اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
"اوئے لڑکے! میری چھت پر کیا کر رہا ہے؟" فرحت آپا کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔ میں ان کی چھت پر کھڑا تھا، ان کی انٹینا میں الجھی ہوئی اپنی پتنگ چھڑا رہا تھا۔ شام کے چار بجے تھے، دہلی کی گرمی ابھی پوری طرح نہیں اتری تھی۔ یہ ایک اردو گرم گرم کہانی ہے، اور یہیں سے شروع ہوتی ہے۔
میں عاصم، اٹھائیس سال کا، پرانی دہلی کے اسی محلے میں رہتا ہوں جہاں فرحت آپا رہتی ہیں۔ ان کی عمر سینتیس سال، شوہر دبئی میں کام کرتے ہیں، سال میں ایک بار آتے ہیں۔ وہ اکیلی رہتی ہیں، خوبصورت، ذہین، اور محلے کی سب سے دلکش عورت۔
اس دن میں چھت پر پتنگ اڑا رہا تھا۔ ہوا تیز تھی، ڈور کٹ گئی، اور پتنگ سیدھی ان کی چھت پر جا گری، انٹینا میں الجھ گئی۔ میں دیوار پھلانگ کر ان کی چھت پر اتر آیا۔ پتنگ چھڑا ہی رہا تھا کہ ان کی آواز آئی۔
میں نے مڑ کر دیکھا۔ فرحت آپا چھت کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ، دوپٹہ کندھے پر۔ پسینے سے ان کا چہرہ چمک رہا تھا۔ میں گھبرا گیا۔ "آپا، وہ... میری پتنگ..."
"پتنگ کے بہانے چھت پر چڑھ آئے؟" وہ مسکرائیں۔ وہ مسکراہٹ ایسی تھی کہ میرا دل دھڑکنے لگا۔ "نہیں آپا، سچ میں پتنگ الجھ گئی تھی۔"
"اچھا اچھا، اتارو اپنی پتنگ۔" وہ قریب آئیں۔ ان کے قریب آنے سے مجھے ان کے پسینے اور عطر کی ملی جلی خوشبو آئی۔ میرا لنڈ کھڑا ہونے لگا۔ میں نے جلدی سے پتنگ اتاری۔
"چائے پیو گے؟" انہوں نے پوچھا۔ میں حیران رہ گیا۔ "جی؟" "چائے۔ اتنی گرمی میں چھت پر چڑھے ہو، پیاس لگی ہوگی۔" وہ اندر چلی گئیں۔ میں ان کے پیچھے پیچھے گیا۔
ان کا گھر صاف ستھرا، ٹھنڈا۔ پنکھا چل رہا تھا۔ وہ باورچی خانے میں چائے بنا رہی تھیں۔ میں دروازے پر کھڑا دیکھ رہا تھا۔ ان کی کمر کی لچک، ان کے کولہوں کی حرکت، سب کچھ مجھے پاگل کر رہا تھا۔
"بیٹھو نا،" انہوں نے کہا۔ میں صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ چائے لے کر آئیں، میرے سامنے بیٹھیں۔ چائے پیتے ہوئے ہم باتیں کرنے لگے۔ عام باتیں، محلے کی، موسم کی۔
لیکن ان کی آنکھیں کچھ اور کہہ رہی تھیں۔ وہ مجھے دیکھ رہی تھیں، ایسے جیسے تول رہی ہوں۔ "عاصم، تمہاری شادی نہیں ہوئی ابھی؟" "نہیں آپا۔" "گرل فرینڈ؟" میں نے سر ہلایا۔ "نہیں۔"
وہ ہنسیں۔ "اٹھائیس سال کے ہو گئے، اور کوئی گرل فرینڈ نہیں؟" "آپا، محلے میں کون ملے گی۔" "تو باہر ڈھونڈو۔" ان کی آواز میں ایک شرارت تھی۔
چائے ختم ہوئی۔ میں اٹھنے لگا۔ "شکریہ آپا۔" "کل پھر آنا، پتنگ اڑانے۔" وہ دروازے تک چھوڑنے آئیں۔ "اور ہاں، دیوار پھلانگنے کی ضرورت نہیں، دروازے سے آنا۔"
میں گھر آیا، لیکن نیند نہیں آئی۔ فرحت آپا کی آنکھیں، ان کی مسکراہٹ، ان کی خوشبو، سب میرے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ میں نے ہاتھ سے اپنا کام چلایا، ان کا تصور کرتے ہوئے۔
اگلے دن میں پھر چھت پر تھا۔ پتنگ اڑا رہا تھا، لیکن میری نظر ان کی چھت پر تھی۔ شام کو وہ چھت پر آئیں، کپڑے سکھانے۔ میں نے آواز لگائی، "آپا!"
