اردو پروفیسر کی چدائی: کالج آفس میں پروفیسر عمران نے زارا کو جم کر چودا
شام کے سات بجے تھے جب زارا پروفیسر عمران کے دفتر کے دروازے پر پہنچی۔ کالج تقریباً خالی ہو چکا تھا، اور راہداری میں صرف اس کے قدموں کی آواز گونج رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، جو اس نے عمران سے دو ہفتے پہلے لی تھی۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، اور اندر سے عمران کی آواز آئی، آ جائیے۔ زارا نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی۔ عمران اپنی میز پر جھکے ہوئے کچھ لکھ رہے تھے، اور انہوں نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
عمران بیالیس سال کے تھے، کراچی کے اس کالج میں پندرہ سال سے پڑھا رہے تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ تھا، اور ان کی آواز میں ایک ایسی گہرائی تھی جو سننے والے کو روک لیتی تھی۔ زارا بتیس سال کی تھی، اسی کالج میں لیکچرر تھی، اور عمران کی ساتھی تھی۔ دونوں کے درمیان پہلے صرف کام کی باتیں ہوتی تھیں، پھر باتیں لمبی ہونے لگیں، اور اب زارا کو عمران کے دفتر آنے کا بہانہ ڈھونڈنا اچھا لگنے لگا تھا۔
زارا نے کتاب میز پر رکھی اور کہا، پروفیسر صاحب، آپ کی کتاب واپس کر رہی ہوں۔ عمران نے مسکرا کر کہا، کتاب تو بہانہ ہے، اصل میں آپ مجھ سے ملنے آئی ہیں۔ زارا کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے کہا، آپ ہمیشہ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ عمران نے کہا، کیونکہ سچ یہی ہے، اور سچ سے بھاگنا میری عادت نہیں۔
عمران اپنی کرسی سے اٹھے اور زارا کے قریب آئے۔ انہوں نے کہا، زارا، تم جانتی ہو کہ میں تمہیں کتنا پسند کرتا ہوں۔ زارا نے کہا، جانتی ہوں، اور یہی ڈر ہے کہ یہ پسند کہاں تک جائے گا۔ عمران نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا، جہاں تک تم لے جانا چاہو۔ زارا نے اپنا ہاتھ چھڑایا نہیں۔
عمران نے زارا کو اپنی بانہوں میں کھینچ لیا۔ ان کے ہونٹ زارا کے ہونٹوں پر آئے۔ پہلے زارا نے تھوڑی مزاحمت کی، پھر اس کے ہونٹ کھل گئے۔ دونوں کی زبانیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ عمران کے ہاتھ اس کی پیٹھ پر چل رہے تھے۔ زارا نے کہا، عمران، آہستہ، دروازہ کھلا ہے۔ عمران نے دروازہ بند کر دیا اور اسے تالا لگا دیا۔
عمران نے زارا کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ ایک ایک بٹن کھلتا گیا، اور زارا کا سینہ سامنے آنے لگا۔ اس نے برا پہنی تھی، لیکن اس کی چھاتیاں برا سے باہر نکلنے کو بے تاب تھیں۔ عمران نے برا کا ہک کھولا، اور اس کی چھاتیاں آزاد ہو گئیں۔ وہ بڑی اور گول تھیں، اور ان کے نپل سخت ہو چکے تھے۔ عمران نے دونوں چھاتیاں ہاتھوں میں لے کر مسلنی شروع کیں۔
زارا نے کہا، آہ، عمران، کتنے دنوں بعد کسی نے ایسے چھوا ہے۔ عمران نے جھک کر ایک نپل منہ میں لے لیا اور چوسنا شروع کیا۔ زارا نے ان کے بالوں میں انگلیاں ڈال دیں اور ان کا سر اپنے سینے پر دبا لیا۔ عمران دوسری چھاتی ہاتھ سے مسل رہے تھے اور کہہ رہے تھے، زارا، تم بہت خوبصورت ہو۔
زارا نے کہا، اب تم اپنی قمیض اتارو۔ عمران نے قمیض اتار دی۔ ان کا سینہ چوڑا تھا۔ زارا نے ان کے سینے پر ہونٹ پھیرے۔ پھر اس نے ان کی پتلون کا بٹن کھولا۔ عمران کا لنڈ پہلے سے ہی سخت تھا، اور انڈرویئر میں صاف دکھ رہا تھا۔ زارا نے اسے ہاتھ میں لیا اور کہا، اتنا بڑا، اور اتنا گرم۔
