اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

N
14 min read4 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

رات کے ایک بج کر بارہ منٹ پر کاشف کی آنکھ کھلی تو کچن سے چمچ کی ہلکی کھنک آ رہی تھی۔ وہ بستر سے اٹھا، دروازے کی دہلیز میں کھڑا ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی نیند یکدم اڑ گئی۔ مہوش فریج کا دروازہ کھولے آئس کریم کا ڈبہ ہاتھ میں لیے چمچ چاٹ رہی تھی، اس کے پتلے لان کے نائٹ سوٹ سے اس کا بدن صاف جھلک رہا تھا، اور باہر کھڑکیوں پر ہلکی بارش کی بوندیں ٹکرا رہی تھیں۔ یہ ایک ایسی اردو سالی کی چدائی کی کہانی کی شروعات تھی جسے کاشف اپنی باقی زندگی نہیں بھولنے والا تھا۔

مہوش نے اسے دیکھا تو ذرا بھی نہ گھبرائی۔ الٹا مسکرا کر بولی، نیند نہیں آ رہی، جیجا جی؟ کاشف نے گلہ کھنکارا اور بولا، تم یہاں کیا کر رہی ہو اتنی رات کو؟ مہوش نے چمچ ہوا میں لہرایا اور کہا، آپا کے بغیر اس گھر میں مجھے بھی نیند نہیں آتی۔ آپ کو تو عادت ہوگی نا، اکیلے سونے کی؟

کاشف کچن میں داخل ہوا اور فریج سے پانی کی بوتل نکالی۔ مہوش اس کے اتنے قریب آ کر کھڑی ہوئی کہ اس کے نائٹ سوٹ کی خوشبو کاشف کے نتھنوں میں گھس گئی۔ اس نے ڈبے سے ایک چمچ آئس کریم نکال کر کاشف کے ہونٹوں کے قریب کیا اور بولی، ایک چمچ لیں نا، ونیلا ہے، آپا کی پسند۔ کاشف نے منہ کھولا تو مہوش کی انگلی اس کے نچلے ہونٹ سے ٹکرائی اور وہیں رک گئی۔

پھر جو ہوا، اس کے لیے کاشف تیار نہیں تھا۔ مہوش نے اپنی انگلی سے اس کے ہونٹ پر لگی آئس کریم کو پھیلایا اور اگلے ہی لمحے جھک کر اس کے ہونٹ چاٹ لیے۔ کاشف پیچھے ہٹا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ارے جیجا جی، میں تو صرف آئس کریم صاف کر رہی تھی، آپ کا دماغ کہاں جا رہا ہے؟ اس کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی، اور کاشف کا دل اس کے سینے میں دھڑک رہا تھا۔

مہوش، یہ کیا حرکت تھی؟ کاشف کی آواز میں غصہ کم اور گھبراہٹ زیادہ تھی۔ مہوش نے کندھے اچکائے اور بولی، حرکت؟ آپا کہتی ہیں آپ بہت بھولے ہیں، آج یقین آ گیا۔ وہ ڈبہ فریج میں رکھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھی، مگر دروازے پر رک کر مڑی اور بولی، گڈ نائٹ، جیجا جی۔ میٹھے خواب دیکھیے گا۔

کاشف اپنے بستر پر لیٹا تو نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اسے شادی والا دن یاد آیا جب مہوش نے اس کا سہرا باندھا تھا اور کان میں سرگوشی کی تھی، جیجا جی، آپا تو لکی ہیں، پر مجھے آپ پر رشک آتا ہے۔ اس وقت اس نے اسے بچپنا سمجھا تھا۔ آج وہ بچپنا نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے کروٹ بدلی اور سوچا کہ صبح ہوتے ہی مہوش کو ہاسٹل واپس بھیج دے گا۔

صبح ناشتے پر روبینہ کا فون آیا۔ امی کا آپریشن کامیاب ہو گیا تھا، ڈاکٹر نے ایک دن اور رکنے کو کہا تھا۔ کاشف نے سکون کی سانس لی اور بولا، ٹھیک ہے، تم آرام سے آنا۔ مہوش سامنے بیٹھی پراٹھا توڑ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جو کاشف کو بے چین کر گئی۔ فون بند ہوتے ہی وہ بولی، تو مطلب آج کی رات بھی ہم دونوں اکیلے؟

کاشف نے کہا، میں تمہیں آج ہاسٹل چھوڑ آتا ہوں۔ مہوش نے فوراً سر ہلایا، نہیں، آپا نے کہا تھا کہ میں یہیں رہوں۔ آپ کو اکیلے کھانا بھی نہیں بنانا آتا۔ اس نے اٹھ کر برتن سمیٹے اور بولی، آج رات کا کھانا میں بناؤں گی۔ آپا ہوتیں تو ڈانٹتیں کہ کچن میں مت آؤ، آج کوئی ڈانٹنے والا نہیں۔

