بارش کی رات اور پڑوسی
"عمران صاحب، دروازہ کھولیے۔ پلیز۔"
دروازے کے اس پار ثنا کی آواز کانپ رہی تھی۔ باہر موسلادھار بارش، اندر گھپ اندھیرا۔ بجلی گئے دس منٹ ہو چکے تھے۔ عمران نے جلدی سے دروازہ کھولا۔
ثنا دہلیز پر کھڑی تھی۔ بھیگے بال ماتھے پر چپکے ہوئے۔ دوپٹہ بھیگ کر جسم سے چمٹ گیا تھا۔ ہاتھ میں خالی تھالی۔
"ایک موم بتی ملے گی؟" اس نے کہا۔ "گھر میں ایک بھی نہیں۔ اس اندھیرے میں باورچی خانے میں جانے سے ڈر لگ رہا ہے۔"
"آئیے، اندر آئیے۔" عمران ایک طرف ہٹا۔ "بھیگ جائیں گی۔"
ثنا اندر آئی۔ عمران نے دراز سے موم بتی نکال کر جلائی۔ نرم پیلی روشنی میں کمرہ بھر گیا۔ اس روشنی میں ثنا کو دیکھ کر عمران کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
بھیگی شلوار قمیض اس کے جسم کے ہر خم کو نمایاں کر رہی تھی۔ دوپٹہ کندھے سے سرک گیا تھا۔ قمیض کے اوپر کے دو بٹن کھلے تھے۔ اندر سفید برا کی جھلک۔ اس کے بڑے دودھ برا میں کسے ہوئے تھے، جیسے باہر آنا چاہتے ہوں۔
"بیٹھیے نا تھوڑی دیر،" عمران نے کہا۔ گلا سوکھ رہا تھا۔ "اس اندھیرے میں اکیلی کیا کریں گی؟"
ثنا صوفے پر بیٹھی۔ عمران سامنے کی کرسی پر۔ کچھ دیر کوئی کچھ نہ بولا۔ صرف بارش کی آواز۔ اور دونوں کی سانسوں کی آواز۔
"چائے پییں گی؟" عمران نے پوچھا۔
"اس رات میں چائے؟"
"بارش کی رات میں چائے نہ پی جائے تو زندگی ہی بیکار۔"
دونوں ہنس پڑے۔ ہنسی نے کمرے کی بھاری فضا کو ہلکا کیا۔ عمران باورچی خانے میں گیا، چولہا جلایا۔ چائے بناتے ہوئے وہ اسٹیل کے برتن میں ثنا کا عکس دیکھ رہا تھا۔ وہ صوفے پر بیٹھی موم بتی کی طرف دیکھ رہی تھی۔
چائے لے کر واپس آیا۔ ثنا نے کپ دونوں ہاتھوں میں پکڑا۔ "پتہ ہے عمران صاحب،" اس نے اچانک کہا، "شادی کو پانچ سال ہو گئے۔"
"جی، سنا ہے۔"
"پانچ سال میں میرے شوہر نے ایک دن بھی نہیں پوچھا، میں کیا چاہتی ہوں۔" اس کی آواز بھر آئی۔ "آج آٹھ مہینے ہو گئے دبئی گئے۔ جاتے ہوئے بتا کر بھی نہیں گیا۔ صرف فون پر بولا، فریج میں پیسے رکھے ہیں۔"
عمران کچھ نہ بولا۔ وہ اٹھ کر ثنا کے پاس بیٹھا۔ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ ثنا کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔
"آپ اکیلی نہیں ہیں، ثنا جی،" عمران نے کہا۔ "جب تک میں ہوں۔"
ثنا نے ایک لمبی سانس لی۔ "آپ کو ایک بات بتاؤں؟ پچھلے مہینے میری سالگرہ تھی۔ میں نے کیک بنایا، موم بتیاں لگائیں، اکیلی بیٹھ کر کاٹا۔ پھر خود ہی ہیپی برتھ ڈے گایا۔" اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ۔ "پاگل لگ رہی ہوں نا؟"
