اردو ٹیچر کی چدائی: لائبریری کا خفیہ نوٹ
یہ اردو ٹیچر کی چدائی کی وہ کہانی ہے جو لکھنؤ کے ایک پرانے گرلز کالج کی لائبریری میں اس دوپہر شروع ہوئی جب فرزانہ نے حاضری کا رجسٹر کھولا اور اس میں سے ایک مڑا ہوا کاغذ نکل کر اس کے پیروں کے پاس گر پڑا۔ کلاس میں پینتالیس لڑکیاں بیٹھی تھیں اور سب کی نظریں اس کاغذ پر تھیں۔ فرزانہ نے بے چینی سے اسے اٹھایا، بغیر پڑھے اپنی کتاب کے اندر رکھا، اور غالب کا شعر پڑھانا جاری رکھا، لیکن اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
کاغذ پر لکھا تھا، "محترمہ فرزانہ، جب آپ کلاس میں شعر پڑھتی ہیں تو آپ کے ہونٹ جس طرح ہلتے ہیں، میں نے آج تک کسی کو اتنا خوبصورت بولتے نہیں دیکھا۔ آج شام پانچ بجے کے بعد لائبریری میں رک جائیے گا۔ میں وہاں ہوں گا۔ صرف آپ کے لیے کچھ کہنا ہے۔" نیچے کوئی دستخط نہیں تھا۔ فرزانہ کی سانس رک گئی۔ اس کے چہرے پر گرمی دوڑ گئی اور اس نے کاغذ کو مٹھی میں دبا لیا۔
پوری کلاس کے دوران وہ پڑھاتی رہی مگر اس کا دماغ کہیں اور تھا۔ کون ہو سکتا ہے؟ اسٹاف میں تو سب شادی شدہ اور بوڑھے تھے، سوائے ایک کے۔ عامر۔ تیس سال کا نیا ہسٹری لیکچرر، جو پچھلے مہینے ہی کالج میں آیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ نظر تھی جو فرزانہ نے پہلے دن ہی پہچان لی تھی۔
پہلے دن جب عامر اسٹاف روم میں آیا تھا تو اس نے فرزانہ سے ہاتھ ملایا تھا اور اس کا ہاتھ ایک لمحے کے لیے زیادہ دیر تک تھاما رہا تھا۔ فرزانہ نے اس وقت اسے اتفاق سمجھا تھا۔ اب اسے لگ رہا تھا کہ وہ اتفاق نہیں تھا۔ اس کی نظریں اکثر لنچ کے وقت اس پر ٹکی ہوتی تھیں اور جب فرزانہ اسے دیکھتی تو وہ مسکرا کر نظریں ہٹا لیتا تھا۔
شام کو گھر جا کر فرزانہ نے وہ نوٹ دس بار پڑھا۔ اس کا شوہر راشد دبئی میں تھا اور تین ہفتے سے گھر نہیں آیا تھا۔ چھتیس سال کی عمر میں فرزانہ کو اپنے جسم کی پیاس کا احساس بہت شدت سے ہو رہا تھا۔ اس نے نوٹ کو اپنے پرس میں رکھا اور فیصلہ کیا کہ وہ اگلے دن دیکھے گی کہ کون اس کے رجسٹر کو چھوتا ہے۔
اگلے دن دوپہر کو جب فرزانہ کلاس سے نکلی تو اس نے دیکھا کہ رجسٹر میں ایک اور کاغذ تھا۔ اس بار لکھا تھا، "کل آپ نے نیلی ساری پہنی تھی۔ جب آپ بورڈ پر لکھنے کے لیے جھکتی ہیں تو آپ کی کمر کی لکیر مجھے پاگل کر دیتی ہے۔ میں روز آپ کو دیکھتا ہوں اور روز اپنے آپ کو روکتا ہوں۔ کب تک؟" فرزانہ کے گال سرخ ہو گئے۔ یہ تو کھلی چھیڑ خانی تھی۔
اس شام فرزانہ نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی نیلی ساری کو دیکھا۔ اس نے سوچا کہ کیا واقعی اس کی کمر اتنی دلکش ہے؟ اس کے شوہر نے تو برسوں سے اس کی تعریف نہیں کی تھی۔ ایک انجان شخص کی یہ باتیں اس کے دل میں ایک عجیب سی ہلچل مچا رہی تھیں۔ خوف بھی تھا اور ایک میٹھا سا جوش بھی۔
