اردو آفس سیکس کہانی: جمعہ کی رات، آفس کی تنہائی
"ایک منٹ رکو۔" فریحہ نے اس کے ہاتھ سے ماؤس چھین لیا اور کرسی اس کی طرف گھما دی۔ یہ اردو آفس سیکس کہانی اسی جمعہ کی رات سے شروع ہوتی ہے، جب گلبرگ کے اس ایڈورٹائزنگ آفس میں صرف وہ دونوں رہ گئے تھے۔
دانیال نے گھڑی دیکھی۔ رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔ پیر کی صبح کلائنٹ کے سامنے پریزنٹیشن دینی تھی اور سلائیڈز ابھی آدھی بھی تیار نہیں تھیں۔ فریحہ اس کی ٹیم لیڈ تھی، تینتیس سال کی، تیز مزاج اور کام میں بے حد سخت۔ آج اس نے بال کھول رکھے تھے اور سیاہ قمیض کے اوپر دوپٹہ ڈھیلا پڑا تھا۔
"یہ چارٹ بالکل فضول ہے، دانیال۔ کلائنٹ اسے دیکھ کر ہنسے گا۔" اس نے اسکرین کی طرف اشارہ کیا۔ اس کی انگلیاں ماؤس پر تھیں اور کندھا اس کے کندھے سے ٹکرا رہا تھا۔
دانیال نے گہرا سانس لیا۔ فریحہ کی خوشبو، ہلکی سی میٹھی اور تیز، اس کے ناک میں گھس گئی۔ وہ تین مہینے سے اس کے ساتھ کام کر رہا تھا اور تین مہینے سے اسے یہی لگتا تھا کہ فریحہ کو اس سے کوئی خاص لگاؤ نہیں۔ وہ صرف کام کی بات کرتی تھی۔ صرف آج کی رات کچھ الگ تھی۔
"چائے منگواؤں؟" اس نے پوچھا۔ "کینٹین والا تو چلا گیا ہوگا۔ میں خود بنا لاتی ہوں۔"
فریحہ نے سر ہلایا۔ "ادرک والی، تیز۔" وہ اٹھی اور پینٹری کی طرف چلی گئی۔ دانیال اسے جاتا دیکھتا رہا۔ سیاہ قمیض اس کے جسم سے چپکی ہوئی تھی۔ اس نے فوراً نظریں ہٹا لیں۔
پینٹری سے برتنوں کی کھنکھناہٹ آئی۔ دانیال نے سلائیڈ پر کام شروع کیا۔ پانچ منٹ بعد فریحہ دو کپ لے کر آئی۔ اس نے ایک کپ اس کے کی بورڈ کے بالکل پاس رکھا اور جھک کر اسکرین دیکھی۔
"دیکھو، یہاں یہ نمبر غلط ہے۔" وہ بولی۔ اس کا دوپٹہ اس کے بازو سے پھسلا اور دانیال کے ہاتھ پر گرا۔ نرم، ریشمی کپڑا۔ دانیال کی سانس رک گئی۔
فریحہ نے دوپٹہ اٹھایا، مگر جلدی نہیں کی۔ اس کی انگلیاں ایک لمحے کے لیے دانیال کی کلائی پر رکیں۔ پھر وہ سیدھی ہوئی اور اپنے کپ سے چائے کی چسکی لی۔
"تمہیں نیند نہیں آ رہی؟" اس نے پوچھا۔
"اب تو عادت ہو گئی ہے۔" دانیال نے مسکرا کر کہا۔ "آپ کے ساتھ کام کرتے کرتے۔"
فریحہ ہنسی۔ پہلی بار اس رات وہ دل سے ہنسی تھی۔ "میری ٹیم میں سب سے زیادہ شکایت تمہی کرتے ہو۔"
"شکایت نہیں، حقیقت۔" دانیال نے کپ اٹھایا۔ اسی لمحے اس کی کہنی ماؤس سے ٹکرائی۔ کپ لڑکھڑایا۔ گرم چائے اس کی سفید شرٹ پر گر گئی۔
"اوہ خدایا۔" فریحہ فوراً آگے بڑھی۔ اس نے ٹشو کا ڈبہ اٹھایا اور اس کے سینے پر گری چائے صاف کرنے لگی۔ اس کے ہاتھ اس کی شرٹ پر تھے۔ دانیال کو اس کی انگلیوں کی گرمی کپڑے کے پار محسوس ہوئی۔
"رکو، میں خود۔" دانیال نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ مگر چھوڑا نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ پینٹری کی ٹیوب لائٹ بھنبھنا رہی تھی۔ باہر بارش کی ہلکی آواز آ رہی تھی۔
