اردو کالج گرل کہانی: لائبریری کی شام
یہ اردو کالج گرل کہانی لائبریری کے اس کونے سے شروع ہوتی ہے جہاں پرانی کتابوں کی خوشبو ہوا میں بسی ہوتی ہے۔ دروازے پر چابیاں کھنکیں اور زویا بجلی کی طرح فہد سے الگ ہوئی۔ دونوں کی سانسیں تیز تھیں، اور کتابوں کی الماریوں کے درمیان وہ آدھی اندھیرے میں ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے، جب تک لائبریرین کے قدموں کی آہٹ دور نہ ہو گئی۔
زویا بیس سال کی تھی، کراچی یونیورسٹی میں انگلش لٹریچر کی سیکنڈ ایئر کی طالبہ۔ اس کی منگنی دانیال سے ہو چکی تھی، جو دبئی میں ایک بینک میں کام کرتا تھا۔ منگنی کو چھ مہینے ہو گئے تھے، لیکن زویا نے دانیال سے صرف تین بار ویڈیو کال پر بات کی تھی۔ گھر والوں کی خوشی کے لیے وہ ہاں کہہ چکی تھی، لیکن اس کے دل میں ایک خالی پن تھا جو بڑھتا جا رہا تھا۔
انگلش لٹریچر کے پیپر میں وہ فیل ہونے والی تھی۔ پروفیسر نے کہا تھا کہ اگر ٹیوشن چاہیے تو ٹیچنگ اسسٹنٹ فہد سے بات کرو۔ فہد چھببیس سال کا تھا، پی ایچ ڈی کر رہا تھا، اور لائبریری کے پرانے حصے میں شام کو بیٹھتا تھا۔ پہلی ملاقات میں ہی زویا نے محسوس کیا تھا کہ فہد اسے پڑھاتے وقت کچھ زیادہ ہی قریب بیٹھتا ہے۔
پہلی ٹیوشن میں فہد نے اسے کیٹس کی ایک نظم سمجھائی۔ "محبت میں ڈوبا ہوا شاعر،" اس نے کہا، اور زویا کی آنکھوں میں دیکھا۔ "آپ کو کیا لگتا ہے، زویا، محبت پہلی نظر میں ہوتی ہے؟" زویا کے ہونٹ خشک ہو گئے۔ "پتہ نہیں،" اس نے کہا، "شاید۔"
کتاب اٹھاتے وقت دونوں کے ہاتھ ٹکرائے۔ فہد نے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ اس کی انگلیاں زویا کی انگلیوں پر ایک لمحہ زیادہ رہیں۔ زویا نے ہاتھ کھینچ لیا، لیکن اس کے گال سرخ ہو گئے تھے۔ اس رات وہ ہاسٹل کے کمرے میں لیٹی فہد کے بارے میں سوچتی رہی۔
دوسری ٹیوشن میں بارش ہو رہی تھی۔ لائبریری تقریباً خالی تھی۔ فہد آج اس کے بالکل ساتھ بیٹھا تھا، اتنا قریب کہ اس کے کندھے زویا کے کندھے سے لگ رہے تھے۔ وہ اسے شیکسپیئر کا ایک سین پڑھا رہا تھا، رومیو اور جولیٹ والا۔ "محبت میں سب جائز ہے،" اس نے دھیرے سے کہا۔
اس کا گھٹنا زویا کے گھٹنے سے لگا۔ زویا نے اپنا گھٹنا نہیں ہٹایا۔ فہد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، میز کے نیچے، جہاں کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اس کے انگوٹھے نے زویا کی ہتھیلی پر گول گول گھمانا شروع کیا۔ زویا کی سانس رک سی گئی۔
"فہد،" اس نے سرگوشی کی، "کوئی دیکھ لے گا۔" "یہاں اس وقت کوئی نہیں آتا،" فہد نے کہا، اور اس کے بالوں کی ایک لٹ جو اس کے چہرے پر آئی تھی، اسے کان کے پیچھے کر دیا۔ اس کے ہاتھ کی چھون زویا کے گال پر رہ گئی۔
تیسری ٹیوشن کی شام زویا جان بوجھ کر ایک ہلکے نیلے رنگ کا کرتا پہن کر آئی تھی، جس کا گلا کچھ زیادہ ہی کھلا تھا۔ فہد کی نظریں بار بار وہیں جا رہی تھیں۔ کتابوں کی الماریوں کے درمیان کھڑے ہو کر وہ اسے ایک نایاب ایڈیشن دکھا رہا تھا، اور زویا اس کے اتنے قریب تھی کہ اس کی سانسوں کی گرمی محسوس کر سکتی تھی۔
"یہ کتاب بہت قیمتی ہے،" فہد نے کہا، لیکن اس کی نظریں کتاب پر نہیں تھیں۔ اچانک اس نے کتاب ایک طرف رکھی اور زویا کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ "زویا، میں تمہیں پہلے دن سے چاہتا ہوں،" اس نے کہا، اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