تیسرے دن فرزانہ نے فیصلہ کیا کہ وہ کھیل کو اپنے ہاتھ میں لے گی۔ اس نے خود ایک نوٹ لکھا، "اگر اتنی ہمت ہے تو آج شام پانچ بجے لائبریری میں آ جاؤ۔ میں اکیلی ہوں گی۔ لیکن اگر تم نہ آئے تو یہ کھیل یہیں ختم۔" اس نے نوٹ کو رجسٹر میں رکھا اور پورا دن اس کی دھڑکن تیز رہی۔
شام پانچ بجے فرزانہ لائبریری پہنچی۔ پرانی لکڑی کی الماریوں کے درمیان خاموشی تھی اور کھڑکیوں سے سنہری دھوپ آ رہی تھی۔ اس نے جان بوجھ کر ایک ہلکی گلابی ساری پہنی تھی جس میں اس کا جسم نمایاں نظر آ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ پسینے سے گیلے تھے۔
پانچ بج کر دس منٹ پر دروازہ کھلا اور عامر اندر آیا۔ اس کے چہرے پر حیرت اور خوشی دونوں تھے۔ "تو یہ آپ تھیں؟" فرزانہ نے کہا۔ عامر نے سر جھکا لیا۔ "مجھے معاف کیجیے گا۔ میں خود کو روک نہیں پایا۔ آپ... آپ بہت خوبصورت ہیں۔" فرزانہ نے دروازہ بند کیا اور اندر سے کنڈی لگا دی۔
"کنڈی کیوں لگائی؟" عامر نے پوچھا، اس کی آواز میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔ فرزانہ اس کے قریب آئی اور بولی، "کیونکہ جو باتیں تم نے نوٹوں میں لکھی ہیں، وہ دروازہ کھلا رکھ کر نہیں ہو سکتیں۔" عامر کی آنکھوں میں ایک چمک آ گئی۔ اس نے ایک قدم آگے بڑھایا اور فرزانہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔
فرزانہ نے اپنا ہاتھ نہیں چھڑایا۔ اس کے بجائے اس نے عامر کی شرٹ کے کالر کو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔ ان کے ہونٹ ملے اور ایک گہرا بوسہ شروع ہوا۔ عامر کے ہونٹ نرم تھے اور اس کی زبان فرزانہ کے منہ میں گھس گئی۔ فرزانہ نے دس سال بعد کسی مرد کو اس طرح چوما تھا۔ اس کے جسم میں بجلی دوڑ گئی۔
عامر کے ہاتھ فرزانہ کی کمر پر پھسلنے لگے۔ اس نے اس کی ساری کا پلو ہٹایا اور اس کے بلاؤز کے اوپر سے اس کی چھاتیوں کو دبایا۔ فرزانہ کی سانس تیز ہو گئی۔ "آہستہ..." وہ بولی، مگر اس کے ہاتھ خود عامر کی شرٹ کے بٹن کھول رہے تھے۔ اس کی چوڑی چھاتی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرزانہ کو لگا جیسے وہ جوان ہو گئی ہو۔
عامر نے فرزانہ کو کتابوں کی الماری سے لگا دیا۔ پرانی کتابوں کی خوشبو اور ان کے جسموں کی گرمی مل کر ایک نشہ بنا رہی تھی۔ اس نے فرزانہ کے بلاؤز کے بٹن کھولے اور اس کی برا کو اوپر سرکا دیا۔ اس کی گوری چھاتیاں باہر نکل آئیں اور عامر نے ان پر اپنا منہ رکھ دیا۔ اس نے ایک چھاتی کو چوسنا شروع کیا اور دوسری کو ہاتھ سے مسلنے لگا۔