وہ مڑیں، مسکرائیں۔ "آؤ، چائے پی لو۔" میں پھر دیوار پھلانگا، حالانکہ انہوں نے دروازے سے آنے کو کہا تھا۔ وہ ہنسیں۔ "تم نہیں سدھرو گے۔"
اس دن ہم چھت پر بیٹھے۔ انہوں نے چائے بنائی، ہم نے پی۔ باتیں ہوئیں۔ وہ اپنے شوہر کے بارے میں بتانے لگیں۔ "تین سال ہو گئے، ٹھیک سے گھر نہیں آئے۔ فون پر بات ہوتی ہے، بس۔"
ان کی آواز میں ایک اداسی تھی۔ میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "آپا..." وہ چونکیں، لیکن ہاتھ نہیں چھڑایا۔ ہماری آنکھیں ملیں۔
"عاصم، یہ ٹھیک نہیں،" وہ بولییں، لیکن ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ "کیا ٹھیک نہیں آپا؟" میں نے پوچھا۔ "تمہیں پتہ ہے کیا۔" میں نے ان کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا۔
وہ کانپ گئیں۔ "تین سال سے کسی نے مجھے چھوا تک نہیں،" وہ سرگوشی میں بولیں۔ میں نے انہیں اپنی طرف کھینچا۔ ہمارے ہونٹ ملے۔
پہلے ہلکا بوسہ، پھر گہرا۔ ان کی زبان میرے منہ میں آئی۔ میں نے انہیں زور سے پکڑ لیا۔ ان کے ممے میرے سینے سے دبے ہوئے تھے۔ میرا لنڈ لوہے کی طرح سخت ہو گیا۔
اچانک بادل گرجے۔ بارش شروع ہو گئی۔ ہم چھت پر تھے، بھیگنے لگے۔ "اندر چلو!" وہ چلائیں۔ ہم بھاگ کر اندر آئے۔ دونوں بھیگے ہوئے۔
ان کے کپڑے جسم سے چپک گئے تھے۔ ان کے ممے صاف نظر آ رہے تھے۔ میں نے انہیں دیوار سے لگا دیا۔ "آپا..." "چپ،" وہ بولیں، اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے۔
میں نے ان کی قمیض کے بٹن کھولے۔ ایک، دو، تین۔ اندر سفید برا۔ برا کا ہک کھولا۔ ان کے ممے باہر آئے، بڑے، نرم، نپل کھڑے۔
میں نے منہ لگا دیا۔ ایک نپل چوسنے لگا، دوسرا ہاتھ سے دبانے لگا۔ وہ میرے بال نوچنے لگیں۔ "آہ، عاصم، آہ۔"
میں نے ان کی شلوار کا ناڑا کھولا۔ شلوار نیچے سرکی۔ اندر کالی پینٹی۔ پینٹی اتار دی۔ ان کی چوت دیکھی، گیلی، پھولی ہوئی۔
میں نے گھٹنے ٹیکے۔ ان کی چوت پر منہ لگایا۔ زبان اندر ڈالی۔ وہ دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی تھیں، ایک ٹانگ میرے کندھے پر۔ "آہ، وہیں، وہیں۔"
میں ان کے دانے کو زبان سے رگڑنے لگا۔ وہ کانپنے لگیں۔ چند منٹ میں ان کا جسم اکڑ گیا، پھر جھٹکے سے وہ جھڑ گئیں۔ ان کی چوت کا رس میرے منہ میں بھر گیا۔
"اب تمہاری باری،" وہ بولیں۔ وہ میرے سامنے گھٹنوں پر بیٹھیں۔ میری پینٹ کی زپ کھولی، لنڈ باہر نکالا۔ ایک لمحہ دیکھا، پھر منہ میں لے لیا۔
میری آنکھیں بند ہو گئیں۔ ان کا منہ گرم، زبان میرے لنڈ کی ٹوپی پر گھوم رہی۔ وہ گہرائی تک لے رہی تھیں۔ میں نے ان کا سر پکڑ کر دھکیلا۔
"آپا، میں آ رہا ہوں،" میں ہانپتے ہوئے بولا۔ انہوں نے منہ نہیں ہٹایا۔ میں ان کے منہ میں ہی جھڑ گیا۔ انہوں نے سب نگل لیا۔
وہ اٹھیں، مجھے بیڈروم میں لے گئیں۔ بستر پر لٹا دیا۔ وہ میرے اوپر چڑھیں۔ میرا لنڈ پھر کھڑا ہو رہا تھا۔
انہوں نے میرا لنڈ پکڑ کر اپنی چوت کے منہ پر رکھا۔ آہستہ سے بیٹھیں۔ میں نے محسوس کیا ان کی گرم، گیلی چوت میرا لنڈ نگل رہی ہے۔ انہوں نے ایک لمبی سانس لی۔ "آہ، بھر گیا۔"
