وارڈ میں پڑا تھا۔ بائیک سے گر کر میری ٹانگ ٹوٹی تھی، پلاستر لگا تھا، اور ڈاکٹر نے مجھے دو رات اسپتال میں رکھنے کو کہا تھا۔ پہلی رات تو درد میں گزری، لیکن دوسری رات۔ دوسری رات میری زندگی کی سب سے بھیگی رات بن گئی۔

رات کے دو بج رہے تھے۔ وارڈ میں آٹھ بستر تھے، پانچ خالی، تین پر مریض سوئے ہوئے تھے۔ ہلکی نیلی لائٹ جل رہی تھی۔ مجھے ٹانگ میں ہلکا درد تھا، نیند نہیں آ رہی تھی۔ تبھی میرے بستر کے پاس کوئی آیا اور میرے کان کے قریب بہت دھیمی آواز میں بولا۔ بھائی صاحب، انجیکشن کا وقت ہو گیا۔

میں نے آنکھیں کھولیں۔ میرے سامنے شبانہ کھڑی تھی۔ نرس شبانہ۔ عمر کوئی چونتیس پینتیس، گندمی رنگ، بڑی بڑی آنکھیں، نرس کی سفید وردی میں اس کا بھرا ہوا جسم الگ ہی نظر آ رہا تھا۔ سر پر سفید کیپ، گلے میں اسٹیتھوسکوپ۔ اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی، ٹرے میں سرنج اور دوائی کی شیشی۔ اس نے مجھے دیکھا اور ہلکی سی مسکرائی۔

آپ تو جاگ رہے ہیں۔ اچھی بات ہے، اس نے کہا۔ بازو آگے کیجیے۔ میں نے بازو آگے کیا۔ اس نے میری کلائی پکڑی، میری نبض دیکھی، پھر بازو پر الکحل کا کپاس رگڑا۔ اس کے نرم ہاتھ کا لمس مجھے اندر تک ہلا گیا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ مجھے دیکھ رہی تھی، پر اس کی نظریں میری نظروں سے کچھ زیادہ دیر ٹھہریں۔

شبانہ نے سرنج تیار کی، میری بازو کی رگ میں سوئی چبھوئی۔ میں نے ہلکی سی سسکی بھری۔ درد ہو رہا ہے۔ وہ ہنسی۔ تھوڑا سا برداشت کیجیے عمران صاحب۔ آپ کا نام مجھے یاد ہے۔ کل رات میں ہی آپ کو داخل کرتے وقت تھی۔ اس کی آواز میں ایک نرمی تھی جو دوا سے زیادہ سکون دے رہی تھی۔

انجیکشن لگنے کے بعد وہ نہیں گئی۔ وہ میرے بستر کے پاس کھڑی رہی۔ اس نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور میری پیشانی کو چھوا۔ بخار تو نہیں۔ اس کا ہاتھ میرے ماتھے سے میرے گال تک پھسلا۔ میں نے سانس روک لی۔ وارڈ میں سناٹا تھا، صرف ایک پنکھے کی آواز اور دور کسی مریض کی کھانسی۔

شبانہ نے میری آنکھوں میں دیکھا اور پوچھا۔ نیند نہیں آ رہی۔ میں نے سر ہلایا۔ نہیں۔ درد ہو رہا ہے۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا۔ میرا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس کے ہاتھ نرم اور گرم تھے۔ اس نے میرا ہاتھ دبایا اور بولی۔ درد دوائی سے کم ہو جائے گا۔ لیکن کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو دوا سے نہیں جاتے۔ وہ مجھے مسکرا کر دیکھ رہی تھی، اور اس مسکراہٹ میں کچھ اور تھا۔

