اردو باس سیکس کہانی: رخصانہ میڈم کی جمعہ والی رات
یہ رپورٹ ایسے تو کلائنٹ کے سامنے نہیں رکھ سکتے، دانش! رخصانہ میڈم کی آواز کیبن کے شیشے کے پار سے آئی اور دانش کے ہاتھ کانپنے لگے۔ یہ اردو باس سیکس کہانی اسی جمعہ کی رات کی ہے جب دفتر کے سارے لوگ گھر جا چکے تھے اور صرف وہ دونوں رہ گئے تھے۔
دانش نے گھڑی دیکھی۔ شام کے سات بج رہے تھے۔ جمعہ کا دن تھا اور باہر کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کا شور تھا، لیکن دفتر کی نویں منزل پر سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس نے اپنا لیپ ٹاپ سمیٹا اور رخصانہ میڈم کے کیبن کی طرف بڑھا۔ دل کی دھڑکن تیز تھی۔ رخصانہ میڈم دفتر کی سب سے سخت باس مشہور تھیں۔
کیبن کا دروازہ کھلا تھا۔ رخصانہ میڈم اپنی کرسی پر بیٹھی تھیں، بالوں کا جوڑا کھلا ہوا، آنکھوں میں وہی تیز نظر۔ ان کی عمر اڑتیس کے لگ بھگ تھی، لیکن ان کا انداز ایسا تھا کہ نوجوان لڑکے بھی ان کے سامنے نظریں جھکا لیتے تھے۔ آج انہوں نے گہرے نیلے رنگ کی ساڑھی پہنی تھی جس کا پلو ان کے کندھے سے ڈھلک رہا تھا۔
اندر آؤ، دانش نے دروازے پر دستک دی۔ بیٹھو۔ رخصانہ میڈم نے رپورٹ کی فائل اس کی طرف بڑھائی۔ تم نے جو نمبر لگائے ہیں، وہ سب غلط ہیں۔ کلائنٹ سوموار کو آ رہا ہے۔ آج رات یہ ٹھیک ہو کر رہے گی، ورنہ تمہاری پروموشن کا خواب بھول جاؤ۔
دانش کی سانس رک گئی۔ پروموشن اس کے لیے سب کچھ تھی۔ اس کی ماں بیمار تھی، گھر کا کرایہ بڑھ گیا تھا۔ اس نے سر جھکا کر کہا۔ جی میڈم، میں ابھی ٹھیک کرتا ہوں۔ رخصانہ میڈم نے اسے غور سے دیکھا اور پھر اپنی کرسی سے اٹھیں۔
وہ اس کے پیچھے آ کر کھڑی ہو گئیں۔ دانش کو ان کے پرفیوم کی خوشبو آئی۔ مہنگی خوشبو، جو اس کے حواس پر چھا گئی۔ رخصانہ میڈم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسکرین کی طرف اشارہ کیا۔ دیکھو، یہاں تم نے غلطی کی ہے۔ ان کی آواز اب نرم تھی، لیکن اس نرمی میں کچھ اور بھی تھا۔
دانش نے محسوس کیا کہ ان کا ہاتھ اس کے کندھے سے ہٹ نہیں رہا تھا۔ ان کی انگلیاں آہستہ آہستہ اس کی گردن کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ اس کا جسم گرم ہونے لگا۔ اس نے ہمت کر کے کہا۔ میڈم، میں۔ میں ٹھیک کر دوں گا۔ رخصانہ میڈم ہلکی سی ہنسیں۔
تم ہمیشہ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں رہتے ہو، دانش؟ انہوں نے کہا اور اس کی کرسی کو اپنی طرف گھمایا۔ اب وہ دونوں آمنے سامنے تھے۔ رخصانہ میڈم کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جو دانش نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ تمہیں پتہ ہے، اس دفتر میں سب مجھ سے ڈرتے ہیں۔ لیکن تم۔ تم مختلف ہو۔
دانش کی نظریں ان کے چہرے پر جمی تھیں۔ ان کے ہونٹوں پر ہلکی سرخی تھی۔ انہوں نے اپنے بالوں کا جوڑا کھولا اور لمبے بال ان کے کندھوں پر بکھر گئے۔ وہ ایک عورت تھیں، صرف باس نہیں۔ دانش کے دل میں ایک عجیب سی ہلچل مچی۔
