Office Romanceاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو آفس کی کہانی: رات بھر کا پچ

N
10 min read1 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

"بلال، اندر آؤ، ابھی۔ سلائیڈ نمبر گیارہ غلط ہے۔" سناء کی آواز شیشے کے دروازے سے باہر آئی۔ بلال نے لیپ ٹاپ بند کیا اور اس کے کیبن کی طرف بڑھا۔ یہ ایک اردو آفس کی کہانی ہے، ایک ایسی رات کی جو کبھی ختم نہیں ہونی چاہیے تھی۔

سناء اپنی کرسی پر آگے جھکی تھی، بال کندھے پر بکھرے ہوئے، آنکھوں میں نیند اور غصہ۔ اس نے اسکرین کی طرف اشارہ کیا۔ "کلائنٹ صبح نو بجے آئے گا اور ہم اس غلطی کے ساتھ جائیں گے؟"

"میڈم، یہ نمبر فائنانس سے لیا تھا۔" بلال نے کہا۔ وہ اس کے اتنے قریب کھڑا تھا کہ اس کے پرفیوم کی خوشبو اس کی ناک میں بھر گئی۔

"فائنانس والوں کو تو اپنی بیوی کا نام بھی یاد نہیں رہتا۔" سناء نے تھکی ہوئی ہنسی ہنسی۔ "بیٹھو، آج رات ہم یہ ٹھیک کریں گے۔ پچ ہمیں ملنی ہی چاہیے۔"

باہر فلور کی لائٹس ایک ایک کر کے بجھ رہی تھیں۔ پیون نے پوچھا کہ تالا لگا دے؟ سناء نے کہا وہ دونوں رات بھر رکیں گے۔ پیون چلا گیا اور پورا فلور خالی ہو گیا۔

"کھانا منگواتے ہیں، ورنہ میں تمہیں کھا جاؤں گی۔" اس نے فون اٹھا کر بریانی آرڈر کی۔ بلال ہنسا، "میڈم، آپ تو ڈرا رہی ہیں۔"

"ڈرنا چاہیے، میں ڈیورسڈ ہوں، اکیلی ہوں، اور آج میرا موڈ بہت خراب ہے۔" اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جو بلال نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

انہوں نے سلائیڈز پر کام شروع کیا۔ سناء اس کے پاس بیٹھی، کندھا کندھے سے ٹکرا رہا تھا۔ جب وہ ماؤس پر ہاتھ رکھتی، اس کی انگلیاں اس کی انگلیوں کو چھو جاتیں۔

"یہ گراف دیکھو۔" وہ اسکرین کی طرف جھکی۔ اس کی قمیض کا اوپر کا بٹن کھلا تھا اور بلال کی نظریں اس کے سینے پر پڑ گئیں۔ اس نے نظریں ہٹا لیں، مگر سناء نے دیکھ لیا تھا۔

"کیا دیکھ رہے ہو؟" اس نے دھیمی آواز میں پوچھا، ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ۔ بلال کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ "کچھ نہیں، وہ گراف دیکھ رہا تھا۔"

"گراف یہاں ہے، میری قمیض میں نہیں۔" وہ اس کے قریب آ گئی۔ اس کی سانس اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ "تمہیں ہمیشہ سے نوٹ کیا ہے، تم کام میں اچھے ہو، اور..."

"اور؟" اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ سناء نے جواب نہیں دیا، بس دیکھتی رہی۔ کمرے میں صرف اے سی کی ہلکی آواز تھی۔

کھانا آ گیا۔ کیبن کے چھوٹے میز پر انہوں نے بریانی کھولی۔ کھاتے ہوئے سناء نے بتایا کہ اس کا شوہر اسے کبھی سمجھ نہیں پایا۔ "آپ اکیلی نہیں ہیں، میں ہوں نا۔" بلال نے کہا اور اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔

اچانک اس کا کافی کا کپ الٹ گیا۔ گرم کافی اس کی قمیض پر گر گئی اور گیلی قمیض اس کے جسم سے چپک گئی۔ "اوہ شٹ!" وہ چیخی اور کھڑی ہو گئی۔