فرزانہ کے منہ سے سسکی نکلی۔ "آہ... عامر..." اس نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالے اور اس کا سر اپنی چھاتی پر دبا دیا۔ عامر نے اس کے نپل کو دانتوں سے ہلکے سے کاٹا اور فرزانہ کا جسم کانپ اٹھا۔ اس کی چوت گیلی ہو رہی تھی اور اسے اپنی رانوں کے درمیان ایک میٹھا سا درد محسوس ہو رہا تھا۔
فرزانہ نے عامر کی پینٹ کی زپ کھولی اور اس کا لنڈ باہر نکالا۔ وہ سخت اور گرم تھا اور اس کی لمبائی دیکھ کر فرزانہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ ہلانے لگی۔ عامر نے آنکھیں بند کر لیں اور ایک گہری سانس لی۔ "تمہارے ہاتھ... بہت نرم ہیں..." وہ بڑبڑایا۔
پھر فرزانہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور عامر کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا۔ اس نے اسے چوسنا شروع کیا، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ اس کی زبان لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی اور عامر کے منہ سے آہیں نکل رہی تھیں۔ "بس... بس کرو... میں جھڑ جاؤں گا..." عامر نے کہا، مگر فرزانہ نہیں رکی۔ اس نے اسے اور گہرا لیا۔
عامر نے فرزانہ کو اٹھایا اور اسے لائبریری کی بڑی میز پر بٹھا دیا۔ اس نے اس کی ساری کو اوپر اٹھایا اور اس کی پینٹی کو ایک جھٹکے میں اتار دیا۔ فرزانہ کی گیلی چوت اس کے سامنے تھی۔ عامر نے اپنی انگلیاں اس کی چوت میں ڈالیں اور انہیں اندر باہر کرنے لگا۔ فرزانہ کی کمر مڑ گئی اور اس نے میز کو کس کر پکڑ لیا۔
"تم بہت گیلی ہو..." عامر نے کہا اور اپنی انگلیوں کی رفتار بڑھا دی۔ فرزانہ کی چوت سے پانی بہنے لگا اور اس کی سسکیاں لائبریری میں گونجنے لگیں۔ "اور... اور تیز کرو..." وہ بولی۔ عامر نے اپنا انگوٹھا اس کے دانے پر رکھا اور اسے رگڑنے لگا۔ فرزانہ کا جسم اکڑ گیا اور وہ ایک زوردار چیخ کے ساتھ جھڑ گئی۔
پھر عامر نے اپنا لنڈ فرزانہ کی چوت کے منہ پر رکھا اور ایک دھکے میں اندر ڈال دیا۔ فرزانہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "آہ... اتنا بڑا..." وہ بولی۔ عامر نے دھکے لگانے شروع کیے، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ میز ہلنے لگی اور کتابیں گرنے لگیں۔ فرزانہ نے اپنی ٹانگیں عامر کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔
عامر کے ہر دھکے کے ساتھ فرزانہ کی چھاتیاں اچھل رہی تھیں۔ اس نے فرزانہ کی کمر کو پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچتا رہا۔ "تمہاری چوت... بہت ٹائٹ ہے..." وہ ہانپتے ہوئے بولا۔ فرزانہ نے اس کے کندھوں کو ناخنوں سے کھروچا۔ "اور زور سے... مجھے اور زور سے چودو..." وہ چلائی۔