میڈم، یہ۔ یہ ٹھیک نہیں ہے، دانش نے کمزور آواز میں کہا۔ لیکن اس کا جسم اس کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ رخصانہ میڈم نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا۔ ان کی انگلیاں نرم اور گرم تھیں۔ چپ، انہوں نے کہا۔ آج رات کوئی باس نہیں، کوئی ملازم نہیں۔ صرف دو لوگ ہیں۔
اور پھر انہوں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ دانش کے جسم میں بجلی دوڑ گئی۔ یہ اس کا پہلا ایسا بوسہ تھا جس میں اتنی شدت تھی۔ رخصانہ میڈم نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر دیں اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ ان کی ساڑھی کا پلو زمین پر گر گیا۔
دانش نے بھی ہمت پکڑی۔ اس نے ان کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور انہیں اپنی گود میں بٹھا لیا۔ رخصانہ میڈم کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ ان کے سینے کا اتار چڑھاؤ دانش کو پاگل کر رہا تھا۔ اس نے ان کی گردن پر بوسے دینے شروع کیے۔ وہ ہلکی سی کراہیں۔
دروازہ بند کر دو، رخصانہ میڈم نے سرگوشی کی۔ دانش اٹھا اور کیبن کا دروازہ اندر سے بند کر کے آیا۔ باہر دفتر میں مکمل سناٹا تھا۔ صرف ایئر کنڈیشنر کی ہلکی آواز آ رہی تھی۔ جب وہ واپس آیا تو رخصانہ میڈم کھڑکی کے پاس کھڑی تھیں، شہر کی روشنیوں کو دیکھ رہی تھیں۔
وہ اس کے پاس گیا اور پیچھے سے ان کی کمر میں ہاتھ ڈالے۔ ان کا جسم اس کے جسم سے لگ گیا۔ اس نے ان کے کان کی لو کو چوما اور وہ کانپ گئیں۔ تم بہت خوبصورت ہو، اس نے کہا۔ رخصانہ میڈم نے مڑ کر اسے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن ہونٹوں پر مسکراہٹ۔
میرے شوہر کو گئے پانچ سال ہو گئے، انہوں نے کہا۔ اس کے بعد میں نے صرف کام کیا۔ تم پہلے شخص ہو جس نے مجھے عورت سمجھا۔ دانش نے ان کے آنسو پونچھے اور انہیں گلے لگا لیا۔ اس لمحے میں کوئی باس نہیں تھی، کوئی ڈر نہیں تھا۔ صرف دو تنہا دل تھے۔
رخصانہ میڈم نے خود اپنی ساڑھی کا باقی حصہ بھی اتار دیا۔ اب وہ صرف بلاؤز اور پیٹی کوٹ میں تھیں۔ دانش کی نظریں ان کے جسم پر جمی رہ گئیں۔ ان کا جسم اڑتیس سال کی عمر میں بھی ایسا تھا کہ نوجوان لڑکیاں شرما جائیں۔ بھرا ہوا سینہ، پتلی کمر، گول کولہے۔
اس نے انہیں بانہوں میں اٹھایا اور کیبن کے صوفے پر لٹا دیا۔ رخصانہ میڈم کی آنکھوں میں انتظار تھا۔ دانش نے ان کے بلاؤز کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے۔ ہر بٹن کے ساتھ ان کی سانس تیز ہوتی گئی۔ جب بلاؤز اترا تو ان کے سینے کی خوبصورتی دیکھ کر دانش کی سانس رک گئی۔
اس نے ان کے سینے کو ہاتھوں میں لیا۔ نرم، گرم، بھرا ہوا۔ اس نے ایک کو چوما اور دوسرے کو ہاتھ سے دبایا۔ رخصانہ میڈم کی کمر صوفے سے اٹھ گئی۔ آہ، دانش۔ وہ کراہیں۔ ان کی انگلیاں اس کے بالوں میں گڑ گئیں۔ اس نے ان کے نپل کو زبان سے چاٹا اور وہ چیخ پڑیں۔