شام کو کاشف دفتر سے لوٹا تو گھر میں بریانی کی خوشبو پھیلی تھی۔ مہوش کچن میں کھڑی رائتہ بنا رہی تھی، اس کے بال جوڑے میں بندھے تھے اور گردن پر پسینے کی ہلکی نمی تھی۔ کاشف ایک لمحے کو دروازے میں رکا رہ گیا۔ مہوش نے مڑ کر دیکھا اور بولی، ہاتھ دھو کر آئیں، کھانا تیار ہے۔ اس کی آواز میں ایک گھریلو اپنائیت تھی جو کاشف کے دل کو چھو گئی۔

کھانے کے بعد وہ دونوں بالکونی میں چائے لے کر بیٹھے۔ بارش تھم چکی تھی اور ہوا میں مٹی کی سوندھی خوشبو تھی۔ مہوش نے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا اور اچانک پوچھا، جیجا جی، سچ بتائیں، آپا سے شادی سے پہلے کبھی کسی اور کو چاہا تھا؟ کاشف نے ہنس کر ٹالنے کی کوشش کی، یہ کیسے سوال ہیں؟ مہوش نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور دھیرے سے بولی، میں نے چاہا تھا۔ ایک دولہے کو۔ اپنی آپا کی شادی میں۔

کاشف کا ہاتھ رک گیا۔ مہوش، یہ باتیں اچھی نہیں۔ مہوش نے کپ میز پر رکھا اور اس کے قریب سرک آئی۔ کیوں اچھی نہیں؟ سچ کہنا کب سے برا ہو گیا؟ اس کی سانس کاشف کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی۔ اسی لمحے کاشف کا فون بجا۔ روبینہ تھی۔ کاشف نے فون اٹھایا تو مہوش اٹھ کر ریلنگ کے پاس جا کھڑی ہوئی، مگر اس کی نظریں کاشف پر ہی جمی تھیں۔

فون پر روبینہ بولی، کل صبح نکل رہی ہوں، ڈاکٹر نے امی کو ڈسچارج کر دیا تو۔ کاشف نے کہا، ٹھیک ہے، اپنا خیال رکھنا۔ فون رکھتے ہی مہوش مڑی اور بولی، تو کل آپا آ جائیں گی۔ پھر تو آج کی رات ہماری آخری اکیلی رات ہے۔ اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ کاشف کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔

مہوش نے اس کے ہاتھ سے خالی کپ لیا تو جان بوجھ کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں ایک لمحے کو دبا دیا۔ کاشف نے ہاتھ کھینچنا چاہا مگر وہ پہلے ہی چھوڑ چکی تھی۔ وہ کچن کی طرف بڑھی اور دروازے سے بولی، میں برتن دھو لوں، آپ ٹی وی لگا لیں۔ کاشف صوفے پر بیٹھا تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ مہوش سے ڈر رہا ہے یا خود سے۔

آدھے گھنٹے بعد مہوش آئی اور اس کے بالکل پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔ ٹی وی پر کوئی ڈرامہ چل رہا تھا مگر دونوں کی نظریں اسکرین پر نہیں تھیں۔ مہوش بولی، آپا کہتی ہیں آپ بہت شرمیلے ہیں۔ کالج میں لڑکیاں آپ پر مرتی ہوں گی۔ کاشف نے کہا، بکواس مت کرو۔ مہوش ہنسی، اچھا؟ تو پھر کل رات کچن میں آپ کی سانس کیوں پھول گئی تھی؟

کاشف نے اس کی طرف دیکھا تو مہوش کی آنکھوں میں چیلنج تھا۔ اس نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلے تو کاشف ساکت رہا، پھر اس کے ہونٹوں نے جواب دینا شروع کر دیا۔ مہوش کی زبان اس کے منہ میں گھسی اور کاشف نے اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔ اس کے ہاتھ مہوش کی کمر پر پھسلے اور اس کے نائٹ سوٹ کے نیچے گھس گئے۔

مہوش نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں مگر اس کی ہمت نہیں ٹوٹی۔ کاشف نے اس کا نائٹ سوٹ اس کے کندھوں سے سرکایا تو اس کے گورے دودھ نکل آئے۔ اس نے انہیں اپنے ہاتھوں میں لیا اور دبایا تو مہوش کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔ آہستہ، جیجا جی، پڑوسی سن لیں گے۔ کاشف نے اس کے ایک دودھ کو منہ میں لیا اور چوسا تو مہوش نے اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں گاڑھ دیں۔