فریحہ نے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑایا، مگر وہ پیچھے نہیں ہٹی۔ "شرٹ خراب ہو گئی۔" وہ بولی، مگر اس کی آواز میں اب وہ سختی نہیں تھی۔
"کوئی بات نہیں۔" دانیال نے کہا۔ "پیر کو نئی پہن لوں گا۔"
وہ دونوں ہنس پڑے، مگر ہنسی جلدی رک گئی۔ فریحہ اب بھی اس کے بہت قریب کھڑی تھی۔ دانیال نے دیکھا کہ اس کی نظریں اس کے ہونٹوں پر ٹھہر گئی ہیں۔
"فریحہ۔" اس نے دھیرے سے کہا۔
اس نے جواب نہیں دیا۔ بس ایک قدم اور قریب آئی۔ اب ان کے درمیان صرف چند انچ کا فاصلہ تھا۔ دانیال کو اس کی سانسوں کی گرمی اپنے چہرے پر محسوس ہوئی۔
دانیال نے ہمت کی اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈال دیا۔ فریحہ نے مزاحمت نہیں کی۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ دانیال نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
پہلا بوسہ نرم تھا، جھجھکتا ہوا۔ پھر فریحہ نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے اور اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ اب بوسہ گہرا ہو گیا۔ اس کی زبان اس کے منہ میں تھی۔ دانیال کے ہاتھ اس کی کمر سے نیچے سرکے۔
"دروازہ۔" فریحہ نے بوسے کے درمیان سرگوشی کی۔ "دروازہ بند کرو۔"
دانیال اٹھا اور آفس کے شیشے کے دروازے کو اندر سے لاک کیا۔ بلائنڈز پہلے سے گرے ہوئے تھے۔ جب وہ پلٹا تو فریحہ اس کی کرسی پر بیٹھی تھی۔ اس کی ٹانگیں ایک دوسرے پر تھیں۔
"آؤ۔" اس نے کہا۔
دانیال اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس نے فریحہ کے ہاتھ پکڑے اور اس کی ہتھیلیوں کو چوما۔ پھر اس کے بازوؤں کو اوپر کی طرف چومتا ہوا اس کے کندھوں تک آیا۔ فریحہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔
اس نے فریحہ کی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے۔ ہر بٹن کے ساتھ اس کی سانس اور تیز ہوتی گئی۔ قمیض کھلی تو اس نے دیکھا کہ اس نے سیاہ لیس کا برا پہن رکھا تھا۔
دانیال نے برا کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو چوما۔ فریحہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالے اور اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔ "ہاں۔" وہ سرگوشی میں بولی۔ "ایسے ہی۔"
اس نے برا کا ہک کھولا۔ اس کے ممے آزاد ہوئے، گول اور بھرے ہوئے۔ دانیال نے ایک نپل منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔ دوسرے کو انگلیوں سے مسلتا رہا۔ فریحہ کرسی پر پیچھے کو جھکی اور ہلکی سی کراہ نکالی۔
دانیال کے ہاتھ اب اس کی شلوار کی طرف بڑھے۔ اس نے ناڑا کھولا اور شلوار نیچے سرکائی۔ فریحہ نے کولہے اٹھا کر مدد کی۔ اس کی سیاہ پینٹی بھیگی ہوئی تھی۔
"تم تو پہلے سے تیار ہو۔" دانیال نے شرارت سے کہا۔
"چپ کرو اور کام کرو۔" فریحہ نے اس کے کندھے پر ہلکا سا مارا، مگر مسکرا رہی تھی۔