عامر نے رفتار اور بڑھا دی۔ اس کے لنڈ کا سرا فرزانہ کی چوت کی گہرائی کو چھو رہا تھا۔ فرزانہ کو لگا جیسے اس کے جسم میں آگ لگ گئی ہو۔ اچانک اس کا جسم کانپنے لگا اور وہ دوسری بار جھڑ گئی۔ اس کی چوت نے عامر کے لنڈ کو کس کر جکڑ لیا۔ عامر بھی نہ رک سکا اور ایک زوردار چیخ کے ساتھ اس کی چوت میں جھڑ گیا۔
دونوں کچھ دیر ویسے ہی رہے، ہانپتے ہوئے۔ پھر فرزانہ نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور بولی، "یہ بات کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہیے۔ سمجھے؟" عامر نے سر ہلایا۔ "یہ ہمارا راز ہے۔" اس نے فرزانہ کے گال پر ایک بوسہ دیا۔ فرزانہ مسکرائی، مگر اس کے دل میں ایک ڈر بھی تھا۔
اگلے ہفتے میں نوٹوں کا سلسلہ جاری رہا، مگر اب وہ اور بھی بے باک ہو گئے تھے۔ ایک نوٹ میں لکھا تھا، "کل اسٹاف روم میں تم نے جو سرخ لپ اسٹک لگائی تھی، میں سارا دن تمہارے ہونٹوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ تمہارے شوہر کب واپس آ رہے ہیں؟" فرزانہ نے جواب لکھا، "تین ہفتے بعد۔ تمہیں اس سے کیا؟"
عامر کا جواب آیا، "تو ان تین ہفتوں میں تم میری ہو۔ ہفتے کو میرے فلیٹ پر آؤ۔ پتہ یہ ہے۔" فرزانہ نے پتہ پڑھا اور اسے یاد کر لیا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ یہ خطرناک ہے، مگر اس کا جسم اسے وہاں جانے پر مجبور کر رہا تھا۔
ہفتے کی شام فرزانہ عامر کے فلیٹ پہنچی۔ دروازہ کھلتے ہی عامر نے اسے اندر کھینچا اور دروازہ بند کر دیا۔ اس نے فرزانہ کو دیوار سے لگایا اور اسے بے تحاشہ چومنے لگا۔ اس کے ہاتھ فرزانہ کے جسم پر دوڑ رہے تھے۔ "میں نے پورا ہفتہ تمہارے بارے میں سوچا ہے..." وہ بولا۔
عامر نے فرزانہ کی ساری کو کھولا اور اسے فرش پر گرا دیا۔ وہ صرف بلاؤز اور پینٹی میں کھڑی تھی۔ عامر نے اسے اٹھایا اور بیڈ روم میں لے گیا۔ اس نے اسے بستر پر پھینکا اور اس کے اوپر چڑھ گیا۔ اس نے اس کے بلاؤز کو پھاڑ دیا اور اس کی چھاتیوں پر ٹوٹ پڑا۔
اس بار سب کچھ سست اور گہرا تھا۔ عامر نے فرزانہ کے پورے جسم کو چوما، اس کی گردن سے لے کر اس کے پیروں تک۔ اس نے اس کی چوت کو اپنی زبان سے چاٹا اور فرزانہ بستر پر مچھلی کی طرح تڑپنے لگی۔ "آہ... وہیں... وہیں چاٹو..." وہ چلائی۔ عامر نے اس کے دانے کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور چوسنے لگا۔
فرزانہ تین بار جھڑی اس سے پہلے کہ عامر نے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا۔ اس بار اس نے اسے کئی پوزیشنوں میں چودا۔ پہلے مشنری میں، پھر اسے گھوڑی بنا کر پیچھے سے، اور آخر میں اسے اپنی گود میں بٹھا کر۔ ہر پوزیشن میں فرزانہ کی چیخیں بلند ہوتی گئیں۔ "ہاں... ایسے ہی... مجھے چودتے رہو..."
