اردو کہانی: نوکرانی روبینہ کی بے باک رات
لوگ اردو نوکرانی کی چدائی کی کہانیاں پڑھ کر سوچتے ہیں کہ ایسی راتیں صرف کہانیوں میں ہوتی ہیں، مگر میری والی اسی شام شروع ہوئی جب میں دفتر سے گھر آیا اور ڈرائنگ روم سے میری بیوی شگفتہ کی چیخ سنائی دی۔ "تمہیں تنخواہ صفائی کی ملتی ہے یا برتن توڑنے کی؟" روبینہ جھاڑو ہاتھ میں لیے دروازے کے پاس کھڑی تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، ایک عجیب سی ضد تھی۔
میں نے بریف کیس صوفے پر پھینکا اور بیچ میں آیا۔ فرش پر کانچ کے ٹکڑے بکھرے تھے، شگفتہ کا پسندیدہ گلاس سیٹ، شادی پر اس کی امی نے دیا تھا۔ "تین گلاس!" شگفتہ کی آواز کانپ رہی تھی۔ "ایک نہیں، دو نہیں، تین! اس مہینے کی تنخواہ سے کاٹ لوں گی۔" روبینہ نے جھاڑو مضبوطی سے پکڑ لی۔ "بیگم صاحب، ہاتھ پھسل گیا تھا۔ جان بوجھ کر تھوڑی توڑے ہیں۔"
"زبان لڑاتی ہے؟" شگفتہ آگے بڑھی۔ "کل سے کام پر مت آنا۔ نکلو یہاں سے!" میں نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ "شگفتہ، بس کرو۔" میری آواز نیچی مگر سخت تھی۔ "غصے میں فیصلے مت کرو۔ روبینہ تین سال سے ہمارے یہاں ہے۔ ایک گلاس سیٹ پر کسی کی روزی مت چھینو۔" روبینہ نے پہلی بار میری طرف دیکھا، اور اس نظر میں کچھ ایسا تھا جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
شگفتہ نے اپنا ہاتھ چھڑایا، بیڈروم میں گئی، اور دس منٹ بعد ایک چھوٹا بیگ لے کر نکل آئی۔ "میں امی کے یہاں جا رہی ہوں۔ جب تمہیں بیوی سے زیادہ نوکرانی پیاری ہے تو اسی کے ساتھ رہو۔" دروازہ زور سے بند ہوا۔ گھر میں اچانک ایک بھاری خاموشی چھا گئی۔ روبینہ اب بھی وہیں کھڑی تھی۔
"صاحب..." اس کی آواز دھیمی تھی۔ "آپ نے میری نوکری بچا لی۔" میں نے کانچ کے ٹکڑے دیکھے۔ "پہلے یہ سمیٹو، پھر چائے بنا دو۔ سر میں درد ہو رہا ہے۔" وہ جھکی اور ٹکڑے اٹھانے لگی۔ اس کی قمیض کی گردن تھوڑی ڈھیلی تھی، اور جھکتے وقت اس کے سینے کی گہرائی صاف نظر آ رہی تھی۔ میں نے نظریں ہٹا لیں، مگر دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔
آدھے گھنٹے بعد وہ چائے لے کر آئی۔ میں لان کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ شام کا وقت تھا، لکھنؤ کی ہوا میں گیلی مٹی کی خوشبو تھی، شاید کہیں بارش ہوئی تھی۔ روبینہ نے کپ میرے سامنے رکھا اور خود سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔ "بیگم صاحب بہت ناراض ہیں۔" "صبح تک ٹھیک ہو جائیں گی۔" میں نے چائے کا گھونٹ لیا۔ "تمہارا شوہر کہاں ہے آج کل؟"
"دبئی میں ہیں، صاحب۔ دو سال سے۔" اس نے اپنے دوپٹے کا کونا انگلی میں لپیٹا۔ "پیسے بھیجتے ہیں، مگر..." وہ رک گئی۔ "مگر کیا؟" میں نے پوچھا۔ اس نے میری آنکھوں میں دیکھا۔ "مگر عورت کو صرف پیسے نہیں چاہیے ہوتے، صاحب۔ یہ بات مرد کبھی نہیں سمجھتے۔" اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی، اور اس مسکراہٹ میں دعوت تھی۔ صاف دعوت۔