دانش نے ان کا پیٹی کوٹ بھی اتار دیا۔ اب رخصانہ میڈم مکمل ننگی اس کے سامنے لیٹی تھیں۔ ان کی ٹانگوں کے درمیان وہ جگہ جسے دیکھ کر دانش کا لنڈ پوری طرح کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنی شرٹ اتاری، پینٹ اتاری۔ اب دونوں ننگے تھے۔
رخصانہ میڈم نے اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا۔ گرم، سخت، لمبا۔ انہوں نے اسے آہستہ آہستہ ہلانا شروع کیا۔ دانش کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ پھر انہوں نے جھک کر اسے منہ میں لے لیا۔ دانش کے منہ سے ایک زوردار کراہ نکلی۔
ان کی زبان اس کے لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی۔ وہ اسے اندر باہر کر رہی تھیں۔ دانش نے ان کے بال پکڑ لیے۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا۔ وہ جھڑنے کے قریب تھا، لیکن اس نے خود کو روکا۔ ابھی نہیں، اس نے کہا۔ میں تمہیں پورا چاہتا ہوں۔
اس نے انہیں صوفے پر لٹایا اور ان کی ٹانگیں پھیلا دیں۔ ان کی چوت گیلی ہو چکی تھی۔ اس نے اپنی انگلی اندر ڈالی اور وہ چیخ پڑیں۔ اندر سے گرم پانی نکل رہا تھا۔ اس نے دو انگلیاں ڈالیں اور آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا۔ رخصانہ میڈم صوفے پر مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھیں۔
پھر اس نے اپنا لنڈ ان کی چوت کے منہ پر رکھا۔ رخصانہ میڈم نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور سر ہلایا۔ اس نے ایک زور کا دھکا دیا اور اس کا لنڈ پوری طرح اندر چلا گیا۔ دونوں کے منہ سے ایک ساتھ کراہ نکلی۔ اندر بہت گرم اور تنگ تھا۔
دانش نے آہستہ آہستہ دھکے دینے شروع کیے۔ ہر دھکے کے ساتھ رخصانہ میڈم کی کمر اٹھتی۔ ان کے سینے اچھل رہے تھے۔ اس نے ان کے سینے کو پکڑا اور زور زور سے دھکے دینے لگا۔ کیبن میں صرف ان کی کراہوں اور صوفے کے چرچرانے کی آواز تھی۔
اور تیز، دانش۔ اور تیز۔ رخصانہ میڈم چلا رہی تھیں۔ دانش نے اپنی رفتار بڑھا دی۔ اس کا پسینہ ان کے جسم پر گر رہا تھا۔ دونوں کے جسم پسینے سے بھیگ گئے تھے۔ یہ چدائی نہیں تھی، یہ دو بھوکے جسموں کا ملن تھا۔
اچانک رخصانہ میڈم کا جسم اکڑ گیا۔ ان کی چوت نے اس کے لنڈ کو زور سے جکڑ لیا۔ ان کے منہ سے ایک لمبی چیخ نکلی اور ان کا پانی نکل گیا۔ دانش نے محسوس کیا کہ اندر سیلاب آ گیا ہے۔ اس نے بھی اپنے آپ کو نہ روک سکا اور اپنا سارا پانی ان کے اندر چھوڑ دیا۔
دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔ دانش کا لنڈ ابھی بھی ان کے اندر تھا۔ رخصانہ میڈم نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ تم نے مجھے پانچ سال بعد عورت ہونے کا احساس دلایا، انہوں نے کہا۔ دانش نے انہیں کس کر گلے لگایا۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں اٹھے۔ رخصانہ میڈم نے اپنی ساڑھی پہنی اور دانش نے اپنے کپڑے۔ لیکن ان کی آنکھوں میں اب بھی وہ چمک تھی۔ رخصانہ میڈم نے اس کی ٹائی ٹھیک کی اور اس کے گال پر بوسہ دیا۔ پیر کو نو بجے، انہوں نے کہا۔ اور ہاں، یہ بات ہم دونوں کے بیچ رہے گی۔
