اردو آفس کہانی: زویا کی چوت میں دانیال کا لنڈ، لکھنؤ آفس کی گرم چدائی
یہ اردو آفس کہانی لکھنؤ کی ایک شام سے شروع ہوتی ہے، جب بارش کی خوشبو آفس کی کھڑکیوں سے اندر آ رہی تھی اور زویا کی پرفیوم کی مہک پورے فلور پر پھیلی ہوئی تھی۔ زویا نے اپنے بال کھولے ہوئے تھے، اور اس کی سفید قمیض بارش کی نمی سے اس کے بدن سے چپک گئی تھی۔ دانیال نے جب اسے دیکھا تو اس کی نظر ہٹ نہیں رہی تھی۔ آفس میں صرف وہ دونوں رہ گئے تھے، باقی سب جا چکے تھے، اور ایک پروجیکٹ کی ڈیڈ لائن نے ان دونوں کو روک رکھا تھا۔
زویا نے کافی کے دو کپ بنائے اور ایک دانیال کی طرف بڑھایا۔ دانیال نے کپ لیتے ہوئے اس کی انگلیوں کو چھو لیا، اور زویا نے اپنا ہاتھ پیچھے نہیں کھینچا۔ دونوں کی آنکھیں ملیں، اور اس لمحے میں کچھ بدل گیا۔ زویا نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ آج کچھ زیادہ ہی دیکھ رہے ہیں۔ دانیال نے جواب دیا کہ وہ جو دیکھ رہا ہے وہ دیکھنے کے لائق ہے۔ زویا نے اس کی طرف قدم بڑھایا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
یہ بوسہ آہستہ شروع ہوا، پھر گہرا ہوتا گیا۔ دانیال نے زویا کی کمر پر ہاتھ رکھا اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ زویا نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا لیں۔ دانیال نے اس کی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولنے شروع کیے۔ قمیض نیچے گرتے ہی اس کی برا اور گورا بدن سامنے آ گیا۔ دانیال نے اس کے پیٹ کو چوما اور اس کی ناف پر زبان پھیری۔ زویا نے اس کا سر پکڑ لیا اور کہا کہ وہ اسے ایسے ہی پاگل کر دے گا۔
دانیال نے اس کی برا کھولی اور اس کے بوبز کو دونوں ہاتھوں سے دبانے لگا۔ زویا نے آنکھیں بند کر لیں اور اس کے کندھوں کو پکڑ لیا۔ دانیال نے برا کا ہک کھولا اور اس کے ننگے بوبز کو اپنے منہ میں لے لیا۔ وہ ایک نپل کو چوس رہا تھا اور دوسرے کو انگلیوں سے مسل رہا تھا۔ زویا کے منہ سے ہلکی سسکی نکلی اور اس نے کہا کہ اسے یہی چاہیے تھا، مہینوں سے یہی پیاس تھی۔
زویا نے دانیال کی شرٹ کے بٹن کھولے اور اس کی چھاتی پر ہاتھ پھیرا۔ اس کی انگلیاں دانیال کے سینے کے بالوں میں الجھ گئیں۔ دانیال نے اس کی اسکرٹ کی زپ کھینچی اور اسکرٹ نیچے سرک گئی۔ زویا اب صرف پینٹی میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔ دانیال نے گھٹنوں پر بیٹھ کر اس کی پینٹی کو آہستہ سے نیچے کھینچا۔ زویا کی چوت اس کے سامنے کھل گئی، گیلی اور گرم۔ دانیال نے اسے چوم لیا اور زویا کی ٹانگیں کانپ گئیں۔
دانیال نے اپنی زبان سے زویا کی چوت کو چاٹنا شروع کیا۔ وہ اس کے دانے کو چوس رہا تھا اور زبان کو اندر باہر کر رہا تھا۔ زویا نے اس کے سر کو اپنی رانوں کے درمیان دبا لیا اور کہا کہ وہ رکنا مت۔ اس کا بدن ہل رہا تھا اور اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ کچھ ہی دیر میں زویا کا بدن اکڑ گیا اور اس کی چوت سے پانی نکل گیا۔ دانیال نے وہ سارا پانی چاٹ لیا اور اوپر اٹھ کر اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔
