اردو کالج گرل سیکس کہانی: وین چھوٹنے کے بعد
وین گیٹ سے نکلی ہی تھی کہ مہنور دوڑتی ہوئی پہنچی، اور ڈرائیور نے اسے دیکھ کر بھی رفتار کم نہ کی۔ یہ اردو کالج گرل سیکس کہانی ان شاموں میں سے ایک کی ہے جو لاہور کے کالجوں میں اکثر ہوتی ہیں، جہاں ایک چھوٹی سی دیر پوری رات بدل دیتی ہے، اور مہنور کو اس شام وین چھوٹنے کا ذرا بھی افسوس نہ تھا۔
"رکو! رکو!" وہ چلائی، لیکن وین موڑ مڑ چکی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ڈبیٹ سوسائٹی کا فائل تھا، دوپٹہ کندھے سے ڈھلک رہا تھا، اور ماتھے پر پسینہ۔ شام کے ساڑھے چھ بج رہے تھے اور آسمان پر بادل گہرے ہو رہے تھے۔
"مس ہو گئی؟" ایک آواز اس کے پیچھے سے آئی۔ مہنور مڑی۔ بلال تھا، اسی کی کلاس کا، بائیک کی چابی انگلی میں گھماتا ہوا۔ لمبا قد، ہلکی داڑھی، اور وہ مسکراہٹ جو کالج کی آدھی لڑکیوں کو پاگل کیے ہوئے تھی۔
"ڈبیٹ پریکٹس لمبی کھنچ گئی،" مہنور بولی۔ "اب رکشہ بھی نہیں ملے گا اس بارش میں۔"
جیسے اس کی بات کا جواب ہو، آسمان سے پہلی بوند گری، مہنور کے گال پر۔ پھر دوسری، تیسری۔ ایک منٹ میں بارش تیز ہو گئی۔
"میری بائیک پر چلو،" بلال نے کہا۔ "تمہارا گھر کس طرف ہے؟"
"ماڈل ٹاؤن۔ تمہارا راستہ تو جوہر ٹاؤن کا ہے نا؟"
"راستہ بدل لوں گا۔ آؤ۔" اس نے ہیلمٹ اس کی طرف بڑھایا۔ "یہ پہنو۔"
مہنور نے ایک لمحہ سوچا۔ گھر سے فون آئے گا، امی پریشان ہوں گی۔ لیکن بارش میں بھیگتی سڑک پر اکیلی کھڑی رہنے سے بہتر تھا۔ اس نے ہیلمٹ پہنا اور بائیک پر اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔
"پکڑ کر بیٹھو،" بلال نے کہا۔ "سڑک پھسل رہی ہے۔"
مہنور نے اس کی کمر کے گرد ہاتھ ڈالے۔ اس کی شرٹ گیلی ہو رہی تھی، اور اس کے نیچے اس کے جسم کی گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ بائیک چلی تو ہوا کے ساتھ بارش اس کے چہرے پر برسنے لگی۔
دس منٹ بعد بارش اتنی تیز ہو گئی کہ آگے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بلال نے بائیک ایک سوسائٹی کے گیٹ کے پاس روکی۔
"یہاں میرے کزن کا فلیٹ ہے،" اس نے کہا۔ "وہ آج رات لاہور سے باہر ہے۔ دس منٹ رک جاتے ہیں، بارش ہلکی ہو تو نکلتے ہیں۔"
مہنور نے آسمان دیکھا۔ بادل اور گہرے ہو رہے تھے۔ "ٹھیک ہے،" وہ بولی۔ "لیکن دس منٹ سے زیادہ نہیں۔"
فلیٹ چھوٹا تھا، دو کمرے۔ بلال نے لائٹ جلائی اور تولیہ نکالا۔ "یہ لو۔ تم تو پوری بھیگ گئی ہو۔"
مہنور نے دوپٹے سے منہ پونچھا۔ اس کی قمیض اس کے جسم سے چپک گئی تھی۔ اس نے بلال کی نظریں محسوس کیں، جو ایک لمحے کے لیے اس کے سینے پر ٹھہریں اور پھر ہٹ گئیں۔ مہنور کے اندر کچھ ہلچل سی ہوئی۔
"چائے بناؤں؟" بلال نے پوچھا۔
"تمہیں بنانی آتی ہے؟" مہنور نے چھیڑا۔
"ہاسٹل میں تین سال رہا ہوں۔ چائے تو کیا، بریانی بھی بنا لیتا ہوں۔" وہ کچن کی طرف گیا۔
