اردو پڑوسی سیکس کہانی: آدھی رات کو بجنے والی گھنٹی
آدھی رات کو بجنے والی گھنٹی نے زید کی نیند اُڑا دی۔ وہ تین دن پہلے ہی اس عمارت میں شفٹ ہوا تھا اور ہر کوئی ابھی بھی اس کے لیے انجان تھا، لیکن اس اردو پڑوسی سیکس کہانی کی شروعات اسی ایک بجنے والی گھنٹی سے ہوئی۔ زید نے آنکھیں ملیں اور دروازہ کھولا تو سامنے کھڑی عورت اسے دیکھ کر گھبرا گئی۔
وہ لگ بھگ انتیس تیس سال کی تھی، ڈھیلے کرتا پاجامے میں، بال کھلے ہوئے، پیروں میں چپل۔ اس کے چہرے پر پریشانی صاف نظر آ رہی تھی۔ "سنیے،" اس نے جلدی سے کہا، "میں شازیہ ہوں، ساتھ والے فلیٹ سے۔ میرے کچن کا پائپ پھٹ گیا ہے اور پانی پورے فرش پر بہہ رہا ہے۔ میرے شوہر نائٹ شفٹ پر ہیں۔ کیا آپ تھوڑی مدد کر سکتے ہیں؟"
زید نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا۔ وہ اکتیس سال کا تھا، کنوارہ، ایک اکاؤنٹنگ فرم میں کام کرتا تھا، اور ابھی تک اس شہر میں کسی کو نہیں جانتا تھا۔ اس نے جلدی سے چپل پہنے اور کہا، "چلیں، دکھائیے۔"
شازیہ کے فلیٹ کے کچن میں واقعی پانی کا طوفان تھا۔ سنک کے نیچے والا پائپ ٹوٹ چکا تھا اور پانی کا فوارہ فرش پر بہہ رہا تھا۔ زید گھٹنوں کے بل بیٹھا اور پانی کا مین والو تلاش کرنے لگا۔ شازیہ اس کے پیچھے کھڑی تھی، اور جب وہ جھکا تو اس کے کرتا کا گلا تھوڑا ڈھیلا ہو گیا۔ زید کی نظر ایک پل کے لیے اس کے گلے کی نرمی پر ٹھہری، پھر اس نے جلدی سے نظریں ہٹا لیں۔
"مل گیا،" اس نے کہا اور والو بند کر دیا۔ پانی کا بہاؤ رک گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہلکی سی ہنسی نکل گئی۔ "شکریہ،" شازیہ نے کہا، "آدھی رات کو آپ کو پریشان کیا۔"
"کوئی بات نہیں، پڑوسی ہونے کے ناطے یہ تو فرض تھا،" زید نے مسکرا کر کہا۔ اس کی نظر پھر ایک بار شازیہ پر پڑی۔ ڈھیلے کپڑوں کے باوجود اس کا جسم واضح تھا۔ چوڑے کولہے، بھرا ہوا سینہ، اور وہ آنکھیں جن میں ابھی بھی نیند کی خماری تھی۔ زید نے محسوس کیا کہ اس کے اندر کچھ ہلچل مچ رہی ہے۔
شازیہ نے اسے چائے کی پیشکش کی۔ دونوں کچن میں ہی کھڑے ہو کر چائے پینے لگے، پانی سے بھیگے فرش پر۔ بات چیت میں پتہ چلا کہ شازیہ کے شوہر راشد ایک فیکٹری میں نائٹ سپروائزر ہیں، مہینے میں بیس دن نائٹ شفٹ۔ شادی کو چھ سال ہو گئے تھے، کوئی بچہ نہیں تھا۔
"اور آپ؟" شازیہ نے پوچھا۔ "شادی؟"
"ابھی نہیں،" زید نے ہنستے ہوئے کہا۔ "اکیلا رہنے کی عادت ہو گئی ہے۔"
شازیہ نے اسے ایک عجیب نظر سے دیکھا، وہ نظر جو زید نے فوراً پہچان لی۔ وہ نظر جو کہتی ہے کہ اکیلا رہنے کی عادت کبھی کبھی بہت بوجھل ہو جاتی ہے۔ "پھر تو ہم دونوں ہی راتوں کو جاگنے والے ہیں،" اس نے کہا اور ہنس دی۔ اس ہنسی میں کچھ ایسا تھا جس نے زید کے دل کی دھڑکن تیز کر دی۔
اگلے دن شام کو جب زید آفس سے لوٹا تو شازیہ چھت پر کپڑے سکھا رہی تھی۔ زید بھی چھت پر گیا، ہوا کھانے کے بہانے۔ "آج پائپ ٹھیک کروا لیا؟" اس نے پوچھا۔
"ہاں، مستری آیا تھا صبح،" شازیہ نے کہا۔ وہ تار پر کپڑے پھیلا رہی تھی، اور جب وہ اوپر ہاتھ اٹھاتی تو اس کا کرتا اوپر سرک جاتا اور اس کی کمر کا گورا حصہ نظر آتا۔ زید کی نظریں وہیں ٹھہر جاتیں۔
"زید صاحب،" شازیہ نے اچانک کہا، "آپ کو کھانا بنانا آتا ہے؟"
"بس دال چاول،" زید نے جواب دیا۔