زویا نے مزاحمت نہیں کی۔ اس نے فہد کی شرٹ کے کالر پکڑ لیے اور اسے اور قریب کھینچ لیا۔ اس کا بوسہ بھوکا تھا، بے قرار۔ فہد کی زبان اس کے منہ میں گھومنے لگی، اور زویا کے ہاتھ اس کی پیٹھ پر پھرنے لگے۔ الماریوں کے سائے میں دونوں ایک دوسرے میں گم ہو گئے۔
فہد کا ایک ہاتھ زویا کے کرتے کے اندر چلا گیا۔ اس نے اس کے ممے کو برا کے اوپر سے ہی دبا دیا۔ زویا کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔ "فہد،" وہ بولی، "یہاں۔" فہد نے اس کی برا کا ہک کھولنے کی کوشش کی، اور زویا نے اس کی مدد کی۔ اس کے ممے آزاد ہو گئے، اور فہد نے ایک کو منہ میں لے لیا۔
زویا نے الماری کا سہارا لیا۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ فہد کا دوسرا ہاتھ نیچے گیا، اس کے پاجامے کے ناڑے تک۔ اس نے ناڑا کھولنے کی کوشش کی، اور زویا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "نہیں،" اس نے کہا، لیکن اس کی آواز میں انکار نہیں تھا۔ "ابھی نہیں۔"
تبھی دروازے پر چابیاں کھنکیں۔ لائبریرین آ رہا تھا۔ دونوں بجلی کی طرح الگ ہوئے۔ زویا نے جلدی سے اپنے کپڑے ٹھیک کیے، کتاب اٹھائی، اور پڑھنے کا ڈرامہ کرنے لگی۔ لائبریرین نے اندر جھانکا، دونوں کو دیکھا، اور چلا گیا۔ دونوں کی سانسیں تیز تھیں۔
"بال بال بچے،" فہد نے ہنستے ہوئے کہا، لیکن اس کی آنکھوں میں وہی بھوک تھی۔ زویا نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ "اگلی بار،" اس نے کہا، "اگلی بار کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔" فہد نے اس کے ہاتھ کو چوم لیا۔ "وعدہ۔"
چوتھی ٹیوشن کی شام فہد نے زویا کو ایک چابی دکھائی۔ "لائبریرین نے مجھے اضافی چابی دی ہے،" اس نے کہا۔ "آج وہ جلدی جا رہا ہے۔ لائبریری بند ہونے کے بعد ہم یہیں رہیں گے۔" زویا کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے آج جان بوجھ کر اندر کچھ خاص پہنا تھا۔
نو بجے لائبریری بند ہو گئی۔ لائبریرین نے فہد سے کہا، "تالا لگا کر چابی کاؤنٹر پر رکھ دینا،" اور چلا گیا۔ دروازہ بند ہوا، تالا لگا۔ اب پوری لائبریری میں صرف وہ دونوں تھے، ہزاروں کتابوں کے درمیان۔
فہد نے زویا کو اپنی طرف کھینچا اور اسے پڑھنے کی میز پر بٹھا دیا۔ "آج کوئی چابیاں نہیں کھنکیں گی،" اس نے کہا۔ زویا نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے۔ اس کی چھاتی ننگی ہو گئی، اور زویا نے اس پر بوسے دینے شروع کیے، نیچے کی طرف بڑھتے ہوئے۔
اس نے اس کی پینٹ کھولی اور اس کے لن کو باہر نکالا۔ وہ تنا ہوا تھا، لمبا اور موٹا۔ زویا نے اسے ہاتھ میں پکڑا اور ہلانے لگی۔ فہد کے منہ سے ایک گہری سانس نکلی۔ زویا نے اسے اپنے منہ میں لے لیا، جتنا ہو سکا، اور چوسنے لگی۔ اس کی زبان لن کے گرد گھوم رہی تھی۔
فہد نے اس کے بال پکڑے اور اس کے منہ میں دھکے دینے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے زویا کو اٹھایا اور میز پر لٹا دیا۔ اس نے اس کا کرتا اتار دیا، پاجامہ کھول دیا۔ زویا صرف برا اور پینٹی میں تھی، لائبریری کی مدھم روشنی میں اس کا جسم چمک رہا تھا۔
فہد نے اس کی برا کھولی اور اس کے مموں کو دونوں ہاتھوں سے دبایا، مسلا۔ پھر اس نے ایک ایک کر کے چوسنا شروع کیا۔ اس کی زبان اس کے نپلز کے گرد گھومتی رہی۔ زویا کی ٹانگیں خود بخود کھلنے لگیں۔ "فہد، اور،" وہ بولی۔