دانش مسکرایا۔ جی میڈم۔ وہ کیبن سے نکلا۔ باہر دفتر خالی تھا۔ اس نے اپنی میز سے رپورٹ اٹھائی۔ رپورٹ تو ٹھیک نہیں ہوئی تھی، لیکن اسے پروموشن کی اب کوئی فکر نہیں تھی۔ اس نے جو پایا تھا، وہ پروموشن سے کہیں بڑا تھا۔
پیر کی صبح جب دانش دفتر پہنچا تو رخصانہ میڈم ویسے ہی سخت باس تھیں۔ انہوں نے اسے دیکھا تک نہیں۔ لیکن جب وہ ان کے کیبن کے پاس سے گزرا تو انہوں نے ہلکی سی آنکھ ماری۔ دانش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ یہ ان کا راز تھا۔
اس رات کے بعد ہر جمعہ دانش کے لیے خاص ہو گیا۔ دفتر خالی ہوتا، کیبن کا دروازہ بند ہوتا، اور رخصانہ میڈم کی ساڑھی کا پلو زمین پر گرتا۔ یہ اردو باس سیکس کہانی صرف ایک رات کی نہیں تھی، یہ ایک ایسے رشتے کی شروعات تھی جو دفتر کی دیواروں کے پیچھے پروان چڑھا۔
دانش نے اپنی ماں کا علاج کرایا، گھر کا کرایہ بھی دے دیا۔ رخصانہ میڈم نے اس کی پروموشن بھی کرا دی۔ لیکن ان دونوں کے بیچ جو تھا، وہ کسی فائل میں درج نہیں تھا۔ وہ صرف ان کی آنکھوں میں پڑھا جا سکتا تھا۔
اور آج بھی جب دفتر میں کوئی دانش سے پوچھتا ہے کہ تم اتنے خوش کیسے رہتے ہو، تو وہ صرف مسکراتا ہے۔ کیونکہ کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف دل میں رہتی ہیں۔ یہ اردو باس سیکس کہانی بھی انہی میں سے ایک ہے۔
Readers who enjoyed “اردو باس سیکس کہانی: رخصانہ میڈم کی جمعہ والی رات” also read
8 curated storiesلکھنؤ کی پرانی چکن فنشنگ ورکشاپ میں عید کی آخری ڈلیوری کے بعد کنواری انچارج نے حیدرآباد کے انسپکٹر کو وہ حساب دیا جو کسی رجسٹر یا بل پر کبھی نہیں چڑھا
لکھنؤ کی پرانی چکن ورکشاپ۔ عید کی آخری ڈلیوری۔ کنواری فائزہ اور حیدرآباد کا رضوان۔ وہ حساب جو رجسٹر پر نہیں چڑھا۔
اردو آفس کہانی: زویا کی چوت میں دانیال کا لنڈ، لکھنؤ آفس کی گرم چدائی
اردو آفس کہانی میں لکھنؤ کے ایک آفس میں اوور ٹائم کی ایک شام دو لوگوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔ بارش، خوشبو اور ایک رات کی کہانی۔
بہاولپور کے پرانے بجلی دفتر کے ریکارڈ روم میں جب جنریٹر بند ہوا تو شادی شدہ لیڈجر کلرک نے نئے بیل چیکر کو وہ رقم دکھایا جو کسی کنزومر فائل پر کبھی نہیں لکھا
بہاولپور کا پرانا بجلی دفتر۔ جنریٹر بند۔ شادی شدہ سارہ اور چیکر نوید۔ وہ رقم جو کنزومر فائل پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔
اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات
لاہور کی پرانی حویلی میں نادیہ کی شادی کی پہلی رات۔ سمیر گھبرایا ہوا ہے اور نادیہ کے پاس چھپی ہوئی کتابوں سے سیکھے راز ہیں۔ اردو دلہن کی پہلی رات کی ایک گرم کہانی۔
اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