"نہیں،" عمران نے کہا۔ اس نے اس کے آنسو پونچھے۔ "اکیلے لوگ پاگل نہیں ہوتے۔ بس تھکے ہوتے ہیں۔"
"آپ بھی تھکے ہوئے ہیں؟"
"تین سال سے۔"
دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ اس دیکھنے میں کوئی جلدی نہیں تھی۔ کوئی مطالبہ نہیں تھا۔ صرف دو تھکے ہوئے انسانوں کی خاموش سمجھوتہ۔
ثنا نے اپنا سر عمران کے کندھے پر رکھ دیا۔ "تھوڑی دیر ایسے ہی بیٹھیے۔ کچھ مت کیجیے۔ بس۔"
عمران نے اسے اپنی باہوں میں لے لیا۔ باہر بارش کی آواز۔ اندر موم بتی کی لو۔ کچھ دیر دونوں ویسے ہی بیٹھے رہے۔ پھر ثنا نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں اب آنسو نہیں تھے۔ کچھ اور تھا۔
"بس،" وہ بولی۔ "اب بہت ہو گیا اداسی۔"
ثنا نے اس کی طرف دیکھا۔ موم بتی کی روشنی میں اس کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔ "ایسے مت دیکھیے،" وہ سرگوشی میں بولی۔
"کیوں؟"
"کیونکہ مجھے اپنے آپ سے ڈر لگ رہا ہے۔"
عمران آہستہ سے آگے بڑھا۔ اس کے ہونٹ ثنا کے ہونٹوں کو چھو گئے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، سوال پوچھتا ہوا۔ ثنا نے جواب نہ دیا۔ عمران ہٹنے لگا، تبھی ثنا نے اس کی قمیض کا کالر پکڑ لیا۔
"مت جائیے،" اس نے کہا۔ پھر خود ہی عمران کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے۔ اس بار گہرا، دعوے دار۔
عمران کا ہاتھ ثنا کی پیٹھ پر اٹھا۔ قمیض کے اوپر سے اس کے جسم کی گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کا ہاتھ سامنے آیا۔ دوپٹہ سرکا دیا۔
ثنا کے دودھ قمیض میں پھولے ہوئے تھے۔ عمران قمیض کے بٹن کھولنے لگا۔ ایک، دو، تین۔ قمیض کھل گئی۔ اندر کالی برا۔ عمران نے برا کا ہک کھولا۔
ثنا کے بڑے دودھ باہر آ گئے۔ سفید، بھاری، نپل کھڑے۔ عمران نے ایک کو منہ میں لیا۔ زور سے چوسنے لگا۔ دوسرے کو ہاتھ سے ملنے لگا۔
ثنا کانپ اٹھی۔ "آہ۔" اس کے منہ سے نکلا۔ اس نے عمران کے بال کھینچ لیے۔ "اور زور سے۔ کاٹ لیجیے۔"
عمران نے نپل پر ہلکا کاٹا۔ ثنا سنسنا اٹھی۔ اس کا جسم کمان کی طرح مڑ گیا۔
عمران کا ہاتھ نیچے اترا۔ شلوار کا ازاربند کھولا۔ شلوار، قمیض سب فرش پر گرے۔ ثنا اب صرف پینٹی میں تھی۔ عمران نے پینٹی کے اوپر سے اس کی چوت کو سہلایا۔ کپڑا بھیگ چکا تھا۔
"کتنی گیلی ہو گئی ہیں،" عمران سرگوشی میں بولا۔
"آپ کو دیکھنے کے بعد سے،" ثنا بولی۔ شرم سے اس کے گال لال۔
عمران نے پینٹی سرکا دی۔ اس کی انگلی ثنا کی چوت میں داخل ہوئی۔ دو انگلیاں۔ اندر باہر۔ ثنا نے صوفے کا ہتھا پکڑ لیا۔