مہنور کھڑکی کے پاس کھڑی بارش دیکھنے لگی۔ اس کے کپڑے بھیگے تھے اور ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ اس نے اپنے بازوؤں کو سہلایا۔
بلال چائے کے دو کپ لے کر آیا۔ "یہ لو۔ گرم ہے۔"
مہنور نے کپ پکڑا۔ ان کی انگلیاں چھوئیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور نظریں نہ ہٹائیں۔ کمرے میں صرف بارش کی آواز تھی۔
"تمہیں ٹھنڈ لگ رہی ہے،" بلال نے کہا۔ "کزن کی شرٹ ہے الماری میں۔ پہن لو، تمہارے کپڑے سوکھ جائیں گے۔"
مہنور نے شرٹ لی اور باتھ روم میں چلی گئی۔ اس نے گیلی قمیض اتاری۔ اندر کا بنیان بھی بھیگا تھا۔ اس نے ایک لمحہ سوچا، پھر بنیان بھی اتار دی۔ شرٹ اس کے گھٹنوں تک آ رہی تھی، اور شیشے میں وہ خود کو دیکھ کر مسکرائی۔
جب وہ باہر آئی تو بلال صوفے پر بیٹھا تھا۔ اس نے نظر اٹھائی اور اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
"مہنور،" اس نے دھیمی آواز میں کہا، "تم جانتی ہو نا تم کیسی لگ رہی ہو؟"
"کیسی؟" مہنور نے معصومیت سے پوچھا، اور ایک قدم آگے بڑھی۔
بلال نے اس کی کمر پکڑی اور اسے اپنی طرف کھینچا۔ ان کے ہونٹ ملے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، پوچھتا ہوا۔ پھر مہنور نے اس کے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے پکڑا اور بلال کی سانس رک گئی۔
"تم یہ چاہتی ہو؟" اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا۔
"تم سے زیادہ،" مہنور بولی، اور اس نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے۔
بلال نے اسے اٹھایا اور صوفے پر لٹایا۔ شرٹ اوپر سرکی۔ اس نے اس کے سینے کو ہاتھوں میں لیا، دبایا، اور پھر منہ سے چوسنے لگا۔ مہنور نے اس کے بال پکڑے۔
"آہستہ نہیں،" وہ ہانپ رہی تھی۔ "زور سے۔"
بلال نے اس کی بات مانی۔ اس نے اس کے نپل کو دانتوں سے ہلکے سے کاٹا اور مہنور کی کمر دھنک کی طرح اٹھ گئی۔ اس کا ایک ہاتھ اس کی رانوں کے درمیان گیا۔
"تم گیلی ہو رہی ہو،" بلال نے مسکرا کر کہا۔
"تمہاری وجہ سے،" مہنور بولی، اور اس نے اس کی پینٹ کا بٹن کھولا۔
اس کا لنڈ باہر آیا، سخت اور گرم۔ مہنور نے اسے ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ ہلانے لگی۔ بلال نے اس کی کلائی پکڑی۔
"پہلے تم،" اس نے کہا، اور وہ اس کی ٹانگوں کے درمیان جھکا۔ اس نے اپنی زبان سے اس کی چوت کو چھوا اور مہنور نے صوفے کا کنارہ پکڑ لیا۔ وہ اسے چاٹ رہا تھا، لمبا اور گہرا، اس کے دانے کو ہونٹوں میں پکڑ کر چوستا ہوا۔
مہنور کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ "بلال، اندر آؤ نا،" وہ بولی۔
اس نے دو انگلیاں اس کے اندر ڈالیں۔ مہنور چیخی۔ انگلیاں اندر باہر ہو رہی تھیں، تیز اور گہری۔ اس کا انگوٹھا اس کے دانے پر تھا۔ مہنور کا جسم اکڑ گیا اور ایک زور کے جھٹکے کے ساتھ اس کا پانی نکل گیا۔