بلال نے ٹشو اٹھائے۔ "میڈم، رکیں، میں صاف کرتا ہوں۔" اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ سناء نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے اور اپنے سینے پر رکھ دیے۔ "رکو، تم جانتے ہو تم کیا کر رہے ہو؟"

اس کی انگلیاں گیلی قمیض کے اوپر اس کے بوبز کو چھو رہی تھیں۔ سناء نے گہری سانس لی، آنکھیں بند ہو گئیں۔ "ہاں، ایسے ہی۔" بلال نے دباؤ بڑھا دیا۔

سناء نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ برا کا ہک کھلا اور اس کے بوبز آزاد ہو گئے، گول اور بھرے ہوئے، نپل سخت۔ بلال نے ایک نپل منہ میں لے کر چوسنا شروع کیا۔

"ہاں بلال، ایسے ہی چوسو، زور سے۔" اس نے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈال کر اس کا سر اپنے سینے پر دبا دیا۔ بلال نے دوسرے بوب کو ہاتھ سے دبایا، نپل انگلیوں میں مروڑتے ہوئے۔

سناء نے اس کی شرٹ کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے اور اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا۔ "تمہارا جسم بہت گرم ہے۔" اس نے اس کے نپل کو انگلی سے چھوا تو بلال نے آہ بھری۔ اس نے جھک کر اس کے سینے کو چوما، زبان پھیرتے ہوئے۔

"نیچے جاؤ۔" سناء نے کہا اور ٹانگیں کھول دیں۔ بلال اس کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھا۔ اس نے شلوار کا نالا کھولا اور نیچے کھسکا دی۔ اس کی چوت گیلی اور پھولی ہوئی اس کے سامنے تھی۔

اس نے زبان اس کی چوت پر رکھی اور چاٹنے لگا۔ سناء نے زور کی آہ بھری، کمر اچھل گئی۔ "وہیں، وہیں چاٹو۔" اس نے دانے کو زبان سے رگڑا تو اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔

اس نے ایک انگلی اس کی چوت میں ڈال کر اندر باہر کی۔ وہ اتنی گیلی تھی کہ انگلی پھسل رہی تھی۔ "دو انگلیاں ڈالو۔" اس نے کہا۔ بلال نے دو انگلیاں ڈال کر تیز کر دیں۔

"تمہاری چوت کا ذائقہ بہت میٹھا ہے۔" بلال نے کہا اور پھر سے اس کے دانے کو چوسنے لگا۔ سناء نے اس کا سر اپنی ٹانگوں میں دبا دیا۔ "مت رکو، مجھے پاگل کر دو۔" اس کی آواز بھرا گئی تھی۔

"میں آنے والی ہوں، رکو مت۔" وہ چیخی۔ بلال نے زبان دانے پر تیز کر دی۔ سناء کا جسم اکڑا اور چوت سے پانی نکل آیا، اس کے چہرے پر چھلک پڑا۔

وہ ہانپتی ہوئی کرسی پر گری۔ "تم نے میری پیاس بجھائی، اب میری باری۔" اس نے بلال کی پینٹ کا بیلٹ کھولا اور اس کا لنڈ باہر نکال لیا، سخت اور بڑا۔

"اتنا بڑا، تم نے یہ کہاں چھپایا تھا؟" اس نے لنڈ ہاتھ میں لے کر ہلایا، پھر منہ کھول کر اندر لے لیا۔ بلال نے گہری آہ بھری۔ "اوہ سناء، تمہارا منہ بہت گرم ہے۔"

اس نے لنڈ کو منہ میں گہرائی تک لے لیا اور اس کے ہونٹوں کو دیکھ کر مسکرائی۔ "تمہارا لنڈ مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔" اس کی زبان ٹوپے کے گرد گھوم رہی تھی اور بلال کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔

اس کا سر آگے پیچھے ہو رہا تھا، زبان ٹوپے پر گھوم رہی تھی۔ "میں آنے والا ہوں۔" اس نے کہا۔ سناء نے اسے باہر نکال کر ہاتھ سے تیز ہلایا۔ اس کا پانی اس کے ہاتھ پر چھلک پڑا۔