میرے ہاتھ میں کپ کانپا۔ میں اڑتیس سال کا شادی شدہ مرد تھا، دو بچوں کا باپ، اور میری نوکرانی میرے سامنے بیٹھ کر مجھے آنکھوں سے بلا رہی تھی۔ "روبینہ..." میں نے کہا، مگر آگے کچھ نہ کہہ سکا۔ وہ اٹھی، میرے پاس آئی، اور کپ میرے ہاتھ سے لے کر میز پر رکھ دیا۔ پھر وہ میرے پیچھے کھڑی ہو گئی اور اس کے ہاتھ میرے کندھوں پر آ گئے۔
"سر کا درد ٹھیک کر دوں، صاحب؟" اس کی انگلیاں میرے کندھوں کو دبانے لگیں۔ مضبوط، تجربہ کار ہاتھ۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے ہاتھ آہستہ آہستہ میری گردن تک آئے، پھر کالر کے اندر، میری ننگی جلد پر۔ اس کی سانسیں میرے کان کے پاس تھیں، گرم اور تیز۔ "صاحب، آپ اچھے آدمی ہیں۔ بیگم صاحب کو آپ کی قدر نہیں۔"
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ رک گئی۔ ایک لمحے کے لیے ہم دونوں ساکت رہے، صرف اس کی سانسوں کی آواز تھی۔ پھر میں نے اسے اپنے سامنے کھینچ لیا۔ وہ میری گود میں نہیں بیٹھی، وہ میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی، اور اس کی آنکھیں میرے چہرے پر تھیں۔ "کوئی دیکھ لے گا تو؟" میں نے سرگوشی کی۔ "اس وقت کون آئے گا، صاحب؟ بیگم صاحب تو گئی ہیں۔" اس نے میرے گھٹنے پر ہاتھ رکھا، اور وہ ہاتھ آہستہ آہستہ اوپر بڑھنے لگا۔
میری پینٹ کے اوپر اس کے ہاتھ کا دباؤ بڑھ رہا تھا، اور میرا لنڈ سخت ہو رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا اور مسکرائی۔ "دیکھا؟ جسم جھوٹ نہیں بولتا، صاحب۔" اس نے میری زپ کھولی۔ میں نے اسے روکنا چاہا، مگر میرے ہاتھ نے اس کے بالوں کو پکڑ لیا اور اس کا چہرہ اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ملے، گرم، نرم، اور بے حد بھوکے۔
اس کا منہ میرے منہ میں تھا، اس کی زبان میری زبان سے لڑ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ نے میرے لنڈ کو پینٹ سے باہر نکالا۔ ٹھنڈی شام کی ہوا میرے ننگے لنڈ پر لگی، اور پھر اس کے گرم ہاتھ نے اسے پکڑ لیا۔ وہ آہستہ آہستہ ہلانے لگی، اس کی گرفت مضبوط تھی۔ "اتنا بڑا..." اس نے سرگوشی کی۔ "بیگم صاحب خوش قسمت ہیں۔"
"ابھی تو تمہیں پتہ چلے گا۔" میں نے اسے اٹھایا اور اس کے کپڑے اتارنے لگا۔ اس کی قمیض اوپر اٹھی، اس کے بڑے، بھاری دودھ برا سے باہر نکلنے کو بے تاب تھے۔ میں نے برا کا ہک کھولا، اور وہ دونوں میرے سامنے جھولنے لگے۔ گہرے بھورے نپل، سخت اور کھڑے۔ میں نے ایک کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔ روبینہ کی ایک سسکی نکلی۔ "آہ... صاحب..."
میں نے اس کے دوسرے دودھ کو ہاتھ سے دبایا، نپل کو انگلیوں میں مسلا۔ وہ میرے بالوں میں ہاتھ ڈالے مجھے اپنے سینے پر دبائے ہوئے تھی۔ اس کی شلوار میں نے نیچے کھینچی۔ اس کی چوت میرے سامنے تھی، گیلی اور چمکتی ہوئی۔ میں نے اپنی انگلی اس کی چوت پر رکھی، اور وہ تڑپ اٹھی۔ "صاحب، اندر... اندر ڈالو..."