"عمران۔ اور برداشت نہیں۔"
"کیا برداشت نہیں؟"
"انگلی سے نہیں ہوگا۔ اصل چیز چاہیے۔"
عمران کھڑا ہوا۔ اپنی قمیض اتاری۔ پینٹ اتاری۔ اس کا لنڈ باہر آیا۔ سخت، لمبا، موٹا۔ رگیں ابھری ہوئی۔
ثنا نے اسے دیکھ کر ہونٹ چاٹے۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھی۔ لنڈ ہاتھ میں لیا۔ ہلانے لگی۔ پھر منہ میں لے لیا۔
"آہ۔ ثنا۔" عمران کے منہ سے نکلا۔ ثنا کے منہ میں اس کا لنڈ۔ وہ چوس رہی تھی، زبان پھیر رہی تھی۔ عمران نے اس کا سر پکڑ لیا۔
پھر عمران نے اسے روکا۔ "کمرے میں چلیے۔"
سونے کے کمرے میں موم بتی کی روشنی۔ بستر۔ ثنا لیٹ گئی۔ ٹانگیں پھیلا دیں۔ عمران نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ دونوں کی آنکھیں ملیں۔ پھر ایک جھٹکے میں پورا اندر کر دیا۔
ثنا کے منہ سے دبی چیخ نکلی۔ اس نے تکیہ دانتوں میں دبا لیا۔
عمران چودنے لگا۔ پہلے آہستہ، پھر تیز۔ ثنا کے دودھ اچھل رہے تھے۔ عمران نے انہیں پکڑ لیا۔
"اور زور سے،" ثنا بولی۔ "آٹھ مہینے کا حساب آج چکا دیجیے۔"
عمران نے پوری طاقت لگا دی۔ بستر ہلنے لگا۔ موم بتی کی لو کانپ رہی تھی۔ ثنا کی چوت عمران کے لنڈ کو جکڑے ہوئے تھی۔
عمران نے ثنا کو پلٹ دیا۔ اب وہ گھٹنوں کے بل تھی، عمران پیچھے سے۔ اس انداز میں لنڈ اور گہرا جا رہا تھا۔ ثنا نے چادر بھینچ لی۔
"میرا نکلنے والا ہے،" عمران ہانپا۔
"اندر ہی نکالیے۔ آج رات سب میرا۔"
عمران نے آخری چند زور کے جھٹکے دیے۔ پھر اپنا سارا پانی ثنا کی چوت میں نکال دیا۔ گرم، گہرا۔ ثنا بھی اسی لمحے جھڑ گئی۔ اس کی چوت سے پانی بہہ کر بستر گیلا کر گیا۔
دونوں ہانپ رہے تھے۔ ثنا عمران کے سینے پر سر رکھے لیٹی تھی۔ "پتہ ہے،" وہ بولی، "میرے شوہر نے کبھی مجھے ایسے نہیں چھوا۔"
"آپ اس سے کہیں زیادہ کی حقدار ہیں،" عمران نے کہا۔
کچھ دیر بعد ثنا اٹھی۔ "پھر؟" اس نے شرارت سے کہا۔
عمران کا لنڈ ابھی آدھا سخت تھا۔ ثنا نے اسے ہاتھ میں لے کر ہلانا شروع کیا۔ چند منٹ میں وہ پھر پورا سخت ہو گیا۔
اس بار ثنا اوپر آئی۔ اس نے خود لنڈ چوت میں ڈال لیا۔ پھر ہلنے لگی۔ آہستہ آہستہ، گہرائی سے۔ عمران نے اس کے دودھ پکڑ رکھے تھے۔
"دیکیے مجھے،" ثنا بولی۔ "دیکیے میں کیسے لے رہی ہوں۔"
عمران دیکھ رہا تھا۔ موم بتی کی روشنی میں اس کا جسم، اس کا ہلنا، اس کے چہرے کا تاثر۔ سب خواب جیسا۔
تبھی ثنا کا فون بجا۔ اسکرین پر نام۔ شوہر۔ ثنا نے فون کی طرف دیکھا۔ پھر اسے الٹ کر رکھ دیا۔
"اٹھائیں گی نہیں؟" عمران نے پوچھا۔
"آج رات میں صرف ثنا ہوں۔ کسی کی بیوی نہیں۔"
