College Campusاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ والی رات

N
10 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

دانش پانی کی ٹینکی کے اوپر چڑھا ہوا تھا، ہاتھ میں رینچ، پسینہ اس کی پیشانی سے ٹپک رہا تھا، جب چھت کا دروازہ کھلا اور ایک لڑکی بالٹی لے کر اندر آئی۔ اردو ہاسٹل کی چدائی کی یہ کہانی اسی دوپہر شروع ہوئی تھی، علی گڑھ کے اس لڑکیوں کے ہاسٹل کی چھت پر، جہاں موٹر خراب تھی اور بجلی والے نے اپنے نوجوان مددگار کو بھیجا تھا۔

"تم کون ہو؟" لڑکی نے پوچھا، بالٹی نیچے رکھتے ہوئے۔ وہ بائیس تئیس کی رہی ہوگی، لمبے بال، سفید کرتی میں۔ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی، ڈر نہیں۔

"موٹر ٹھیک کرنے آیا ہوں،" دانش نے کہا، ٹینکی سے نیچے اترتے ہوئے۔ "بجلی والے استاد نے بھیجا ہے۔ تم؟"

"اریبہ۔ بی اے فائنل ایئر۔" اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور دانش نے اپنا پسینے والا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا۔ اس کے ہاتھ نرم تھے، مہندی کی ہلکی خوشبو آ رہی تھی۔ "موٹر کب سے خراب ہے، تین دن سے ہم نیچے کے نل سے پانی لا رہے ہیں۔"

"آج ٹھیک ہو جائے گی،" دانش نے کہا۔ وہ چوبیس کا تھا، دبلا پتلا، پر بازوؤں میں کام کی مضبوطی تھی۔ اس نے موٹر کا ڈھکن کھولا، اندر جھانکا۔ "کوائل جل گئی ہے۔ نئی لانی پڑے گی۔ کل آنا پڑے گا۔"

اریبہ نے ایک لمبی سانس لی۔ "کل پھر۔" پھر وہ مسکرائی۔ "چائے پیو گے؟"

دانش نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ہاسٹل کی لڑکیاں عام طور پر باہر کے لڑکوں سے بات بھی نہیں کرتیں۔ "پیوں گا،" اس نے کہا۔

اریبہ نیچے گئی، اور دس منٹ بعد دو کپ چائے لے کر آئی۔ وہ دونوں چھت کی منڈیر کے پاس بیٹھ گئے۔ علی گڑھ کی شام ڈھل رہی تھی، ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ اریبہ نے بتایا کہ وہ سہارنپور کی ہے، ہاسٹل میں تین سال سے رہ رہی ہے، اور اس کی روم میٹ اگلے ہفتے گھر جا رہی ہے۔ دانش نے بتایا کہ وہ استاد کے پاس دو سال سے کام سیکھ رہا ہے، اور اپنا خود کا کام شروع کرنا چاہتا ہے۔

باتوں باتوں میں شام ہو گئی۔ جب دانش جانے لگا، اریبہ نے کہا، "کل کتنے بجے آؤ گے؟"

"دوپہر کو، بارہ بجے۔ کوائل لے کر آؤں گا۔"

"میں چھت پر ہی ملوں گی،" اریبہ نے کہا، اور اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو دانش نے پہلے کبھی کسی لڑکی کی آنکھوں میں نہیں دیکھی تھی۔

اگلے دن دانش بارہ بجے پہنچا۔ وارڈن میڈم نے اسے اسٹور روم کی چابی دی، جہاں پرانی موٹریں رکھی تھیں۔ "وہیں کام کر لو،" انہوں نے کہا۔ "چھت پر دھوپ بہت ہے۔"

اسٹور روم ہاسٹل کے پچھلے حصے میں تھا، چھوٹا، اندھیرا، پرانے بستروں اور ٹوٹی کرسیوں سے بھرا۔ دانش نے کوائل نکالی، موٹر کھولی، کام شروع کیا۔ آدھے گھنٹے بعد دروازہ کھلا، اور اریبہ اندر آئی، ہاتھ میں ٹھنڈے پانی کی بوتل۔