وہ ہانپ رہی تھی۔ بلال نے اسے گود میں اٹھایا اور بیڈروم کی طرف لے گیا۔ راستے میں اس نے اسے دیوار سے لگایا اور ایک بار پھر چوما۔
بستر پر اس نے اسے پیٹ کے بل لٹایا۔ اس کی کمر کے نیچے تکیہ لگایا۔ مہنور نے اپنے کولہے اوپر اٹھائے۔ بلال نے اپنا لنڈ اس کی چوت پر رگڑا، اوپر نیچے، اسے تڑپاتا ہوا۔
"ڈالو نا،" مہنور بولی۔ "اب مت تڑپاؤ۔"
وہ ایک جھٹکے میں اندر گھسا۔ مہنور نے چادر پکڑ لی۔ پہلا دھکا درد بھرا تھا، لیکن دوسرے میں درد مزے میں بدل گیا۔ بلال نے اس کے بال پکڑے اور اس کی گردن پیچھے کھینچی۔
"بولو، کیسا لگ رہا ہے؟" اس نے اس کے کان میں کہا۔
"بہت گہرا،" مہنور ہانپ رہی تھی۔ "اور تیز کرو۔"
اس نے رفتار بڑھائی۔ بستر کی چرمراہٹ، ان کی سانسیں، مہنور کی چیخیں۔ بلال نے ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے دانے کو مسلنا شروع کیا اور مہنور کو لگا جیسے اس کے اندر بجلی دوڑ گئی۔
"میں آنے والی ہوں،" وہ چیخی۔
"میرے ساتھ،" بلال بولا، اور آخری دھکے اتنے زور سے لگائے کہ مہنور کو لگا وہ ٹوٹ جائے گی۔ پھر دونوں ایک ساتھ جھڑے۔
وہ اس پر ڈھیر ہو گیا۔ دونوں پسینے میں بھیگے تھے۔ باہر بارش اب بھی ہو رہی تھی۔
کچھ دیر بعد مہنور نے کروٹ لی۔ "چائے ٹھنڈی ہو گئی،" اس نے کہا۔
بلال ہنسا۔ "نئی بنا دیتا ہوں۔"
وہ دونوں کچن میں گئے۔ بلال نے چائے بنائی۔ مہنور نے اس کی شرٹ پہن رکھی تھی۔ انہوں نے کھڑکی میں کھڑے ہو کر چائے پی، بارش دیکھتے ہوئے۔
"گھر فون کرنا پڑے گا،" مہنور نے کہا۔ "امی پریشان ہوں گی۔"
"کہہ دینا بارش میں پھنس گئی تھیں، سہیلی کے گھر رک گئی،" بلال نے آنکھ ماری۔ "جھوٹ تو نہیں ہوگا۔ پھنس تو گئی تھیں۔"
مہنور نے اسے گھورا، پھر ہنس دی۔ اس نے فون نکالا اور امی کو میسج کیا۔ پھر اس نے بلال کی طرف دیکھا۔
"بارش ابھی رکی نہیں،" وہ بولی، اور اس کی آواز میں وہی شرارت تھی جو شروع میں تھی۔
بلال نے چائے کا کپ نیچے رکھا۔ "تو پھر،" اس نے کہا اور اسے اپنی طرف کھینچا، "دوسرا راؤنڈ؟"
لیکن اس بار مہنور نے اسے روکا۔ "رکو،" وہ بولی، "پہلے میں۔" اس نے اسے صوفے پر بٹھایا اور اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ اس نے اس کی پینٹ کھولی اور اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا۔
اس نے اسے منہ میں لیا، آہستہ آہستہ، اپنی زبان سے اس کی نوک کو چھوتے ہوئے۔ بلال نے صوفے کا کنارہ پکڑ لیا۔ مہنور نے اسے گہرا لیا، اپنے گلے تک، اور پھر باہر نکال کر اس کے خصیوں کو چوما۔
"بس کرو،" بلال ہانپ رہا تھا، "ورنہ یہیں نکل جائے گا۔"
مہنور مسکرائی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ "تو پھر دیر کس بات کی؟" وہ بولی اور اس کی گود میں بیٹھ گئی، اس کا رخ اس کی طرف۔ اس نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت پر رکھا اور آہستہ آہستہ نیچے بیٹھی۔