"اب چلو کانفرنس روم، وہاں بڑی اسکرین ہے۔" وہ اٹھی اور آنکھ ماری۔ کانفرنس روم میں سلائیڈز چل رہی تھیں اور شیشے کی دیوار سے پورا شہر روشنیوں میں جھلک رہا تھا۔ اس نے دروازہ بند کر کے لاک لگا دیا۔

اس نے گیلی قمیض اتاری، پھر برا بھی۔ اس کا ننگا جسم شہر کی روشنیوں میں چمک رہا تھا۔ "تم بہت خوبصورت ہو۔" بلال نے کہا۔ "آج رات میں تمہاری ہوں، پوری کی پوری۔" وہ ٹیبل پر بیٹھ گئی اور ٹانگیں کھول دیں۔ "آؤ، مجھے یہیں چودو۔"

بلال نے شرٹ اتاری اور پاس آیا۔ اس نے لنڈ اس کی چوت پر رگڑا۔ سناء نے اس کی کمر پکڑ کر کھینچا۔ "اندر ڈالو، ابھی۔" وہ ایک ہی جھٹکے میں اندر چلا گیا۔ "ہاں، پورا اندر کرو۔"

اس نے دھکے لگانے شروع کیے، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ ٹیبل ہلنے لگا اور اس کی آہیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ "زور سے، اور زور سے چودو مجھے۔" بلال نے اس کے بوبز پکڑ لیے اور رفتار بڑھا دی۔

بلال نے اسے ٹیبل کے کنارے تک کھینچا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس پوزیشن میں وہ اور گہرائی تک جا رہا تھا۔ سناء کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "ہاں، وہیں، بالکل وہیں۔" وہ بار بار چلا رہی تھی۔

"رکو، ایسے نہیں۔" وہ ٹیبل سے اتری اور الٹی لیٹ گئی، گانڈ اوپر اٹھا کر۔ "پیچھے سے کرو، مجھے کتے کی طرح چودو۔" بلال نے اس کی کمر پکڑی اور پیچھے سے اندر ڈال دیا۔ وہ خوشی سے چیخ اٹھی۔

"تمہاری گانڈ بہت خوبصورت ہے۔" بلال نے کہا اور اس پر تھپڑ مارا۔ سناء نے کمر اور اوپر اٹھا دی۔ "اور مارو، مجھے درد میں مزہ آتا ہے۔" اس کی آواز میں مستی تھی۔

اس نے تیز دھکے لگائے، اس کی گانڈ پر تھپڑ مارتے ہوئے۔ اس کی چوت لنڈ کو کس کر پکڑ رہی تھی۔ "میں پھر آنے والی ہوں۔" وہ چلائی۔ بلال نے اس کے بال کھینچتے ہوئے دھکے جاری رکھے۔

اس کا جسم اکڑا اور وہ زور زور سے چلانے لگی، چوت سے پانی بہنے لگا۔ بلال نے لنڈ باہر نکالا۔ سناء اس کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھی۔ "میرے منہ میں نکالو، مجھے پینا ہے۔" اس نے لنڈ منہ میں لیا اور اس کا پانی نکل آیا۔ اس نے سب نگل لیا۔

وہ دونوں ٹیبل پر لیٹ گئے، ہانپتے ہوئے، پسینے میں بھیگے۔ سناء نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ "تم نے آج میری رات بنا دی۔" کچھ دیر بعد وہ اٹھی۔ "ایک سلائیڈ باقی ہے، اور..." اس نے اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا جو پھر سخت ہو رہا تھا۔

اس نے بلال کو کرسی پر بٹھایا اور اس کی گود میں بیٹھ گئی۔ لنڈ چوت میں لے کر وہ اوپر نیچے ہونے لگی۔ اس کے بوبز اس کے چہرے کے سامنے اچھل رہے تھے۔ بلال نے انہیں منہ میں لے کر چوسنا شروع کیا۔

وہ اس کی گود میں بیٹھی اس کے کان میں سرگوشی کر رہی تھی۔ "تم جانتے ہو، آفس میں میں نے تمہیں کتنی بار سوچا ہے؟" بلال نے اس کے ہونٹ چوم لیے۔ "اب سوچنا بند کرو، میں یہیں ہوں۔"