دوسری بار کا ملن پہلی بار سے بھی گہرا ہوا۔ اس بار دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھڑے۔
کچھ دیر بعد دونوں چپ چاپ لیٹے تھے۔ ثنا کا سر عمران کے سینے پر۔ اس کی انگلی عمران کے سینے کے بالوں میں کھیل رہی تھی۔
"ایک بات پوچھوں؟" ثنا بولی۔
"پوچھیے۔"
"آپ نے کبھی سوچا، دوبارہ۔ کسی کے ساتھ؟"
عمران کچھ دیر چپ رہا۔ "سوچا ہے۔ لیکن جسے دیکھتا ہوں، اس میں اسی کو ڈھونڈتا ہوں۔ آج پہلی بار کسی کو الگ دیکھا۔"
ثنا کی آنکھوں میں آنسو آئے۔ اس نے عمران کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔
"ثنا،" عمران نے کہا، "کل صبح جب بجلی آ جائے گی، سب واپس ویسا ہی ہو جائے گا۔"
"نہیں ہوگا،" ثنا بولی۔ "کچھ چیزیں بدل جاتی ہیں۔ آج رات ان میں سے ایک ہے۔"
صبح چار بجے بارش تھمی۔ بجلی آئی۔ ثنا چپ چاپ کپڑے پہنے۔ جاتے ہوئے دروازے پر رک کر بولی، "موم بتی تو لی ہی نہیں۔"
عمران ہنس کر ایک موم بتی اس کے ہاتھ میں دی۔ ثنا نے سرگوشی میں کہا، "یہ رکھ لیجیے۔ کبھی کبھی لوڈشیڈنگ اچھی لگتی ہے۔"
وہ چلی گئی۔ عمران دروازہ بند کر کے پگھلی ہوئی موم کی طرف دیکھتا رہا۔ بستر پر ابھی ثنا کے جسم کی خوشبو تھی۔
وہ بڑبڑایا، "کل رات پھر لوڈشیڈنگ ہو۔"
Readers who enjoyed “بارش کی رات اور پڑوسی” also read
8 curated storiesاردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی بارش والی رات
اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی ایک طوفانی رات جب ہوا رخسانہ کے کپڑے کبیر کی چھت پر اڑا لے گئی، اور ایک دستک نے دونوں کی زندگی بدل دی۔
اردو پڑوسی کی بیوی: بارش والی رات کا راز
اردو پڑوسی کی بیوی فراہ کی بارش والی رات۔ AC کا پائپ لیک ہوا اور کامران اوپر گیا، پھر جو ہوا وہ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی: بھوپال میں فرح اور بلال کی رات
بھوپال کی ایک خاموش گلی میں پڑوسی آنٹی فرح اور نوجوان بلال کے درمیان ایک پرانی یاد اچانک نئی آگ بن جاتی ہے۔
اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس
اردو نرس سیکس کہانی: لکھنؤ کے اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر نرس شبانہ اور مریض عمران کے درمیان بھڑک اٹھنے والی آگ کی کہانی۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز
جمعہ کی دوپہر، حنا لاہور گئی ہوئی ہے اور گھر میں صرف عدیل اور اس کی بیوہ ساس شازیہ ہیں۔ ایک فون کال سے شروع ہونے والی چھیڑ چھاڑ دوپہر کو ایک ناقابل فراموش راز میں بدل دیتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