دانیال نے اس کی پینٹی ایک طرف کی اور اس کی چوت کو چوما۔ فریحہ کے جسم میں جھرجھری دوڑ گئی۔ اس نے اس کی چوت کو چاٹنا شروع کیا۔ پہلے آہستہ، پھر تیز۔ فریحہ کی انگلیاں اس کے بالوں میں کس گئیں۔
"دانیال۔" وہ کراہی۔ "بس، بس اب۔"
وہ اٹھا۔ فریحہ نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے اور شرٹ اتار دی۔ اس کی چھاتی پر چائے کا داغ اب بھی تھا۔ فریحہ نے اس داغ کو چوما۔ پھر اس کی پینٹ کی زپ کھولی۔
اس کا لنڈ پہلے سے تنا ہوا تھا۔ فریحہ نے اسے ہاتھ میں لیا اور آہستہ سے ہلایا۔ پھر وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور اسے منہ میں لے لیا۔
دانیال نے دیوار کا سہارا لیا۔ فریحہ کا منہ گرم تھا۔ وہ اس کے لنڈ کو چوس رہی تھی اور ہاتھ سے اس کی گولیاں سہلا رہی تھی۔ دانیال کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔
"فریحہ، میں۔" اس نے کہا۔
"ابھی نہیں۔" وہ بولی اور رک گئی۔ وہ اٹھی اور اسے کرسی پر دھکیلا۔ پھر وہ اس کی گود میں بیٹھ گئی۔ اس نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت پر رکھا اور آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتی گئی۔
دانیال نے اس کی کمر پکڑ لی۔ فریحہ اس کے اوپر اوپر نیچے ہونے لگی۔ کرسی ہلنے لگی۔ ان کی سانسیں ایک ہو گئیں۔ فریحہ کے ممے اس کے چہرے کے سامنے اچھل رہے تھے۔ دانیال نے انہیں چوما، چوسا۔
اچانک باہر کوریڈور میں قدموں کی آہٹ آئی۔ دونوں جم گئے۔ ٹارچ کی روشنی شیشے کے دروازے کے نیچے سے گزری۔ سیکیورٹی گارڈ راؤنڈ پر تھا۔
فریحہ دانیال کی گود میں ساکت بیٹھی رہی۔ اس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ دانیال کو محسوس ہو رہا تھا۔ قدموں کی آہٹ دور ہوئی۔ روشنی گزر گئی۔
"چلا گیا۔" دانیال نے سرگوشی کی۔
فریحہ نے اس کے ہونٹوں پر زور سے بوسہ دیا۔ "پھر تو اب ڈر بھی ختم۔" وہ دوبارہ حرکت کرنے لگی، اب اور تیز۔
دانیال نے اسے اٹھایا اور میز پر لٹا دیا۔ کی بورڈ ایک طرف گرا۔ اس نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال دیا۔
میز ہلنے لگی۔ فریحہ نے میز کے کنارے پکڑ لیے۔ دانیال نے تیز دھکے لگانے شروع کیے۔ ہر دھکے کے ساتھ فریحہ کی کراہ بلند ہوتی گئی۔
"اور تیز۔" وہ بولی۔ "رکو مت۔"
دانیال نے اس کی ٹانگیں اور پھیلائیں اور پوری طاقت سے چودنے لگا۔ فریحہ کا جسم کانپنے لگا۔ اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو کس لیا۔ وہ جھڑنے والی تھی۔
"میں آ رہی ہوں۔" وہ چیخی۔ اس کا جسم اکڑا، پھر ڈھیلا پڑ گیا۔ اس کی چوت سے پانی نکل آیا۔
دانیال نے اپنا لنڈ باہر نکالا۔ وہ ابھی نہیں جھڑنا چاہتا تھا۔ اس نے فریحہ کو اٹھایا۔ "کانفرنس روم۔" اس نے کہا۔
وہ دونوں ننگے کانفرنس روم میں گئے۔ فریحہ میز پر الٹی لیٹ گئی۔ دانیال نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا۔ اس نے اس کے کولہے پکڑے اور دھکے لگانے لگا۔