زویا نے دانیال کی پینٹ کھولی اور اس کا لنڈ باہر نکالا۔ لنڈ پوری طرح کھڑا تھا، موٹا اور گرم۔ زویا نے اسے ہاتھ میں لے کر آہستہ آہستہ ہلانا شروع کیا اور پھر اسے اپنے منہ میں لے لیا۔ وہ اس کے لنڈ کو چوس رہی تھی، زبان سے اس کے ٹوپے کو سہلا رہی تھی۔ دانیال نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ وہ اسے پاگل کر رہی ہے۔ زویا نے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا اور مسکراتے ہوئے چوستی رہی۔
دانیال نے زویا کو کانفرنس ٹیبل پر لٹایا اور اس کی ٹانگوں کو اپنے کندھوں پر رکھ لیا۔ اس نے اپنے لنڈ کو زویا کی چوت کے منہ پر رگڑا اور آہستہ سے اندر دھکیلا۔ زویا نے آہ بھری اور اس کی پیٹھ کو پکڑ لیا۔ لنڈ پورا اندر جاتے ہی زویا نے کہا کہ یہی صحیح جگہ ہے، یہی اسے چاہیے تھا۔ دانیال نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے اور ہر دھکے کے ساتھ زویا کی چوت اور گیلی ہوتی گئی۔
دھکوں کی رفتار بڑھتی گئی اور ٹیبل بھی ہلنے لگا۔ زویا کی آوازیں آفس میں گونج رہی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھی کہ اور تیز، اور اندر، اسے پورا چاہیے۔ دانیال نے اس کی کمر پکڑ کر اسے اور قریب کھینچ لیا اور تیزی سے چودنے لگا۔ زویا کی ٹانگیں اس کے کندھوں پر کانپ رہی تھیں اور اس کے بوبز ہر دھکے کے ساتھ ہل رہے تھے۔ دانیال نے جھک کر اس کے ایک بوب کو منہ میں لے لیا اور چودتا رہا۔
زویا کا بدن دوسری بار اکڑ گیا اور وہ زور سے چلائی۔ اس کی چوت نے دانیال کے لنڈ کو کس کر جکڑ لیا اور پانی بہہ نکلا۔ دانیال بھی اب رک نہیں پایا۔ اس نے کچھ تیز دھکے اور لگائے اور پھر اپنا سارا پانی زویا کی چوت میں چھوڑ دیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ زویا نے کہا کہ آج پہلی بار اسے لگا کہ وہ سچ میں کسی کی ہے۔
کچھ دیر بعد زویا نے دانیال کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے اوپر بٹھا لیا۔ اس نے خود ہی دانیال کے لنڈ کو اپنی چوت میں ڈالا اور آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونے لگی۔ دانیال نے اس کے بوبز کو ہاتھوں میں لیا اور نیچے سے دھکے لگانے لگا۔ زویا کے بال اس کے چہرے پر آ رہے تھے اور وہ انہیں ہٹاتے ہوئے ہنس رہی تھی۔ اس پوز میں زویا پوری طرح کنٹرول میں تھی۔ وہ کبھی تیز ہوتی، کبھی آہستہ ہو کر دانیال کو تڑپاتی۔
زویا کی رفتار پھر تیز ہو گئی اور اس کا بدن تیسری بار جھڑنے کی طرف بڑھ گیا۔ اس نے دانیال کے کندھوں کو کس کر پکڑ لیا اور زور سے ہلنے لگی۔ دانیال نے نیچے سے تیز دھکے لگائے اور زویا چیخ پڑی۔ اس کا پانی بہہ نکلا اور وہ دانیال کے سینے پر گر پڑی۔ دانیال نے اسے کس کر پکڑ لیا اور کہا کہ وہ کہیں نہیں جا رہی ہے۔