مہوش نے اس کی شلوار کا ازار بند کھولا اور اس کے کھڑے لنڈ کو اپنے نرم ہاتھوں میں لیا۔ کاشف کی سانس رک گئی۔ مہوش بولی، آپا کہتی ہیں آپ تھک جاتے ہیں جلدی۔ آج دیکھتے ہیں۔ اس نے جھک کر اس کے لنڈ کو اپنے منہ میں لیا اور چوسنا شروع کیا۔ کاشف نے صوفے کی پشت کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ مہوش کی زبان اس کے لنڈ کے ٹوپے پر گھوم رہی تھی اور اس کے ہاتھ اس کے ٹٹوں کو سہلا رہے تھے۔

کاشف نے اسے اٹھایا اور صوفے پر لٹا دیا۔ اس نے اس کی شلوار اتاری تو اس کی گیلی چوت اس کے سامنے تھی۔ اس نے اپنی انگلی اس کی چوت میں ڈالی تو مہوش نے اپنی ٹانگیں اور پھیلا دیں۔ اندر سے پانی بہہ رہا تھا۔ کاشف نے اپنی زبان اس کی چوت پر رکھی اور چاٹنا شروع کیا۔ مہوش نے اپنی ایک ٹانگ اس کے کندھے پر رکھ دی اور بولی، اور اندر، جیجا جی، زبان اور اندر ڈالیں۔

کاشف نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور ایک جھٹکے میں اندر ڈال دیا۔ مہوش چیخی تو اس نے اس کا منہ اپنے ہاتھ سے بند کر دیا۔ پھر اس نے دھکے لگانے شروع کیے۔ ہر دھکے کے ساتھ صوفہ چرچرا رہا تھا۔ مہوش نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر سے لپیٹ لیں اور بولی، اور زور سے، جیجا جی، مجھے آپا سے زیادہ مزہ دیں۔ کاشف کی رفتار بڑھ گئی اور چند منٹ میں دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے۔ مہوش کی چوت نے اس کے لنڈ کو نچوڑا اور کاشف کا پانی اس کے اندر بہہ گیا۔

دونوں ہانپتے ہوئے لیٹے رہے۔ مہوش نے اس کے سینے پر سر رکھا اور بولی، اب تو میں آپ کی دوسری بیوی ہوئی نا؟ کاشف نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی، خاموش۔ یہ بات کبھی کسی کو نہیں بتانی۔ مہوش نے اس کی انگلی چوم لی اور بولی، آپا کو کبھی نہیں بتاؤں گی۔ یہ ہماری ضد تھی، ہماری پہلی ضد۔

مہوش اپنے کمرے میں سو گئی اور کاشف اپنے بستر پر جا لیٹا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ بس، یہ ایک رات تھی، ایک غلطی تھی، اب یہ دوبارہ نہیں ہوگا۔ مگر اس کا بدن اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار مہوش کا چہرہ آ رہا تھا، اس کی سسکیاں اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ وہ کروٹیں بدلتا رہا اور آخر کار صبح کے چار بجے اسے نیند آئی۔

ناشتے پر مہوش بالکل نارمل تھی۔ اس نے پراٹھے بنائے، کاشف کو چائے دی، اور ایسے مسکرائی جیسے رات کو کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کاشف کو حیرت ہوئی۔ جاتے ہوئے وہ بولی، رات کو نیند آئی، جیجا جی؟ کاشف نے گلا کھنکارا اور کہا، ہاں، تم؟ مہوش نے آنکھ ماری، مجھے تو بہت گہری نیند آئی۔ پہلی بار اس گھر میں۔

شام کو کاشف دفتر سے لوٹا تو مہوش ایک گہرے گلے والی قمیض پہنے تھی۔ کاشف نے پوچھا، یہ قمیض؟ مہوش بولی، آپا کی الماری سے لی ہے۔ برا تو نہیں لگا؟ اس نے گھوم کر دکھایا تو اس کی کمر کا گورا حصہ نظر آیا۔ کاشف کی حلق خشک ہو گیا۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ خود پر قابو رکھے گا، مگر مہوش نے اس کے قابو کی ہر دیوار میں دراڑ ڈال دی تھی۔

کھانے کے بعد روبینہ کا فون آیا۔ کل صبح نکل رہی ہوں، امی ٹھیک ہیں، دوپہر تک گھر پہنچ جاؤں گی۔ کاشف نے فون رکھا تو مہوش بولی، تو آج ہماری واقعی آخری رات ہے۔ اس نے ایک نوالہ اپنے ہاتھ سے توڑ کر کاشف کے منہ کے قریب کیا۔ کاشف نے نوالہ لیا تو ساتھ ہی اس کی انگلی بھی اپنے منہ میں لے کر چوس لی۔ مہوش کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس نے دھیرے سے کہا، تو فیصلہ ہو گیا۔

