اردو ڈاکٹر سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی
لوگ کہتے ہیں کہ ہسپتال کی راتیں لمبی ہوتی ہیں، مگر اس رات تو وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ یہ میری اردو ڈاکٹر سیکس کہانی ہے، اور میں اسے بالکل اسی طرح سناؤں گی جیسے وہ ایک اکتوبر کی بارش والی رات کو ہوئی۔ رات کا ایک بج رہا تھا، وارڈ خالی تھا، اور میں ڈاکٹر دانیال کے کمرے کے دروازے پر دو کپ چائے لے کر کھڑی تھی۔
اندر سے ٹیوب لائٹ کی ہلکی روشنی باہر آ رہی تھی۔ میں نے دروازہ دھکیلا تو وہ اپنی کرسی پر پیچھے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔ سفید کوٹ اب بھی اس کے کندھوں پر تھا، اور اس کی ٹائی ڈھیلی ہو کر گردن پر لٹک رہی تھی۔
میں نے ہلکے سے کھانسا اور بولا، "چائے لے لیں ڈاکٹر صاحب؟ ورنہ ٹھنڈی ہو جائے گی۔"
اس نے آنکھیں کھولیں اور مسکرا دیا۔ "شبانہ، تم تو فرشتہ ہو۔" اس کی آواز تھکن سے بھری تھی مگر اس میں ایک ایسی گرمی تھی جو میرے پیٹ میں اتر گئی۔ میں نے ٹرے میز پر رکھی اور اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
کمرے میں صرف ہم دو تھے، باہر وارڈ کی بتیاں مدھم جل رہی تھیں، اور کھڑکی کے شیشے پر بارش کی بوندیں ٹپ ٹپ کر رہی تھیں۔
میں اسے دیکھ رہی تھی۔ انتیس سال کا جوان ڈاکٹر، لمبے ہاتھ، صاف ستھری داڑھی، اور وہ خوشبو جو اس کے پسینے میں بسی ہوئی تھی۔ مردوں کی یہی خوشبو مجھے تین سال سے نہیں ملی تھی۔ میرے شوہر کے انتقال کے بعد میں نے اپنے آپ کو کام میں دفن کر دیا تھا، مگر آج رات میرا جسم جیسے جاگ اٹھا تھا۔
"آج مریض کم تھے، پھر بھی آپ اتنے تھکے کیوں لگ رہے ہیں؟" میں نے پوچھا۔ اس نے ہنس کر کہا، "تھکن جسم کی نہیں شبانہ، دل کی ہے۔ میری منگنی ٹوٹ گئی ہے۔"
میرے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا، "اوہ۔" پھر اس نے میری آنکھوں میں دیکھا اور بولا، "اور تم؟ تمہارے چہرے پر بھی کوئی کہانی لکھی ہے۔"
میں نے چائے کا کپ اٹھایا اور اس کی طرف بڑھایا۔ جھکتے وقت میری یونیفارم کا اوپر والا بٹن کھلا تھا، اور میں جانتی تھی کہ وہ دیکھ رہا ہے۔ میں نے جان بوجھ کر اپنا ہاتھ ہٹایا نہیں۔ اس کی نظریں میرے سینے پر ٹھہر گئیں، پھر جلدی سے ہٹ گئیں۔
مگر میں نے دیکھ لیا تھا۔ مرد کی نظر کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔
"شبانہ..." اس نے میرا نام اس طرح لیا جیسے وہ خود بھی نہ جانتا ہو کہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ میں نے کپ میز پر رکھا اور اس کے قریب آ گئی۔ "جی ڈاکٹر صاحب؟" میری آواز خود میری سمجھ سے باہر ہو گئی تھی۔
وہ کھڑا ہو گیا۔ ہم دونوں کے درمیان صرف ایک قدم کا فاصلہ تھا۔
اس نے میری کلائی پکڑ لی۔ اس کے ہاتھ گرم تھے، ڈاکٹروں والے نرم مگر مضبوط ہاتھ۔ "یہ کیا کر رہی ہو تم؟" اس کی سانس میرے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور بولا، "وہی جو آپ پچھلے آدھے گھنٹے سے سوچ رہے ہیں۔" پھر میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