زویا نے کروٹ بدل کر دانیال کو اپنے اوپر لیا اور اپنی ٹانگیں اس کی کمر پر لپیٹ لیں۔ دانیال نے اس کی چوت میں پھر سے لنڈ ڈالا اور اس بار آہستہ آہستہ، گہرائی سے چودنے لگا۔ ہر دھکا لمبا اور گہرا تھا۔ زویا نے اس کے کان میں کہا کہ اسے یہی آہستہ چدائی سب سے زیادہ پسند ہے۔ دانیال نے اس کی گردن کو چوما اور اس کے بوبز کو دباتے ہوئے چودتا رہا۔
رات گہراتی گئی اور دونوں ایک دوسرے میں کھوئے رہے۔ دانیال نے زویا کو گھوڑی بننے کو کہا اور زویا ہنستے ہوئے گھٹنوں پر آ گئی۔ دانیال نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا اور اس کی کمر پکڑ کر تیز دھکے لگانے لگا۔ زویا کی آوازیں اور تیز ہو گئیں۔ وہ کہہ رہی تھی کہ وہ پیچھے سے اسے اور زور سے چودے۔ دانیال نے اس کے بال پکڑے اور تیزی سے چودتا رہا۔
زویا کا بدن چوتھی بار اکڑ گیا اور وہ ٹیبل پر گر پڑی۔ دانیال نے بھی اپنا پانی اس کی چوت میں ہی چھوڑ دیا اور اس کے بغل میں لیٹ گیا۔ دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کی سانسیں سن رہے تھے۔ زویا نے کہا کہ اسے ڈر تھا کہ آفس کی یہ رات صرف ایک رات ہوگی، پر دانیال نے اسے یقین دلا دیا کہ یہ شروعات ہے۔ دانیال نے کہا کہ شروعات ہی سب سے خوبصورت ہوتی ہے۔
آدھی رات کے بعد زویا اٹھ کر پانی پینے گئی اور دانیال بھی اس کے پیچھے آ گیا۔ آفس کی کچن میں کھڑے ہو کر دونوں نے ایک دوسرے کو پھر چوما۔ زویا نے کہا کہ اسے بھوک لگی ہے، پر کھانے کی نہیں۔ دانیال ہنس پڑا اور اسے کاؤنٹر پر بٹھا لیا۔ اس نے زویا کی ٹانگیں کھولیں اور اس کی چوت کو پھر چاٹنے لگا۔ زویا نے اس کے سر کو پکڑ لیا اور کہا کہ وہ کبھی نہیں تھکتا ہے۔
کاؤنٹر پر ہی دانیال نے زویا کی چوت میں لنڈ ڈال دیا اور کھڑے کھڑے اسے چودنے لگا۔ زویا نے اس کی گردن پکڑ لی اور ہر دھکے پر آہ بھرنے لگی۔ یہ چدائی تیز اور بے تاب تھی، جیسے دونوں کو ایک دوسرے کی عادت لگ گئی ہو۔ زویا پھر جھڑ گئی اور دانیال نے بھی اپنا پانی اس کے اندر چھوڑ دیا۔ دونوں ہنستے ہوئے اپنے ڈیسک پر لوٹ آئے۔
صبح کی پہلی روشنی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی جب زویا کی آنکھ کھلی۔ دانیال اس کے بغل میں سو رہا تھا، اس کا ہاتھ زویا کی کمر پر تھا۔ زویا نے اسے دیکھا اور مسکرا دی۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ اپنی نوکری اور اپنی زندگی دونوں کو اپنے حساب سے چلائے گی۔ دانیال کا فون آیا، پر زویا نے اسے بغیر دیکھے سائلنٹ کر دیا۔ اس نے دانیال کے ماتھے کو چوما اور کہا کہ اٹھو، نئی صبح ہے اور نئی زندگی بھی۔ دانیال نے آنکھیں کھولیں اور کہا کہ نئی زندگی کی پہلی صبح اس کے ساتھ ہی اچھی لگ رہی ہے۔
صبح ہوتے ہی زویا نے دانیال کو آفس کی چھت پر کھینچ لیا۔ نیچے لکھنؤ کی سڑک پر ہلچل شروع ہو گئی تھی، پر اوپر دونوں کے درمیان رات کی گرمی ابھی باقی تھی۔ زویا نے دانیال کی کمر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ اسے ایک اور صبح چاہیے، ایسی صبح جو رات سے شروع ہو۔ دانیال نے اسے دیوار سے لگا لیا اور اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔ زویا کی قمیض کے نیچے اس کا بدن ابھی بھی گرم تھا۔