"تو پھر آج رات کا کھانا میرے یہاں۔ اکیلے دال چاول کھانے سے بہتر ہے کہ ساتھ بیٹھ کر کھائیں،" شازیہ نے کہا۔ اس کے لہجے میں ایک دعوت تھی جو صرف کھانے تک محدود نہیں تھی۔
رات کے آٹھ بجے زید شازیہ کے دروازے پر تھا۔ اس نے ایک اچھی شرٹ پہنی تھی اور بال سنوارے تھے۔ شازیہ نے دروازہ کھولا تو زید کی سانس ایک پل کے لیے رک گئی۔ اس نے گہرے نیلے رنگ کا سوٹ پہنا تھا، ہلکا میک اپ کیا تھا، اور اس کے بال کھلے ہوئے تھے۔
"آئیے،" اس نے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی۔ اس کے ہاتھ کی گرمی زید کی ہتھیلی میں اتر گئی۔
کھانے کی میز پر بریانی، کباب اور رائتہ تھا۔ دونوں نے کھانا کھایا اور باتیں کیں۔ شازیہ نے اپنے شوہر کے بارے میں بتایا کہ وہ کتنا مصروف رہتا ہے، کتنی راتیں وہ اکیلی گزارتی ہے۔ زید نے اپنی نوکری اور اس شہر میں اکیلے رہنے کی باتیں کیں۔
کھانے کے بعد شازیہ برتن سمیٹنے کچن میں گئی۔ زید بھی اس کی مدد کے لیے کچن میں گیا۔ سنک کے پاس کھڑے ہو کر جب وہ برتن دھو رہی تھی، زید اس کے بالکل پیچھے کھڑا تھا۔ اس کے جسم کی خوشبو، صابن اور مصالحوں کی ملی جلی خوشبو، زید کے حواس پر چھا گئی۔
شازیہ نے اچانک برتن دھونا روک دیا۔ اس نے مڑ کر زید کو دیکھا۔ ان کی آنکھیں ملیں۔ زید نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، ہچکچاہٹ بھرا، لیکن دوسرا بوسہ آگ کی طرح تھا۔
شازیہ کی باہیں زید کے گرد لپٹ گئیں۔ اس کا جسم زید کے جسم سے چپک گیا۔ زید نے محسوس کیا کہ اس کے سینے کی نرمی اس کے سینے سے دب رہی ہے۔ اس نے اپنے ہاتھ شازیہ کی کمر پر رکھے اور اسے اور قریب کھینچ لیا۔
شازیہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اس نے زید کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کر دیے۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ زید نے اس کے سوٹ کی زپ پیچھے سے کھولی اور اس کے کندھوں سے سوٹ نیچے سرکا دیا۔ اس کے نیچے اس نے صرف ایک باریک بنیان پہنی تھی۔
زید نے اس کی گردن پر بوسے دینے شروع کیے۔ شازیہ کے منہ سے ایک ہلکی سی آہ نکلی۔ اس نے اپنا سر پیچھے کی طرف جھکا دیا اور زید کو اپنی گردن سونپ دی۔ زید کی زبان اس کی گردن پر پھر رہی تھی، اس کے کان کی لو تک۔
پھر زید نے اس کی بنیان اوپر اٹھائی۔ اس کے ممے ننگے ہو گئے، گول اور بھرے ہوئے، ان پر گلابی نپل کھڑے تھے۔ زید نے ایک نپل کو اپنے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا۔ شازیہ نے زور سے اس کے بال پکڑ لیے۔ "ہاں،" وہ سرگوشی میں بولی، "ایسے ہی۔"
زید نے اس کے دونوں مموں کو باری باری چوسا، چاٹا، ہلکے سے کاٹا۔ شازیہ کا جسم کانپ رہا تھا۔ اس نے زید کی پینٹ کی زپ کھولی اور اس کا لنڈ باہر نکال لیا۔ وہ سخت ہو چکا تھا، لمبا اور موٹا۔ شازیہ نے اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور دھیرے دھیرے ہلانے لگی۔
پھر وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور زید کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا۔ اس کی زبان لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی۔ زید نے اس کے بال پکڑ لیے اور اس کے منہ میں دھیرے دھیرے دھکے دینے لگا۔ شازیہ کے گلے سے گوں گوں کی آوازیں نکل رہی تھیں۔
چند منٹ بعد زید نے اسے اٹھایا اور کچن کی سلیب پر بٹھا دیا۔ اس نے اس کی شلوار اتار دی۔ اس کے نیچے اس نے کوئی انڈرویئر نہیں پہنا تھا۔ اس کی چوت ننگی تھی، گیلی اور پھولی ہوئی۔ زید نے اپنی دو انگلیاں اس کی چوت میں ڈال دیں۔ وہ اندر سے گرم اور گیلی تھی۔