وہ تیز تیز اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ "ہاں، ایسے ہی، مجھے چودو۔" اس نے اس کی گردن پر کاٹا۔ بلال نے اس کی کمر پکڑ کر نیچے سے دھکے لگائے۔ ان کی رفتار ایک ہو گئی۔

"میں آنے والی ہوں۔" وہ چیخی۔ "میں بھی۔" اس کی چوت نے لنڈ کو کس لیا اور اس کا پانی اس کے اندر نکل آیا۔ وہ ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔

پھر انہوں نے کپڑے پہنے اور باقی سلائیڈ ٹھیک کی۔ رات کے تین بجے پچ تیار تھی۔ "کل صبح یہ پچ ہمیں ملے گی۔" سناء نے کہا۔ "اور نہ ملی تو؟" "تو پھر رات بھر رکیں گے، اور میں تمہیں سونے نہیں دوں گی۔"

صبح نو بجے بورڈ روم میں کلائنٹ بیٹھا تھا۔ سناء نے پچ شروع کی، آواز میں اعتماد۔ بلال کونے میں سلائیڈز چلا رہا تھا۔ گیارہ نمبر سلائیڈ پر سناء نے اس کی طرف دیکھ کر ہلکی آنکھ ماری۔

پچ ختم ہوئی اور کلائنٹ نے تالیاں بجائیں۔ "بہت عمدہ، ڈیل آپ کی۔" میٹنگ کے بعد سناء بلال کے پاس سے گزری اور دھیمی آواز میں بولی، "آج رات، میرے گھر، آٹھ بجے۔" بلال نے سر ہلایا، چہرے پر مسکراہٹ۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Office Romance

اردو آفس سیکس کہانی: جمعہ کی رات، آفس کی تنہائی

ایک اردو آفس سیکس کہانی: جمعہ کی رات دانیال اور اس کی ٹیم لیڈ فریحہ آفس میں اکیلے رہ جاتے ہیں۔ چائے کے ایک کپ سے شروع ہونے والی یہ رات کہاں جا پہنچتی ہے؟ پڑھیے مکمل کہانی۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو آفس کی کہانی: رات بھر کا پچ” also read

8 curated stories
Office Romanceاردو (Urdu)

اردو باس سیکس کہانی: رخصانہ میڈم کی جمعہ والی رات

دیر رات دفتر میں رکی رخصانہ میڈم نے دانش کو کیبن میں بلایا۔ یہ اردو باس سیکس کہانی اس ایک رات کی ہے جس نے دونوں کی زندگی بدل دی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
Office Romanceاردو (Urdu)

لکھنؤ کی پرانی چکن فنشنگ ورکشاپ میں عید کی آخری ڈلیوری کے بعد کنواری انچارج نے حیدرآباد کے انسپکٹر کو وہ حساب دیا جو کسی رجسٹر یا بل پر کبھی نہیں چڑھا

لکھنؤ کی پرانی چکن ورکشاپ۔ عید کی آخری ڈلیوری۔ کنواری فائزہ اور حیدرآباد کا رضوان۔ وہ حساب جو رجسٹر پر نہیں چڑھا۔

⏱️ 14 min read•👁️ 0 views
Office Romanceاردو (Urdu)

اردو آفس کہانی: زویا کی چوت میں دانیال کا لنڈ، لکھنؤ آفس کی گرم چدائی

اردو آفس کہانی میں لکھنؤ کے ایک آفس میں اوور ٹائم کی ایک شام دو لوگوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔ بارش، خوشبو اور ایک رات کی کہانی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 0 views
Office Romanceاردو (Urdu)

بہاولپور کے پرانے بجلی دفتر کے ریکارڈ روم میں جب جنریٹر بند ہوا تو شادی شدہ لیڈجر کلرک نے نئے بیل چیکر کو وہ رقم دکھایا جو کسی کنزومر فائل پر کبھی نہیں لکھا

بہاولپور کا پرانا بجلی دفتر۔ جنریٹر بند۔ شادی شدہ سارہ اور چیکر نوید۔ وہ رقم جو کنزومر فائل پر کبھی نہیں چڑھتا۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ

دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔

⏱️ 13 min read•👁️ 5 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔

⏱️ 14 min read•👁️ 4 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی

اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔

⏱️ 9 min read•👁️ 4 views