میں نے دو انگلیاں اس کی گیلی چوت میں ڈال دیں۔ وہ تنگ تھی، گرم تھی، اور میری انگلیوں کو نچوڑ رہی تھی۔ میں نے انگلیاں اندر باہر کرنی شروع کیں، اور دوسرے ہاتھ سے اس کے نپل مسلتا رہا۔ روبینہ کی سانسیں تیز ہو گئیں، اس کی کمر مڑنے لگی۔ "ہاں... ایسے ہی... اور تیز..." اس کی چوت سے پانی بہنے لگا، میری انگلیاں پوری بھیگ گئیں۔
"ابھی نہیں جھڑنا۔" میں نے انگلیاں نکالیں۔ "اصل چیز باقی ہے۔" میں نے اسے لان کی کرسی پر جھکایا۔ اس کی گانڈ میرے سامنے اٹھی ہوئی تھی، گول اور بھاری۔ میں نے اس کی گانڈ پر ایک ہلکا تھپڑ مارا۔ وہ چیخی، مگر اس چیخ میں درد نہیں، مزہ تھا۔ "اور مارو، صاحب۔" میں نے پھر مارا، اس بار زور سے۔ اس کی جلد پر میرے ہاتھ کا نشان پڑ گیا۔
میں نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ وہ اتنی گیلی تھی کہ ٹوپی آسانی سے اندر پھسل گئی۔ "آہ!" روبینہ کی آواز نکلی۔ میں نے ایک جھٹکے میں پورا لنڈ اندر ڈال دیا۔ اس کی چوت نے میرے لنڈ کو کس لیا، گرم اور تنگ۔ میں نے اس کے کولہے پکڑے اور دھکے مارنے شروع کیے۔ ہر دھکے کے ساتھ اس کے دودھ ہل رہے تھے، اس کی سسکیاں بڑھ رہی تھیں۔
"ہاں صاحب... چودو مجھے... زور سے چودو..." وہ چلا رہی تھی۔ میں نے اس کے بال پکڑے اور پیچھے کھینچے، اس کی گردن مڑ گئی۔ میں اسے کتے کی طرح چود رہا تھا، لان میں، کھلی ہوا میں۔ میرا لنڈ اس کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا، اس کا پانی میری ٹانگوں پر بہہ رہا تھا۔ "تمہاری چوت اتنی تنگ کیوں ہے؟" میں نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔ "دو سال سے کوئی مرد نہیں ملا، صاحب... آپ پہلے ہیں..."
یہ سن کر میرا جوش اور بڑھ گیا۔ میں نے اسے گھمایا اور کرسی پر بٹھایا، اس کی ٹانگیں میرے کندھوں پر رکھیں۔ اب میں اس کے اوپر تھا، میرا لنڈ اس کی چوت میں گہرائی تک جا رہا تھا۔ اس کے نپل میرے چہرے کے سامنے تھے، میں نے انہیں چوستے ہوئے دھکے تیز کر دیے۔ روبینہ کی آنکھیں بند تھیں، اس کا منہ کھلا تھا، اور وہ مسلسل سسک رہی تھی۔
"میں جھڑنے والی ہوں... صاحب... میں..." اس کی چوت نے میرے لنڈ کو زور سے نچوڑا۔ اس کا پورا جسم کانپنے لگا۔ وہ چیختی ہوئی جھڑی، اس کا پانی نکل کر میرے لنڈ پر بہہ گیا۔ اس کی چوت کی کساوٹ نے مجھے بھی پاگل کر دیا۔ میں نے چند تیز دھکے مارے اور پھر میرا بھی نکل گیا۔ میرا گرم پانی اس کی چوت میں بھرا، اور ہم دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔
کچھ دیر بعد ہم اندر آئے۔ روبینہ نے کپڑے ٹھیک کیے اور کھانا لگایا۔ ہم نے خاموشی سے کھانا کھایا، مگر ہماری نظریں مسلسل مل رہی تھیں۔ کھانے کے بعد وہ برتن دھونے لگی۔ میں اس کے پیچھے گیا اور اسے پیچھے سے پکڑ لیا۔ میرے ہاتھ اس کے دودھ پر تھے۔ "صاحب، برتن..." "برتن صبح دھل جائیں گے۔" میں نے اسے بیڈروم کی طرف کھینچا۔ شگفتہ والا بیڈروم۔ اس کے بستر پر۔
بستر پر میں نے اسے پوری ننگی کر دیا۔ اس کا جسم دیا کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ مضبوط بازو، بھاری دودھ، چوڑے کولہے، اور وہ گیلی چوت جو ابھی میرا پانی اپنے اندر لیے ہوئے تھی۔ میں نے اس کی ٹانگیں پھیلائیں اور اس کی چوت کو چاٹنے لگا۔ میری زبان اس کے دانے پر تھی۔ روبینہ بستر پر مچلنے لگی۔ "آہ... صاحب... یہ کیا کر رہے ہیں..."