میں نے پوچھا۔ آپ کی ڈیوٹی رات بھر کی ہے۔ اس نے سر ہلایا۔ صبح چھ بجے تک۔ اکیلے۔ ڈاکٹر صاحب راؤنڈ لے کر سو گئے۔ وارڈ بوائے باہر سو رہا ہے۔ یہاں۔ صرف ہم۔ اس نے یہ آخری دو لفظ اتنے دھیمے کہے کہ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ صرف ہم۔

میرے جسم میں ایک کرنٹ دوڑا۔ میں نے کمبل کے نیچے اپنے لنڈ کو سخت ہوتا محسوس کیا۔ شبانہ کی نظریں میرے چہرے سے نیچے پھسل کر کمبل پر ٹھہر گئیں۔ کمبل کے نیچے ابھار صاف نظر آ رہا تھا۔ اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔ میری ٹانگ ٹوٹی ہے شبانہ جی۔ وہ ہنسی، کھل کر نہیں، دبی ہوئی ہنسی۔ ٹانگ ٹوٹی ہے، باقی سب تو ٹھیک ہے۔

اس نے اپنا ہاتھ کمبل کے اوپر رکھ دیا۔ میرا لنڈ اس کے ہاتھ کے نیچے دھڑک رہا تھا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا، لیکن اس نے میرا ہاتھ ہٹا دیا۔ ش۔ خاموش۔ کوئی جاگ جائے گا۔ اس نے اپنا ہاتھ کمبل کے اندر ڈال دیا۔ اس کا نرم گرم ہاتھ سیدھا میرے لنڈ پر آیا۔ میں نے منہ دبایا تاکہ آواز نہ نکلے۔

شبانہ نے میرے لنڈ کو پکڑا اور دھیرے دھیرے ہلانے لگی۔ اس کی گرفت مضبوط تھی، تجربہ کار ہاتھ۔ میں نے اس کی کلائی پکڑی۔ شبانہ جی، یہ۔ وہ میرے کان کے پاس جھکی اور بولی۔ میرے شوہر دبئی میں ہیں، دو سال سے۔ میں رات کی ڈیوٹی میں اکیلی ہوتی ہوں۔ تم پہلے مرد نہیں ہو جس کی میں نے یہاں خدمت کی ہے۔ یہ سن کر میرا لنڈ اور سخت ہو گیا۔

اس نے کمبل ایک طرف ہٹایا۔ میں نے اسپتال کا گاؤن پہنا تھا۔ اس نے میرا گاؤن اوپر کیا اور میرا لنڈ باہر نکالا۔ اس نے اسے دیکھا، پھر مجھے دیکھا۔ بڑا ہے۔ اس نے کہا۔ پھر وہ میرے بستر کے کنارے بیٹھ گئی۔ اس نے میرے لنڈ کو ہاتھ میں لیا اور اس کی ٹوپی پر اپنا انگوٹھا گھمایا۔ میری سانس تیز ہو گئی۔

شبانہ نے اپنا سر جھکایا اور میرے لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا۔ میں نے بستر کی چادر کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ اس کا گرم منہ، اس کی زبان میرے لنڈ کے گرد گھوم رہی تھی۔ وہ اوپر نیچے ہو رہی تھی، اور اس کی رفتار بڑھ رہی تھی۔ میں نے اس کے سر کو پکڑنا چاہا، لیکن وہ خود ہی کر رہی تھی، مکمل کنٹرول میں۔

میں نے دھیمی آواز میں کہا۔ شبانہ، میں نکلنے والا ہوں۔ اس نے میرا لنڈ منہ سے نکالا اور ہاتھ سے تیز تیز ہلانے لگی۔ نہیں، میرے منہ میں نہیں۔ یہاں نہیں۔ وہ اٹھی، اس نے اپنی وردی کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ سفید وردی کے نیچے اس نے کالی برا پہنی تھی۔ بڑے بڑے دودھ برا میں بھرے ہوئے تھے۔ اس نے برا کا ہک کھولا اور دودھ باہر نکالے۔