"وارڈن میڈم سو رہی ہیں،" اس نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔ "دوپہر کو وہ ہمیشہ سوتی ہیں۔"

دانش نے بوتل لی، پانی پیا۔ اریبہ اس کے سامنے کھڑی تھی، اتنی قریب کہ اس کی سانس اس کے چہرے پر لگ رہی تھی۔ "تمہارے ہاتھ بہت مضبوط ہیں،" اس نے کہا، اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کی انگلیاں اس کی ہتھیلی پر گھومیں۔

دانش کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ "اریبہ، یہ... یہ ٹھیک نہیں۔"

"کیا ٹھیک نہیں؟" اس نے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ دیا۔ اس کی کرتی کے اندر اس کے دودھ سخت تھے، نپل تنے ہوئے۔ "یہ؟"

دانش نے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ اس نے اس کے دودھ کو دبایا، اور اریبہ نے ہلکی آہ بھری۔ اس نے اسے اپنی طرف کھینچا، اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے۔ اریبہ نے اس کا ساتھ دیا، اس کی زبان اس کے منہ میں آئی، اور دونوں اسٹور روم کے اندھیرے میں ایک دوسرے میں کھو گئے۔

دانش نے اس کی کرتی اوپر اٹھائی۔ اس نے برا نہیں پہنی تھی۔ اس کے دودھ گورے، بھرے ہوئے، نپل گلابی اور تنے ہوئے۔ دانش نے ایک کو منہ میں لیا، زور سے چوسا۔ اریبہ نے اس کے بال پکڑ لیے، اور دبی آواز میں چیخی۔

"دروازہ بند ہے؟" دانش نے پوچھا، اس کے دوسرے دودھ کو چوستے ہوئے۔

"بند ہے،" اریبہ نے کہا۔ "جلدی کرو، میڈم دو بجے اٹھتی ہیں۔"

دانش نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا۔ وہ نیچے سے گیلی تھی، اس کی چوت چمک رہی تھی۔ دانش نے اپنی پینٹ اتاری۔ اس کا لنڈ پورا تنا ہوا تھا، رگیں ابھری ہوئی۔ اریبہ نے اسے دیکھا، اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔

اس نے دانش کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا، پہلے ہلکا چوما، پھر منہ میں لے لیا۔ دانش کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ وہ اسے چوستی رہی، زبان سے اس کے اوپر گول گول گھماتی، ہاتھ سے نیچے سہلاتی۔ پھر اچانک اس نے چھوڑ دیا، کھڑی ہوئی، اور پرانے بستروں کے ڈھیر پر لیٹ گئی، ٹانگیں پھیلا دیں۔

"اب اندر ڈالو،" اس نے کہا، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے۔ "پورا۔"

دانش اس کے پاس گیا، اپنے لنڈ کو اس کی چوت پر رگڑا۔ وہ اتنی گیلی تھی کہ آسانی سے پھسل رہا تھا۔ اریبہ نے اس کی کمر پکڑی اور خود ہی اسے اندر کھینچ لیا۔ ایک جھٹکے میں پورا لنڈ اندر تھا، اور اریبہ نے زور سے سانس لی۔

"ہاں،" اس نے کہا۔ "ایسے ہی۔ رکنا مت۔"

دانش نے دھکے مارنے شروع کیے، پہلے دھیرے، پھر تیز۔ اسٹور روم میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی، اور اریبہ کی دبی چیخیں۔ اس نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں، اور ہر دھکے پر اس کے ناخن اس کی پیٹھ میں دھنس رہے تھے۔ "اور تیز،" وہ کہہ رہی تھی۔ "اور تیز، دانش۔"

دانش نے اسے پلٹا، گھوڑی بنایا۔ وہ آگے جھک گئی، ہاتھ بستروں پر۔ دانش نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا، اور اس کے دودھ کو ہاتھوں میں پکڑ لیا، نپلوں کو انگلیوں سے مسلتے ہوئے۔ اریبہ چلا رہی تھی اب، کھل کر، کیونکہ اسٹور روم کی دیواریں موٹی تھیں۔

"میں جھڑنے والی ہوں،" اس نے کہا، اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ "مت رکنا، مت رکنا..."