فہد نے اس کی پینٹی اتار دی۔ اس کی چوت گیلی تھی، سوجی ہوئی۔ فہد نے اپنی انگلیاں اس پر پھیریں، اور پھر ایک انگلی اندر ڈال دی۔ زویا کی کمر اوپر اٹھ گئی۔ اس نے دوسری انگلی بھی ڈالی اور اندر باہر کرنے لگا۔ اس کا انگوٹھا اس کے دانے پر رگڑ رہا تھا۔
"میں جھڑنے والی ہوں،" زویا نے ہانپتے ہوئے کہا۔ فہد نے انگلیاں نکالیں اور اپنے لن کو اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ ایک جھٹکے سے اس نے اندر ڈال دیا۔ زویا چیخ پڑی۔ اس کی چوت میں لن تھا، اور وہ بھری ہوئی محسوس کر رہی تھی۔
فہد نے دھکے دینے شروع کیے، پہلے دھیرے، پھر تیز۔ ہر دھکے کے ساتھ میز ہل رہی تھی، کتابیں کانپ رہی تھیں۔ زویا نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ "اور زور سے،" وہ بولی، "ڈرو نہیں۔" فہد نے اس کے ممے پکڑ لیے اور پوری طاقت سے چودنے لگا۔
لائبریری کی خاموشی میں زویا کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔ فہد نے اسے پلٹا اور میز پر اوندھا لٹا دیا۔ پیچھے سے اس کی چوت میں لن ڈالا اور اس کے بال پکڑ کر دھکے دینے لگا۔ زویا کے ممے میز پر رگڑ رہے تھے، اور وہ چیخ رہی تھی۔
"میں جھڑ رہی ہوں، فہد،" وہ چلائی، اور اس کی چوت سے پانی بہنے لگا۔ فہد نے کچھ اور دھکے مارے اور پھر اس کا لن بھی جھڑ گیا، گرم پانی زویا کی چوت میں بھر گیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔
کچھ دیر وہ ایسے ہی پڑے رہے، کتابوں کی خوشبو میں۔ فہد نے زویا کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ "زویا، یہ غلط تو نہیں؟" اس نے پوچھا۔ زویا نے اس کا ہاتھ اپنے دل پر رکھا۔ "جو دل کو سکون دے، وہ غلط کیسے؟"
اس کے بعد ہر شام کی ٹیوشن لائبریری بند ہونے کے بعد تک چلنے لگی۔ زویا کے نمبر بہتر ہونے لگے، سچ میں، اور اس کے ساتھ بہت کچھ اور بھی۔ ایک شام گھر جاتے وقت فہد نے اسے لائبریری کی اضافی چابی کی ایک نقل دی۔
"کل پھر اسی وقت،" فہد نے کہا، آنکھوں میں وہی شرارت۔ زویا نے چابی مٹھی میں بند کی اور مسکرا دی۔ لائبریری کی الماریاں دور کھڑی تھیں، ان کے راز کی گواہ بن کر۔
Readers who enjoyed “اردو کالج گرل کہانی: لائبریری کی شام” also read
8 curated storiesاردو ٹیچر کی چدائی: لائبریری کا خفیہ نوٹ
اردو ٹیچر کی چدائی: لکھنؤ کے گرلز کالج میں فرزانہ کو اپنے حاضری رجسٹر میں ایک خفیہ نوٹ ملتا ہے۔ نوٹ لکھنے والا نوجوان لیکچرر عامر نکلتا ہے، اور ان کا راز لائبریری سے شروع ہو کر بہت آگے جاتا ہے۔
اردو پروفیسر کی چدائی: کالج آفس میں پروفیسر عمران نے زارا کو جم کر چودا
کراچی کالج میں لیکچرر زارا ایک شام کتاب واپس کرنے پروفیسر عمران کے دفتر پہنچی، اور وہ ملاقات ایک ایسی شام میں بدل گئی جسے دونوں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔
اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ والی رات
اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ کے لڑکیوں کے ہوسٹل میں خراب موٹر ٹھیک کرنے آیا دانش، اور اریبہ سے اس کی ملاقات ایک نئی کہانی بن گئی۔
اردو کالج گرل سیکس کہانی: وین چھوٹنے کے بعد
اردو کالج گرل سیکس کہانی: ڈبیٹ پریکٹس کے بعد وین چھوٹ گئی تو مہنور کو بلال کی بائیک پر سوار ہونا پڑا۔ بارش، ایک خالی فلیٹ، اور پھر وہ شام بدل گئی۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔
اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