رات کے گیارہ بجے مہوش اس کے کمرے کے دروازے پر آئی۔ اس نے کوئی نائٹ سوٹ نہیں پہنا تھا، صرف ایک پتلا دوپٹہ اپنے بدن سے لپیٹ رکھا تھا۔ کاشف نے اسے اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر دیا۔ دوپٹہ فرش پر گرا اور مہوش ننگی اس کے سامنے کھڑی تھی۔ چاندنی کھڑکی سے آ رہی تھی اور اس کے بدن پر چاندی بکھیر رہی تھی۔ کاشف نے اسے بانہوں میں بھرا اور بستر پر لٹا دیا۔

اس بار کاشف نے جلدی نہیں کی۔ اس نے مہوش کے پورے بدن کو چوما، اس کی گردن سے لے کر اس کے پیروں تک۔ اس نے اس کے دودھوں کو چوسا، اس کے پیٹ پر زبان پھیری، اس کی ناف میں انگلی ڈالی۔ مہوش تڑپ رہی تھی۔ جیجا جی، اب مت تڑپائیں، ڈال دیں نا۔ کاشف نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور اپنا لنڈ اس کی گیلی چوت میں اتار دیا۔

مہوش نے اس کی کمر کو اپنے پیروں سے جکڑ لیا۔ کاشف نے دھکے لگائے تو بستر چرچرانے لگا۔ مہوش بولی، اور زور سے، جیجا جی، آج آپا والی نرمی نہیں چاہیے۔ کاشف نے اسے پلٹا اور ڈاگی پوزیشن میں لیا۔ اس نے اس کے کولہوں کو پکڑا اور پیچھے سے زور زور سے دھکے لگائے۔ مہوش کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھیں۔ ہاں، ایسے ہی، اور اندر، پورا ڈال دیں۔

پھر مہوش اس کے اوپر آئی۔ وہ اس کے لنڈ پر بیٹھی اور خود دھکے لگانے لگی۔ اس کے دودھ اچھل رہے تھے اور کاشف نے انہیں اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ مہوش کی رفتار بڑھتی گئی، اس کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا۔ اچانک اس کا بدن اکڑا اور وہ چیخی، میں گئی، جیجا جی، میں گئی۔ اس کی چوت نے کاشف کے لنڈ کو زور سے نچوڑا اور کاشف بھی اس کے اندر جھڑ گیا۔

دونوں پسینے میں شرابور لیٹے رہے۔ مہوش نے اس کے سینے پر انگلی سے دل بنایا اور بولی، جیجا جی، آپ کو پتہ ہے؟ میں نے یہ ضد شادی والے دن ہی کر لی تھی کہ ایک دن آپ کو اپنا بناؤں گی۔ کاشف نے اس کے ماتھے کو چوما۔ یہ ضد اب پوری ہوئی۔ مگر یہیں ختم۔ مہوش ہنسی، ختم؟ ضدیں ختم نہیں ہوتیں، جیجا جی، بس چھپ جاتی ہیں۔

صبح سات بجے روبینہ کا فون آیا۔ بس نکل رہی ہوں، دو گھنٹے میں گھر۔ دونوں میں افراتفری مچ گئی۔ بستر کی چادر بدلی گئی، کمرے میں ایئر فریشنر چھڑکا گیا، مہوش نے جلدی سے کپڑے پہنے۔ کاشف نے اسے دیکھا تو وہ پھر سے وہی معصوم سالی لگ رہی تھی جو دو دن پہلے آئی تھی۔ مگر اس کی آنکھوں کی شرارت وہی تھی۔

دروازے پر مہوش رکی۔ اس نے اپنی بالی اتار کر کاشف کی جیب میں ڈال دی اور سرگوشی میں بولی، ڈھونڈ لینا، جیجا جی۔ اور اگلی بار جب آپا امی کے گھر جائیں تو مجھے پہلے سے بتا دیجیے گا۔ میں ہاسٹل سے چھٹی لے لوں گی۔ باہر روبینہ کی گاڑی کا ہارن بجا اور مہوش مسکراتی ہوئی دروازے سے نکل گئی۔ کاشف جیب میں بالی کو مٹھی میں بھینچے کھڑا رہ گیا۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی 2026: مہنور کی آدھی رات

آدھی رات کو اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور مہنور اندر آ گئی۔ یہ اردو سالی کی چدائی 2026 کی وہ کہانی ہے جو ایک سرد رات میں شروع ہوئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views