دانش نے اپنی رفتار بڑھا دی، پوری طاقت سے دھکے مارنے لگا۔ اریبہ کا بدن کانپنے لگا، اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو اتنی زور سے جکڑ لیا کہ دانش بھی رک نہیں پایا۔ دونوں ایک ساتھ جھڑے، اریبہ کی چیخ اسٹور روم کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئی۔

وہ دونوں بستروں پر لیٹے رہے، سانس لیتے ہوئے۔ اریبہ نے اس کے سینے پر سر رکھا۔ "میڈم اٹھنے والی ہیں،" اس نے کہا۔ "تم موٹر لے کر چھت پر جاؤ۔ میں پانچ منٹ بعد آتی ہوں۔"

اس شام چھت پر اریبہ پھر چائے لے کر آئی۔ اس بار وہ دانش کے اتنے قریب بیٹھی کہ اس کا کندھا اس کے کندھے سے لگ رہا تھا۔ جب وہ چائے کا کپ پکڑا رہی تھی، اس کی انگلیاں جان بوجھ کر اس کی انگلیوں پر رکیں۔ "تمہارے ہاتھ میں بجلی ہے،" اس نے دھیرے سے کہا، اور دانش نے اس کی ران پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ وہ نہیں ہٹی۔ دونوں نے چائے پی، اور کوئی کچھ نہیں بولا، پر دونوں کے دل اتنی زور سے دھڑک رہے تھے کہ چھت کی خاموشی میں سنائی دے رہے تھے۔

دانش نے موٹر ٹھیک کی، ٹینکی پر لگائی، پانی چلایا۔ وارڈن میڈم خوش تھیں۔ اریبہ چھت پر آئی، اور دونوں نے ایسے برتاؤ کیا جیسے ایک دوسرے کو جانتے ہی نہ ہوں۔ پر جاتے جاتے اریبہ نے اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھما دیا۔

دانش نے راستے میں کاغذ کھولا۔ اس پر لکھا تھا: میری روم میٹ کل گھر جا رہی ہے، تین دن کے لیے۔ رات کو پچھلا گیٹ کھلا رہے گا۔ دس بجے۔

اگلی رات دانش دس بجے ہاسٹل کے پچھلے گیٹ پر تھا۔ گیٹ کھلا تھا۔ وہ اندر گیا، سیڑھیاں چڑھا، اور اریبہ کے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ کھلا، اریبہ نے اسے اندر کھینچ لیا، دروازہ بند کر دیا۔

کمرہ چھوٹا تھا، دو بستر، ایک میز، ایک کھڑکی جس پر پردہ گرا تھا۔ اریبہ نے نائٹی پہنی تھی، گلابی، باریک۔ اس کے اندر کچھ نہیں تھا، یہ دانش نے فوراً دیکھ لیا۔

"ڈر لگ رہا تھا کہ تم نہیں آؤ گے،" اریبہ نے کہا۔

"میں کیسے نہ آتا؟" دانش نے اسے بانہوں میں لے لیا۔

اس رات انہوں نے جلدی نہیں کی۔ اریبہ نے دانش کے پورے بدن کو چوما، اس کے سینے سے لے کر اس کے پیروں تک۔ اس نے اس کے لنڈ کو ہاتھوں میں لیا، دھیرے دھیرے سہلایا، پھر منہ میں لیا، اور اتنے پیار سے چوسا کہ دانش کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پھر وہ اس کے اوپر آئی، اور دونوں نے دھیرے دھیرے، ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے، وہ کیا جو تین دن سے ان کے دماغ میں چل رہا تھا۔

پھر دانش نے اسے بستر پر لٹایا، اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں، اور اس کی چوت کو چومنے لگا۔ اس کی زبان اس کی چوت کے ہر حصے پر گھوم رہی تھی، اور اریبہ بستر پر مچل رہی تھی، تکیے کو دانتوں سے کاٹ رہی تھی تاکہ آواز باہر نہ جائے۔