عمران نے زارا کی شلوار کا ناڑا کھینچا۔ شلوار نیچے گر گئی۔ زارا صرف اپنی پینٹی میں تھی۔ اس کی پینٹی اس کی چوت کے گیلے پن سے چپک گئی تھی۔ عمران نے پینٹی کے اوپر سے ہی اس کی چوت کو چھوا۔ زارا نے ایک لمبی سانس لی اور کہا، ہاں، وہیں۔
عمران نے اس کی پینٹی کو نیچے کھینچ دیا۔ اس کی چوت سامنے آ گئی، گیلی اور گرم۔ انہوں نے اپنی انگلی سے اس کی چوت کو سہلایا۔ زارا کی کمر اٹھنے لگی۔ اس نے کہا، عمران، اور اندر۔ عمران نے ایک انگلی اس کی چوت میں ڈالی اور آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگے۔
زارا نے ان کی کلائی پکڑ لی اور کہا، اور تیز۔ عمران نے دو انگلیاں ڈال دیں۔ زارا کی آواز تیز ہو گئی۔ اس نے کہا، ہاں، ہاں، ایسے ہی، رکنا مت۔ عمران کی انگلیاں اس کی چوت میں تیزی سے چل رہی تھیں، اور اس کی چوت سے پانی نکلنے لگا تھا۔
زارا نے کہا، اب بس، اب تم اندر آؤ۔ عمران نے اسے دفتر کے صوفے پر لٹا دیا اور اس کی ٹانگیں پھیلا دیں۔ انہوں نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ زارا نے کہا، ڈالو، پورا ڈالو۔ عمران نے آہستہ سے اپنا لنڈ اس کی چوت میں دھکیلا۔ زارا نے ایک زور کی سانس لی۔ ان کا لنڈ آہستہ آہستہ اندر جا رہا تھا۔
جب وہ پورا اندر چلا گیا تو زارا نے کہا، آہ، بھر گیا، پورا بھر گیا۔ عمران نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے۔ ہر دھکے کے ساتھ زارا کی چوت ان کے لنڈ کو جکڑ رہی تھی۔ زارا نے کہا، ہاں، اور تیز، اور تیز۔ عمران نے اپنی رفتار بڑھا دی۔ صوفہ ہلکا سا ہلنے لگا۔
عمران نے کہا، زارا، تمہاری چوت بہت ٹائٹ ہے۔ زارا نے کہا، وہ اس لیے کیونکہ بہت دنوں سے کسی نے اسے چھوا نہیں۔ عمران نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا اور میز پر بٹھا دیا۔ میز پر زارا نے اپنی ٹانگیں ان کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ اس پوزیشن میں ان کا لنڈ اور بھی گہرائی تک جا رہا تھا۔
زارا نے کہا، اس پوزیشن میں اور بھی اچھا لگ رہا ہے۔ عمران نے تیز دھکے لگانے شروع کیے۔ ہر دھکے پر زارا کی چھاتیاں ہل رہی تھیں۔ اس نے کہا، میں آنے والی ہوں، عمران، میں آ رہی ہوں۔ عمران نے کہا، ساتھ میں آتے ہیں، زارا۔ انہوں نے اپنی رفتار اور بڑھا دی۔
زارا کی چوت نے زور سے سکڑ کر ان کے لنڈ کو جکڑا۔ وہ جھڑ گئی، اور اس کے منہ سے ایک لمبی آہ نکلی۔ عمران بھی کچھ ہی دھکوں میں جھڑ گئے۔ ان کا پانی اس کی چوت میں بھر گیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے صوفے پر گر گئے۔
زارا نے ان کے سینے پر سر رکھ دیا اور کہا، عمران، یہ غلط تھا، لیکن بہت اچھا تھا۔ عمران نے کہا، غلط تو یہ ہے کہ تم اتنی خوبصورت ہو اور اکیلی رہتی ہو۔ زارا ہنس پڑی اور ان کی چھاتی پر انگلی سے کچھ لکھنے لگی۔
کچھ دیر بعد زارا نے کپڑے پہنے۔ عمران نے اسے دروازے تک چھوڑا۔ انہوں نے کہا، کل شام کو پھر آؤ گی۔ زارا نے کہا، کتاب تو ختم ہو گئی، اب کس بہانے آؤں گی۔ عمران نے کہا، بہانہ میں ڈھونڈ لوں گا، تم بس آ جانا۔ زارا نے ان کا ہاتھ دبایا اور راہداری کی طرف چل دی۔
اگلی شام زارا پھر دفتر پہنچی۔ اس بار اس کے ہاتھ میں کوئی کتاب نہیں تھی۔ عمران نے دروازہ بند کیا اور اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔ زارا نے کہا، آج میں بغیر بہانے آئی ہوں۔ عمران نے کہا، آج سے بہانوں کی ضرورت نہیں۔ دونوں صوفے پر بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو چومنے لگے۔