کانفرنس روم کی بڑی میز پر ان کے جسموں کی آواز گونج رہی تھی۔ فریحہ نے اپنا چہرہ بازوؤں میں چھپا لیا تھا۔ مگر اس کی کراہیں کمرے میں بھر گئی تھیں۔
دانیال نے اس کے بال پکڑے اور اس کا چہرہ اوپر کیا۔ "مجھے دیکھو۔" اس نے کہا۔ فریحہ نے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔
اس نے رفتار بڑھا دی۔ فریحہ دوبارہ جھڑی۔ اس بار اس کی چیخ دب نہیں سکی۔ دانیال نے بھی اپنے آپ کو روکے نہیں رکھا۔ اس نے اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔
دونوں میز پر ڈھیر ہو گئے۔ پسینے میں شرابور۔ فریحہ ہنسنے لگی۔ دانیال بھی ہنس پڑا۔
"پریزنٹیشن کا کیا ہوگا؟" دانیال نے پوچھا۔
"پریزنٹیشن تو کل بھی بن سکتی ہے۔" فریحہ نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ "مگر یہ رات دوبارہ نہیں آئے گی۔"
وہ دونوں کچھ دیر ایسے ہی لیٹے رہے۔ پھر کپڑے پہنے، بکھری چیزیں سمیٹیں اور سلائیڈز پر واپس بیٹھ گئے۔ کام آدھی رات تک چلا۔ مگر اب ہر بار جب ان کی نظریں ملتیں، دونوں مسکرا دیتے۔
پیر کی صبح کلائنٹ کے سامنے پریزنٹیشن کامیاب رہی۔ میٹنگ کے بعد فریحہ نے سب کے سامنے دانیال کی تعریف کی۔ مگر جب وہ اس کے پاس سے گزری تو دھیرے سے بولی۔ "اگلے جمعہ کی رات بھی کام ہے۔ تیار رہنا۔"
دانیال مسکرایا۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ اب ہر جمعہ کی رات اس آفس میں کچھ خاص ہونے والا تھا۔
Readers who enjoyed “اردو آفس سیکس کہانی: جمعہ کی رات، آفس کی تنہائی” also read
8 curated storiesاردو باس سیکس کہانی: رخصانہ میڈم کی جمعہ والی رات
دیر رات دفتر میں رکی رخصانہ میڈم نے دانش کو کیبن میں بلایا۔ یہ اردو باس سیکس کہانی اس ایک رات کی ہے جس نے دونوں کی زندگی بدل دی۔
لکھنؤ کی پرانی چکن فنشنگ ورکشاپ میں عید کی آخری ڈلیوری کے بعد کنواری انچارج نے حیدرآباد کے انسپکٹر کو وہ حساب دیا جو کسی رجسٹر یا بل پر کبھی نہیں چڑھا
لکھنؤ کی پرانی چکن ورکشاپ۔ عید کی آخری ڈلیوری۔ کنواری فائزہ اور حیدرآباد کا رضوان۔ وہ حساب جو رجسٹر پر نہیں چڑھا۔
اردو آفس کہانی: زویا کی چوت میں دانیال کا لنڈ، لکھنؤ آفس کی گرم چدائی
اردو آفس کہانی میں لکھنؤ کے ایک آفس میں اوور ٹائم کی ایک شام دو لوگوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔ بارش، خوشبو اور ایک رات کی کہانی۔
بہاولپور کے پرانے بجلی دفتر کے ریکارڈ روم میں جب جنریٹر بند ہوا تو شادی شدہ لیڈجر کلرک نے نئے بیل چیکر کو وہ رقم دکھایا جو کسی کنزومر فائل پر کبھی نہیں لکھا
بہاولپور کا پرانا بجلی دفتر۔ جنریٹر بند۔ شادی شدہ سارہ اور چیکر نوید۔ وہ رقم جو کنزومر فائل پر کبھی نہیں چڑھتا۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔
اردو دیسی بھابی کہانی: ناپ لینے آیا درزی
اردو دیسی بھابی کہانی: شوہر لمبے روٹ پر، فرح اکیلی۔ عید کے سوٹ کا ناپ لینے آیا نوجوان درزی عمران، اور شروع ہوا ممنوعہ کھیل۔