"دانش،" وہ سرگوشی میں کہہ رہی تھی، "اندر ڈالو، اب برداشت نہیں ہوتا۔"

دانش اس کے اوپر آیا، اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا، اور دھکے مارنے لگا۔ کمرے میں صرف بستر کی چرچراہٹ تھی، اور ان کی دبی سانسیں۔ اریبہ نے اس کی پیٹھ کو ناخنوں سے کھروںچا، اس کے کان میں کہا، "تم میرے ہو، صرف میرے۔"

"تمہارا ہوں،" دانش نے کہا، اور اپنی رفتار بڑھا دی۔

وہ اس رات تین بار ملے۔ ہر بار پہلے سے زیادہ کھل کر، ہر بار پہلے سے زیادہ پیار سے۔ آخری بار کے بعد اریبہ دانش کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی، اور بولی، "موٹر پھر خراب ہو جائے تو اچھا ہے۔"

دانش ہنسا۔ "میں خود خراب کر دوں گا، اگلے ہفتے۔"

صبح چار بجے دانش پچھلے گیٹ سے نکلا۔ اریبہ دروازے پر کھڑی اسے دیکھتی رہی، جب تک وہ گلی کے موڑ پر اوجھل نہ ہو گیا۔ پھر اس نے دروازہ بند کیا، بستر پر لیٹی، اور تکیے کو سینے سے لگا کر سو گئی۔ تکیے پر اب بھی دانش کی خوشبو تھی۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

College Campus

لکھنؤ یونیورسٹی کے پرانے رسالہ کدخانے میں جب رات کی بجلی روک گئی اور تیسرے سال کی مجلہ نگار نے کمپوزٹر کے لڈکے کو وہ صفحہ دی جو کسی شمارے پر کبھی نہیں چھپتا

لکھنؤ یونیورسٹی کا پرانا رسالہ کدخانہ۔ رات کی بجلی۔ مہرالنسا اور کمپوزٹر فہاد۔ وہ صفحہ جو شمارے پر نہیں چھپتا۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ والی رات” also read

8 curated stories
College Campusاردو (Urdu)

اردو ٹیچر کی چدائی: لائبریری کا خفیہ نوٹ

اردو ٹیچر کی چدائی: لکھنؤ کے گرلز کالج میں فرزانہ کو اپنے حاضری رجسٹر میں ایک خفیہ نوٹ ملتا ہے۔ نوٹ لکھنے والا نوجوان لیکچرر عامر نکلتا ہے، اور ان کا راز لائبریری سے شروع ہو کر بہت آگے جاتا ہے۔

⏱️ 14 min read•👁️ 0 views
College Campusاردو (Urdu)

اردو کالج گرل کہانی: لائبریری کی شام

زویا (20، کراچی یونیورسٹی) کی منگنی خلیج میں مقیم منگیتر سے ہے۔ انگلش لٹریچر کی ٹیوشن کے لیے ٹیچنگ اسسٹنٹ فہد (26) کی لائبریری والی شامیں، اور پھر جو ہوا، یہ اردو کالج گرل کہانی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 0 views
College Campusاردو (Urdu)

اردو پروفیسر کی چدائی: کالج آفس میں پروفیسر عمران نے زارا کو جم کر چودا

کراچی کالج میں لیکچرر زارا ایک شام کتاب واپس کرنے پروفیسر عمران کے دفتر پہنچی، اور وہ ملاقات ایک ایسی شام میں بدل گئی جسے دونوں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
College Campusاردو (Urdu)

اردو کالج گرل سیکس کہانی: وین چھوٹنے کے بعد

اردو کالج گرل سیکس کہانی: ڈبیٹ پریکٹس کے بعد وین چھوٹ گئی تو مہنور کو بلال کی بائیک پر سوار ہونا پڑا۔ بارش، ایک خالی فلیٹ، اور پھر وہ شام بدل گئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ

دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔

⏱️ 13 min read•👁️ 5 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔

⏱️ 14 min read•👁️ 4 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی

اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔

⏱️ 9 min read•👁️ 4 views