پہلا بوسہ نرم نہیں تھا۔ وہ بھوکا تھا، جنگلی تھا۔ اس نے میرے بالوں میں ہاتھ ڈالے اور میرا سر پیچھے کھینچا، پھر میری گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ میں نے ایک سسکی بھری جو میرے گلے میں دب گئی۔
میرے ہاتھ اس کے کوٹ کے بٹنوں پر گئے۔ کوٹ فرش پر گرا، پھر قمیض۔ اس کا سینہ چوڑا تھا، پسینے سے چمک رہا تھا۔
اس نے میری یونیفارم کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے۔ ہر بٹن کے ساتھ میری سانس تیز ہوتی گئی۔ جب اس نے میری برا کا ہک کھولا تو میرے دودھ آزاد ہو گئے۔ اس نے انہیں اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور دبایا۔
"کتنے نرم ہیں..." وہ بڑبڑایا۔ پھر اس نے ایک نپل منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔ میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں گاڑ دیں۔
میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ اس کی پتلون کا بیلٹ میں نے خود کھولا۔ جب میں نے اس کا لنڈ باہر نکالا تو میری آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ موٹا اور لمبا تھا، رگیں ابھری ہوئی تھیں، اور اس کی نوک گیلی تھی۔
میں نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ ہلانے لگی۔ دانیال نے سر پیچھے کیا اور ایک گہری سانس لی۔
پھر میں نے اسے منہ میں لیا۔ پہلے صرف نوک، پھر آدھا، پھر جتنا جا سکتا تھا۔ میری زبان اس کے گرد گھوم رہی تھی۔ وہ میرے سر کو پکڑے تھا اور آہستہ آہستہ دھکیل رہا تھا۔
"شبانہ... اوہ شبانہ..." اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اور تیز چوسا۔ مجھے اس کا ذائقہ اچھا لگ رہا تھا، نمکین اور مردانہ۔
اچانک اس نے مجھے کھڑا کیا اور بستر کی طرف دھکیلا۔ یہ ڈیوٹی روم کا تنگ بستر تھا، چادر سلوٹوں والی۔ اس نے مجھے اس پر گرایا اور میرے اوپر آ گیا۔ اس کی آنکھوں میں اب شرم نہیں تھی، صرف بھوک تھی۔
اس نے میری ٹانگیں پھیلائیں اور میری چوت کو اپنے ہاتھ سے چھوا۔ میں پوری گیلی تھی۔
"دیکھو، تم کتنی تیار ہو،" وہ بولا اور اپنی دو انگلیاں میرے اندر ڈال دیں۔ میں چیخ پڑی۔ اس کی انگلیاں اندر باہر ہو رہی تھیں، اور اس کا انگوٹھا میرے دانے کو رگڑ رہا تھا۔ میرا جسم بستر پر مچل رہا تھا۔
"دانیال... بس کرو... اب ڈالو..." میں نے بھیک مانگی۔ اس نے مسکرا کر کہا، "جلدی کیا ہے؟ رات لمبی ہے۔"
مگر وہ بھی زیادہ دیر نہ رک سکا۔ اس نے اپنا لنڈ میری چوت کے منہ پر رکھا اور ایک زور دار دھکے سے اندر ڈال دیا۔ میں نے اس کی پیٹھ پر ناخن گاڑ دیے۔ وہ پورا اندر تھا، مجھے بھرتا ہوا۔
پھر اس نے دھکے لگانے شروع کیے۔ پہلے آہستہ، پھر تیز، پھر اتنے تیز کہ بستر دیوار سے ٹکرانے لگا۔
ہر دھکے کے ساتھ میں چیخ رہی تھی۔ اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور بولا، "آہستہ، کوئی سن لے گا۔" مگر اس کے دھکے رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس نے میری ایک ٹانگ اپنے کندھے پر رکھی اور اور گہرائی سے اندر گیا۔