دانیال نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے اور اس کے بوبز کو ہاتھوں میں لے لیا۔ زویا نے آنکھیں بند کر کے اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ دانیال نے اس کے نپل کو چوسا اور آہستہ سے کاٹا۔ زویا نے سسکی بھری اور کہا کہ کوئی دیکھ لے گا۔ دانیال نے ہنس کر کہا کہ دیکھنے دو، اسے اب کسی سے چھپنا نہیں ہے۔ زویا نے اس کی بات پر ہنستے ہوئے اسے اور قریب کھینچ لیا۔
زویا نے دانیال کی پینٹ میں ہاتھ ڈالا اور اس کا لنڈ پکڑ لیا۔ لنڈ پھر کھڑا ہو گیا تھا۔ زویا نے اسے ہلاتے ہوئے کہا کہ یہ آدمی کبھی تھکتا ہی نہیں ہے۔ دانیال نے اسے گھمایا اور چھت کی ریلنگ پر جھکا دیا۔ اس نے پیچھے سے زویا کی چوت میں لنڈ ڈال دیا اور آہستہ آہستہ دھکے لگانے لگا۔ صبح کی ٹھنڈی ہوا اور اندر کی گرمی کا میل زویا کو پاگل کر رہا تھا۔
زویا نے ریلنگ پکڑ لی اور ہر دھکے پر آہ بھرنے لگی۔ دانیال نے اس کی کمر پکڑ کر رفتار بڑھا دی۔ نیچے سے کسی کی آواز آئی تو دونوں ایک پل رک گئے، پھر ہنستے ہوئے پھر شروع ہو گئے۔ زویا کا بدن اکڑ گیا اور اس کی چوت سے پانی بہہ نکلا۔ دانیال نے بھی اپنا پانی اس کے اندر چھوڑ دیا۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر کھڑے رہے اور زویا نے کہا کہ اب ہر صبح ایسی ہی ہوگی۔
Readers who enjoyed “اردو آفس کہانی: زویا کی چوت میں دانیال کا لنڈ، لکھنؤ آفس کی گرم چدائی” also read
8 curated storiesاردو باس سیکس کہانی: رخصانہ میڈم کی جمعہ والی رات
دیر رات دفتر میں رکی رخصانہ میڈم نے دانش کو کیبن میں بلایا۔ یہ اردو باس سیکس کہانی اس ایک رات کی ہے جس نے دونوں کی زندگی بدل دی۔
لکھنؤ کی پرانی چکن فنشنگ ورکشاپ میں عید کی آخری ڈلیوری کے بعد کنواری انچارج نے حیدرآباد کے انسپکٹر کو وہ حساب دیا جو کسی رجسٹر یا بل پر کبھی نہیں چڑھا
لکھنؤ کی پرانی چکن ورکشاپ۔ عید کی آخری ڈلیوری۔ کنواری فائزہ اور حیدرآباد کا رضوان۔ وہ حساب جو رجسٹر پر نہیں چڑھا۔
بہاولپور کے پرانے بجلی دفتر کے ریکارڈ روم میں جب جنریٹر بند ہوا تو شادی شدہ لیڈجر کلرک نے نئے بیل چیکر کو وہ رقم دکھایا جو کسی کنزومر فائل پر کبھی نہیں لکھا
بہاولپور کا پرانا بجلی دفتر۔ جنریٹر بند۔ شادی شدہ سارہ اور چیکر نوید۔ وہ رقم جو کنزومر فائل پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔
اردو دلہن کی پہلی رات: نادیہ اور سمیر کی حویلی والی رات
لاہور کی پرانی حویلی میں نادیہ کی شادی کی پہلی رات۔ سمیر گھبرایا ہوا ہے اور نادیہ کے پاس چھپی ہوئی کتابوں سے سیکھے راز ہیں۔ اردو دلہن کی پہلی رات کی ایک گرم کہانی۔
اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