شبانہ نے میرا لنڈ اپنے دونوں دودھوں کے درمیان رکھا اور دودھوں سے دبایا۔ وہ اوپر نیچے ہونے لگی۔ میرا لنڈ اس کے نرم دودھوں میں پھنسا ہوا تھا۔ میں نے اس کے دودھ پکڑے اور دبائے۔ اس نے سسکی بھری۔ آہ۔ دباؤ۔ زور سے۔ میں نے اس کے نپل مروڑے۔ وہ کانپ گئی۔

تبھی وارڈ کے کونے سے کسی مریض کی آواز آئی۔ شبانہ فوراً رک گئی۔ اس نے جلدی سے اپنی برا پہنی، بٹن بند کیے۔ وہ بستر سے اٹھی اور اس مریض کے پاس گئی۔ اس نے اسے پانی پلایا، اس کا کمبل ٹھیک کیا، اور واپس آ گئی۔ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی۔ ڈر گئے تھے۔ میں نے سر ہلایا۔ تھوڑا۔

شبانہ نے میرا ہاتھ پکڑا۔ اٹھو۔ میں نے کہا۔ میری ٹانگ۔ وہ بولی۔ ٹانگ کا خیال میں رکھوں گی۔ وہ مجھے سہارا دے کر اٹھائی۔ ہم وارڈ کے پچھلے حصے میں بنے چھوٹے اسٹور روم کی طرف گئے۔ وہاں پرانی چادریں اور دوائیوں کے ڈبے رکھے تھے۔ اس نے دروازہ بند کیا اور اندر سے کنڈی لگائی۔ ایک مدھم بلب جل رہا تھا۔

اسٹور روم میں شبانہ نے اپنی وردی پوری اتار دی۔ اب وہ صرف کالی برا اور کالی پینٹی میں تھی۔ اس کا جسم بھرا ہوا، گورا، نرم تھا۔ اس نے میرا گاؤن کھولا اور نیچے گرنے دیا۔ میں ننگا تھا، میرا لنڈ پوری طرح کھڑا تھا۔ اس نے مجھے دیوار سے لگایا اور میرے لنڈ کو پکڑ کر اپنی پینٹی کے اوپر رگڑنے لگی۔

اس نے اپنی پینٹی ایک طرف سرکائی اور اپنی چوت میرے لنڈ پر رگڑی۔ اس کی چوت گیلی تھی، گرم تھی۔ وہ میرے کان میں بولی۔ ڈالو۔ آہستہ آہستہ۔ میں نے اس کی کمر پکڑی اور اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈال دیا۔ وہ چلائی، میں نے اس کا منہ اپنے ہاتھ سے بند کیا۔ ش۔ اس نے میری آنکھوں میں دیکھا اور سر ہلایا۔

میں نے دھکے مارنے شروع کیے۔ شروع میں آہستہ، پھر تیز۔ شبانہ کی چوت میرے لنڈ کو کس رہی تھی۔ اس کا پانی نکل رہا تھا، میرے لنڈ کو گیلا کر رہا تھا۔ وہ میرے کندھے پر کاٹ رہی تھی۔ میں نے اسے اٹھایا، اس کی ٹانگیں میری کمر کے گرد لپیٹ دیں، اور دیوار کے سہارے اسے چودنے لگا۔ اس کا وزن میری ٹوٹی ٹانگ پر نہیں تھا، میں نے اسے سنبھال رکھا تھا۔

شبانہ کی سسکیاں بڑھ رہی تھیں۔ اور تیز۔ اور تیز عمران۔ میں نے اسے نیچے اتارا، اسے ایک پرانی میز پر لٹایا، اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں، اور پوری طاقت سے دھکے مارنے لگا۔ میز ہل رہی تھی۔ اس کے دودھ اچھل رہے تھے۔ میں نے اس کے دودھ پکڑے اور دباتے ہوئے چودتا رہا۔ اس کی چوت نے میرے لنڈ کو نچوڑا۔ وہ جھڑنے والی تھی۔