مجھے لگا جیسے وہ میرے اندر تک اتر گیا ہے۔ میری چوت اس کے لنڈ کو نچوڑ رہی تھی۔
پھر اس نے مجھے پلٹا۔ میں بستر کے کنارے گھٹنوں کے بل تھی، اور وہ میرے پیچھے کھڑا تھا۔
اس نے میرے کولہوں کو پکڑا اور پیچھے سے ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈال دیا۔ "آہ!" میں نے تکیے میں منہ دبا لیا۔
یہ پوزیشن مجھے پاگل کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میرے دودھوں کو پیچھے سے دبا رہے تھے، اور اس کا لنڈ میری چوت میں آگ لگا رہا تھا۔
"تمہاری چوت کتنی تنگ ہے شبانہ،" وہ ہانپتے ہوئے بولا۔ "تین سال سے کوئی مرد نہیں آیا، ڈاکٹر صاحب،" میں نے جواب دیا۔ "تو آج رات میں تمہاری تین سال کی پیاس بجھاؤں گا۔" اس نے میرے بال کھینچے اور میرا سر پیچھے کیا۔
درد اور مزے کا یہ امتزاج مجھے دیوانہ بنا رہا تھا۔
میری پہلی منزل قریب تھی۔ میرا جسم کانپنے لگا، میری ٹانگیں سن ہو گئیں۔ "میں... میں آ رہی ہوں..." میں نے چیخا۔ اس نے اور تیز دھکے لگائے۔
پھر ایک زوردار لہر میرے جسم میں دوڑ گئی۔ میری چوت نے اس کے لنڈ کو کس کر نچوڑا، اور میں نے تکیے کو دانتوں سے کاٹ لیا تاکہ میری چیخ باہر نہ نکلے۔ پانی میرے اندر سے بہہ نکلا۔
مگر دانیال رکا نہیں۔ اس نے مجھے بستر پر سیدھا لٹایا اور پھر سے میرے اوپر آ گیا۔ اس کی رفتار اب وحشیانہ تھی۔ پسینہ اس کے چہرے سے ٹپک کر میرے سینے پر گر رہا تھا۔
"میں تمہارے اندر ہی جھڑوں گا،" وہ بڑبڑایا۔ میں نے اسے کس کر پکڑ لیا۔ "ہاں... میرے اندر... سب کچھ میرے اندر..."
چند دھکوں کے بعد اس کا جسم اکڑ گیا۔ اس نے ایک گہری چیخ دبائی اور میرے اندر جھڑ گیا۔ میں نے اس کے گرم پانی کو اپنے اندر محسوس کیا، لہر در لہر۔ وہ میرے اوپر گرا اور ہانپنے لگا۔
ہم دونوں پسینے میں بھیگے تھے، ہمارے دل دھڑک رہے تھے۔ کمرے میں صرف ہماری سانسوں کی آواز تھی۔
کچھ دیر بعد وہ میرے پہلو میں لیٹ گیا۔ میں نے اس کے سینے پر سر رکھا۔ "یہ غلط تھا؟" اس نے پوچھا۔
میں نے ہنس کر کہا، "غلط تو تھا، مگر اتنا اچھا غلط میں نے زندگی میں نہیں کیا۔" اس نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا۔ مگر اس کی نظروں میں میں نے وہی بھوک پھر دیکھی۔
اس نے مجھے کھڑا کیا اور دروازے کی طرف لے گیا۔ دروازہ اندر سے بند تھا۔ اس نے مجھے دروازے سے لگایا اور میرے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا۔ اس کا لنڈ پھر سے کھڑا ہو چکا تھا۔
"دوسری باری،" وہ بولا۔ میں نے اس کی گردن میں بازو ڈالے اور اپنی ایک ٹانگ اس کی کمر کے گرد لپیٹ لی۔ اس نے مجھے اٹھا لیا اور دیوار سے لگا کر اندر ڈال دیا۔
دیوار سے لگ کر چدوانا ایک الگ ہی نشہ تھا۔ میرا وزن اس کے ہاتھوں پر تھا، اور ہر دھکے کے ساتھ میری پیٹھ دروازے سے رگڑ کھا رہی تھی۔ اس کے ہونٹ میری گردن پر تھے، اس کے دانت میری کھال میں گڑ رہے تھے۔ "زور سے... اور زور سے..." میں اس کے کان میں بڑبڑا رہی تھی۔