عمران نے زارا کی قمیض کھولی اور اس کی چھاتیوں کو چوما۔ زارا نے ان کی پتلون کھولی اور ان کا لنڈ ہاتھ میں لے کر ہلانے لگی۔ دونوں کی سانسیں تیز ہو گئی تھیں۔ عمران نے زارا کو میز پر لٹا دیا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس پوزیشن میں ان کا لنڈ بہت گہرائی تک جا رہا تھا، اور زارا کی چیخیں دفتر میں گونج رہی تھیں۔
زارا نے کہا، عمران، تم نے تو مجھے پوری طرح اپنا بنا لیا ہے۔ عمران نے کہا، تم میری ہی ہو، زارا، چاہے دنیا کچھ بھی کہے۔ انہوں نے اپنی رفتار بڑھا دی، اور زارا کی چوت سے پانی بہنے لگا۔ دونوں نے ایک ساتھ جھڑنے کا وعدہ کیا، اور جب وہ لمحہ آیا تو دونوں کی آہیں ایک ساتھ نکلیں۔
زارا نے کہا، عمران، تمہیں پتہ ہے، میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ دفتر کی یہ شام یہاں تک پہنچے گی۔ عمران نے کہا، ادھوری چیزیں ہی تو پوری ہونے کے لیے ہوتی ہیں۔ زارا نے ان کے ہونٹ چومے اور کہا، تو پھر ہر شام کو پورا کرتے ہیں۔ دونوں ہنس پڑے، اور زارا نے جلدی سے اپنے کپڑے ٹھیک کیے، کیونکہ اسے گھر لوٹنا تھا، لیکن اس کا دل عمران کے دفتر میں ہی رہ گیا تھا۔
اس کے بعد ہر ہفتے زارا اور عمران کی ملاقات دفتر میں ہونے لگی۔ کبھی وہ کتاب کا بہانہ بناتی، کبھی عمران کوئی نوٹ مانگ لیتے۔ کالج کے لوگوں کو کچھ پتہ نہیں چلا، کیونکہ دونوں بہت احتیاط کرتے تھے۔ ایک دن عمران نے زارا کو ایک چھوٹا سا تحفہ دیا، ایک قلم۔ زارا نے کہا، یہ کیوں۔ عمران نے کہا، تاکہ جب بھی تم لکھو، تمہیں میری یاد آئے۔
زارا نے قلم اپنے پرس میں رکھ لیا اور کہا، یہ قلم ہماری دفتر والی دوستی کی نشانی ہے، اور میں اسے ہمیشہ سنبھال کر رکھوں گی۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا اور کھڑکی سے باہر دیکھا۔ کالج کا میدان خالی تھا، اور شام کی روشنی دفتر کی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی۔ زارا نے کہا، یہ شامیں میری زندگی کی سب سے خوبصورت شامیں ہیں۔
ایک شام جب زارا دفتر پہنچی تو عمران نے اسے بتایا کہ اگلے ہفتے کالج میں ایک سیمینار ہے، اور دونوں کو ایک ساتھ ایک پیپر پیش کرنا ہے۔ زارا نے کہا، سیمینار کے بعد ہم کہاں ملیں گے۔ عمران نے کہا، سیمینار کے بعد بھی یہی دفتر، یہی شام۔ زارا ہنس پڑی اور کہا، تمہارا دفتر تو اب میرا دوسرا گھر بن گیا ہے۔
سیمینار والی شام دونوں نے اپنا پیپر پیش کیا، اور سب نے تالیاں بجائیں۔ اس کے بعد دونوں دفتر میں آئے۔ عمران نے دروازہ بند کیا اور زارا کو میز پر بٹھا دیا۔ زارا نے کہا، آج ہم نے سب کے سامنے کامیابی حاصل کی، اور اب یہ کامیابی مناتے ہیں۔ عمران نے اس کی قمیض کھولی اور اس کی چھاتیوں کو چومنے لگے۔
اس رات دونوں نے بہت دیر تک ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارا۔ زارا نے کہا، عمران، یہ دفتر، یہ شامیں، یہ سب میری زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ عمران نے کہا، اور تم میری زندگی کا حصہ بن گئی ہو، زارا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور دفتر کی کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں شہر کی روشنیاں جل رہی تھیں۔