جب دونوں تھک کر بستر پر گرے تو باہر اندھیرا چھا چکا تھا۔ فرزانہ نے عامر کے سینے پر سر رکھا اور بولی، "میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا محسوس نہیں کیا۔" عامر نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ "تم میری ہو، فرزانہ۔ ان تین ہفتوں میں تم صرف میری ہو۔"
مگر اگلے دن کالج میں ایک مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ لائبریرین نے پرنسپل سے شکایت کی کہ لائبریری کی کچھ کتابیں اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی ملتی ہیں اور میز پر عجیب سے نشان ہیں۔ فرزانہ کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ پرنسپل نے اسٹاف میٹنگ میں کہا، "لائبریری کی چابی صرف سینئر اساتذہ کے پاس ہے۔ سب خیال رکھیں۔"
فرزانہ نے عامر کو ایک نوٹ لکھا، "اب لائبریری میں ملنا بند۔ بہت خطرہ ہے۔" عامر نے جواب دیا، "تو پھر کہاں؟ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔" فرزانہ نے سوچا اور لکھا، "سالانہ تقریب کی رات۔ سب ہال میں ہوں گے۔ کلاس روم نمبر بارہ خالی ہوگا۔"
تقریب کی رات کالج میں ہلچل تھی۔ اسٹیج پر پروگرام چل رہا تھا اور سب ہال میں تھے۔ فرزانہ چپکے سے کلاس روم نمبر بارہ میں گئی۔ کچھ دیر بعد عامر بھی آ گیا۔ اس نے دروازہ بند کیا اور فرزانہ کو اپنی باہوں میں لے لیا۔ "میں نے تمہیں بہت یاد کیا..." وہ بولا۔
اس رات ان کی چدائی سب سے جنگلی تھی۔ عامر نے فرزانہ کو ڈیسک پر جھکایا اور پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال دیا۔ باہر سے تالیوں اور موسیقی کی آوازیں آ رہی تھیں اور اندر ان کی سسکیاں۔ فرزانہ نے اپنا منہ اپنے دوپٹے سے دبایا تاکہ آواز باہر نہ جائے۔ "زور سے... کوئی سن نہیں رہا..." وہ بولی۔
عامر نے اس کی چوت کو اتنی زور سے چودا کہ ڈیسک دیوار سے ٹکرا گیا۔ پھر اس نے فرزانہ کو گھمایا اور اسے دیوار سے لگا کر اس کی ٹانگ اٹھائی۔ اس پوزیشن میں اس کا لنڈ اور گہرا گیا۔ فرزانہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر یہ خوشی کے آنسو تھے۔ "میں جھڑنے والی ہوں... آہ... میں جھڑ رہی ہوں..."
دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ عامر نے اپنا سارا پانی فرزانہ کی چوت میں چھوڑ دیا۔ کچھ دیر وہ دیوار سے لگے رہے۔ پھر فرزانہ نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور بولی، "میرا شوہر اگلے ہفتے آ رہا ہے۔" عامر کی آنکھوں میں اداسی آ گئی۔ "اور پھر؟" فرزانہ نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا اور بولی، "پھر دیکھیں گے۔ نوٹ لکھنا بند مت کرنا۔"
وہ دونوں الگ الگ ہال میں واپس گئے۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا۔ مگر اس رات کے بعد فرزانہ کے رجسٹر میں ایک نیا نوٹ ملا۔ اس میں لکھا تھا، "تمہارے شوہر کے آنے کے بعد بھی میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔ تم میری اردو ٹیچر ہو اور میں تمہارا سب سے ضدی شاگرد۔ اگلا نوٹ جلد آئے گا۔" فرزانہ نے نوٹ کو چوما اور اپنے پرس میں رکھ لیا۔
Readers who enjoyed “اردو ٹیچر کی چدائی: لائبریری کا خفیہ نوٹ” also read
8 curated storiesاردو کالج گرل کہانی: لائبریری کی شام
زویا (20، کراچی یونیورسٹی) کی منگنی خلیج میں مقیم منگیتر سے ہے۔ انگلش لٹریچر کی ٹیوشن کے لیے ٹیچنگ اسسٹنٹ فہد (26) کی لائبریری والی شامیں، اور پھر جو ہوا، یہ اردو کالج گرل کہانی۔
اردو پروفیسر کی چدائی: کالج آفس میں پروفیسر عمران نے زارا کو جم کر چودا
کراچی کالج میں لیکچرر زارا ایک شام کتاب واپس کرنے پروفیسر عمران کے دفتر پہنچی، اور وہ ملاقات ایک ایسی شام میں بدل گئی جسے دونوں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔
اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ والی رات
اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ کے لڑکیوں کے ہوسٹل میں خراب موٹر ٹھیک کرنے آیا دانش، اور اریبہ سے اس کی ملاقات ایک نئی کہانی بن گئی۔
اردو کالج گرل سیکس کہانی: وین چھوٹنے کے بعد
اردو کالج گرل سیکس کہانی: ڈبیٹ پریکٹس کے بعد وین چھوٹ گئی تو مہنور کو بلال کی بائیک پر سوار ہونا پڑا۔ بارش، ایک خالی فلیٹ، اور پھر وہ شام بدل گئی۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔
اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