شازیہ چیخ پڑی۔ "زید، پلیز، اب اور مت تڑپاؤ۔"
زید نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور ایک زور دار دھکے سے اندر ڈال دیا۔ شازیہ نے زور سے اس کے کندھے پکڑ لیے۔ اس کا لنڈ اس کی چوت میں پورا اتر گیا تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر دھیرے دھیرے اندر باہر کرنے لگا۔
کچن کی سلیب پر ان کا پہلا ملن شروع ہوا۔ زید کے دھکے تیز ہوتے گئے۔ شازیہ کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپٹی ہوئی تھیں۔ اس کے منہ سے مسلسل آہیں نکل رہی تھیں۔ "اور زور سے،" وہ بولی، "اور زور سے چودو مجھے۔"
زید نے اسے سلیب سے اٹھایا اور فرش پر لٹا دیا۔ اب وہ اس کے اوپر تھا، اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھے ہوئے۔ اس پوزیشن میں اس کا لنڈ اس کی چوت کی گہرائی تک جا رہا تھا۔ شازیہ کا جسم ہر دھکے کے ساتھ ہل رہا تھا۔
پھر زید نے اسے پلٹا اور اسے گھوڑی بنا دیا۔ اس کے کولہے ہوا میں اٹھے ہوئے تھے۔ زید نے پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈالا اور زور زور سے دھکے دینے لگا۔ اس کے ہاتھ اس کے کولہوں پر تھے، انہیں دبا رہے تھے۔ شازیہ کے منہ سے اب چیخیں نکل رہی تھیں۔
"میں آنے والی ہوں،" وہ چلائی۔ "میں جھڑنے والی ہوں۔"
"میرے ساتھ،" زید نے کہا اور اپنے دھکے اور تیز کر دیے۔ دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ شازیہ کی چوت نے زید کے لنڈ کو کس کر پکڑ لیا اور اس کا گرم پانی اندر بہہ گیا۔ زید کا جسم کانپا اور اس نے اپنا سارا مال اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔
دونوں فرش پر ہی لیٹ گئے، پسینے میں بھیگے ہوئے، ایک دوسرے کی باہوں میں۔ "یہ غلط ہے،" شازیہ نے دھیرے سے کہا، "لیکن مجھے کوئی پچھتاوا نہیں۔"
"مجھے بھی نہیں،" زید نے کہا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
اس رات کے بعد ان کے درمیان ایک خاموش سمجھوتہ ہو گیا۔ جب بھی راشد نائٹ شفٹ پر ہوتا، زید شازیہ کے فلیٹ میں ہوتا۔ کبھی کچن میں، کبھی باتھ روم میں شاور کے نیچے، کبھی اس کے بیڈروم میں۔ ہر ملاقات پہلی سے زیادہ بے باک ہوتی۔
ایک رات شاور کے نیچے شازیہ نے زید کے جسم پر صابن لگایا۔ اس کے ہاتھ اس کے سینے سے نیچے سرکتے ہوئے اس کے لنڈ تک پہنچے۔ پانی کی دھار میں اس نے اسے اپنے منہ میں لیا۔ زید نے دیوار کا سہارا لیا اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا۔ پھر اس نے شازیہ کو دیوار سے لگایا، اس کی ایک ٹانگ اٹھائی اور کھڑے کھڑے اسے چودنے لگا۔ پانی ان دونوں کے جسموں پر بہہ رہا تھا۔
ایک اور رات بیڈروم میں شازیہ نے زید کے لیے خاص تیاری کی تھی۔ اس نے ایک باریک نائٹی پہنی تھی جس میں اس کا جسم صاف نظر آ رہا تھا۔ اس رات زید نے اسے تین بار چودا۔ پہلی بار مشنری میں، دوسری بار اس کے اوپر بیٹھ کر، تیسری بار پیچھے سے۔ ہر بار شازیہ کی چیخیں کمرے میں گونجتی رہیں۔
مہینے گزرتے گئے۔ ان کا رشتہ اب صرف جسم کا نہیں رہا تھا۔ وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹتے تھے۔ شازیہ زید کے لیے کھانا بناتی، اس کے کپڑے استری کرتی۔ زید اس کے چھوٹے موٹے کام کرتا، اس کے ساتھ فلمیں دیکھتا۔