زارا گھر لوٹی تو اس نے اپنے ڈائری میں لکھا، آج میں نے سمجھا کہ محبت اور خواہش کسی اصول کی پابند نہیں ہوتی۔ اس نے ڈائری بند کی اور سو گئی، اور اس کے خواب میں عمران کا دفتر تھا، اور اس دفتر کی شامیں تھیں۔
اس رات زارا گھر لوٹی تو اس کی ساس سو چکی تھی۔ اس نے آہستہ سے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا اور بستر پر لیٹ گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار عمران کا چہرہ آ رہا تھا۔ اس کی چھاتی پر ابھی بھی ان کے ہاتھوں کا احساس باقی تھا۔ اس نے اپنی قمیض کا بٹن کھولا اور اپنی چھاتیوں کو خود ہی سہلانے لگی۔
زارا نے آنکھیں بند کر لیں اور دفتر کی وہ شام یاد کرنے لگی۔ اسے عمران کی گرم سانسیں یاد آ رہی تھیں۔ اس نے اپنی انگلیاں اپنی چوت پر رکھ دیں۔ اس کی چوت ابھی بھی گیلی تھی۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنی انگلیوں کو اندر باہر کرنا شروع کیا۔ اس کے منہ سے دھیمی آہیں نکلنے لگیں۔
تبھی اس کے فون پر ایک میسج کی آواز آئی۔ اس نے فون اٹھا کر دیکھا۔ عمران کا میسج تھا۔ لکھا تھا، زارا، آج کی ملاقات ادھوری رہ گئی۔ اگلی ملاقات کب ہوگی۔ زارا نے مسکرا کر جواب لکھا، جب آپ کہیں، عمران صاحب۔ میری بیماری کا علاج صرف آپ کے پاس ہے۔
عمران نے فوراً جواب دیا، کل شام کو دفتر بند ہونے کے بعد آ جائیے۔ کوئی نہیں ہوگا۔ زارا کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے اپنی انگلیوں کی رفتار بڑھا دی۔ اسے لگ رہا تھا جیسے عمران ابھی اس کے پاس ہوں۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ جھڑ گئی اور بستر پر نڈھال ہو کر لیٹ گئی۔
زارا نے فون کو سینے سے لگا لیا اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔ اسے پتہ تھا کہ کل کی شام آج سے بھی زیادہ خاص ہونے والی ہے۔ صبح اٹھ کر زارا نے سب سے پہلے وہ قمیض نکالی جو عمران نے پچھلی بار پسند کی تھی۔ اس نے شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھا اور مسکرا دی۔ اس کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی۔
Readers who enjoyed “اردو پروفیسر کی چدائی: کالج آفس میں پروفیسر عمران نے زارا کو جم کر چودا” also read
8 curated storiesاردو ٹیچر کی چدائی: لائبریری کا خفیہ نوٹ
اردو ٹیچر کی چدائی: لکھنؤ کے گرلز کالج میں فرزانہ کو اپنے حاضری رجسٹر میں ایک خفیہ نوٹ ملتا ہے۔ نوٹ لکھنے والا نوجوان لیکچرر عامر نکلتا ہے، اور ان کا راز لائبریری سے شروع ہو کر بہت آگے جاتا ہے۔
اردو کالج گرل کہانی: لائبریری کی شام
زویا (20، کراچی یونیورسٹی) کی منگنی خلیج میں مقیم منگیتر سے ہے۔ انگلش لٹریچر کی ٹیوشن کے لیے ٹیچنگ اسسٹنٹ فہد (26) کی لائبریری والی شامیں، اور پھر جو ہوا، یہ اردو کالج گرل کہانی۔
اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ والی رات
اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ کے لڑکیوں کے ہوسٹل میں خراب موٹر ٹھیک کرنے آیا دانش، اور اریبہ سے اس کی ملاقات ایک نئی کہانی بن گئی۔
اردو کالج گرل سیکس کہانی: وین چھوٹنے کے بعد
اردو کالج گرل سیکس کہانی: ڈبیٹ پریکٹس کے بعد وین چھوٹ گئی تو مہنور کو بلال کی بائیک پر سوار ہونا پڑا۔ بارش، ایک خالی فلیٹ، اور پھر وہ شام بدل گئی۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔
اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