بلال نے اس کی کمر پکڑی۔ مہنور اوپر نیچے ہونے لگی، پہلے دھیرے، پھر تیز۔ اس کے بال اس کے چہرے پر آ رہے تھے۔ بلال نے اس کی شرٹ اتار دی اور اس کے سینے کو چومنے لگا۔
"تم بہت خوبصورت ہو،" اس نے کہا۔
"چپ کرو اور کرتے رہو،" مہنور بولی، اور اس کی رفتار بڑھا دی۔ صوفہ چرچرانے لگا۔ دونوں کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ مہنور نے اس کے کندھوں کو پکڑا اور ایک زور کے جھٹکے کے ساتھ جھڑ گئی۔
پھر بلال نے اسے اٹھایا اور کھڑکی کے پاس دیوار سے لگایا۔ اس بار وہ آرام سے تھا۔ بلال نے اسے کھڑکی کے پاس دیوار سے لگایا، پیچھے سے اس کے اندر گھسا، اور دھیرے دھیرے دھکے لگائے۔ مہنور نے کھڑکی کی گرل پکڑ رکھی تھی۔ باہر گلی سنسان تھی۔
"کوئی دیکھ لے گا،" مہنور بولی۔
"دیکھنے دو،" بلال نے اس کی گردن پر کاٹا۔ "آج رات تم میری ہو۔"
جب وہ جھڑی تو اس نے اپنی چیخ اس کے ہاتھ میں دبائی۔ پھر دونوں بستر پر گرے، ایک دوسرے کی بانہوں میں۔
رات کے نو بجے بارش رکی۔ مہنور نے اپنے کپڑے پہنے، جو اب سوکھ چکے تھے۔ بلال اسے گیٹ تک چھوڑنے آیا۔
"کلاس میں ملو گی؟" اس نے پوچھا۔
مہنور نے اس کے گال پر بوسہ دیا۔ "ڈبیٹ پریکٹس روز ہوتی ہے،" وہ بولی، "اور وین کبھی کبھی چھوٹ بھی جاتی ہے۔" پھر وہ مڑی اور رکشے کی طرف چل دی، بلال اسے جاتا دیکھتا رہا۔
Readers who enjoyed “اردو کالج گرل سیکس کہانی: وین چھوٹنے کے بعد” also read
8 curated storiesاردو ٹیچر کی چدائی: لائبریری کا خفیہ نوٹ
اردو ٹیچر کی چدائی: لکھنؤ کے گرلز کالج میں فرزانہ کو اپنے حاضری رجسٹر میں ایک خفیہ نوٹ ملتا ہے۔ نوٹ لکھنے والا نوجوان لیکچرر عامر نکلتا ہے، اور ان کا راز لائبریری سے شروع ہو کر بہت آگے جاتا ہے۔
اردو کالج گرل کہانی: لائبریری کی شام
زویا (20، کراچی یونیورسٹی) کی منگنی خلیج میں مقیم منگیتر سے ہے۔ انگلش لٹریچر کی ٹیوشن کے لیے ٹیچنگ اسسٹنٹ فہد (26) کی لائبریری والی شامیں، اور پھر جو ہوا، یہ اردو کالج گرل کہانی۔
اردو پروفیسر کی چدائی: کالج آفس میں پروفیسر عمران نے زارا کو جم کر چودا
کراچی کالج میں لیکچرر زارا ایک شام کتاب واپس کرنے پروفیسر عمران کے دفتر پہنچی، اور وہ ملاقات ایک ایسی شام میں بدل گئی جسے دونوں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔
اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ والی رات
اردو ہوسٹل کی چدائی: علی گڑھ کے لڑکیوں کے ہوسٹل میں خراب موٹر ٹھیک کرنے آیا دانش، اور اریبہ سے اس کی ملاقات ایک نئی کہانی بن گئی۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔
اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