میں نے اس کی چوت کو چوستے ہوئے اپنی انگلی اندر ڈالی۔ اس کا ذائقہ نمکین اور میٹھا تھا، میرے پانی کی خوشبو کے ساتھ۔ وہ میرے منہ پر اپنی چوت رگڑنے لگی۔ "اور... اور چاٹو..." اس کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ میں نے اس کے دانے کو دانتوں سے ہلکا کاٹا، اور وہ اچھل پڑی۔ اس کا دوسرا ارگازم میرے منہ پر آیا، اس کا پانی میرے چہرے پر بہہ گیا۔
پھر میں اس کے اوپر آیا۔ مشنری پوزیشن میں، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے، میں نے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا۔ اس بار آہستہ آہستہ، گہرے دھکے۔ ہماری آنکھیں ملی ہوئی تھیں۔ اس نے میرے چہرے کو ہاتھوں میں لیا اور میرے ہونٹ چومے۔ "صاحب، آپ نے آج مجھے عورت بنا دیا۔" میں نے اس کے ہونٹوں پر کہا۔ "اور تم نے مجھے مرد۔"
ہم نے اس رات تین بار چدائی کی۔ ہر بار مختلف طریقے سے۔ ایک بار وہ میرے اوپر تھی، اپنے دودھ ہلاتے ہوئے، اپنی مرضی سے میرے لنڈ پر اچھلتی ہوئی۔ اس کے چہرے پر جو خوشی تھی، وہ میں نے شگفتہ کے چہرے پر شادی کے پہلے سال کے بعد کبھی نہیں دیکھی تھی۔ صبح کے چار بجے ہم ایک دوسرے کی بانہوں میں سو گئے۔
صبح چھ بجے گیٹ کی گھنٹی بجی۔ میں ہڑبڑا کر اٹھا۔ روبینہ پہلے ہی اٹھ چکی تھی، کپڑے پہن رہی تھی۔ اس نے جلدی سے دوپٹہ سنبھالا اور دروازے کی طرف بھاگی۔ میں کھڑکی سے دیکھ رہا تھا۔ گیٹ پر شگفتہ کی ٹیکسی تھی۔ روبینہ نے گیٹ کھولا، اور شگفتہ اندر آئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر روبینہ نے میری طرف دیکھا، اور اس کے ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ تھی۔ اس نے اپنی ہتھیلی میرے لیے چھپا کر ہلائی، اور بولی۔ "بیگم صاحب، چائے بناؤں؟"
Readers who enjoyed “اردو کہانی: نوکرانی روبینہ کی بے باک رات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔
اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔
اردو ہاٹ سٹوری: شادی میں آیا مہمان
ایک اردو ہاٹ سٹوری جس میں لاہور کے فارم ہاؤس کی شادی میں عائشہ کی نظر شوہر کے پرانے فوجی دوست بلال سے ملتی ہے، اور رخصتی کی ہلچل میں دونوں ایک سنسان کمرے میں اتر جاتے ہیں۔
اردو گرم بیوی کی کہانی: راتوں والی بیوی
اردو گرم بیوی کی کہانی: لکھنؤ کی شبانہ، جس کا شوہر کام میں مصروف ہے، شادی میں دس سال پرانے عاشق دانیال سے ملنے کے بعد جاگ اٹھی۔
اردو بیوہ سیکس کہانی: فرح اور حویلی کی دوپہر
لکھنؤ کی پرانی حویلی میں دو سال سے بیوہ رہنے والی فرح کی اس دوپہر نے اس کی زندگی بدل دی۔ ایک دلچسپ اردو بیوہ سیکس کہانی جو پہلی نظر سے شروع ہوئی۔
لاہور کی پرانی گلی میں اس نے دروازہ بند کیا، رسی کی کلائی میرے گلے میں پہنائی اور کہا کہ آج سے تم میرے حکم میں ہو
کلیگرافی کی کلاس تھی تھی دور جانے والے گھر تھیں اک شام کے بعد وہ دروازہ بند ہوا اور جس نے قلم پکڑنا تھا اس نے باقی رات کا فیصلہ خود لکھایا۔