میری دوسری منزل پہلی سے بھی تیز آئی۔ میرا جسم اس کی بانہوں میں کانپنے لگا، اور میں نے اس کے کندھے کو کاٹ لیا۔ اس نے مجھے نیچے اتارا، مجھے گھٹنوں کے بل بٹھایا، اور اپنا لنڈ میرے منہ کے سامنے کیا۔ میں نے سمجھ کر اسے منہ میں لیا اور تیز تیز چوسنے لگی۔
چند لمحوں میں وہ جھڑ گیا۔ اس کا گرم پانی میرے منہ میں، میرے ہونٹوں پر، میرے دودھوں پر گرا۔ میں نے اسے چاٹ لیا۔
اس نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور بولا، "تم کمال ہو شبانہ۔" میں نے مسکرا کر اس کی قمیض اٹھائی اور اپنا چہرہ پونچھا۔
ہم جلدی جلدی کپڑے پہن رہے تھے جب باہر وارڈ سے قدموں کی آواز آئی۔ وارڈ بوائے رشید کی آواز تھی۔ "ڈاکٹر صاحب؟" اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
میرا دل رک سا گیا۔ دانیال نے فوراً اپنی ٹائی ٹھیک کی اور بولا، "ہاں رشید؟" "سر، بیڈ نمبر چھ کے مریض کو درد ہے۔" "آ رہا ہوں، دو منٹ۔"
قدموں کی آواز دور ہو گئی۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور بے اختیار ہنس پڑے۔ میں نے اپنی یونیفارم کے بٹن ٹھیک کیے، بال سنوارے۔ آئینے میں میرا چہرہ سرخ تھا، ہونٹ سوجے ہوئے تھے۔
مگر میری آنکھوں میں ایک چمک تھی جو تین سال سے غائب تھی۔
دانیال دروازے کی طرف بڑھا، پھر رکا اور میری طرف پلٹا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور دبایا۔ "کل رات پھر ڈیوٹی ہے میری،" وہ بولا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا، "تو کل رات چائے میں الائچی زیادہ ڈالوں گی۔"
وہ ہنسا، دروازہ کھولا، اور وارڈ کی مدھم روشنی میں چلا گیا۔ میں کھڑکی کے پاس کھڑی بارش دیکھتی رہی، اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
Readers who enjoyed “اردو ڈاکٹر سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔
اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔
اردو ہاٹ سٹوری: شادی میں آیا مہمان
ایک اردو ہاٹ سٹوری جس میں لاہور کے فارم ہاؤس کی شادی میں عائشہ کی نظر شوہر کے پرانے فوجی دوست بلال سے ملتی ہے، اور رخصتی کی ہلچل میں دونوں ایک سنسان کمرے میں اتر جاتے ہیں۔
اردو گرم بیوی کی کہانی: راتوں والی بیوی
اردو گرم بیوی کی کہانی: لکھنؤ کی شبانہ، جس کا شوہر کام میں مصروف ہے، شادی میں دس سال پرانے عاشق دانیال سے ملنے کے بعد جاگ اٹھی۔
اردو بیوہ سیکس کہانی: فرح اور حویلی کی دوپہر
لکھنؤ کی پرانی حویلی میں دو سال سے بیوہ رہنے والی فرح کی اس دوپہر نے اس کی زندگی بدل دی۔ ایک دلچسپ اردو بیوہ سیکس کہانی جو پہلی نظر سے شروع ہوئی۔
لاہور کی پرانی گلی میں اس نے دروازہ بند کیا، رسی کی کلائی میرے گلے میں پہنائی اور کہا کہ آج سے تم میرے حکم میں ہو
کلیگرافی کی کلاس تھی تھی دور جانے والے گھر تھیں اک شام کے بعد وہ دروازہ بند ہوا اور جس نے قلم پکڑنا تھا اس نے باقی رات کا فیصلہ خود لکھایا۔