وہ اوپر نیچے ہونے لگیں۔ پہلے آہستہ، پھر تیز۔ ان کے ممے اچھل رہے تھے۔ میں نے نیچے سے ان کی کمر پکڑ کر دھکیلا۔ کمرے میں صرف ہماری ہانپنے کی آواز۔
"زور سے، زور سے کرو،" وہ بولیں۔ "تین سال کی بھوک مٹاؤ۔" میں نے انہیں پلٹ دیا۔ اب میں اوپر۔ ان کی ٹانگیں کندھوں پر اٹھا لیں۔ گہرائی تک ڈالا۔
ہر دھکے پر وہ چیخ رہی تھیں۔ "آہ، عاصم، آہ، ایسے ہی، رکو مت۔" میں نے رفتار بڑھائی۔ ان کی چوت میرا لنڈ دبا رہی تھی، اندر گرم اور گیلی۔
میں نے انہیں کتے والی پوزیشن میں بٹھایا۔ پیچھے سے ڈالا۔ ان کے کولہے پکڑ کر زور زور سے دھکیلنے لگا۔ انہوں نے چادر نوچ لی۔ "آہ، مر جاؤں گی، آہ۔"
میں نے ان کی کمر پر ہاتھ پھیرا، پسینے سے بھیگی ہوئی جلد۔ "آپا، آپ بہت خوبصورت ہیں،" میں نے کہا۔ "جھوٹ مت بولو،" وہ ہنسیں، لیکن ان کی آواز میں خوشی تھی۔ "سچ کہہ رہا ہوں۔ آپ کی ہر چیز۔"
میں نے ان کے کولہوں پر ہلکا سا تھپڑ مارا۔ وہ چونکیں، پھر ہنس پڑیں۔ "بدتمیز!" لیکن انہوں نے کمر اور جھکا دی، مجھے اور اندر آنے دیا۔ میں نے گہرائی تک دھکیلا۔
بیس منٹ تک چلا۔ پھر میں نے محسوس کیا آ رہا ہے۔ "آپا، اندر ہی دے رہا ہوں۔" "دو، اندر دو،" وہ بولیں۔ میں نے گہرائی تک ڈال کر جھڑ دیا۔ ان کی چوت میرے رس سے بھر گئی۔
ہم پہلو میں لیٹے ہانپ رہے تھے۔ وہ میرے سینے پر سر رکھے تھیں۔ "عاصم، یہ ہمارے درمیان رہے گا، ٹھیک ہے؟" میں نے سر ہلایا۔
باہر بارش اب بھی ہو رہی تھی۔ میں جانتا تھا، یہ اردو گرم گرم کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ یہ تو بس شروعات تھی۔
اگلے دن وہ مجھے پیغام بھیجیں، "پتنگ پھر الجھ گئی ہے۔" میں مسکرایا۔ ان کے گھر گیا۔ اس بار دروازے سے۔
دروازہ کھلتے ہی انہوں نے مجھے اندر کھینچ لیا۔ "آج چھت پر،" وہ بولیں۔ "بارش میں۔" ہم چھت پر گئے۔ بارش ہو رہی تھی۔
انہوں نے ریلنگ پکڑی۔ میں نے پیچھے سے ان کی شلوار اتاری۔ بارش کی آواز میں ہماری آواز دب گئی۔ میں نے زور زور سے دھکیلنا شروع کیا۔
"زور سے، عاصم، زور سے،" وہ بولیں۔ ہر دھکے پر وہ آگے بڑھ رہی تھیں۔ میں نے ان کے بال پکڑ کر کھینچے، کمر موڑ دی۔ گہرائی تک ڈالا۔
وہ چیخ رہی تھیں، بارش کی آواز کو چیرتے ہوئے۔ "آہ، آہ، آ رہا ہے۔" ان کی چوت نے میرا لنڈ دبا لیا۔ وہ جھڑ گئیں۔
میں نہیں رکا۔ اور زور سے دھکیلتا رہا۔ چند منٹ بعد میں بھی آیا۔ گہرائی میں ڈال کر جھڑ گیا۔ ہم ویسے ہی کھڑے رہے، ہانپتے ہوئے، بارش دیکھتے ہوئے۔
وہ مڑیں۔ مجھے گلے لگایا۔ "تم نے میری زندگی لوٹا دی۔" میں نے ان کی پیشانی چومی۔
اب ہر شام میں ان کی چھت پر جاتا ہوں۔ محلے والے سمجھتے ہیں پتنگ کا شوق ہے۔ اصل میں میں فرحت آپا کی زندگی کی سب سے اہم مرمت کرتا ہوں۔ یہ اردو گرم گرم کہانی کبھی ختم نہیں ہوگی۔
Readers who enjoyed “اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)
شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