ایک شام راشد کی شفٹ اچانک بدل گئی اور وہ دوپہر میں گھر آ گیا۔ زید اس وقت شازیہ کے فلیٹ میں تھا۔ دونوں گھبرا گئے۔ زید جلدی سے پچھلے دروازے سے نکلا اور چھت کی سیڑھیوں سے اپنے فلیٹ میں گھس گیا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
اس رات زید سو نہیں سکا۔ اسے لگا کہ سب ختم ہو گیا۔ لیکن اگلی صبح اس کے دروازے کے نیچے سے ایک پرچی سرکی۔ اس پر لکھا تھا، "آج رات گیارہ بجے، چھت پر۔ وہ نائٹ شفٹ پر ہے۔ ڈرو مت۔"
رات کے گیارہ بجے زید چھت پر گیا۔ شازیہ وہاں پہلے سے موجود تھی، چاندنی میں کھڑی۔ اس نے زید کا ہاتھ پکڑا اور اسے ٹینکی کے پیچھے لے گئی، جہاں کوئی انہیں نہیں دیکھ سکتا تھا۔
"میں نے سوچا تھا کہ یہ صرف جسم کی بھوک ہے،" شازیہ نے کہا، "لیکن اب مجھے تمہاری عادت ہو گئی ہے، زید۔"
زید نے اسے اپنی باہوں میں لے لیا۔ چاندنی میں، کھلی چھت پر، ٹینکی کے پیچھے، انہوں نے ایک دوسرے کو پھر سے پایا۔ شازیہ نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے اور اس کے سینے پر بوسے دیے۔ زید نے اس کے سوٹ کے اندر ہاتھ ڈالا اور اس کے ممے دبانے لگا۔
شازیہ نے اپنی شلوار کا ناڑا کھولا اور اسے نیچے سرکا دیا۔ زید نے اسے ٹینکی سے لگایا اور پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال دیا۔ چاندنی میں ان کے جسموں کے سائے دیوار پر ناچ رہے تھے۔ شازیہ نے اپنا منہ اپنے دوپٹے سے دبا رکھا تھا تاکہ آواز باہر نہ جائے۔
جب دونوں جھڑے تو شازیہ نے زید کے کان میں سرگوشی کی، "کل سے تم میرے فلیٹ کی دوسری چابی رکھو گے۔ اب دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں۔"
اس نے اپنی چابیوں کے گچھے سے ایک چابی نکالی اور زید کی ہتھیلی میں رکھ دی۔ زید نے چابی کو مٹھی میں بند کیا اور شازیہ کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو پہلی رات گھنٹی بجنے پر تھی۔
زید نے چابی اپنی جیب میں رکھی اور شازیہ کا ہاتھ تھام لیا۔ چاندنی میں دونوں چھت سے نیچے اترے، ایک دوسرے سے الگ، لیکن ان کے دلوں میں ایک ہی دھڑکن تھی۔
Readers who enjoyed “اردو پڑوسی سیکس کہانی: آدھی رات کو بجنے والی گھنٹی” also read
8 curated storiesاردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی بارش والی رات
اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی ایک طوفانی رات جب ہوا رخسانہ کے کپڑے کبیر کی چھت پر اڑا لے گئی، اور ایک دستک نے دونوں کی زندگی بدل دی۔
اردو پڑوسی کی بیوی: بارش والی رات کا راز
اردو پڑوسی کی بیوی فراہ کی بارش والی رات۔ AC کا پائپ لیک ہوا اور کامران اوپر گیا، پھر جو ہوا وہ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی: بھوپال میں فرح اور بلال کی رات
بھوپال کی ایک خاموش گلی میں پڑوسی آنٹی فرح اور نوجوان بلال کے درمیان ایک پرانی یاد اچانک نئی آگ بن جاتی ہے۔
اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس
اردو نرس سیکس کہانی: لکھنؤ کے اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر نرس شبانہ اور مریض عمران کے درمیان بھڑک اٹھنے والی آگ کی کہانی۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز
جمعہ کی دوپہر، حنا لاہور گئی ہوئی ہے اور گھر میں صرف عدیل اور اس کی بیوہ ساس شازیہ ہیں۔ ایک فون کال سے شروع ہونے والی چھیڑ چھاڑ دوپہر کو ایک ناقابل فراموش راز میں بدل دیتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