میں بھی کنارے پر تھا۔ میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور اس کے پیٹ پر اپنا پانی نکال دیا۔ شبانہ نے اپنی انگلی سے میرا پانی اٹھایا اور چاٹ لیا۔ پھر وہ ہنسی۔ دو سال بعد کسی مرد کا پانی چکھا ہے۔ میں نے اسے دیکھا، پسینے میں بھیگی، بال بکھرے، آنکھوں میں چمک۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔

ہم نے جلدی جلدی کپڑے پہنے۔ شبانہ نے اپنی وردی ٹھیک کی، کیپ لگائی، بال سنوارے۔ اس نے میرے گال پر ایک بوسہ دیا اور بولی۔ واپس بستر پر۔ کوئی دیکھ لے گا۔ میں لنگڑاتے ہوئے اپنے بستر تک گیا۔ وہ میرے ساتھ آئی، میرا کمبل ٹھیک کیا، میری پیشانی چھوئی۔ اب سو جاؤ۔ انجیکشن کا اثر ہو رہا ہوگا۔

میں بستر پر لیٹا۔ شبانہ نے ٹرے اٹھائی اور جانے لگی۔ دروازے پر رک کر اس نے پیچھے دیکھا اور بولی۔ کل رات بھی میری ڈیوٹی ہے۔ پھر وہ وارڈ سے باہر چلی گئی۔ میں نے چھت کی طرف دیکھا۔ میری ٹوٹی ٹانگ میں اب بھی ہلکا درد تھا، لیکن میرے جسم کا باقی ہر حصہ ایک عجیب سے سکون میں تھا۔ باہر سے وارڈ بوائے کے خراٹوں کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے آنکھیں بند کیں اور مسکرا دیا۔ کل رات۔ میں کل رات کا انتظار کروں گا۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ

دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔

⏱️ 13 min read•👁️ 5 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔

⏱️ 14 min read•👁️ 4 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات

لاہور کی پرانی حویلی میں نادیہ کی شادی کی پہلی رات۔ سمیر گھبرایا ہوا ہے اور نادیہ کے پاس چھپی ہوئی کتابوں سے سیکھے راز ہیں۔ اردو دلہن کی پہلی رات کی ایک گرم کہانی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 4 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز

جمعہ کی دوپہر، حنا لاہور گئی ہوئی ہے اور گھر میں صرف عدیل اور اس کی بیوہ ساس شازیہ ہیں۔ ایک فون کال سے شروع ہونے والی چھیڑ چھاڑ دوپہر کو ایک ناقابل فراموش راز میں بدل دیتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 4 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو ہاٹ سٹوری: شادی میں آیا مہمان

ایک اردو ہاٹ سٹوری جس میں لاہور کے فارم ہاؤس کی شادی میں عائشہ کی نظر شوہر کے پرانے فوجی دوست بلال سے ملتی ہے، اور رخصتی کی ہلچل میں دونوں ایک سنسان کمرے میں اتر جاتے ہیں۔

⏱️ 11 min read•👁️ 3 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو گرم بیوی کی کہانی: راتوں والی بیوی

اردو گرم بیوی کی کہانی: لکھنؤ کی شبانہ، جس کا شوہر کام میں مصروف ہے، شادی میں دس سال پرانے عاشق دانیال سے ملنے کے بعد جاگ اٹھی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 3 views
BDSM & Dominationاردو (Urdu)

لاہور کی پرانی گلی میں اس نے دروازہ بند کیا، رسی کی کلائی میرے گلے میں پہنائی اور کہا کہ آج سے تم میرے حکم میں ہو

کلیگرافی کی کلاس تھی تھی؂ دور جانے والے گھر تھیں؂ اک شام کے بعد وہ دروازہ بند ہوا؂ اور جس نے قلم پکڑنا تھا اس نے باقی رات کا فیصلہ خود لکھایا۔

⏱️ 10 min read•👁️ 3 views